ایمان مزاری اور ہادی رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار

ایمان مزاری اور ہادی رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مقدمے کے فیصلے تک ضمانت پر رہیں گے :تحریری فیصلہ تھانہ کوہسار مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیاگیا، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر، دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے وکلا ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزا معطل کرنے کی درخواستیں منظور کر کے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ تحریری فیصلہ بھی جاری کردیا گیا۔پولیس نے تھانہ کوہسارمیں درج ایک اور مقدے میں دونوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا جبکہ انسداد دہشتگردی عدالت نے جوڈیشل ریمارنڈ پر جیل بھیجنے کاحکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے فیصلے تک دونوں ضمانت پر رہیں گے۔

درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے  12 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم ہائیکورٹ میں معاملہ متعدد مرتبہ ملتوی ہوا۔ وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس پڑھ کر سنائیں ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابھی کوئی مخالف فیصلہ نہیں دیا، ٹرائل کورٹ میں ملزمان کو سات مواقع فراہم کیے گئے تھے ۔ سزا معطلی کا متعلقہ عدالتی فورم فوجداری قانون کی دفعہ 426 کے تحت ہائیکورٹ ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواستیں منظور کر کے دو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔ دریں اثنا اسلام آباد پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو تھانہ کوہسار مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج ہے ۔ علاوہ ازیں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو انسداد دہشتگری عدالت نے جوڈیشل کر دیا ، تھانہ کوہسار مقدمے میں ایک بار پھر عدالت کا دونوں ملزمان کو اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے دونوں ملزمان کا میڈیکل کروا کر آئندہ سماعت پر رپورٹ بھی طلب کر لی

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...