نیو یارک : شہباز شریف اور ایرانی صدر کی ملاقات، مل کر کام کرنے پر اتفاق
مکہ معاہدہ کسی کیخلاف نہیں، خطے میں امن ضروری،ہرمز اور باب المندب میں اشتعال انگیزی ختم کرنے کیلئے دوست ممالک ملکر کوششیں کریں:وزیراعظم بنگلہ دیشی وزیراعظم اور یورپی رہنماؤں کی بھی ملاقات ، پاکستانی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم،ملک کی تقدیر نوجوان ہی بدل سکتے :شہباز شریف ،تجاویز طلب
نیویارک (دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی، جس میں پاک ایران تعلقات اور خطے کی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال اور مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک تھے ۔شہبازشریف نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکہ اتحاد کے حوالے سے ایرانی صدر سے بات ہوئی ، مکہ معاہدے کے حوالے سے بتایا کہ یہ کسی کے خلاف نہیں ہے ۔انہوں نے کہا خطے میں امن کا قیام ضروری ہے ،پاکستانی قیادت امن کیلئے کوششیں جاری رکھے گی، ایرانی صدر نے پاکستان کی امن کیلئے کوششوں کو سراہا، ایرانی صدر نے کہا اسلام آباد میمورنڈم آج بھی انہیں قبول ہے اور اسلام آباد میمورنڈم آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں۔
شہبازشریف نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا، پاکستان کی امن کیلئے کوششوں کو پذیرائی ملی،قیادت نے فیصلہ کیا ہے امن کیلئے کوششیں تیز کرنی ہیں، معیشت اور سفارتی تعلقات مضبوط بنانے کیلئے کوششیں جاری ہیں، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں اشتعال انگیزی ہے ، اشتعال انگیزی ختم کرنے کیلئے برادر اور دوست ممالک ملکرکوشش کریں۔ان کا کہناتھا کہ افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، دہشتگرد پولیس اہلکاروں،فوجی جوانوں اور شہریوں کو شہید کر رہے ہیں، دہشتگردی قابل مذمت ہے ،پاکستان دہشتگردی کا منہ توڑجواب دے رہا ہے ، دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل روابط کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں فریقین نے قریبی روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔دریں اثنا وزیراعظم سے بنگلہ دیشی ہم منصب طارق رحمان نے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کی صدارت سنبھالنے پر بنگلہ دیش کو مبارکباد دی اور حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے تجارت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور کثیرالجہتی فورمز، بالخصوص اقوام متحدہ کے تحت مسلسل رابطہ اور تعاون برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔علاوہ ازیں یورپی رہنماؤں نے وزیراعظم سے ملاقات میں ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا،اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیرِاعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا وان ڈیر لیین سے ملاقات کی، جس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یورپی رہنماؤں نے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے الگ الگ پیغامات میں کہا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی، مکالمے کے فروغ اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ استحکام اور سلامتی کے مشترکہ اہداف پر مل کر کام کیا جا رہا ہے ۔مزید برآں وزیر اعظم سے پاکستانی نژاد امریکی نوجوانوں کے وفد نے بھی ملاقات کی۔ وفد صحت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں کے ماہرین پر مشتمل تھا۔ شہباز شریف نے کہاہے کہ پاکستان کی تقدیر نوجوان ہی بدل سکتے ہیں، نوجوان ملک کے مختلف شعبوں کی بہتری کیلئے اپنی تجاویز دیں۔
شہباز شریف نے وفد کو پاکستان کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔شہباز شریف نے کہا بیرون ملک مقیم باصلاحیت پاکستانی نوجوان پوری قوم سمیت میرے لیے باعث فخر ہیں، حکومت نوجوانوں کو آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید شعبوں میں مہارتیں فراہم کر رہی ہے ۔پاکستانی نژاد امریکی نوجوانوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کے نوجوانوں کی ترقی کے اقدامات پر اظہار تحسین کیا اور آئی ٹی کے فروغ اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات کو سراہا۔وزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سول اور عسکری قیادت پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے اور سفارتی تعلقات بہتر کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کر رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ پاکستانی قیادت کی باہمی مشاورت اور ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں برکت عطا فرما رہا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments