آذربائیجان کی لڑکی کا دفعہ 164 کا بیان سامنے آگیا

 آذربائیجان کی لڑکی کا دفعہ 164 کا بیان سامنے آگیا

عدالت نے دباؤ، دھمکی یا ترغیب کے بغیر بیان ریکارڈ ہونے کا اطمینان کیا ملزموں نے میرے 2لاکھ روپے ، موبائل بھی واپس نہیں کئے :متاثرہ لڑکی

لاہور(محمد اشفاق)ڈیفنس سی میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار آذربائیجان کی20 سالہ لڑکی (ڈ)کا دفعہ 164 کے تحت عدالت ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا ۔روزنامہ دنیا نے بیان حاصل کرلیا جس میں متاثرہ لڑکی نے تمام تفصیلات عدالت کے روبرو بیان کی ہیں۔عدالتی  ریکارڈ کے مطابق تفتیشی افسر نے متاثرہ لڑکی کو عدالت پیش کیا، عدالت نے مختلف سوالات کئے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپکو معلوم ہے آپ عدالت میں کیوں پیش ہوئیں؟ ۔جس پر اس نے جواب دیا جی ہاں۔ عدالت نے اطمینان کیا کہ (ڈ)کسی دباؤ، دھمکی یا ترغیب کے بغیر رضاکارانہ طور پر اپنا بیان ریکارڈ کرا رہی ہے جسکے بعد اسکا بیان دفعہ 164 کے تحت قلمبند کیا گیا۔ متاثرہ لڑکی نے بیان میں کہا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی، پانچ روز فیصل آباد قیام کے بعد لاہور آگئی،رات 11 بجے وہ اکیلی کیفے میں گئی جہاں مسکان اسکے پاس آئی جس سے کھانا کھانے اور کافی پینے کا کہا تاہم مسکان نے بتایا کہ اسکی دوست نمرہ انتظار کر رہی ہے ، بعد میں مسکان کیساتھ بحریہ ٹاؤن چلی گئی۔ رات تقریباً 2 بجے سفید رنگ کی گاڑی آئی۔

جس میں احمد اور محسن نامی دو افراد سوار تھے ان کیساتھ اپارٹمنٹ میں جاکر کھانا کھایا بعد ازاں وہاں مزید دو افراد آئے جن میں ایک علی زین اوردوسر ا نامعلوم شخص تھا۔ نمرہ اور مسکان ساتھ تھیں، نمرہ نے محسن سے 20 سے 30 ہزار لیے اور بتایا کہ یہ رقم پارٹی کیلئے ہے ۔ اس نے کہا اسے پیسوں اور شراب کی ضرورت نہیں، محسن نے اسے چھونے کی کوشش کی اورالگ کمرے میں بند کردیا ،میں نے نمرہ اور مسکان بارے پوچھا تو بتایا وہ دونوں جا چکی ہیں ، وہ نہیں جا سکتی کیونکہ اسکی دوست پیسے لے گئی ہے ۔ بیان کے مطابق (ڈ)نے کہا کہ وہ انہیں 30 ہزار دے دیتی ہے تاہم علی زین نے دھمکی دی اور بلیک میل کیا اور کہا کہ پہلے انکے ساتھ شراب پیو، بعد میں جانے دیا جائے گا،اسکے بعد محسن، احمد اور علی زین نے مبینہ زیادتی کی،بعد ازاں گاڑی میں کر لے گئے ۔ اسکے بیگ میں دو لاکھ پاکستانی روپے ، آئی فون 13 پرو میکس اور ریڈمی موبائل موجود تھا جو انہوں نے رکھ لیا، بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود بیگ واپس نہیں دیا ۔واضح رہے کہ مذکورہ واقعات متاثرہ خاتون کی جانب سے عدالت ریکارڈ کرائے گئے بیان میں عائد کردہ الزامات پر مبنی ہیں جنکی حتمی قانونی حیثیت کا تعین شواہد اور عدالتی کارروائی میں ہوگا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...