واضح اختیار کے بغیر ٹیکس دہندہ کو جرمانہ نہیں کیاجاسکتا :ہائیکورٹ
دو رکنی بینچ نے درخواستگزار پر عائد 25 ہزار روپے جرمانہ کالعدم قرار دے دیا محکمہ جس شق پر انحصار کر رہا وہ دفعہ 177 کی کارروائی سے متعلق ہے :عدالت
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ قانون میں واضح اختیار کے بغیر ٹیکس دہندہ پر جرمانہ عائد نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے دفعہ 122(5A)کے تحت ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر عائد 25 ہزار روپے جرمانہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹربیونل کا فیصلہ بھی ختم کردیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس سلطان تنویر احمد نے طاہر منیر مرحوم کے قانونی ورثا کی جانب سے دائر ریفرنس منظور کرتے ہوئے 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
درخواست گزار کے مطابق دفعہ 182 میں دفعہ 122(5A)کے تحت نوٹس کی تعمیل نہ کرنے پر 25 ہزار روپے جرمانے کی کوئی مخصوص سزا مقرر نہیں ، محکمہ جس شق پر انحصار کر رہا تھا وہ دفعہ 177 کی کارروائی سے متعلق ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 182 ہر قسم کی عدم تعمیل پر جرمانہ عائد کرنے کا عمومی اختیار نہیں دیتی بلکہ صرف انہی خلاف ورزیوں پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے جن کے لیے قانون میں واضح سزا مقرر ہو ،محکمہ ایسی کوئی مخصوص شق ثابت نہیں کرسکا جس کے تحت موجودہ معاملے میں 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جاسکے ،ٹیکس یا جرمانہ قانون کے واضح اختیار کے بغیر عائد نہیں کیا جا سکتا، انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹربیونل نے بھی بنیادی قانونی اعتراض کا فیصلہ کئے بغیر اپیل مسترد کی جبکہ خود اس نے جرمانے کے درست نہ ہونے سے متعلق مشاہدہ کیا تھا،لاہور ہائیکورٹ نے ریفرنس منظور کرتے ہوئے انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور طاہر منیر پر عائد 25 ہزار روپے جرمانہ ختم کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments