دہشت گردی جیسے اہم ایشوز پر سیاست کی گنجائش نہیں

دہشت گردی جیسے اہم ایشوز پر سیاست کی گنجائش نہیں

براہ راست آپریشن کیلئے سکیورٹی ادارے اور کے پی حکومت میں امکانات کو بڑھانا ہو گا

(تجزیہ:سلمان غنی)

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی ایشوز پر جاری تناؤ اب دہشت گردی کے خاتمہ میں حکومتوں کے کردار تک وسیع تر ہوتا نظر آ رہا ہے ،جس میں وفاقی حکومت اور پختونخوا کے وزیراعلیٰ دہشت گردی بارے ریاستی پالیسی کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع کئے نظر آ رہے ہیں ۔وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ گزشتہ تیرہ سال میں پختونخوا حکومت کا کردار کیونکر غیر سنجیدہ رہا۔ دہشت گردی بارے پالیسی بنانے ،نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور ایپکس کمیٹی کے اجلاس کیلئے صوبائی حکومت کو کس نے روکا ۔دہشت گردی سے لڑنے والی اپنی افواج سے یکجہتی کا اظہار کیلئے کیا کسی پالیسی کی ضرورت تھی اور خصوصاً کوہاٹ پر ہونے والے ڈرون حملوں کی پختونخوا حکومت نے کیونکر مذمت نہیں کی اور خصوصاً افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی پر احتجاج سے کیونکرصرف نظر برتا گیا ۔جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی اور پختونخوا حکومت اس حوالہ سے ریاست اور حکومتی پالیسی کو ٹارگٹ کرتی نظر آ رہی ہے جن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی حکومت نے ہر دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کی اور اسے بھی دہشت گردی کی حمایت حاصل نہیں رہی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ اس کی ترجیح ہے ۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر الزامات لگانا درست نہیں یہ قومی مسئلہ ہے ۔ لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا دہشت گردی جیسے اہم ایشوز پر سیاست کی گنجائش ہے ،جہاں تک دہشت گردی کے حوالہ سے پختونخوا حکومت کے کردار کا تعلق ہے تو بڑا سوال یہی ہے کہ تیرہ سال سے یہاں ان کی حکومت قائم ہے تو کیا وجہ ہے کہ یہاں دہشت گردی کا رجحان بڑا اور حکومت کے اقدامات نتیجہ خیز نہ ہوئے ۔ صوبائی حکومت 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے امن و امان کی ذمہ دار ہے ،تو آخر کوئی تو وجوہات ہیں جس بنیاد پر یہاں حکومتی اور ریاستی رٹ متاثر نظر آ رہی ہے ۔ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے برسراقتدار آنے کے بعد تاثر یہ رہا کہ ان کی ترجیحات میں سیاسی ایجنڈا رہا بلکہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں خصوصاً امن و امان کے قیام کے حوالہ سے زیادہ سنجیدہ نہیں رہے ۔ جب مغربی بارڈر سے دہشت گردی کے خطرات و خدشات نظر آئے تو انہوں نے اس سدباب کیلئے کیا کیا ۔ حقیقت یہی ہے کہ پختونخوا کی حکومت کی جانب سے جیسے اقدامات کی ضرورت تھی ویسے ٹھوس اقدامات دکھائی نہ دئیے ،جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ پختونخوا کی حکومت اس حوالہ سے سنجیدہ نہیں۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مرکز اور صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں اور طے کیا گیا تھا کہ جو بھی پالیسی وفاق اور صوبہ کی سطح پر بنے گی اس میں ایپکس کمیٹیاں بنیادی کردار ادا کریں گی۔ مسئلے کا حل یہ ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہونا چاہئے اور اس میں جو بھی تحفظات وفاق کو ہیں یا صوبوں کو ہیں ان پر کھل کر بات ہونی چاہئے ۔ براہ راست آپریشن کیلئے سکیورٹی ادارے اور صوبائی حکومت کے درمیان امکانات کو بڑھانا ہو گا اور بلاوجہ کشیدگی سے بچنا ہوگا۔ بلاشبہ خیبرپختونخوا براہ راست افغان سرحد اور وہاں عسکریت پسندوں کے اثرات سے متاثر ہے ۔ وفاق سخت عسکری اور سرحدی اقدامات پر زور دیتا ہے جبکہ صوبائی حکومت فوجی کارروائیوں کے اثرات سے بچتی نظر آتی ہے اور اسے سیاسی بیانیہ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے ، اس سے قومی سلامتی کے معاملہ میں جلد اتفاق رائے کمزور ہوتا ہے ۔ لہٰذا دہشت گردی سے ناسور کے سدباب کیلئے ضروری ہے کہ ایک مشترکہ وفاقی صوبائی او رعسکری سکیورٹی فریم ورک ہوناچاہئے ،وفاق اور صوبہ ملکر مشترکہ آئینی چین اور آپریشن میکانزم بنائیں ۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی سے واضح طور پر الگ رکھا جائے ۔ دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں ریاستی اداروں کا عتماد، وفاق و صوبے کا تعاون اور افغانستان کے حوالہ سے واضح قومی حکمت عملی ہی دیرپا نتیجہ دے سکتی ہے ۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...