فضل الرحمن کے مفاہمتی عمل سے مذاکرات بحالی کی امید
دوبارہ سے مذاکرات شروع ہونے کا انحصار دوطرفہ معاملات پر لچک پر ہوگا
(تجزیہ:سلمان غنی)
حکومت اپوزیشن کے درمیان مفاہمتی عمل کے حوالے سے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی سرگرم دکھائی دے رہے ہیں اور حکومتی وفد کی ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمن کی پی ٹی آئی سے رابطوں کو اس ضمن میں اہم قرار دیا جا رہا ہے ، مولانا فضل الرحمن نے عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپسی پر گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے افہام و تفہیم سے راستہ نکالنے اور معاملات چلانے کی بات کی تھی ،بعد ازاں سپیکر ایاز صادق ،وفاقی وزیر طارق فضل اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااﷲ نے ان سے ملاقات کر کے کسی مثبت کردار کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی بڑے آئینی آپشن سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اور مسائل کے سیاسی حل پر آنا چاہئے۔
مذکورہ ملاقات کے بعد ہی فضل الرحمن کی پی ٹی آئی سے رابطے کی خبر سے مذاکرات کی بحالی کی امید بندھی ہے ،تاہم فضل الرحمن کو یہ پتہ ہے کہ ان کا یہ کردار کہیں اور قابل قبول نہیں ہوگا ، اب دیکھنا ہوگا کہ فضل الرحمٰن کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ دوبارہ سے مذاکرات شروع ہونے کا انحصار دوطرفہ معاملات پر لچک پر ہی ہے ۔مولانا فضل الرحمن خیبرپختونخوا کی سیاست میں ایک بنیادی فریق ا ور پی ٹی آئی کے حریف ہیں، ان کی رائے ہے کہ یہاں حکومت کا کوئی وجود نہیں اور انہوں نے چند روز پہلے یہ نشاندہی بھی کی تھی کہ خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے اور طالبان یہاں غیر قانونی ٹیکس اکٹھا کرتے نظر آ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں حالات کا ادراک بھی ہے اور وہ مسائل کے سیاسی حل کے لئے کوئی کردار ادا بھی کر سکتے ہیں۔
لیکن انہیں بھی اپنے مصالحتی کردار میں یہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا فریقین سنجیدہ ہیں اور اپنے اپنے موقف پر لچک کے لئے تیار ہیں ؟ ،وہ تو موجودہ سنگین حالات سے نکلنے کے لئے اے پی سی بلانے کی تجویز بھی دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں خیبر پختونخوا میں طاقت کے استعمال کے تباہ کن نتائج ہوں گے ،یہی وجہ ہے کہ وہ اس نوبت سے بچنے کے لئے مسئلہ کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔ ویسے بھی یہ اعزاز مولانا فضل الرحمن کا ہے کہ حکومت کا حصہ نہ بننے کی صورت میں وہ اپوزیشن کا بڑا کردار سنبھالنے کا فن بھی جانتے ہیں اور اس صورت میں حکومت سے ڈائیلاگ کی اہلیت بھی رکھتے ہیں ۔ آج کے حکومتی اتحادی خود ماضی میں مولانا فضل الرحمن کی اپوزیشن کی اہلیت اور کردار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آج اقتدار میں ہیں اگرچہ وہ انہیں شریک اقتدار تو نہ کر سکے لیکن ان کی مخالفت کرنے سے بھی گریزاں رہے ہیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments