حوثی ملیشیا فوری طور پر حملے بند کرے:شہباز شریف:مکہ اتحاد کا مقصد سعودی عرب کا دفاع،یمن میں کارروائیاں نہیں:پاکستان
سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کیلئے ہمارا عزم غیر متزلزل ،خطرات کے مقابلے میں اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ،وزیر اعظم ،حوثی ملیشیا کے دہشتگرد حملوں کی مذمت مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششیں ناقابل قبول ، تحفظ ہرحال میں یقینی بنایاجائے ،افغانستان سے دہشت گردی پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان کیلئے سنگین خطرہ ،ترجمان دفترخارجہ
اسلام آباد(نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا حوثی ملیشیا کو یہ حملے فوری طور پر بند کرنے چاہئیں ہم ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ۔ جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ ایکس ‘‘پر بیان میں وزیراعظم نے کہا وہ مملکت سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے بار بار ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جن میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے ، ان حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان کے ساتھ ساتھ متعدد افراد زخمی ہوئے ۔وزیراعظم نے سعودی مسلح افواج اور اتحادی افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا انہوں نے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کیا۔انہوں نے معصوم جانوں کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان، مملکت سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے ،مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی سٹرٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے مطابق سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے ، ہم سعودی عرب کے اپنے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
اسلام آباد(وقائع نگار)ترجمان دفترخارجہ سجاد حیدر خان اسلام آباد نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس کا تحفظ ہرحال میں یقینی بنایا جانا چاہیے ، پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودیہ کیساتھ کھڑا ہے ۔ پاکستانی فورسز سعودی عرب میں صرف دفاعی مقاصد کے لیے موجود ہیں مکہ اتحاد کا مقصد سعودی عرب کا دفاع ہے یمن میں کارروائیاں نہیں ، یمن پر پاک فضائیہ کی کارروائی یا کسی اسٹرائیک کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اجتماعی دفاع کے عزم کی توثیق کرتے ہوئے فوجی تیاری، باہمی دفاعی تعاون اور خطرات سے نمٹنے کی مشترکہ صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کی منظوری دی ہے ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے مکہ معاہدے کے تحت اپنے عزم پر قائم ہے ۔دفتر خارجہ میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان سجاد حیدر خان نے بھارت کی جانب سے 2 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے نئے سیاسی نقشے سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان بھارت کی تازہ ترین جغرافیائی نقشہ سازی کی جارحیت کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے ۔متنازعہ جموں و کشمیر کے بعض علاقوں کو بھارتی حدود میں ظاہر کرنا اور مقامات کے نام یکطرفہ طور پر تبدیل کرنا غیرقانونی اقدامات ہیں، جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
ایسے اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو قانونی جواز نہیں مل سکتا۔غزہ کی صورتحال اور بورڈ آف پیس کے بیان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ماسکو فارمیٹ مشاورت کے اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 5 اکتوبر کو ماسکو میں افغانستان سے متعلق آٹھویں اجلاس میں تعمیری انداز میں شرکت کی اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے بارے میں اپنے تحفظات واضح طور پر پیش کیے ۔افغانستان سے دہشت گردی پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے ۔ گزشتہ سال کے مشترکہ اعلامیے میں بھی ان خدشات کی عکاسی کی گئی تھی، تاہم اس سال افغان طالبان وفد نے دہشت گردی سے متعلق پہلے سے متفقہ زبان برقرار رکھنے پر اتفاق نہیں کیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ محض الفاظ کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بنیادی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے ۔ تاہم مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے سے علاقائی مکالمے کی اہمیت کم نہیں ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اگلے ماسکو فارمیٹ اجلاس میں ابھی ایک سال باقی ہے ، اس لیے مستقبل میں شرکت کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے مشاورت کا وقت موجود ہے ۔
فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ترجمان نے بتایا کہ 2 اکتوبر کو بین الاقوامی سرحد کے قریب بیدیاں سیکٹر میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ہاتھوں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے بعد 3 اکتوبر کو بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔پاکستان نے غیرمسلح شہریوں کے خلاف بلااشتعال اور غیرمتناسب مہلک طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے بھارت سے فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف قانونی و تادیبی کارروائی اور تحقیقات کے نتائج پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کا مطالبہ کیا۔ترجمان نے کہا کہ بھارت کو بین الاقوامی قانون، بنیادی انسانی حقوق اور سرحدی ضابطوں کا احترام کرتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہیئں۔حوثی حملوں کے تناظر میں سعودی عرب میں پاکستانی فوجی معاونت اور ممکنہ نئی تعیناتیوں کے بارے میں سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ طور پر سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فوجی اہلکار اور وسائل پہلے ہی ریاض میں موجود ہیں، جبکہ تینوں ممالک نے خطرات سے نمٹنے کے لیے وسائل کو تیزی سے متحرک کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ تاہم، فوجی کارروائیوں کی نوعیت یا مزید تعیناتیوں سے متعلق تفصیلات فراہم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔حوثیوں کو جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی یا کسی تیسرے ملک کے ملوث ہونے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس مرحلے پر کسی ملک کا نام لینا قیاس آرائی ہوگی، اس لیے وہ اس حوالے سے کوئی مخصوص نام نہیں بتا سکتے ۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی پالیسی کا مقصد سعودی عرب کے دفاع، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments