گورنر راج ، ایمرجنسی کوغیر آئینی قرار دینا غلط:احسن اقبال
ضد کیوجہ سے آخری پناہ گاہ اور حکومت بھی گنوا دی، شکریہ پی ٹی آئی آئین کی دہائی دینے والوں کو اپریل 2022 بھی یاد رکھنا چاہیے :بیان
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے گورنر راج اور ایمرجنسی اصولی طور پر پسندیدہ اقدامات نہیں تاہم جمہوری نظام میں ان کا استعمال آخری چارئہ کار ہوتا ہے ، 1973 کا آئین ناگزیر حالات میں ان کی اجازت دیتا ہے لہذا انہیں غیر آئینی قرار دینا قطعا درست نہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘پر جاری بیان میں انہوں نے کہا پختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی پورے پاکستان کی سلامتی کیلئے بھی سنگین چیلنج بن چکی تھی، صوبائی حکومت کا دہشت گردی کیخلاف جنگ سے آنکھیں چرانا اور صوبائی وسائل اور انتظامی توجہ کو دارالحکومت کی جانب سیاسی چڑھائی پر مرکوز کرنا اس ذمہ داری سے انحراف ہے ،لانگ مارچ دہشت گردوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا ذریعہ بن چکا تھا ۔انہوں نے مزید کہا کہ کیا پاکستان ہر چند ماہ بعد ایسی محاذ آرائی کا متحمل ہو سکتا ہے جو کاروبار، روزگار، سرمایہ کاری اور معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر دے ؟ ،پی ٹی آئی قیادت نے پہلے بھی تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی سے استعفوں اور پنجاب میں اپنے ہاتھوں اپنی ہی حکومت ختم کرنے جیسے نادانشمندانہ فیصلوں سے اپنے سیاسی مواقع خود محدود کئے اب ایک بار پھر سیاسی تدبر پر ضد اور انا کو ترجیح دیکر اپنی آخری پناہ گاہ اور حکومت بھی گنوا دی۔ تھینک یو پی ٹی آئی!۔آج آئین کی دہائی دینے والوں کو اپریل 2022 بھی یاد رکھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی سیاست درکار ہے جو اختلاف کو دلیل، مذاکرات اور آئینی عمل سے آگے بڑھائے ، اور عوام کو بار بار تصادم، بے یقینی اور انتشار کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہ کرے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments