پارلیمنٹ نے ایمرجنسی، گورنر راج کی توثیق کردی ، پی ٹی آئی عہدیدار بااختیار ہوکر آئیں تو بات چیت آگے بڑھ سکتی : محسن نقوی
اچکزئی قسم کھا ئیں کیا آپ جیت کر آئے ،سہیل آفریدی نے فوج کیساتھ کھڑاہونا گوارا نہ کیا:وزیر داخلہ،کابل میں چائے کے بعد دہشتگردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی:اسحاق ڈار سیاست پر ریاست کو ترجیح دینی چاہیے :اعظم نذیر،دہشتگردی کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے :طارق فضل،معاہدہ ہوتا تو بانی پی ٹی آئی کی سہولتیں یقینی بناتے :شیری رحمن گورنر راج عوامی مینڈیٹ کیخلاف :ناصر عباس،وہ رپورٹ دکھائیں جس پر حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کیا:علی ظفر، تحریک کے حق میں 214ووٹ،56کی مخالفت،نعرے بازی
اسلام آباد(اپنے رپورٹرسے ، نامہ نگار) پارلیمنٹ کے ہنگامہ خیز مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی نعرہ بازی کے دوران کثرت رائے سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کردی گئی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا پی ٹی آئی عہدیدار بااختیار ہو کر آئیں، فیصلوں پر قائم رہیں تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔پی ٹی آئی کے ارکان دوسرے روز بھی بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر آئے۔ قواعد معطل کرکے صوبہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کے حوالے سے دستور کے آرٹیکل 232(7) اور آرٹیکل 234(1) کے تحت قراردادیں پیش کی گئیں۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل کی تحریک پر سپیکر نے اپوزیشن کے اصرار پر ارکان کو باقاعدہ کھڑا کرکے رائے شماری کرائی تو تحریک کے حق میں 214 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 56 ووٹ آئے ،اس دوران پی ٹی آئی ارکان نے گورنر راج کے خلاف نعرہ بازی بھی کی ،تحریک کثرت رائے سے منظور ہونے کے بعد ایوان میں دونوں قراردادوں پر بحث کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ کابل میں چائے پینے کے بعد دہشت گردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی۔ دہشت گردوں کو دوبارہ پاکستان آنے کا موقع دینے اور انہیں رہا کرنے کے فیصلوں کی ذمہ داری کا تعین ضروری ہے ، کیونکہ ان غلطیوں کی بھاری قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑی۔کالعدم ٹی ٹی پی کے بھاگے ہوئے دہشت گردوں کی واپسی کے بعد ملک میں ایک مرتبہ پھر بدامنی اور دہشت گردی کے مسائل شروع ہوگئے ۔جن لوگوں نے ایسے فیصلے کیے ، انہیں دہشت گردی کی دوبارہ واپسی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، نائب وزیراعظم نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جیلوں میں قید دہشت گردوں کو کس حکومت نے رہا کیا اور انہیں دوبارہ سرگرم ہونے کا موقع کس نے دیا؟ ان کے مطابق ماضی کے غلط فیصلوں کے باعث دہشت گردی دوبارہ سر اٹھانے میں کامیاب ہوئی اور پاکستان کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ انہوں نے کہا دہشت گردی کا معاملہ اب محض سیاسی مفاہمت تک محدود نہیں رہا بلکہ صورتحال اس سے آگے نکل چکی ہے۔
اگر اب بھی دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پھر اس مسئلے سے نمٹنے کا مناسب وقت کون سا ہوگا؟ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کیلئے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن حکمت عملی ناگزیر ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں ایک بار بھی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا گواراہ نہیں کیا ، ہر بار کہا کہ سیاسی طور پر آپریشن افورڈ نہیں کرسکتا،ہم گورنر راج لگانے کے بالکل بھی قائل نہیں تھے ، ہم نے پوری کوشش کی کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہو، ہم چاہتے تھے کہ یہ لڑائی خیبرپختونخوا کی لڑائی ہے بس آپ لیڈ کریں مگر صوبائی حکومت لیڈ کیلئے تیار نہیں تھی، اور نہ کبھی انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کی، تمام پریس ریلیز نکلوالیں کہیں مذمت نہیں ملے گی۔ محسن نقوی نے کہا کہ میں ذاتی طور پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے کئی بار ملا، ہم نے طے کیا کہ پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط کریں گے تاکہ وہ کارروائی کرسکے ، یہ بات سہیل آفریدی سے میں نے مل کر خود طے کی تھی مگر بعد میں انہیں کون ہدایات دیتا ہے یہ الگ بات ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات سے اٹھ کر ہم نہیں گئے ، ہم نے کوئی ٹائم لمٹ بھی نہیں دی، مذاکرات ہر بار ہم نے آکر کیے ، انہوں نے ایک کاغذ لہرایا اور کہا کہ اس میں موجود تمام شرائط خیبرپختونخوا حکومت کی تھیں جو ہم نے مانیں آخری لائن ہماری تھی، لانگ مارچ بھی ہم نے کہا کرلیں۔انہوں نے کہا کہ جب موقع ملے سہیل آفریدی سے پوچھیں جب بھی خیبرپختونخوا کیلئے پیسوں کا مسئلہ آیا میں وزیراعلیٰ کو لے کر وزیراعظم کے پاس گیا، ان کا ایک ایک مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، آخری گھنٹے تک ہماری کوشش تھی کہ ان بارہ اضلاع میں ایمرجنسی نہ لگے ۔انہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی ہمیں فارم 47 کیلئے قسم کھانے کا بول رہے ہیں، محمود خان اچکزئی پہلے اپنی نشست کیلئے تو قسم کھائیں، میں یہاں بیٹھے لوگوں کیلئے قسم نہیں کھا سکتا لیکن آپ اپنی نشست کی قسم کھائیں کیا آپ جیت کر آئے ہیں؟۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال اور سرحد پار سے دراندازی سمیت قومی سلامتی کے دیگرامور کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا فیصلہ کیا جو آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا گیا،جہاں قومی سلامتی کا مسئلہ آجائے وہاں سیاست کے بجائے ریاست کو اہمیت دی جاتی ہے ،سارے عمل کو جمہوری اور آئینی اندازمیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کا تمام تر اختیار پارلیمنٹ کا ہے ۔
گزشتہ روز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے قرار دادوں کی منظوری دی گئی ہے کیونکہ اٹھارویں ترمیم میں ہے کہ دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاسوں میں اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے ،یہ مقتدر ایوان ہے اس میں بڑے تحمل سے ارکان ان دستاویزات پر اظہار خیال کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کی منظوری دی جاتی ہے ۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس صدر مملکت نے طلب کیا ہے اور ہم سب یہاں موجود ہیں،دونوں ایوان نے اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ان دونوں امور پر بحث کی ہے ۔آئین نے جو مینڈیٹ دیا اس کے مطابق عمل کیا گیا اور یہ ایک جمہوری طریقہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ تمام محرکات قوم کے سامنے میڈیا کے ذریعے بھی پیش کیے ۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 234 کے حوالے سے صدر مملکت کو ایک خط کے ذریعے تمام حالات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ صوبے میں دہشت گردی کی جنگ روز بروز زور پکڑ رہی ہے ۔یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ یہ ایکسرسائز پہلے کیوں نہیں عمل میں لائی گئی ، انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ عمل آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ صوبائی حکومت کو پہلے بھی بار بار آگاہ کیا گیا۔ اس سارے معاملے میں ایک بہت بڑا حصہ سرحد پار سے مداخلت کا ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ خود پشاور جاتے رہے ۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس بھی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور باجوڑ میں ایک ہی دن دہشت گردی کے واقعات ہوئے اور لوگوں کی شہادتیں ہوئیں جس پر ان لوگوں کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔صوبائی حکومت کے سربراہ کو اس صورتحال میں وہاں موجود ہونا چاہیے نہ کہ انہیں جلسوں میں میوزک لگا کر جشن کا سما ں بنایا جائے ۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا سارا زور ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز تھا ۔2025 میں سہیل آفریدی کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے سے لے کر اب تک صوبہ میں دہشت گردی کے 3787 واقعات ہوئے حالانکہ اس سے پہلے گزشتہ تین سالوں میں صوبہ میں دہشت گردی کے 2900 واقعات ہوئے تھے ۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا جل رہا ہے ، وہاں کی صورتحال خراب ہے ،ہمارے علماء اور سویلین شہید ہو رہے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب ریاست کو ترجیح دینی چاہیے اور سیاست کو چھوڑ دینا چاہیے ۔انہوں نے آئین کے آرٹیکل 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کہ گورنر اس صورتحال کی صدر مملکت کو باقاعدہ نشاندہی کرتے ہیں جس کے بعد یہ ایکسرسائز عمل میں لائی گئی۔
قومی سلامتی کے معاملات عدالتوں میں بھی جب گئے تو ان کو ان کیمرہ زیر غور لایا گیا۔آئین کے آرٹیکل 232 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کی اندرونی صورتحال بھی خراب تھی۔2010 سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے این ایف سی کا ایک فیصد اضافی دیا گیا جو رواں سال 13 ارب بنتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہاں پہ سی ٹی ڈی کا ڈھانچہ پوری طرح موجود نہیں تھا ،سنگین حالات کے باوجود خیبرپختونخوا میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم نہیں کی گئی۔ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے تک اس معاملے پر تفصیلی غور و خوض کیا اور اجتماعی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی ایک آخری کوشش کی گئی جس کے دوران دونوں طرف سے اس پر رائے دی گئی۔اب یہ سارا اس ایوان کا اختیار ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے ، آئین پاکستان کے تحت تمام تر اختیار اسی ایوان کے پاس ہے ۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل نے کہا ہے کہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کا اٹل فیصلہ کر لیا ہے اور صوبے میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ معاملہ کسی کی فتح یا شکست کا نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کی جانوں کے تحفظ کا ہے۔
خیبر پختونخوا کی صورتِحال اور وہاں دہشت گردی کے حوالے سے پیش کئے گئے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمرجنسی کا نفاذ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل عدم تعاون، غیر سنجیدگی اور خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت کی جانب سے وفاقی حکومت کو تعاون کی یقین دہانی نہ کرائے جانے کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی مجبوری میں لگائی گئی، صوبائی حکومت لانگ اور شارٹ مارچ کرتی رہی لیکن عوامی فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ملکی دفاع اور عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ خیبر پختونخوا میں 2013 میں قائم ہونے والی حکومت کا رویہ اور کارکردگی مایوس کن رہی، صوبے کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ، صرف ایک شخص کی خوشامد کی گئی۔ نیا پاکستان بنانے والے نیا صوبہ تو نہیں بنا سکے لیکن پرانے صوبے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ تیرہ سال ان کی حکومت رہی، وہ اسے ماڈل صوبہ بنا سکتے تھے ، ان کی ترجیحات مختلف تھیں۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ ماضی میں خیبر پختونخوا کے حالات اس قدر خراب ہو چکے تھے کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مشکل فیصلے کرنا ناگزیر ہو گیا تھا، جن کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے ۔ ملک کا مفاد ہر چیز پر مقدم ہے اور ذاتی مفادات کیلئے پورے ملک کو مفلوج نہیں کرنا چاہیے ۔ وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں تمام سیاسی جماعتیں نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہوئی تھیں۔ یہ کسی ایک جماعت کی پالیسی نہیں بلکہ تمام جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ تھا، جس کا مقصد ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے پشاور میں دفتر کھولنے کی بات بھی کی تھی اور لوگوں کو رہا کیا گیا، جس کے نتائج آج عوام بھگت رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اپوزیشن کے رویے کے باعث یہ نتیجہ خیز نہ ہو سکی، ہمیں مذہبی، سیاسی اور علاقائی تعصبات اور نفرتوں کو ختم کرکے ملکی ترقی کیلئے مل کر آگے بڑھنا چاہئے ۔گورنر راج اور ایمرجنسی کو آئینی تحفظ حاصل ہے ، جمہوریت پسند کوشش کرتے ہیں کہ ایسا اقدام نہ ہو لیکن بعض حالات میں ایسا کرنا پڑتا ہے ، ماضی میں بھی صوبوں میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
سپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں مسائل حل کرنے کیلئے مذاکرات کی کوشش کی گئی، بعض رویوں کے باعث یہ کوشش ثمر آور نہ ہو سکی ، سیاست میں بات چیت کو ترجیح دی جاتی ہے ، پی ٹی آئی کو اپنے طرز فکر اور رویے کو دیکھنا چاہئے ، اس سے جمہوریت اور سیاست کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ملک کو دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے ، صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کا ساتھ دینا چاہئے تھا انہوں نے اسلام آباد پر حملے کی دھمکی دی۔ پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ملک وحدت سے چلتے ہیں کسی صوبے کو اپنی الگ خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار نہیں ، پی ٹی آئی ہوش کے ناخن لے ،کوئی بھی زیرک سیاستدان ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت نہیں کرسکتا، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ پیپلز پارٹی ایسی کسی ایمرجنسی کی معاونت کرے گی جو ملک میں آئین سے ماورا ہو تو یہ سوچ غلط ہے ،سقوط ڈھاکہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے ،ہم نہیں چاہتے کہ یہ سبق آپ بھول جائیں ،صدر زرداری پراس حوالے سے تنقید کا جواز نہیں بنتا ،صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حتی الامکان کوشش کی کہ مذاکرات کی میز پر یہ مسائل حل ہوں۔
دہشت گردی ہمارے لیے سرخ لکیر ہے کیونکہ اسی دہشت گردی کی وجہ سے کارساز کاسانحہ ہوا، محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی ، اے پی سی کے طلبہ کو نشانہ بنایا گیا اور ہمارے کارکنوں کو شہید کیا گیا۔ملک کا بہت بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے ، سب کو معلوم ہے کہ ٹی ٹی پی کو یہاں آباد کیا گیا ،ڈیرہ اسماعیل خان میں دن کے وقت کسی اور کی حکومت ہوتی ہے اور رات کے وقت کسی اور کی ، ہماری سرزمین ہمیں واپس چاہیے ۔سانحات ملک وحدت کے ساتھ برداشت کرتا ہے تنقید سے نہیں،بہت سے معاملات مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوتے ہیں،کسی بھی مذاکراتی عمل میں اعتماد سازی کا عمل بنیادی حیثیت رکھتا ہے ،چار مرتبہ مذاکرات کا ڈرافٹ تبدیل کیا گیا جس پر مجھے شرمندگی ہو رہی تھی،یوں لگ رہا تھا کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور ہم بہت خوش تھے ہم سب نے سکھ کا سانس لیا اور یہ سوچ رہے تھے کہ ہم تقسیم سے بچ گئے ہیں۔اگر صوبے اور وفاق کے درمیان معاہدہ ہو جاتا تو پولیس با اختیار ہوتی اور فوج سے آگے ہوتی،مجھے انتہائی دکھ ہے کہ پی ٹی آئی نے یہ سنہری موقع کھو دیا ،معاہدے پر دستخط ہوتے تو بانی پی ٹی آئی کو تمام سہولتیں یقینی بنانے میں ہم ساتھ دیتے ۔
انہوں نے خود اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچی ہے ۔پی ٹی آئی کو اب سوچ لینا چاہیے کہ وہ ملک کی وحدت چاہتے ہیں یا اپنی سیاست چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے بارے میں نہیں سوچتیں بیرونی قوتیں ان کو نقصان پہنچاتی ہیں،دشمنوں کا آپریشن سندور چل رہا ہے وہ اب بھی پراکسی وار چلا رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن نہیں بلکہ یہ عالمی سرحد ہے ،ہمیں متحد رہنا ہوگا اور ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنا ایجنڈا واضح کرنا چاہیے ،ان کا لانگ مارچ اگر فرد واحد کیلئے ہے تو ان سے بھی اس صورتحال میں معذرت کر لیں۔انہوں نے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حب الوطنی کا درس نہ دیا جائے ،وہ جانتے ہیں کہ میرا تعلق کس جماعت سے ہے ۔پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا بلاول بھٹو زرداری واضح کر چکے ہیں کہ گورنر راج کوئی اچھی چیز نہیں اور یہ آخری آپشن تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذاکراتی عمل کو کمزور کیا گیا،ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے والے ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہم ان سے بات کریں گے ، آپ لاڈلے ہوں گے ، ہم تو کبھی لاڈلے بن ہی نہیں سکے ۔
تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے حکومتی اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت وہ رپورٹ ایوان میں پیش کرے جس کی بنیاد پر صوبائی حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا۔علی ظفر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 234 میں واضح طور پر درج ہے کہ گورنر کی جانب سے صدر مملکت کو رپورٹ بھجوائی جائے گی اور صدر اس رپورٹ پر اطمینان حاصل کریں گے ۔ حکومت بتائے کہ وہ رپورٹ کون سی تھی اور اس پر اطمینان کیسے حاصل کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی روکنا آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت وفاق کی ذمہ داری بھی ہے ۔ اگر دہشت گردی کی بنیاد پر گورنر راج لگایا جا سکتا ہے تو وفاق میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے ہیں، کیا وہاں بھی گورنر راج لگایا جائے گا؟ بلوچستان میں صوبائی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہے تو وہاں گورنر راج کیوں نہیں لگایا گیا؟
علی ظفر کی تقریر کے دوران مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر عابد شیر علی نے شور شرابا کیا تو پی ٹی آئی سینیٹر نے جواب دیا کہ چور مچائے شور۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر قانون سے غلطی ہوئی ہے تو شور مچانے سے بات نہیں بنے گی۔ عابد شیر علی نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر جوابی جملے کہے ، جس پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے انہیں خاموش کرا دیا۔سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ لانگ مارچ آئینی اور جمہوری حق ہے ، اختلاف رائے کا حق ختم کرنا معاشرے کیلئے خطرناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدام ہے ۔راجہ ناصر عباس نے کہا بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونا غیرآئینی ہے ، پاکستان کو جمہوری اور آئینی راستے پر چلانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ فروری 2024ء کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چھینا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments