قومی اسمبلی:6ترمیمی بلز منظور، کورم ٹوٹ گیا، اجلا س ملتوی
پاکستان سٹڈی سینٹر، فیڈرل بورڈ، ٹریول ایجنسیز، سیاحت،ہوٹلز، موشن پکچرز بلز شامل
اسلام آباد (نامہ نگار، اپنے رپورٹر سے ) قومی اسمبلی نے مختلف شعبوں سے متعلق 6 ترمیمی بلز منظور کر لیے ۔منظور ہونے والے بلوں میں پاکستان سٹڈی سینٹر ترمیمی بل 2026، فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی بل، ٹریول ایجنسیز ترمیمی بل، پاکستان ٹورسٹ گائیڈز ترمیمی بل 2026، پاکستان ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس ترمیمی بل اور موشن پکچرز ترمیمی بل 2026 شامل ہیں۔قانون سازی کے دوران اپوزیشن کے رکن قومی اسمبلی سہیل نے کورم کی نشاندہی کی۔ گنتی پر کورم پورا نہ ہونے کے باعث سپیکر نے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی۔ دوبارہ گنتی پر بھیمطلوبہ تعداد پوری نہ ہوئی جس پر اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ قبل ازیں سپیکر سردار ایاز صادق نے مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمانی سیکرٹری صرف اپنی متعلقہ وزارت کے امور پر جواب دے سکتا ہے ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ قواعد کے تحت وزیر، وزیر مملکت اور پارلیمانی سیکرٹری ایوان میں جواب دے سکتے ہیں اور کسی بھی وزارت سے متعلق سوالات کا جواب دینے کے مجاز ہیں۔رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے سپیکر کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری کے سینیٹ میں جانے کی آئینی اجازت نہیں۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے پارلیمانی سیکرٹری کے ذریعے ایوان کو جواب دہ بنانے کے تصور کو مغربی پارلیمانی نظام سے ماخوذ قرار دیاجبکہ عبدالغفور حیدری اور عالیہ کامران نے کہا کہ آئین قواعد سے بالاتر ہے ۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وقفہ سوالات کا مقصد حکومت کو جواب دہ بنانا ہے ، اس لیے متعلقہ وزارت کے پارلیمانی سیکرٹری کو جواب دینا چاہیے ۔ انہوں نے سپیکر کی تشریح کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری کا کردار متعلقہ وزارت تک محدود ہونا چاہیے ۔سپیکر نے معاملے پر مزید تیاری کے لیے بحث مؤخر کرتے ہوئے ارکان کو آئندہ اجلاس میں اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments