کیاملک میں بیوروکریسی چلے گی؟جسٹس اعظم حکام پربرہم
کیا کمیٹی عدالتی آرڈر کی سکروٹنی کریگی؟دوران سماعت حکام عدالت طلب بہت صبر کر لیا،غیرمشروط معافی نہیں مانونگا،توہین عدالت درخواست پرریمارکس
اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونامعمول بن جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شہری کا نام سفری پابندی کی فہرست نکالنے کیلئے ایک روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا اگر عدالتی احکامات ہر عملدرآمد نہ ہوا تو توہین عدالت کی کاروائی کا آغاز کریں گے ۔ وجاہت نامی شہری کی توہین عدالت درخواست پر سماعت کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے عدالت کو بتایاکہ معاملہ نظرثانی کمیٹی میں ہے ، جسٹس اعظم خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ کیا طریقہ ہے آرڈر میں لکھ دوں کہ کمیٹی میں ہے معاملہ ، حکام نے کہا یہ ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت معاملہ دیکھنا ہوتا ہے ، جسٹس اعظم خان نے کہا کورٹ کے آرڈر کے بعد کون سا میکنزم ہوتا ہے ، اے جی صاحب آئندہ اگر توہین عدالت آئی تو پھر جو ہو گا آپ دیکھ لینا،ڈی جی کو بلوا لیں ایسے نہیں ہو گا، عدالت نے سیکرٹری داخلہ ، ڈی جی ایف آئی اے ،ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت میں وقفہ کردیا،دوبارہ سماعت کے دوران جائنٹ سیکرٹری ایڈمن، ڈائریکٹر امیگریشن اینڈ پاسپورٹ، ایف آئی اے حکام اور دیگر عدالت پیش ہوگئے ، جسٹس اعظم خان نے حکام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا دیکھیں آپ ہمیشہ توہین عدالت کی درخواست دائر ہونے کا انتظار کرتے ہیں،کیا کوئی کمیٹی ہے کہ عدالتی آرڈر کی سکروٹنی کرے گی،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل موجود ہیں ہم نے بہت صبر کر لیا،کورٹ کے ساتھ یہ کریں گے تو لوگ کہاں جائیں گے ،لوگوں کا اعتماد عدالتوں سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
،کیا یہ بیوروکریسی چلے گی اس ملک میں،کیا اب آپ سپریم کورٹ بن گئے ہیں،میں اب غیر مشروط معافی مانوں کا بھی نہیں،میں توہین عدالت کی کاروائی شروع کر رہا ہوں ڈائریکٹ چھ ماہ کے لیے جیل جائیں گے ،اب آپ عدالتوں پر چڑھیں گے ،کیا ہم ان درخواست گزاروں کو کہہ دیں یہ عدالت نہ آئیں ؟،کل آپ درخواست گزار ہوں گے آپ کی ساتھ نا انصافی ہو گی پھر کیا ہو گا ؟، یہ طریقہ نہیں ہے کہ آپ نے کمیٹی بنا دی ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی سکروٹنی کریں گے ،ہم نے عوام کو انصاف دینا ہے کل کو بھی آپ ادھر ہوں گے ، جائنٹ سیکرٹری ایڈمن نے کہا ہماری کمیٹی آرڈر کو ریویو نہیں کرتیں نہ ہی عدالتی فیصلے کے خلاف جاتی ہیں،عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہیں ، جسٹس اعظم خان نے امیگریشن اینڈ پاسپورٹ حکام کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا عدالتوں کو بے توقیر نہ کریں ،جو بے بس کمزور ہے وہ ہمارے پاس آتا ہے ،جس کے پاس پیسے ہیں وہ تو نکل جاتا،ان بے بس لوگوں کو نہ سنا جائے تو یہ عدالتیں نہیں چلیں گی یہ سسٹم نہیں چلے گا،یہ لوگوں کو روکتے ہیں رشوت بھی لیتے ہیں ہمیں سب پتہ ہے ،عدالت نے شہری کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی مہلت دیتے ہوئے کہا اگر عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہوا تو کل سے توہین عدالت کی کاروائی شروع ہو گی، مزید سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments