پٹرولیم لیوی، وزیراعظم سے حافظ نعیم کی آج ملاقات

 پٹرولیم لیوی، وزیراعظم سے حافظ نعیم کی آج ملاقات

لیوی ختم نہ کی گئی تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد مارچ شروع کیا جائیگا ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے واقعات عدالتی نظام کی تباہی کا ثبوت ہیں

لاہور (سیاسی نمائندہ، آن لائن، آئی این پی) پٹرولیم لیوی کے معاملہ پر وزیراعظم شہباز شریف سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات آج ہو گی،اس سلسلہ میں گزشتہ روز حکومت اور جماعت اسلامی میں اعلیٰ سطح کا رابطہ ہوا ، وزیر اعظم سے حافظ نعیم الرحمن کی آج دوپہر ہونیوالی ملاقات وفود کی سطح پر ہوگی، حکومتی وفد میں احسن اقبال، رانا ثنائاللہ، علی پرویز ملک شامل ہوں گے ۔ ملاقات میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے ،ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں کم کرنے پر بات چیت ہو گی۔منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے متعین ایجنڈے پر ملاقات ہوگی، پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو نومبر کے وسط میں پوری طاقت سے اسلام آباد مارچ شروع کیا جائے گا۔ عوام شدید غصے میں ہیں، اس سے پہلے کہ لاوا پھٹ جائے ، انہیں ریلیف دیا جائے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئینی ترامیم سے عدالتی نظام مزید کمزور ہوا ہے ، ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ عدالتی نظام کی تباہی کا ثبوت ہے ۔ پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اسے ختم کیا جائے ۔

وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو دوبارہ کوئی ملاقات نہیں ہوگی، یکم نومبر کے بعد اسلام آباد مارچ کی بھرپور تیاری شروع ہوگی اور پھر فیصلے سڑکوں پر ہوں گے ۔حافظ نعیم نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ریاست کی رِٹ ختم ہوچکی، طاقتور مجرموں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عدالتوں میں 23 لاکھ مقدمات زیرالتوا ہیں، جبکہ ان کے بقول 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سے حکومت نے عدالتوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بدترین حالات کے باوجود ریفائنریوں کے منافع میں ایک سال کے دوران ایک ہزار سے 1100 فیصد تک اضافہ ہوا، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بھی اربوں کما رہی ہیں جبکہ آئی پی پیز کو بھی اربوں روپے ادا کئے جارہے ہیں۔ چند ہزار افراد اور مختلف مافیاز کو نوازنے کے بجائے عوام کو فائدہ دیا جائے ۔ وزیراعظم کا پٹرول پر جاری ریلیف ناکافی ہے ، آٹا 7 ہزار روپے من سے تجاوز کرگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پختونخوا میں ایمرجنسی لگا کر 160 ارب روپے کا مارجن کہاں سے نکالا گیا، آئی ایم ایف معاہدے میں پٹرولیم لیوی ختم نہ کرنے کی شرط نہیں۔ چند ہزار افراد کے فائدے کیلئے 25 کروڑ عوام کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔فلسطین کی صورتحال پر حافظ نعیم نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے ساتھ مغربی کنارے میں بھی بدترین مظالم شروع کردئیے ہیں۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ سیاسی فائدے کیلئے حالات کو استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ نام نہاد غزہ بورڈ کیا کررہا ہے اور اسلامی ممالک کے حکمران فلسطین کیلئے کیا اقدامات کررہے ہیں؟ سعودی عرب پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات سے حالات معمول پر لائے جائیں، مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کو بھی شامل کیا جائے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...