سیلز ٹیکس چوری:سٹیل سیکٹر کو مانیٹرنگ سسٹم کیلئے 30دسمبر ڈیڈلائن
نئے قواعد کے تحت سٹیل کی پیداوار، وزن، گنتی اور ترسیل کا مکمل ریکارڈ مرتب ہو گا
اسلام آباد (مدثرعلی رانا) آئی ایم ایف شرط پر ایف بی آر نے سٹیل سیکٹر میں ٹیکس چوری روکنے کیلئے نگرانی کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کیا اور پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کیلئے نئے اقدامات کرتے ہوئے سٹیل مینوفیکچررز کو مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ دستاویز کے مطابق سٹیل پگھلانے والے یونٹس، ری رولرز اور مشترکہ صنعتی اداروں کو پیداواری نگرانی کا نظام نصب اور فعال کرنا ہوگا جس کیلئے اداروں کو تیس دسمبر تک مہلت دی گئی ہے ۔ نئے قواعد کے مطابق سٹیل کی پیداوار، وزن، گنتی اور ترسیل کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، بلٹس اور تیار سٹیل کی مصنوعات کی پیمائش اور تعداد کی نگرانی کی جائے گی، سامان لے جانے والی گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز، مجموعی وزن اور خالص وزن کا ریکارڈ رکھنا لازمی ہوگا۔
جدید مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے پیداوار اور ترسیل کے اعداد و شمار میں فرق کی نشاندہی کی جا سکے گی، آلات اور سافٹ ویئر ایف بی آر کے منظور شدہ فراہم کنندگان سے حاصل کرنا ہو گا۔ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ مانیٹرنگ سسٹم میں خرابی یا چھیڑ چھاڑ کی صورت میں متعلقہ حکام کو ایک گھنٹے کے اندر اطلاع دینا ہوگی، پروڈکشن لائن یا ترسیلی طریقہ کار میں تبدیلی سے تیس روز قبل آگاہ کرنا لازم ہوگا، نگرانی اور ترسیل کا مطلوبہ ریکارڈ مرتب کیے بغیر سٹیل مصنوعات یونٹ سے باہر بھیجنے کی اجازت نہیں ہوگی، قواعد کی خلاف ورزی یا پیداوار چھپانے کی صورت میں متعلقہ اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔ جو سٹیل پروڈکشن یونٹس تیس دسمبر تک مانیٹرنگ سسٹم نصب نہیں کریں گے ان کے خلاف ایف بی آر ایکشن لینے کا مجاز ہو گا۔ ہر فیکٹری اور پروڈکشن لائن پر ایف بی آر کا منظور شدہ ویڈیو اینالیٹکس سسٹم نصب کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔
، نگرانی کے نظام کیلئے ایف بی آر نے چار سٹیجز متعین کی ہیں، پہلی سطح پر میلٹنگ پوائنٹ اور ری ہیٹنگ فرنس پر کیمرے ہر بلٹ کی تعداد، سائز اور وزن خودکار طریقے سے ریکارڈ کریں گے ، دوسری سطح پر رولنگ مل پر تیار سریے کا ڈایا میٹر اور سائز چیک کیا جائے گا، تیسری سطح پر کولنگ بیڈ پر تیار سریا، گارڈر اور سیکشنز کی خودکار گنتی اور درجہ بندی ہوگی، چوتھی سطح پر تمام وی برجز کو سسٹم سے منسلک کیا جائے گا۔ گاڑی نمبر، مجموعی وزن، نیٹ وزن اور ڈسپیچ ڈیٹا کا اصل پیداوار سے موازنہ کیا جائے گا۔
، سسٹم میں انڈسٹریل آئی پی کیمرے ، نیٹ ورک ویڈیو ریکارڈر، کمپیوٹر اور اے آئی پر مبنی ویڈیو اینالیٹکس سافٹ ویئر لگانا لازم ہوگا جس کا ڈیٹا براہ راست ایف بی آر کے سینٹرل کنٹرول یونٹ کو جائے گا، مقررہ تاریخ تک سسٹم نصب نہ کرنے اور بغیر مانیٹرنگ مال فیکٹری سے نکالنا، سسٹم میں چھیڑ چھاڑ، کیمرے بند کرنا یا ڈیٹا میں ہیرا پھیری سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت قابل سزا جرم ہوگا۔ ذرائع نے بتایا ایف بی آر کی حالیہ سٹڈی کے مطابق آئرن اینڈ سٹیل سیکٹر میں 33 بڑے یونٹس نے صرف ایک سال میں 29 ارب روپے کی ان پٹ ٹیکس چوری کی تھی، آر ٹی او کراچی نے 315 ارب روپے کے جعلی انوائسز کا نیٹ ورک پکڑا تھا۔ مانیٹرنگ سسٹم نصب ہونے کے بعد ہر وی برج پر نصب کیمرہ گاڑی کی نمبر پلیٹ پڑھے گا، وزن، تاریخ، وقت خودکار ایف بی آر کو جائے گا، اگر فیکٹری میں 100 ٹن سریا بنا (کیمروں سے گنتی) لیکن کانٹے سے 70 ٹن نکلا تو سسٹم فوراً الرٹ دے گا، فیکٹری مالک کی ذمہ داری ہو گی کہ ایف بی آر کے مجاز وینڈر کو فیکٹری میں مکمل رسائی دے ۔ انٹرنیٹ، بجلی اور آئی ٹی انفراسٹرکچر فراہم کرنا ہو گا۔ سسٹم خرابی کی اطلاع ایک گھنٹے کے اندر ایف بی آر، سینٹرل کنٹرول یونٹ اور متعلقہ کمشنر کو دینا ہو گی۔ پروڈکٹ لائن یا کانٹے میں تبدیلی سے 30 دن پہلے بتانا ہو گا۔ ریکارڈ، کیلیبریشن اور مینٹیننس لاگ سنبھال کر رکھنا وینڈر کی ذمہ داری ہو گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments