کم عمر اقلیتی لڑکی کا اغوا ، ڈی آئی جیز نے 7 روز کی مہلت مانگ لی

  کم عمر اقلیتی لڑکی کا اغوا ، ڈی آئی جیز نے 7 روز کی مہلت مانگ لی

کاکس کی اقلیتی لڑکیوں کے اغوا، جبری مذہب تبدیلی، کم عمری کی شادیوں پر تشویش سیکرٹریز کی غیر حاضری پر کمیٹی برہم، آئندہ اجلاس میں نہ آنے پر تحریک استحقاق پیش

 اسلام آباد (اپنے رپورٹر سے )سینیٹ اقلیتی کاکس نے سندھ اور بلوچستان میں کم عمر اقلیتی لڑکیوں کے مبینہ اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادیوں کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے 14 سالہ بندی کماری کی فوری بازیابی کی ہدایت کردی جبکہ متعلقہ ڈی آئی جیز نے لڑکی کی بازیابی ، تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے لئے سات روز کی مہلت طلب کرلی ،پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر دنیش کمار کی زیرِ صدارت اجلاس میں کیسو مل کھیئل داس، سینیٹر خلیل طاہر سندھو سمیت دیگر متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 14 سالہ بندی کماری کے مبینہ اغوا، مذہب کی تبدیلی اور کم عمری میں شادی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے سے متعلق ایک آئینی درخواست موصول ہونے کے باعث کارروائی نہیں کی گئی ، تاہم ہائی کورٹ بار کے صدر اطہر سولنگی نے اجلاس کو آن لائن بتایا کہ مبینہ درخواست جعلی ہے اور اسے معاملے سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اجلاس کے کنوینر سینیٹر دنیش کمار نے سندھ اور بلوچستان کے ڈی آئی جیز کو مبینہ آئینی درخواست کے ماخذ کا پتا لگانے اور متعلقہ قانونی شعبوں سے اس کی تصدیق کرانے کی ہدایت کی ،اجلاس میں متعلقہ سیکریٹریز اور حکام کی غیرحاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا، کاکس نے خبردار کیا کہ آئندہ اجلاس میں غیرحاضری کی صورت میں متعلقہ حکام کے خلاف تحریکِ استحقاق پیش کی جا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...