بجلی گردشی قرضہ 1675 ارب، کیپسٹی پیمنٹس 1711 ارب ہوگئیں : اعدادو شمار اسمبلی میں پیس
تقسیم کار بجلی کمپنیوں کے زیادہ لائن لاسز، کم ریکوری ،مالی اخراجات، گردشی قرضے کی بڑی وجوہات قرار، وزیرتوانائی کا تحریری جواب پٹرول ،ڈیزل کے ذخائر 30 دن کی ضروریات کیلئے کافی، وزیر مملکت ، ایران کو بجلی کے عوض 12 ملین ڈالرز واجب الادا، اویس لغاری
اسلام آباد(آن لائن، نامہ نگار ، اپنے رپورٹر سے )قومی اسمبلی میں بجلی، پٹرولیم اور معدنی وسائل سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کئے گئے ، جن کے مطابق ملک کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 30 جون 2026 تک بڑھ کر 1675 ارب روپے ہو گیا، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1711 ارب روپے ادا کئے گئے ، حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 2035 تک بجلی کی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد تک لے جانے کے ہدف کے حصول کے لیے الگ روڈ میپ تیار نہیں کیا گیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر توانائی اویس لغاری کے تحریری جواب کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1669 ارب روپے ادا کئے گئے ، جو مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 1711 ارب روپے ہو گئے ، حکومت نے گردشی قرضے کی بڑی وجوہات میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے زیادہ لائن لاسز، کم ریکوری اور مالی اخراجات کو قرار دیا۔
حکومت کے مطابق 2035 تک ملک میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 62 ہزار 383 میگاواٹ تک پہنچنے کا تخمینہ ہے ، حکومت نے 2030 تک بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کر رکھا ہے ، تاہم 2035 تک صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد تک پہنچانے کے لیے الگ روڈ میپ کی عدم موجودگی کا اعتراف بھی قومی اسمبلی میں کیا گیا ،وزیر توانائی اویس لغاری کے مطابق ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی کے عوض تقریباً 12 ملین ڈالر کی ادائیگی واجب الادا ہے ، قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے گزشتہ پانچ سال کے دوران 15 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن نمک برآمد کیا ، قومی اسمبلی میں بتایا گیا کہ 2035 تک بجلی کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت تقریبا 62,383 میگا واٹ تک پہنچنے کا تصور پیش کیا گیا حکومت بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 3.23 روپے کے حساب سے ڈسٹری بیوشن سسٹم سے متعلق چارجز وصول کر رہی ہے ،حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ملازمین کو مفت بجلی کی سہولت کے خاتمے کے بعد اس کے متبادل کے طور پر ماہانہ مانیٹائزیشن رقم مقرر کر دی ، دستاویز کے مطابق پیسکو، آئیسکو ،دیگر ڈسکوز کے گریڈ 17 سے 21 تک کے ملازمین کو ان کے گریڈ کے مطابق مقررہ رقم ادا کی جائے گی، حکومتی فیصلے کے مطابق گریڈ 17 کے ملازمین کو ماہانہ 15 ہزار 858 روپے ، گریڈ 18 کو 21 ہزار 996 روپے ، گریڈ 19 کو 37 ہزار 594 روپے ، گریڈ 20 کو 46 ہزار 992 روپے جبکہ گریڈ 21 کے ملازمین کو ماہانہ 55 ہزار 536 روپے مانیٹائزیشن کی مد میں ادا کیے جائیں گے ۔
اسلام آباد ( آن لائن) وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق 80 روپے فی لٹر لیوی عائد ہے ، جبکہ ملک کی مقامی خام تیل کی پیداوار ملکی ضروریات کے مقابلے میں محدود ہے ، پاکستان کی ریفائنریز کی مجموعی ریفائننگ صلاحیت تقریباً 4 لاکھ بیرل ہے ، تاہم ان میں سے بیشتر پرانی ہونے کے باعث پٹرول کی ضروریات پوری کرنے کے لئے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔جمعرات کو سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ضمنی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ پاکستان میں مقامی طور پر بھی خام تیل پیدا کیا جاتا ہے ،سینیٹر ذیشان خانزادہ نے سوال اٹھایا کہ خام تیل کی درآمد سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کتنی کمی ہوئی وفاقی وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ صوبوں کو گیس رائلٹی کی مد میں سالانہ تقریباً 35 ارب روپے ملتے ہیں ، وزیر مملکت علی پرویز ملک کے مطابق بلوچستان میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ گیس صارفین ہیں انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مل کر گیس کے سلیب سے متعلق معاملے کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مسئلے کے حل کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments