خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ملک، عوام، معیشت بچانے کیلئے کیا : شہباز شریف

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ملک، عوام، معیشت بچانے کیلئے کیا : شہباز شریف

خیبرپختونخوا میں 13سال صرف دعوے ،عوامی خدمت نہیں ہوئی،دہشتگرد ی کیخلاف ملکر مقابلے کی دعوت دی،بات نہ سنی گئی،بروقت فیصلہ نہ کرتے تو مزید نقصان ہوتا : وزیراعظم صوبے کو 800ارب ملے ، کتنے سیف سٹی منصوبے بنائے ،80ارب بھی لگتے تو کے پی پولیس اسلحے سے لیس،انتہائی تربیت یافتہ ہوتی،ن لیگ خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ ملک ، عوام ،معیشت بچانے کیلئے کیا ،بروقت فیصلہ نہ کرتے تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتاتھا،خیبرپختونخوا میں 13سال صرف دعوے کئے گئے ، عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم پر توجہ دی گئی،گزشتہ ڈھائی سال میں ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی،دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی ،صوبے کی ترقی،امن، خوشحالی اور عوامی خدمت کیلئے مسلم لیگ(ن )اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے مسلم لیگ(ن) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج بطور وزیراعظم اور قائد نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے آپ سے مخاطب ہوں ،خیبر پختونخوا وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ اوریہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں،مسلم لیگ(ن )نے خیبر پختونخوا میں جمہوری روایات کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے ،مسلم لیگ(ن) خیبر پختونخوا کی مقبول ترین جماعت ہے ،2013 کے انتخابات کے بعدقائدنواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیاتاکہ جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے ، محمدنواز شریف کی جمہوری سوچ اور فراخ دلی نے خیبر پختونخوا میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا، خیبر پختونخوا میں 13 سال سے برسراقتدار پارٹی کی طرف سے بلند بانگ دعوے کیے گئے ،لانگ مارچز کئے گئے اور دھرنے دئیے گئے ،بہت زہر اگلا گیا لیکن گزشتہ 13سال میں صوبے میں کتنی یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنائے گئے ؟ اور کرپشن کتنا کیا گیا اور فنڈز کو کتنی شفافیت کے ساتھ استعمال کیا گیا ؟ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم پر توجہ دی گئی ، پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل عدم توجہی کا شکار رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ18۔2017میں دہشت گردی کا ملک سے خاتمہ ہو چکا تھا، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں خیبر پختونخوا کے عوام ، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے بے مثال قربانیاں دیں،حاجی غلام احمد بلور کے بھائی کو شہید کر دیا گیا ،انجینئر امیر مقام بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے ، عام لوگوں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،80 ہزارافراد شہید ہوئے اور 150سے 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا،تب جا کر ملک میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوا تھا،محمدنواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اے پی ایس پشاور کا انتہائی دردناک اور دل خراش واقعہ آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے ، ننھے بچوں کی شہادت کا سانحہ تاریخ میں ایک المناک اور دلخراش واقعہ کے طور پرموجود رہے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،گزشتہ اڑھائی سال میں ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی،2014 کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورہ پاکستان موخر ہوا ،2015 میں چین کے صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے ، ملک سے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نواز شریف کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے سوات میں دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا،دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے سے ملک کو بہت نقصان پہنچا ،ان اڑھائی سالوں میں ہزاروں مزید شہری شہید ہوئے ہیں۔ پولیس، قانون نافذ کرنے والوں اداروں اور پاک فوج کے افسران اور جوان بھی ان میں شامل ہیں ، آج بھی ہر روز کہیں نہ کہیں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہو رہا ہوتا ہے ،ہم نے انہیں دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کیلئے ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا ،گوادر میں اس پر دستخط ہوئے تھے ، این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں 800 ارب روپے سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے ؟،خیبر پختونخوا میں محکمہ انسداددہشتگردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ صوبے میں پولیس کی 5 ہزار خالی اسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی،ان سالوں میں 80 ارب روپے بھی لگے ہوتے تو کے پی میں پولیس اسلحے سے لیس ہوتی، بہت ویل ٹرینڈ ہوتی اور انتہائی تربیت یافتہ ہوتی، خیبر پختونخوا میں دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحے اور تربیت کی فراہمی پر خرچ ہونے چاہئیں تھے ۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اڑھائی سالوں میں ملکی معیشت مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر شبانہ روز محنت کی، عالمی حالات اور خلیج جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا،مشکلات کے باوجود حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے فیول سبسڈی سکیم کااجرا کیا،فروری میں ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا جس میں اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی ،اب فیول سبسڈی سکیم سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد ووچر سکیم سے مستفید ہو چکے ہیں ، عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے ، غریب آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے ، ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کانفاذکیاگیا،مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ہماری بات نہ سنی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے ، مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا لیکن منظوری نہ مل سکی۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا، بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا ،ہمیں مجبورا ًگورنر راج اور ایمرجنسی کا سوچنا پڑا، اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

لوگوں کی زندگیوں، ملک ،کے پی کے معاشرے اور معیشت کو بچانے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخواکے عوام 13 سال سے ترسے ہوئے ہیں، پشاور میں میٹرو بنائی گئی وہاں پر کرپشن ہوئی ہے یہ ہم سب جانتے ہیں، طویل مدتی منصوبوں کو بھی موخر کرنا چاہیے اور مختصر مدت کے لیے حکمت عملی بنا کر غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا چاہیے ۔وزیراعظم نے کہا کہ چترال ،ہری پور مانسہرہ،باجوڑ اور شانگلہ میں دانش سکولوں میں غریب بچوں کو ایچی سن کالج لاہور کی طرز کی تعلیم ملے گی ،غریب بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے مزید دانش سکولز بھی قائم کیے جائیں گے ،صوبے کی ترقی،امن، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے مسلم لیگ (ن) اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت لاہور میں بذریعہ زوم آن لائن اجلاس ہوا جس میں ملک بھر میں دانش سکولز کی تعمیر میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، سندھ اور بلوچستان میں دانش سکولوں کی تعمیر میں پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا دانش سکولوں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ دانش سکولوں میں انتہائی غریب اور مستحق گھرانوں کے بچوں کو داخلہ دیا جائے گا۔ وزیراعظم نے دانش سکولوں کی تعمیر کا کام تیز اور تعمیراتی سرگرمیاں 24 گھنٹے جاری رکھنے کی ہدایت کی۔علاوہ ازیں وزیراعظم سے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حفیظ الرحمن دریشک نے لاہور میں ملاقات کی،ڈاکٹر حفیظ الرحمن دریشک نے حکومت کے عوامی فلاحی اقدامات اور معاشی استحکام کی پالیسیوں کا خیر مقدم کیا۔ملاقات میں ملک کی عمومی سیاسی صورتحال اور حلقے کے عوامی و ترقیاتی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...