آسان ٹیکس سکیم میں 20 فیصد دکاندار بھی رجسٹر نہیں : خزانہ کمیٹی ، جرمانے ہو نگے : وزیر مملکت
انفورسمنٹ کا طریقہ کیا ہوگا؟چیئرمین ،چند دنوں میں کمیٹی کے سامنے رکھیں گے ، 35لاکھ دکانداروں کی نشاندہی:بلال کیانی سینیٹ کمیٹی صنعت و پیداوار کا اجلاس ، الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے تجاویز طلب ، موٹرویز پر 40سٹیشنز قائم ہونگے
اسلام آباد (مدثر علی رانا) حکومت نے آسان ٹیکس سکیم میں رجسٹریشن نہ کرانے والے دکانداروں کے خلاف جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پہلے ماہ 10 ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ ملک بھر میں ڈسکوز کے کمرشل بجلی میٹرز کے ڈیٹا کی بنیاد پر 35 لاکھ دکانداروں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے سید نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ آسان ٹیکس سکیم کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ 31 اکتوبر کو ختم ہوچکی ہے اور حکومت اب نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے ۔ غیر رجسٹرڈ اور ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے دکانداروں کو جرمانے کیے جائیں گے ، کارروائی کا تفصیلی طریقہ کار چند روز میں کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ توقع تھی کہ سکیم کے ذریعے 80 فیصد دکاندار رجسٹرڈ ہوجائیں گے ، لیکن 20 فیصد بھی رجسٹرڈ نہیں ہوئے تو حکومت دوبارہ صفر پر کھڑی ہے ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ دکانداروں کے خلاف انفورسمنٹ کا طریقہ کیا ہوگا۔
بلال کیانی نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس نہ دینے کا کلچر بن چکا ہے ، تاجروں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ رجسٹریشن کے بعد ایف بی آر ان کے ساتھ کیا کرے گا۔ حکومت نے تاجر رہنماؤں کی مشاورت سے سکیم تیار کی اور ان کے مطالبات تسلیم کیے ، اب کوشش ہے کہ دکاندار ٹیکس نیٹ میں آئیں اور ٹیکس جمع کرائیں۔اجلاس میں پاک افغان سرحد کی بندش اور ملکی تجارت پر اس کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رکن کمیٹی جاوید حنیف نے چین اور تائیوان کی کشیدگی کے باوجود باہمی تجارت جاری رہنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان 300 ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے ۔ انہوں نے پاکستان کی تجارتی پالیسی پر سوال اٹھایا۔ بلال کیانی نے کہا کہ تجارت اور دہشت گردی میں فرق ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کے مشرق، مغرب اور جنوب، ہر طرف تجارتی راستے بند ہیں۔کمیٹی نے ایکسپورٹ فسیلی ٹیشن سکیم سے مستفید ہونے والوں کا ڈیٹا بھی طلب کرلیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ سکیم کا غلط استعمال ہوا ہے ۔ وزیر مملکت نے بتایا کہ ایکسپورٹ فنانسنگ پر 6 فیصد شرح سود سے قرض دستیاب ہے ، کاروباری برادری سے مشاورت کے بعد سکیم میں اصلاحات کی تجاویز کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی۔
جی ایس پی پلس حیثیت پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا موجودہ سٹیٹس 31 دسمبر 2028 تک برقرار ہے اور وزیراعظم اس سلسلے میں بہتری کیلئے مسلسل اجلاس کر رہے ہیں۔ کمپنیز ترمیمی بل 2026 منظوری نہ ملنے کے باعث مؤخر کردیا گیا۔دریں اثنا سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار اور متعلقہ پالیسی کا جائزہ لیا گیا۔ رکن کمیٹی انوشے رحمان نے گاڑیوں کی صنعت کیلئے تربیتی مراکز قائم کرنے اور پاکستانی حکام کو چین بھیج کر وہاں کے صنعتی نظام کا جائزہ لینے کی تجویز دی۔ حکام نے بتایا کہ وزارت کو تربیتی مراکز لازمی قرار دینے کیلئے خط لکھا جائے گا۔کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری کو ترجیح دی جا رہی ہے لیکن چارجنگ سٹیشنز سمیت ضروری انفراسٹرکچر پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ حکام کے مطابق وزارت توانائی نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد چارجنگ سٹیشنز کیلئے خصوصی بجلی ٹیرف متعارف کرایا ہے ، جس کے تحت فی یونٹ قیمت 40 روپے مقرر کی گئی ہے ۔ چین کی متعدد کمپنیاں پاکستان میں چارجنگ سٹیشنز کا نیٹ ورک قائم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں جبکہ موٹرویز پر تقریباً 40 چارجنگ سٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں۔ کمیٹی نے الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے تجاویز طلب کرتے ہوئے پاکستانی حکام کو چین بھیجنے کی تجویز کی حمایت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments