آئینی عدالت:سکول کی عمارت پر سندھ حکومت کا ملکیتی دعویٰ مسترد

آئینی عدالت:سکول کی عمارت پر سندھ حکومت کا ملکیتی دعویٰ مسترد

دھوکہ کے الزامات پر شہادتیں ریکارڈ کرنا لازمی نہیں ، عدالت دستاویز پر فیصلہ کر سکتی دعویٰ کرنیوالے فریق کو واضح شواہد پیش کرنا ہونگے :فیصلہ، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال

اسلام آباد (حسیب ریاض ملک) وفاقی آئینی عدالت نے میرپورخاص میں سرکاری سکول کی عمارت پر سندھ حکومت کی ملکیت کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دھوکہ دہی یا غلط بیانی کی بنیاد پر عدالتی ڈگری چیلنج کرنے کیلئے تین سال مدت مقرر ہے ، دھوکہ دہی کا علم دیر سے ہونے کا دعویٰ کرنے والے فریق کو واضح شواہد دینا ہوں گے ۔ جسٹس محمد کریم خان آغا کے تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا کہ محض دھوکہ دہی کے الزامات سے ہر مقدمے میں شہادتیں ریکارڈ کرنا لازمی نہیں، عدالت دستاویزی ریکارڈ پر بھی فیصلہ کر سکتی ہے ۔ عمارت میں سکول قائم ہونا حکومتی ملکیت کا ثبوت نہیں کیونکہ عمارت کرایہ پر حاصل کی گئی تھی اور 1961ء کے عدالتی فیصلے میں بھی عمارت کا مالک نجی شخص کو قرار دیا گیا تھا جس میں حکومت فریق تھی۔ دھوکہ دہی کا علم 2013ء میں ہونے کا مؤقف قابل قبول نہیں۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ جج میرپورخاص کے احکامات کالعدم قرار دے دیئے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...