افسر تاخیرکرکے عدالتوں پربوجھ ڈال دیتے :سپریم کورٹ
جس دن اللہ کو جوابدہی کا احساس ہو گا معاشرہ ٹھیک ہو جائیگا:جسٹس عرفان قانونی کارروائی کے بغیر جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا، ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم سرکاری ملازم کی نجی زندگی کے سنگین طرز عمل پر محکمانہ کارروائی ہو سکتی :تحریری فیصلہ
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے پولیس افسروں کی ترقیوں کے فیصلوں کے خلاف پنجاب حکومت کی دائر اپیلیں زائد المیعاد ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیں، عدالت نے غیر ضروری تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ افسران جان بوجھ کر اپیلیں تاخیر سے دائر کرتے اور عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے ۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مصطفی حسن اور رضا عباس کی ترقیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیئے کہ افسروں کا مؤقف ہے کہ مصروفیت کے باعث وقت پر اپیلیں دائر نہیں کرسکے ، ایسی وجوہات کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے ؟ ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے اعتراف کیا جی بالکل، یہ درخواستیں صرف دکھاوے کیلئے دائر کی گئیں، اُنہیں اپیلیں زائد المیعاد ہونے کا علم نہیں تھا۔
جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیئے کہ ہم انسانوں کو تو جوابدہ ہیں لیکن اللہ کو جوابدہ نہیں، جس دن اللہ کو جوابدہی کا احساس ہو گا معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔سپریم کورٹ نے منشیات کی آمدن سے بنائی گئی پراپرٹی ضبطی کے اسلام آباد ہائیکورٹ اور خصوصی عدالت کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے مالکان کی اپیلیں منظور کر لیں اور متعلقہ جائیدادیں ضبطی سے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کے تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 24 کے تحت کسی شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کے بغیر اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اہلیہ کو آگ لگانے کے ملزم انٹیلی جنس بیورو کے ملازم باورچی جواد عباسی کی لازمی ریٹائرمنٹ کی سزا برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سرکاری ملازم کا نجی زندگی میں ایسا سنگین طرز عمل جو سرکاری عہدے کے وقار، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد کو متاثر کرے محکمانہ کارروائی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments