یوریا کھاد قیمتوں میں فرق، وفاق کا یکساں سبسڈی فارمولے پر غور
اسلام آباد (نامہ نگار) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے تعاون سے کسانوں کو کھاد پر سبسڈی دینے کے لیے یکساں فارمولا تیار کر رہی ہے۔
گیس کی قیمتوں میں فرق کے باعث مختلف کارخانوں میں یوریا کی ایک بوری کی پیداواری لاگت 800 سے 1700 روپے تک ہے ۔اجلاس چیئرمین سید حسین طارق کی صدارت میں ہوا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں یوریا کی فراہمی کا کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ گزشتہ سال ڈی اے پی کھاد کی قیمت 14 ہزار 500 روپے تھی جبکہ کسانوں کو 25 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ خیبرپختونخوا نے فی بوری پانچ ہزار اور پنجاب نے تین ہزار روپے سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے ڈی اے پی کی قیمتوں میں تاخیر سے کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گندم کی کاشت شروع ہوچکی ہے ، اس لیے کسانوں کو بروقت ریلیف ملنا ضروری ہے ۔سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ عامر احمد علی نے ڈی اے پی کی طلب، درآمدات اور مقامی پیداوار سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں سیڈ ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا گیا جبکہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے سرکاری رہائشی مکانات استعمال کرنے والے افسران اور ملازمین کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments