سانحہ پمز، کوتاہی سامنے آئی تو مقدمے کا حکم دونگا:جسٹس خادم
تمام رپورٹس اور شواہد منگواؤں گا: حکومت، وزارت صحت و دیگر کو نوٹس جاری عدالت نے ایف آئی آر اندراج کی درخواست خارج کرنے کا آرڈر معطل کر دیا
اسلام آباد (رضوان قاضی) اسلام آباد ہائیکور ٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے سانحہ پمز میں بچوں کی اموات کا مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ کی ادائیگی کی درخواست پر نوٹس جاری اور واقعہ کی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا جسٹس آف پیس کا آرڈر معطل کردیااور انکوائری رپورٹ سمیت مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام رپورٹس طلب کروں گا، تمام شواہد منگواؤں گا، اگر کوتاہی سامنے آئی تو ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا آرڈر کروں گا۔ عدالت نے وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس، وزارتِ صحت،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن،اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، آڈیٹر جنرل، چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر،سی ڈی اے ، کیپٹل ایمرجنسی سروسز، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹسز جاری کر دیئے ۔ عدالت نے استفسار کیاکہ کیا ہوا؟ انکوائری تو ہوئی تھی ناں؟ وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا انکوائری رپورٹ میں ثابت ہو گیا کہ کوتاہی ہوئی ہے ۔ میرے علاوہ کسی نے تھانے میں درخواست نہیں دی، مقدمہ درج کیا جانا چاہیے تھا۔ سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments