ٹرمپ کی سیاسی موت:سینیٹ اور ا یوان نمائندگان دونوں پر ڈیموکریٹس چھا گئے ،کمرتوڑ مہنگائی اور ایران کیساتھ جنگ سے بد حالی پر امریکی ووٹروں کے غصے کا لاواپھٹ پڑا،شکست قبول،مخالفین جان لڑاکر کھیلے:امریکی صدر
ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ ٹیکساس، کنساس ، اوہائیو،آئیووا،مین،کیرولائنا کی نشستیں چھین کر ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں 54 نشستیں حاصل کرلیں، ایوان نمائندگان میں حکمران جماعت 29 نشستوں سے محروم ، ڈیموکریٹس 234 نشستوں پر کامیاب ڈیموکریٹس کے گورنر 28 ریپلکنز کے 20 رہ گئے ،کیشا لانس پہلی سیاہ فام خاتون گورنر ،کرس پاپاس پہلے ہم جنس پرست سینیٹر منتخب،6پاکستانی نژاد امریکی بھی الیکشن جیت گئے ،ڈیموکریٹس کیساتھ ملکر کام کر سکتے ،غیرضروری بل ویٹو کرونگا:ٹرمپ
واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں )وائٹ ہاؤس کے تاجدار ڈونلڈ ٹرمپ کے قدموں تلے سے سیاسی زمین سرک گئی۔ امریکی ووٹرز نے کانگریس کی چابیاں ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں تھما کر ٹرمپ کی صدارت اور پالیسیوں کے خلاف ایک خاموش مگر فیصلہ کن بغاوت کا اعلان کر دیا ہے ۔ تجزیہ کار اسے ٹرمپ کی اس زبردست سیاسی موت کا آغاز قرار دے رہے ہیں جس کا تصور خود ریپبلکنز نے بھی نہ کیا تھا۔80 سالہ ضعیف العمر صدر کے لیے یہ رات کسی بڑے ذاتی دھچکے سے کم نہ تھی، کیونکہ ان کے اپنے روایتی سیاسی گڑھ میں ڈیموکریٹک لہر نے ریپبلکنز کا صفایا کر دیا۔ اس غصے کی تپش ایران کے ساتھ طویل ہوتی مہنگی جنگ اور توانائی کے بڑھتے بحران کا شاخسانہ ہے ۔اب امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں پر ڈیموکریٹس کا پرچم لہرا رہا ہے ۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ امریکی سیاست پر ٹرمپ کی بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کا سورج غروب ہو چکا ہے ، اور واشنگٹن میں ان کی بے لگام طاقت کی سیاسی موت واقع ہو چکی ہے ۔ ڈیموکریٹس اب ٹرمپ کے ہر قانون کو زنجیر پہنا سکتے ہیں، ان کی انتظامیہ کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کر سکتے ہیں اور ان کی اہم ترین تقرریوں کا راستہ روک سکتے ہیں۔عوام میں یہ اشتعال کمر توڑ مہنگائی، سخت ٹیرف پالیسیوں اور ایران کے ساتھ چھیڑی گئی جنگ کی وجہ سے ہے جس نے ایندھن کی قیمتوں کو آگ لگا دی اور ٹرمپ کی پہلے سے گرتی ہوئی مقبولیت کو زمین بوس کر دیا۔ ٹیکساس کی دھرتی سے ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو کی تاریخی جیت پر جشن مناتی کیتھی جیکوواے نے اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا:یہ خواب کے سچ ہونے جیسا ہے ۔ اب ہم اپنا ملک ان کے چنگل سے چھڑا سکتے ہیں۔عام طور پر انتخابی شکست کو تسلیم نہ کرنے والے ٹرمپ نے اس بار خلافِ توقع لچک دکھائی۔ انہوں نے دی نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ عوامی فیصلے کو قبول کرنے کے لیے دل سے تیار ہیں۔ فاکس نیوز پر تو انہوں نے اپنے بدترین حریفوں کے لیے وہ الفاظ کہے جو ان کی زبان سے کم ہی سنے گئے :ڈیموکریٹس نے کمال کر دیا، وہ جان لڑا کر کھیلے ۔ ٹرمپ کا یہ اعترافِ شکست دراصل ان کے اس طویل سیاسی عہد کی باضابطہ موت کا پروانہ ہے جس نے امریکی تاریخ کا رخ بدل دیا ہے ۔
آخری اطلاعات کے مطابق سینیٹ کی 7اور ایوانِ نمائندگان کی 29 نشستوں کا کنٹرول ایک جماعت سے دوسری جماعت کے پاس جا چکا ہے ۔ 435 رکنی ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے کسی بھی جماعت کو 218 نشستوں پر کامیابی درکار ہے جبکہ ڈیموکریٹس 234 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، ریپلکنز کے پاس 138 نشستیں ہیں ۔ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے جن دو درجن سے زائد نشستیں ریپبلکنز سے حاصل کیں، ان میں بعض ایسے حلقے بھی شامل ہیں جہاں 2024 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ نے دو ہندسوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کیلئے 100میں سے 51 نشستیں درکار ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کی نشستیں 54 ہوگئی ہیں جبکہ ریپبلکنز کی 44 نشستیں رہ گئی ہیں۔ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، کنساس اور اوہائیو سمیت ریپبلکنز کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے کئی علاقوں میں حیران کن کامیابیاں حاصل کیں۔ آئیووا،مین،شمالی کیرولائنا اور جنوبی کیرولائنا میں بھی سینیٹ کی نشستیں ریپبلکنز سے چھین لیں،جبکہ جارجیا اور مشی گن کی اہم نشستوں پر کامیابی برقرار رکھی۔ڈیموکریٹس کو گورنرز کے عہدوں پر بھی کامیابی ملی، ڈیموکریٹک امیدواروں کیشا لانس باٹمز نے جارجیا، ایمی ایکٹن نے اوہائیو، روب سینڈ نے آئیووا اور جینا ہینوجوسا نے ٹیکساس میں گورنر کے انتخابات جیت لیے ۔ اس طرح ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کے زیرانتظام 5 ریاستوں میں گورنر کے عہدے حاصل کر لیے ، ڈیموکریٹس کے گورنر 28 جبکہ ریپلکنز کے 20 ہوگئے ، 2010 کے بعد پہلی بار گورنرز کی اکثریتی نشستیں ڈیموکریٹس کے کنٹرول میں آئی ہیں۔انتخابی نتائج کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنی صدارتی مدت کے آخری دو سال میں واشنگٹن میں تبدیل شدہ سیاسی صورتحال کا سامنا ہوگا۔ ڈیموکریٹس کو حکومتی قانون سازی روکنے ، صدارتی نامزدگیوں کو مسترد کرنے اور انتظامیہ کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔انتخابی نتائج کے مطابق مختلف ریاستوں میں کئی تاریخی سنگِ میل سامنے آئے ہیں۔کیشا لانس باٹمز جارجیا میں ریپبلکن رک جیکسن کو شکست دے کر امریکا میں گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی ہیں۔کرس پاپاس نیو ہیمپشائر سے سینیٹ میں خدمات انجام دینے والے پہلے ہم جنس پرست مرد ہوں گے ۔
ریاست کنساس میں ایک صدی بعد ڈیموکریٹ امیدوار سینیٹر بنے ، کنساس سے ایڈم ہیملٹن نے سینیٹر منتخب ہو کر تاریخ رقم کر دی۔مختلف ریاستوں میں 6 پاکستانی نژاد امریکی امیدوار بھی کامیاب ہو گئے ۔پنسلوانیا کی ریاستی اسمبلی کی نشست پر پاکستانی نژاد امریکی مریم صبیح رکن منتخب ہو گئیں۔کنیکٹیکٹ میں ڈیموکریٹ امیدوار مریم خان نے ریاستی سینیٹ کے ڈسٹرکٹ 2 میں کامیابی حاصل کر کے سینیٹ کی نشست اپنے نام کر لی، جبکہ پاکستانی نژاد امریکی سعود انور کنیکٹیکٹ کے ریاستی سینیٹ ڈسٹرکٹ 3 سے دوبارہ منتخب ہو گئے ۔ٹیکساس میں پاکستانی نژاد امریکی سلمان بھوجانی ریاستی اسمبلی کے رکن دوبارہ منتخب ہو گئے ، انہوں نے ڈسٹرکٹ 92 میں 67 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔اسی طرح سلیمان لالانی بھی ٹیکساس کے ریاستی اسمبلی کے حلقے ڈسٹرکٹ 76 سے دوبارہ کامیاب ہو گئے ، انہوں نے 67 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔جارجیا میں پاکستانی نژاد امریکی امیدوار فاروق مغل نے ریاستی اسمبلی کی نشست جیت لی، انہوں نے ڈسٹرکٹ 105 میں 60.8 فیصد ووٹ حاصل کیے ۔دوسری جانب فلوریڈا میں ری پبلکن جماعت کے پاکستانی نژاد امریکی امیدوار امتیاز محمد ریاستی اسمبلی کا انتخاب ہار گئے ۔اپنے ابتدائی ردعمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناکامی کی ذمہ داری براہِ راست امیدواروں پر عائد کی اور سوشل میڈیا پر لکھا، میں انتخابی امیدوار نہیں تھا، اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے ۔ بعد ازاں ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہوں، ایران جنگ اور مہنگائی ریپبلکنز کی شکست کی وجہ بنی، انہوں نے کہا لوگ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے قلیل مدتی اثرات برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھے ، انتخابی نتائج کے ریپبلکنز کے خلاف آنے میں ایران جنگ اہم رہی، اپنی کابینہ میں تبدیلی کا ارادہ نہیں رکھتا، امیگریشن سمیت متعدد معاملات پر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی انتخابی کارکردگی کو سراہتا ہوں۔ٹرمپ نے پولیٹیکو کو بتایا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے ملک کیلئے معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھیں۔انہوں نے کہا وہ یہ نہیں چاہتے کہ اگلے دو سال صرف بیٹھ کر ہر چیز کو ویٹو کرتے رہیں، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ کام بھی ہو۔ڈیموکریٹس غیر ضروری نوعیت کے بل پیش کریں گے تو ویٹو کروں گا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پہلے ہی ڈیموکریٹ پارٹی کے بعض رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں اور ڈیموکریٹس میں بھی ان کے بہت سے دوست ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کا اشارہ کن افراد کی جانب ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments