سپریم کورٹ : توہین مذہب ،سزائے موت پانیوالے دو بھائی بری
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)جرم کے وقت ملزم کی ذہنی صلاحیت مجرمانہ ذمہ داری کے تعین کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے ،عدالت نے اس قانونی اصول کے تحت توہین مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے دو سگے بھائیوں کو بری کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے عمر دراز اور لیاقت علی کی اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 17 ستمبر 2015ء اور ٹرائل کورٹ کا 27 مارچ 2009ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی جرم کی قانونی ذمہ داری کے لیے جسمانی فعل کے ساتھ مجرمانہ ذہن کا ہونا بھی ضروری ہے ، محض نفسیاتی بیماری کی تشخیص کافی نہیں۔عدالت کے مطابق دونوں ملزمان کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی، جبکہ ہر ایک کو پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی دی گئی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ نے بھی ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی تھی۔سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کی ذہنی صحت سے متعلق طبی رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ 2007ء میں تین رکنی میڈیکل بورڈ نے انہیں ذہنی طور پر صحت مند قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور کے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے 31 اگست 2023ء کی رپورٹ میں دونوں کو بائی پولر افیکٹو ڈس آرڈر اور نفسیاتی علامات میں مبتلا قرار دیا۔18 ستمبر 2025ء کی نو رکنی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بھی دونوں بھائیوں کو بائی پولر ڈس آرڈر کی موجودہ مینک کیفیت میں مبتلا قرار دیا گیا۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق یہ دائمی بیماری ہے اور شدید کیفیت میں مریض اپنے اعمال کو سمجھنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے ،میڈیکل بورڈز کی متفقہ آرا نے ان کی مجرمانہ ذمہ داری کے حوالے سے معقول شک پیدا کیا، جس کا فائدہ ملزمان کو دیا جانا ضروری ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments