ہر حال میں ذکر الہی کیجیئے
اسپیشل فیچر
اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو بہترین عمل کی توفیق سے نوازے۔ ہمیں یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ہر انسان کی زندگی کا کوئی نہ کوئی بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اسی کے گرد اس کے تمام افکار گھومتے ہیں۔ یہی مقاصد اس کے تمام افعال و اعمال اور امیدوں کا مرکز و محور ہوتے ہیں اور انہی کو وہ اپنے لیے اعلیٰ و ارفع معیار قرار دیتا ہے۔ اگر زندگی کے یہ مقاصد واقعی ارفع و اعلیٰ ہوں تو انسان سے بلند پایہ اور پاکیزہ اخلاق اور اعمال کا ظہور ہوگا اور ان کا کرنے والا اپنے مقدر کے مطابق روحانیت کے بلند درجات پر فائز ہو سکے گا۔ اسلام آدمی کی اصلاح، اس کے تزکیے اور اسے ہرممکنہ سربلندی سے ہمکنار کرنے کیلیے آیا ہے۔ اسلام نے پوری انسانیت کیلیے زندگی کے حقیقی اور اعلیٰ مقاصد کو واضح کر دیا ہے۔ وہ انسان کو خیر کے اعلیٰ ترین معیار تک لے جانا چاہتا ہے۔ یہ اعلیٰ ترین مثال اللہ جل جلالہ کی قدوسیت ہے۔ فرمان خداوندی ہے:’’خدا کی جانب لپکو، اللہ تعالیٰ کی جانب سے میں واضح طور پر تمہیں ڈرانے والا ہوں‘‘۔(الذاریات:50) یہ حقیقت جان لینے کے بعد آپ کو اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ بندۂ مسلم کو ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے رہنا چاہیے۔ اس پر بھی کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ہمیں نبی اکرم ﷺ (انہیں اپنے رب کی معرفت پوری مخلوق سے زیادہ حاصل تھی) سے … ذکر، دعا، شکر، تسبیح اور تحمید کے شاندار اور بلیغ کلمات عطا ہوئے ہیں اور یہ کہ آپﷺ زندگی کے چھوٹے، بڑے، عمومی، خصوصی، ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔ آپ کو اس امر میں بھی کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ہم ہر فرد سے یہ مطالبہ اور تقاضا کرتے ہیں کہ وہ عزیز و غفار پروردگار کا قرب حاصل کرنے کیلیے اپنے نبی ﷺ کی سنت کو اپنائے، آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرے اور جو دعائیں آپ ﷺ سے منقول ہیں انہیں ذہن نشین کر لے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’درحقیقت تم لوگوں کیلیے اللہ کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اس شخص کیلیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے‘‘۔ ( الاحزاب:21)ذکر اور ذکر کرنے والوں کی فضیلتقرآن کریم اور احادیث رسولﷺ میں کثرت سے ذکر کرتے رہنے کی طرف خصوصی توجہ دلائی گئی ہے۔ ذکر الٰہی کی فضیلت بھی بار بار بیان کی گئی ہے اور ذکر کرتے رہنے والوں کا مقام و مرتبہ جابجا واضح کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ پروردگار نے اپنے نیک بندوں کی صفات گنواتے ہوئے، اختتام ذکر کثیر کرنے والوں پر فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزے رکھنے والے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کیلیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے‘‘۔ (الاحزاب:35)ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ان الفاظ میں ذکر کی تلقین فرمائی:’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو‘‘۔ (الاحزاب:41-42)بے شمار احادیث میں بھی ذکر کی فضیلت ملتی ہے… ایک حدیث قدسی کے الفاظ ہیں:-1 میرے متعلق میرا بندہ جس طرح کا گمان رکھتا ہے میں اس سے ویسا ہی سلوک کرتا ہوں۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ -2 حضرت عبداللہ بن بسرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا:’’یا رسول ﷺ اللہ!مجھے اسلام کے احکام بہت زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ کوئی ایسی چیز بتلا دیجیے کہ جسے میں مضبوطی سے تھام لوں‘‘۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ تیری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہے‘‘۔ آداب ذکر یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ذکر سے مقصود صرف زبان ہی کے ذکر نہیں ہے بلکہ توبہ بھی ذکر ہے۔ اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر ذکر کی اعلیٰ ترین صورتوں میں سے ایک ہے۔ طلب علم بھی ذکر ہے۔ طلب رزق میں حسن نیت شامل ہو جائے تو یہ بھی ذکر ہے۔ مختصر یہ کہ ہر وہ کام، جس کے ذریعے رضائے الٰہی مطلوب ہو اور جسے اس یقین کامل کے ساتھ انجام دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات پوشیدہ نہیں اور وہ ہر صورت میں ہمارے حالات اور خیالات سے واقف ہے، ذکر الٰہی ہی میں مصروف ہوتا ہے۔دلوں میں ذکر کے اثرات اسی صورت میں ظہور پذیر ہو سکتے ہیں جب اس کے آداب کا خاص خیال رکھا جائے، ورنہ مجرد الفاظ اپنے اندر کوئی تاثیر نہیں رکھتے۔ علما نے ذکر کے بہت سے آداب بیان کیے ہیں۔ ان میں سے اہم ترین یہ ہیں:-1 خشوع و خضوع: ذکر کرتے ہوئے ادب و احترام اور عاجزی و انکساری کو ملحوظ رکھنا، زبان سے الفاظ ادا کرتے ہوئے ان کے معانی کو ذہن میں رکھنا اور ان کے اصل اہداف و مقاصد پر غور کرنا۔ -2 آواز کو حتی الامکان پست رکھنا: ذکر پوری توجہ، حضوری قلب اور ہمت و صبر کے ساتھ اس انداز سے کیا جائے کہ کسی دوسرے کی عبادت میں کوئی خلل نہ آنے پائے۔ قرآن کریم اس جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:’’اے نبی ﷺ اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو، دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جائو جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔ -3 جماعت کی موافقت: اگر باجماعت ذکر کا موقع ملے تو اس صورت میں جماعت کا ادب و احترام بھی ضروری ہے۔ نہ تو جماعت سے پیچھے رہے نہ اس سے آگے بڑھے اور اگر تاخیر سے آ کر شریک جماعت ہو تو درمیان سے یوں نہ شروع کر دے کہ معانی میں فرق پڑ جائے اور قرأت میں تحریف ہو جائے، یہ قطعی حرام ہے۔ ہاں البتہ کسی بھی دعا یا تسبیح کے آغاز سے ان کے ساتھ شریک ہو جائے اور جو چیزیں شروع میں رہ گئی ہوں انہیں بعد میں مکمل کر لے۔ اگر باجماعت پڑھتے ہوئے دوسروں سے پیچھے رہ جائے تو اپنے اوراد و اذکار مکمل کرتے ہوئے ان کے ساتھ مل جائے۔ -4 نظافت: کپڑوں اور جگہ کا پاکیزہ ہونا بھی آداب ذکر میں سے ہے۔ مقدس مقامات اور مناسب اوقات کی رعایت بھی رکھی جائے۔ اس سے بندے کی ہمت بڑھتی ہے، دل میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے اور نیت کا خلوص زیادہ یقینی ہوتا ہے۔ -5 عاجزی اور خشوع: عاجزی، ادب اور انکساری کا خیال رکھنا چاہیے… لہو و لعب سے ذکر کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ ان آداب کو ملحوظ رکھ کر جو لوگ ذکر و تلاوت میں مشغول ہوں گے وہ انشاء اللہ اپنے دل میں ذکر کا اثر اور اس کی حلاوت محسوس کریں گے اور اللہ تعالیٰ انہیں روح کا نور، شرح صدر اور اطمینان قلب کی دولت سے نوازے گا۔ اجتماعی ذکراحادیث سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اجتماعی طور پر ذکر کرنا مستحب ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ: ’’جب بھی کچھ افراد مل بیٹھ کر ذکر الٰہی میں مصروف ہوتے ہیں تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے پاس موجود مخلوق میں فرماتا ہے‘‘۔احادیث میں کثرت سے تذکرہ ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو مسجد میں اجتماعی طور پر ذکر کرتے ہوئے دیکھا تو انہیں بشارت دی، ان کی نکیر نہیں فرمائی۔ مثلاً حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی یہ حدیث کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہؓ مسجد میں تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو ایک حلقے کی صورت میں بیٹھے دیکھ کر پوچھا: آپ کو کس چیز نے یہاں بٹھایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہم یہاں بیٹھے ذکر الٰہی میں مصروف ہیں۔ حضرت معاویہؓ نے کہا: خدا کی قسم! کیا آپ صرف اسی لیے یہاں بیٹھے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: خدا کی قسم! ہم یہاں صرف اسی لیے یہاں بیٹھے ہیں۔ حضرت معاویہؓ نے کہا: میں نے آپ پر کسی شک یا اتہام کے باعث آپ سے حلف نہیں لیا۔ نہ ہی آپ کے نزدیک مجھ جیسا مقام و مرتبہ رکھنے والوں میں سے کسی نے کم سے کم احادیث روایت کی ہیں یعنی روایت حدیث کی بنیاد پر بھی آپ مجھ سے کم مرتبہ نہیں ہیں واقعہ یہ ہے کہ ایک بار رسولﷺ مسجد تشریف لائے تو آپﷺ کے صحابہؓ ایک حلقے کی صورت میں بیٹھے تھے۔ آپﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: آپ کو کس چیز نے یہاں بٹھایا ہے؟ صحابہؓ نے جواب دیا: ہم یہاں بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس نے اسلام کی طرف جو ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور ہم پر احسان فرمایا ہے اس پر ہم اس کی حمد بیان کر رہے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: میں نے آپ پر کسی شک یا اتہام کے باعث آپ سے حلف نہیں لیا بلکہ جبریل امین ؑ نے آ کر مجھے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے آپ پر فخر کر رہا ہے۔ صحیح مسلم، ترمذی، نسانیاجتماعی عبادات ہمیشہ مستحب قرار دی گئی ہیں۔ خاص طور پر ایسی صورت میں کہ جب ان سے دیگر کئی فوائد بھی حاصل ہو رہے ہیں۔ مثلاً آپس کے تعلقات اور روابط کی مضبوطی، تالیف قلب، اپنے اوقات کا مفید استعمال، ایسے افراد کی تعلیم کا اہتمام کہ جو خود سے نہیں سیکھ سکتے اور پھر شریعت و شعائر خداوندی کی ترویج، ہاں البتہ ایسی صورت میں اجتماعی ذکر جائز نہیں جب اس کے نتیجے میں شرعاً ممنوعہ امور کا ارتکاب کیا جانے لگے مثلاً اس سے دیگر نمازیوں کی نماز میں خلل پڑتا ہو، اس میں فضول قسم کا ہنسی مذاق شامل ہو جائے، اذکار و اوراد کی اصل عبارت میں تحریف واقع ہو جائے یا ایسے امور عمل میں آنے لگیں جن سے شریعت مطہرہ نے منع کیا ہے۔ یہ مفاسد در آنے کی صورت میں اجتماعی ذکر ممنوع ہو جائے گا وگرنہ فی نفسہ اجتماعی ذکر ممنوع نہیں ہے۔ خاص طور پر اگر یہ اجتماعی ذکر ان الفاظ اور تسبیحات پر مشتمل ہو جو نبی کریم ﷺ سے منقول ہیں۔ اگراحباب صبح و شام مساجد اور مجالس میں جمع ہو کر، مکروہات سے اجتناب کرتے ہوئے، ذکر کا اہتمام کریں تو بہت بہتر ہوگا۔ اگر کوئی شخص اجتماعی ذکر میں شریک نہ ہو سکے تو وہ انفرادی طور پر ضرور اس کا اہتمام کرے اور اس میں ہرگز کوئی تساہل نہ برتے۔ قرآنی اوراد، دن یا رات کسی بھی مناسب وقت میں پڑھ لینے چاہئیں۔ وظائف اور قرآنی اوراد کے علاوہ ہر روز مسنون دعائیں اور اذکار بھی ان کی مناسبت سے پڑھتے رہنا چاہیے۔ شب و روز کے کسی بھی حصے میں تلاوت قرآن حکیم کے لیے کچھ وقت ضرور نکالا جائے۔ اس کے بعد ادعیہ مسنونہ اور اذکار ماثورہ کو ان کی مناسبت کے لحاظ سے پڑھا جائے… ہم اللہ تعالیٰ ہی سے حسن توفیق اور ہدایت کاملہ کے طلب گار ہیں۔ (مضمون نگار دنیا کی سب سے بڑی اسلامی تحریک’’ اخوان المسلمون، مصر‘‘ کے بانی تھے)اور 1949 ء میں شہید کر دیئے گئے۔ مضمون ان ککی کتاب ’’ ماثورات ‘‘ سے لیا گیا ہے )٭٭٭