شملہ وفد کے خلاف قائداعظم کا خط
اسپیشل فیچر
ہماری نصابی کتب میں شملہ وفد 1906 کو تحریک پاکستان کے حوالے سے بطور سنگ میل پڑھایا جاتا ہے۔ اس وفد کی قیادت سرآغا خان کر رہے تھے اور یہ وائسرائے ہند لارڈ منٹو سے ملا تھا۔ قائداعظم نے اس وفد میں شامل افراد اور قیادت کو ایک خط کے ذریعے آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔ یہ بات قائداعظم پر بہت سی تحریریں لکھنے والے بھارتی ماہر قانون و تاریخ دان اے جی نورانی نے اپنی مشہور کتاب ’’جناح اور تلک، جدوجہد آزادی کے ساتھی‘‘ (انگریزی) میں لکھی ہے۔ جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے 2010ء میں چھاپا تھا۔ نورانی صاحب نے اس خط کو سیدشریف الدین پیرزادہ کی کتاب’’قائداعظم کی منتخب تحریریں‘‘ جلد اوّل (1906 تا 1921) سے لیا ہے جسے ایسٹ اینڈ ویسٹ پبلشنگ کمپنی نے 1984 میں کراچی میں چھاپا تھا۔ کتاب کے صفحہ 9 پر اس خط کی تفصیلات مصنف نے دی ہیں۔ قائداعظم نے اس وفد کے خلاف ٹائمز آف انڈیا کو خط لکھا مگر اخبار نے اسے چھاپنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ممبئی کے مقامی رسالے ’’گجراتی‘‘ نے -7 اکتوبر 1906 کو یہ خط شائع کیا۔ بقول مصنف قائداعظم نے خط میں یہ اصرار کیا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان لوگوںکو کس نے منتخب کیا ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ بمبئی میں اس سلسلہ میں مسلمانوں کا کوئی ایسا اجلاس ہی نہیں ہوا جس میں کسی کو وائسرے سے ملاقات کے لیے منتخب کیاگیا ہو۔ یاد رہے، اس وقت قائداعظم کی عمر محض 30 سال تھی اور مسلم لیگ کو معرض وجود میں آنے میں دو ماہ اور لگنے تھے۔ اس وفد کے دو ماہ بعد، دسمبر 1906 میں ڈھاکہ میں مسلم لیگ بنائی گئی۔ اب ہمارے ہاںنصابی کتب لکھنے والے اس وفد کو مسلم لیگ کی تشکیل میں بطور اہم پیش رفت گماں کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ شریف الدین پیرزادہ کی کتاب منگوا کر پڑھ لیں اور قائد اعظم پیپرز کا مطالعہ کریں تاکہ ہمارے بچوں کو صحیح تاریخی حقا ئق پڑھائے جا سکیں۔