ساحلِ اندلس پر طارق بن زیادؒ کا خطاب
اسپیشل فیچر
نبی کریمﷺ کو رخصت ہوئے 80سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے۔ اسلامی فوج دنیا بھر میں طاغوتی قوتوں کا پیچھا کرتے ہوئے دور سے دور نکلتی جارہی ہے۔ ایسے میں طارق کی فوج اندلس کے ساحل پر خیمہ زن ہے۔ لشکر کے سپاہی جن کشتیوں میں سوار ہو کر اس اجنبی دیس میں آن اترے ہیں۔ وہ کشتیاں نذر آتش کی جا چکی ہیں۔ واپسی کا کوئی راستہ نہیں، پیچھے سمندر ہے اور آگے طاقتور دشمن۔ سپاہی اپنے مالک حقیقی کے ساتھ اپنے جسموں کا سودا کر چکے ہیں۔ جان کے بدلے جنت، وہ مرنا چاہتے ہیں یا پھر یورپ کے شیطانی معاشرے میں دائمی امن کا جھنڈا گاڑنا چاہتے ہیں۔ بقول اقبالؒ…طارق چو بر کنارۂ اندلس سفینہ سوختگفتند کار تو بہ نگاہ خرد خطا استدوریم از سواد وطن بازچوں رسیمترک سبب زروئے شریعت کجا روا استخندید دوست خویش و شمشیر بر دو گفتہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماستلشکر کے سپاہی ترک اسباب کرکے اس چٹان کے سامنے جمع ہوچکے ہیں جس پر امیر لشکر طارق بن زیاد ؒ شمشیر بہ دست کھڑے ہیں۔ دفعتاً طارقؒ کی آواز فضا میں پھیلتی ہے۔خطاب:۔’’میں نے یہ کشتیاں جلا دیں۔ میں نے یہ لوہے اور لکڑی کے جڑے ہوئے تختے آگ کی نذر کردیئے۔ یہ اب ہمارے لیے بیکار تھے۔ ہم یہاں سے لوٹنے کے لیے نہیں آئے۔ ہمیں پھر واپس نہیں ہونا… آگے بڑھنا ہے۔ اسلام نے ہمیں جو تعلیم دی ہے ہمیں نور بخشا ہے۔ اسے دور دور تک عام کرنا ہے۔یاد رکھو! پیچھے سمندر ہے اور آگے دشمن۔ پچھلی موت بزدلی کی موت ہے اور آگے کی موت بہادری کی… وہ موت اگر ہمیں آئی تو ہمارے لیے خدا اور رسولؐ کی خوشنودی کا باعث ہوگی۔ تم پیچھے کی طرف بھاگنا بھی چاہو تو نہ بھاگ سکو گے۔ تمہارے لیے اب صرف ایک راہ ہے۔ اینے ایمان پر بھروسہ کرکے آگے بڑھو! یہی اصل زندگی ہے۔‘‘ساتھیو! اگر تم جان پر کھیل جائو تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ سب سے پہلے میں خود جان پر کھیل جائوں گا۔ سب سے پہلا حملہ میرا حملہ ہوگا۔ جب میں حملہ کروں تو میرا ساتھ دو۔ تم اس جزیرہ میں اس لیے آئے ہو کہ اللہ کی بڑائی عام کرو۔ تمہیں قدرت نے مظلوموں کا حامی اور کمزوروں کا محافظ بنایا ہے۔ اس ملک میں دو کروڑ سے زیادہ لوگ مظلوم ہیں اور وہ لوگ جوتمہارے سامنے جواہرات کی نمائش کررہے ہیں سب ظالم ہیں۔ تم ان سے بدلہ لو گے تو انسانیت تم پر فخر کرے گی۔ ورنہ… ورنہ آئندہ نسلیں تمہیں برے برے نام دیں گی۔‘‘(’بازگشت،مشاہیر عالم کی یادگار تقریریں، از ادریس آزاد)