قصّہ کتاب کی رونمائی اور تنقیدی نشست کا
اسپیشل فیچر
ایک تنقید نگار ہماری کتاب کے بارے میں فرمانے لگے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے آپ کی کتاب پڑھنے کا موقع نہیں مل پارہا۔ لیکن اِدھر اُدھر سے چند جملے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو لکھنا آتا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہےجس دن ہم نے اپنی کتاب کے سلسلے میں تعارفی اور تنقیدی نشست کا اہتمام کیا اس دن ہمارے ستارے حسبِ معمول گردش میں تھے۔ چند ناقدین کی آراء پیش کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے انہیں پڑھ کر ستاروں کی گردش کے آپ بھی قائل ہوجائیں گے۔ ایک تنقید نگار ہماری کتاب کے بارے میں فرمانے لگے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے آپ کی کتاب پڑھنے کا موقع نہیں مل پارہا۔ لیکن اِدھر اُدھر سے چند جملے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو لکھنا آتا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہیں پڑھنا تو آتا ہے لیکن لکھنا نہیں آتا۔ اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے۔ آپ لکھتے رہا کریں لکھنے سے تحریر میں پُختگی پیدا ہوتی ہے۔ تحریر خوش خط بھی ہوجاتی ہے۔ ایک اور تنقید نگار فرمانے لگے ’’آپ کی کتاب تو میں نے نہیں پڑھی لیکن ابھی ابھی جو مضامین آپ نے گوش گزار کیے ہیں انہیں سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو پڑھنے کا سلیقہ آتا ہے۔ اتنے دل کش اور پُراثر انداز سے بہت کم لوگوں کو پڑھتے دیکھا ہے۔ آپ کا تلفظ بھی بہتر ہے۔ ہاں ایک بات اور‘ ہم تنقید نگار کے علاوہ ٹھیکے دار بھی ہیں۔ ٹھیکے داروں کے بنائے ہوئے بہت سے مکانات دیکھے ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے مکانات میں وہ پختگی نہیں دیکھی جو آپ کی تحریر میں ہے۔‘‘ایک اور صاحب فرمانے لگے ’’آپ تو جانتے ہی ہیں ہم ملک کے مصروف ترین تنقید نگار ہیں کتابوں کا ایک ڈھیر لگا ہوا ہے جن پر ہمیں تنقید لکھنا اور تبصرے کرنا ہے۔ ہم کسی کتاب پر اس وقت تک قلم نہیں اٹھاتے جب تک اسے اچھی طرح پڑھ نہ لیں۔ کیوںکہ آپ کی کتاب کو ہم اچھی طرح پڑھ نہیں سکے اسی لیے اس پر قلم اٹھانا ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔ لیکن آپ کے مضامین آپ ہی کی زبانی سن کر ہم ان پر تبصرہ اس لیے کررہے ہیں تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ ہم میں فی ا لبدیہہ تنقید کرنے کی صلاحیت نہیں۔ ہم نے آپ کے مضامین کو گوش انتقاد نیوش سے سنا اور سُن کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آپ کے یہاں طنز و مزاح میں ایک حیرت انگیز توازن پایا جاتا ہے۔ ترازو کے ایک پلڑے میں طنز کو رکھیں اور دوسرے میں مزاح کو تو ترازوکے دونوں پلڑے ایک ہی سطح پر رہیں گے۔ نہ مزاح کا پلڑا بھاری ہوگا نہ طنز کا۔ ہمارے خیال میں یہ آپ کی تحریر کی بہت بڑی خوبی ہے۔ملک کے ایک اور مایہ ناز تنقید نگار یوں گویا ہوئے ’’اگر میں طنز و مزاح کی تاریخ کا اجمالی خاکہ پیش کرنے بیٹھ گیا تو ناقدین کا وقت مارا جائے گا۔ حالاں کہ کسی بھی تحریر کو پرکھنے کے لیے اس کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں ماضی کی تحریروں سے مقابلہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس کے لیے میر جعفر ٹلی سے لے کر عصر حاضر کے نام ور طنز و مزاح نگاروں کی نگارشات کا بھی مختصر سا جائزہ لینا پڑے گا کیوںکہ وقت بہت کم ہے اس لیے آپ کی تحریر کی نہ تو خوبیوں سے بحث کی جاسکتی ہے اور نہ ہی خامیوں سے۔ اس کا فیصلہ تو اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنے کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے۔ ویسے ہم کون ہوتے ہیں فیصلہ کرنے والے۔ فیصلہ توآنے والا وقت کرے گا‘‘ ایک نام ور نقاد فرمانے لگے ’’ہم نے آپ کو پہلی بار دیکھا۔ اس سے پہلے آپ سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی تحریروں کو چھپانے کے قائل ہیں، چھپوانے کے نہیں۔ کسی کو آپ کے بارے میں کچھ پتا نہیں۔ اس محفل میں موجود چند لوگ جو آپ کو جانتے ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ آپ انتہائی سنجیدہ، کم گو، خشک مزاج، کلینک میں کبھی نہ مسکرانے والے جغادری قسم کے انسان ہیں۔ اگر آپ نے اپنی کتاب میں اپنے بارے میں ایک مضمون شائع کرادیا ہوتا تو ہمیں آپ کی تحریر کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی۔ جب تک مصنف کے میلانات و رجحانات اس کے عقائدو نظریات‘ اس کی وابستگیاں اور اس کی شخصیت کے مختلف پہلو ہمارے سامنے نہ ہوں ہم اس کی تحریر کا صحیح تجزیہ نہیں کر سکتے۔ لیکن اتنا ضرور کہیں گے۔ آپ کے مضامین آپ کی شخصیت کی عکاسی نہیں کرتے۔ آپ کی کتاب اور آپ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ دوہری شخصیت کے مالک ہیں۔ لیکن دنیا میں آپ ہی جیسے لوگ کام یاب رہتے ہیں۔‘‘ایک اور ناقد فرمانے لگے ’’آپ کی تحریروں سے انداز ہوتا ہے کہ آپ تمام عمر مریضوں میں گھرے رہے اور انہوں نے آپ کو کچھ اس انداز سے گھیرا کہ آپ کی نظر دنیا کی وسعتوں پر نہ پڑسکی۔ آپ نے جو کچھ بھی لکھا مریضوں سے متعلق لکھا۔ یا اپنے پیشے سے متعلق۔ حالاںکہ اور بھی افراد ہیں زمانے میں مریضوں کے سوا۔ آپ کے مشاہدات کا دائرہ بہت تنگ ہے۔ آپ کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ مریضوں سے ہٹ کر بھی کچھ لکھیں۔ دنیا دکھی انسانوں سے بھری پڑی ہے۔ اس وسیع و عریض دنیا میں بسنے والے بھانت، بھانت کے انسانوں پر لکھیں۔ آپ کو ہر قدم پر ایک افسانہ ملے گا۔ ہر موڑ پر ایک کہانی۔ اگر آپ خود کو ’’کمیٹِڈ‘‘ انسان سمجھتے ہیں تو آفاقی تحریروں پر توجہ دیں۔‘‘ادبی دنیا کے ایک معروف تنقید نگار ہماری کتاب پر اس انداز سے رطب اللسان ہوئے:’’اب جو آپ نے اس کوچۂ پر خار میں قدم رکھ ہی دیا ہے تو پسپا ہونے کی کوشش نہ کیجیے گا جہاں کچھ لوگ خراجِ عقیدت کے پھول نچھاور کریں گے۔ کچھ لوگ عطر انحراف کشید کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ لیکن جب فن اور فلسفۂ حیات کا سنجوگ ہوجائے تو فن کار اور معاشرہ کے درمیان مغائرت کی دیوار کھڑی کرنا آسان نہیں ہوتا۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ بسیار خوری اور بسیار نویسی دونوں ہی سے پرہیز کریں۔ دونوں مہلک ثابت ہوسکتی ہیں۔ جسے ادبی ہیضہ ہوجائے وہ بہت جلد دنیائے ادب سے منہ موڑ لیتا ہے۔ آپ نے مزاح میں املاح طنز کی آمیزش سے تحریر میں ملاحت پیدا کی ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ کسی کا تتبع نہیں کرتے۔ امید ہے کہ زیر تتق نیلی فام چند معقول وجوہ اور پائیدار استناد کی بنیاد پر آپ کی تحریر بہت جلد قبولیت خواص و عوام حاصل کرلے گی‘‘اس محفل کے مہمان خصوصی ایک ایسے صاحب تھے جنہیں ادب سے کوئی لگائو تھا نہ پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ لیکن ایسے عہدہ پر فائز تھے کہ ان سے کبھی بھی کوئی بڑا کام لیا جاسکتا تھا۔ وہ ہماری کتاب کو بڑی بیزاری سے الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے۔ جب انہیں اظہارِ رائے کے لیے زحمت دی گئی تو انہوں نے ہماری کتاب کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا۔’’کتاب ماشااللہ بہت اچھی ہے، ٹائٹل بڑا دل کش ہے، کمپوزنگ بہت خوب صورت ہے، کاغذ نہایت نفیس ہے۔ لیکن اس کتاب میں سب سے بڑی خوبی جو مجھے نظر آئی وہ اس کی جلد کی مضبوطی ہے۔ آپ اسے پانچویں منزل سے نیچے پھینک دیں۔ مجال ہے جو جلد پر خراش بھی آجائے۔ ایسی ہی جان دار کتابیں بہت جلد ادب میں اپنا مقام پیدا کرلیتی ہیں۔ اگر کیڑا نہ لگے تو صدیوں زندہ رہتی ہیں‘‘ ہماری کتاب پر ایسا بے لاگ تبصرہ ان ہی کا حصّہ تھا۔ کسی نقاد کو شاید اس کی کبھی توفیق نہ ہوتی۔آخر میں صدارت کے فرائض انجام دینے والے ملک کے نام ور، کہنہ مشق و کہنہ سال محقق اور تنقید نگار نے مختلف ناقدین کی آراء کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا:’’جیسا کہ مختلف ناقدین کی آراء سے ظاہر ہے۔ یہ کتاب چمنستانِ ادب میں باد صرصر کے ایک خوش گوار جھونکے کی مانند ہے۔ یہ شاید اسی کتاب کا اثر ہے کہ بہت سے لوگ جھونکے لے رہے ہیں۔ غالبؔ نے ٹھیک ہی کہا تھا ’’بادہ نوشی ہے بادہ پیمائی‘‘ یہ کتاب اس لائق ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں پہنچے۔ ادب سے لگائو رکھنے والے دنیا سے اٹھتے جارہے ہیں۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اس کتاب کو جتنی جلدی ہوسکے اس محفل میں شریک ہر شخص کو اعزازی طور پر پیش کردیا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ادب سے لگائو رکھنے والے اس محفل سے بھی اٹھ جائیں۔ یہاں ایک بات کا ذکر لازم سمجھتا ہوں اس کتاب کے مصنف نے اس محفل تنقید و تعارف میں کھانے پینے کا بھی اہتمام کیا تھا لیکن کھانے پینے کی تمام چیزیں باہر سے منگوائی تھیں۔ گھر پر ایک چیز بھی تیار نہیں کی گئی تھی۔ کیوںکہ کسی بھی چیز میں نمک ان کا اپنا نہیں تھا۔ اس لیے حقِ نمک ادا کرنے کے ہم پابند نہیں۔ امید ہے صاحب کتاب ہماری اس حق گوئی و بے باکی کو جوکہ آئین جواں مرداں ہے، حساس خواتین کی طرح دل پر نہ لیں گے۔‘‘ ہم نے محفل برخاست ہونے سے پہلے تمام ناقدین و حاضرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور شرکائے محفل میں سے ہر ایک کو اپنی کتاب کی دو دو کاپیاں اعزازی طور پر پیش کیں تاکہ ہماری کتاب زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں پہنچ سکے۔ افسوس حاضرین میں سے کسی کے بھی دو سے زیادہ ہاتھ نہ تھے لیکن دل میں یہ فیصلہ کرلیا۔ آئندہ بھول کر بھی ایسی غلطی نہ کریں گے۔