ادب کی دنیا
اسپیشل فیچر
حلقۂ اربابِ ذوق( ایوانِ اقبال) کا جلسہحلقۂ اربابِ ذوق، لاہور کا ہفتہ وار اجلاس حسین مجروح کی صدارت میں ایوانِ اقبالؔ میں منعقد ہوا ۔اجلاس خصوصی طور پر بر عظیم پاک وہندکی موسیقی میں گھرانے کے تصور اور موسیقی اور ادب کے باہمی تعلق پر منعقد کیا گیا تھا، جس میں موسیقاروں نے مختلف راگوں میں دھنیں بکھیر کے حاضرین کو محظوظ کیا ۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر امجد پرویز نے مختلف راگوں اور دھنوں میں ترتیب دی گئی، غزلیں اور گیت گائے اور مختلف راگوں کا تعارف بھی پیش کیا ۔ موسیقی کی نشست کے اختتام کے بعد گفت گو کا آغاز ہوا، جس کے محرک ڈاکٹر جواز جعفری تھے ۔ اُنھوں نے پاک وہند میں موسیقی کے گھرانے کے تصور پر سیر حاصل گفت گو کی، جسے بعد میںنسرین انجم بھٹی، ڈاکٹر ناصر بلوچ، ڈاکٹر امجد پرویز ، حسین مجروح ، صادق جمیل ، در نجف زیبی اور دیگر حاضرین نے آگے بڑھایا ۔ اجلاس میں حاضرین و سامعین کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ حلقۂ اربابِ ذوق( پاک ٹی ہاؤس) کا اجلاس حلقۂ اربابِ ذوق، لاہور کا ہفتہ وار تنقیدی اجلا س کرامت بخاری کی زیرصدارت پاک ٹی ہائوس میں منعقد ہوا۔ سیکرٹری حلقہ ڈاکٹر غافر شہزاد نے گذشتہ اجلاس کی کاروائی توثیق کے لیے پیش کی۔ حلقہ کے اس اجلاس میںڈاکٹر سعیداحمدکے مضمون’’اُردو شعرا کا سائنسی شعور ‘‘کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ پہلے حصے میں حسنین بخاری نے مضمون کی نسبت سے سائنسی شعور کے موضوع پر اپنی نظمیں پڑھ کر سنائیں جب کہ دوسرے حصے میں ڈاکٹر سعید احمد نے مضمون پیش کیا۔ گفت گو میں مقررین نے کہا کہ مضمون نگار نے دو سطح کے شعرا کا تذکرہ کیا ہے، ایک وہ جن کے ہاں کہیں سائنسی ترکیب آ گئی ،تو اس شعر کو سائنسی شعور سے جوڑ دیا گیا جب کہ دوسرے قبیل کے ایسے شعرا ہیں، جنھوں نے سائنس کے وقوعات کو ہی اپنا موضوع بنایا ہے۔سائنس اور ادب کو الگ قرار دینے کی بحث پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ ادب اگر زندگی کا عکاس ہے، تو پھراس حوالے سے سائنس کو ادب اور زندگی دونوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔جہاں تک سائنسی نظریات کے بدلنے کی بات ہے، یہ اعتراض تو انسانی زندگی کے دوسرے پہلووں پر بھی ہو سکتا ہے، جو زمان و مکان کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔انسانی ذوق، جمالیات، ترجیحات، پسندوناپسند تغیرپذیر ہیں ،مگر شاعری کا سارا حسن اسی تغیر میں ہے۔گفت گو میں حصہ لینے والوں میںڈاکٹر خواجہ محمد زَکریا، آغا باقر، سلیم سہیل،غافر شہزاد، تصدق شعار، جاوید اطہر، امجد طفیل، شفیق احمد خان،زاہد مسعود، نبیل احمدنبیلؔ اور اہم شرکا میں شاہدہ دلاور شاہ ، جاویدقاسم، اعجازرضوی، زاہدہما، ارشدمنظور ، کامران ناشط و دیگر احباب شامل تھے۔نوید ملک کی کتاب ’’کامنی‘‘ کی تقریباتادبی تنظیم ’’ادراک ‘‘ کے زیر اہتمام ’’کامنی‘ ‘ کی تقریبِ رونمائی و پذیرائی الحمرا آرٹس کونسل، لاہورمیںمنعقد ہوئی۔صدارت حسین مجروح نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی نسیم سحر تھے۔وقاص عزیز، رقیہ غزل اور حسن عباسی نے مضامین پیش کیے۔نظامت کے فرایض شبیر حسن نے ادا کیے ۔وقاص عزیز نے کہا کہ نوید ملک سے میری شناسائی اُن کی کتاب ’’پر دے دو‘‘ کی وساطت سے ہوئی۔’’کامنی‘‘ تک کے شعری سفر میں انھوں نے اپنی انفرادیت قائم رکھی ہوئی ہے۔آخر میں نوید ملک نے اپنی نظمیں سنائیں اور’’ادراک ‘‘ کے ارکان کا خصوصی شکریہ ادا کیا ،جن کے توسط سے تقریب کامیاب ہوئی۔ صاحب ِصدر حسین مجروح نے کہا کہ نوید غزل سے نظم کی طرف آئے ہیں حالاں کہ یہ قدم بعض شعرا بہت دیر کے بعد اُٹھاتے ہیں۔تقریب کے آخر میں مہمانِ خصوصی نسیم سحر سے اُن کا کلام بھی سنا گیا۔ اعتبار ساجد، سلیم اختر ملک، واجد امیر، حماد نیازی، وسیم عباس، صبا پرویز اور بہت سے شعرااور ادیب محفل میں شامل تھے۔دوسری تقریب ادبی و ثقافتی تنظیم’’ سخنور‘‘ کے زیر اہتمام آرٹس کونسل راول پنڈی میں منعقد ہوئی ۔صدارت جلیل عالی نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی قیوم طاہر اور مہمان ِاعزاز ڈاکٹر روش ندیم تھے۔نظامت کے فرایض فرحین چودھری نے ادا کیے اور علی یاسر، آفتاب ضیا، نسیم سحر نے مضامین پیش کیے۔صاحب ِصدر جلیل عالی نے کہا کہ بعض لوگ اپنی عمر سے بڑے تجربے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر نوید ملک نے ایسا نہیں کیا،بعض نظمیں بہت اچھی ہیں۔آخر میں چیرمین’’ سخنور‘‘ ارشد ملک نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا جب کہ نوید ملک نے اُنھیں اپنی کتاب پیش کی۔اس تقریب میں بھی جڑواں شہروں راول پنڈی اور اسلام آباد کے اُدبا و شعرا کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔کرامت بخاری کے ساتھ ایک شام پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر(پِلاک)لاہور میں گزشتہ دنوںکرامت بخاری کے ساتھ ایک شام کا اہتمام کیا گیا، جس میں بشریٰ رحمان، ڈاکٹر اجمل نیازی، حسن عسکری کاظمی، ناصر زیدی، ڈاکٹر کنول فیروز، سید احمد حسن، عذرا مرزا، میاں علائو الدین، ریحانہ اشرف اور الطاف قریشی نے اظہار خیال کیا۔ بشریٰ رحمان نے کہا کہ کرامت کی شاعری کا لہجہ دھیما ہے ،مگر یہ دل اور روح میں اُترتی ہوئی فکر و خیال سے سارے دریچے وَا کرتی ہے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی نے کہا کہ کرامت چھوٹی بحر میں لکھنے والا بڑا شاعر ہے۔ حسن عسکری کاظمی نے کہا کہ کرامت کی شاعری میں دینی شعور بھی بے پناہ ہے۔ ناصر زیدی نے کہا کہ چھوٹی بحر میں غزل کہنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ کرامت نے حمد، نعت، مرثیہ ،سوز سب کچھ لکھا ہے ۔ الطاف قریشی نے کہا کہ کرامت زمانے کے ساتھ چل رہا ہے۔ آخر میں صاحبِ شام کرامت بخاری نے اپنی سرائیکی اور اُردو شاعری سنا کر حاضرین سے داد وصول کی۔ اس تقریب میں فراست بخاری اور اقبال راہی نے کرامت بخاری کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرایض خاقان حیدر غازی نے ادا کیے۔ اس موقع پر وسیم عباس، ایم آر شاہد، آغا ارشد، طارق چغتائی، عباس مرزا، میجر خالد انصر، شگفتہ سبز واری، باقی احمد پوری، صائمہ الماس، زاہد ہما، شفیق احمد خان، شاہدہ دلاور شاہ، جاوید شیدا، سجاد ساجد گل، سلیم اختر، جمیل بھٹی، شاہد بخاری اور نامور علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔٭…٭…٭