کیا پاکستانی فلمی صنعت کو دوسرا حسن طارق مل سکتا ہے؟ انہوں نے ناقابلِ فراموش فلموںکی ہدایات دیں

 کیا پاکستانی فلمی صنعت کو دوسرا حسن طارق مل سکتا ہے؟ انہوں نے ناقابلِ فراموش فلموںکی ہدایات دیں

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


پاکستانی فلمی صنعت کے عظیم ترین ہدایتکاروں کا نام لیا جائے تو حسن طارق کا نام نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔حسن طارق نے 44فلموں میں ہدایت کاری کے فرائض سرانجام دیئے۔1959ء میں ’’نیند‘‘سے شروع ہونے والا یہ سفر 1982کی فلم ’’سنگدل‘‘پر ختم ہوا۔ پہلی فلم بھی سپر ہٹ اور آخری بھی۔حسن طارق کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے کمال کے تجربات کیے اور یہ تجربے کامیاب رہے۔ان کی کامیاب فلموں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں ’’نیند،بنجارن، شکوہ،پھنّے خان، کنیز،سوال،دیور بھابھی،بہن بھائی،شمع پروانہ، انجمن، تہذیب، امرائو جان ادا،بہشت،ثریا بھوپالی اور سنگدل‘‘ شامل ہیں۔وہ ایک ذہین ہدایت کار تھے جوہر آرٹسٹ سے اس کی صلاحیتوں کے مطابق کام لینا جانتے تھے۔ یہ انہی کا کام تھا کہ انہوں نے ’’نیند‘‘ میں اسلم پرویز کو وِلن کا کردار دیاجو اُس وقت کے کامیاب ترین ہیرو تھے۔ اور پھر اسلم پرویز نے یہ کردار انتہائی احسن طریقے سے ادا کیا۔اِسی طرح ’’سوال‘‘ میں اعجاز کو منفی کردار دیا اور پھر ان سے بہت شاندار کام کروایا۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ رسک لینے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتے تھے۔’’دیور بھابھی‘‘ میں اسد جعفری کو ولن کا کردار دیا۔اِسی طرح ’’بہن بھائی‘‘میں کمال کو مزاحیہ کردار دیا جس سے اُن کی ایک الگ ہی شناخت بن گئی۔’’شمع پروانہ‘‘میں انہوں نے مجیب عالم کو گائیکی کا موقع دیا اور پورے ملک میں ان کے نام کا ڈنکا بج گیا۔1962میں ریلیز ہونے والی فلم’’بنجارن‘‘ بھی ان کی ایک شاندار فلم تھی۔اِسے اس وقت کی بولڈ فلم کہا گیا تھا۔ اِس میں نیلو نے اپنی دلکش ادائوں سے فلم بینوں کو مسحور کر دیا تھا۔ بنجارن سے مسعود رانا اور آئرن پروین کو بھی پلے بیک سنگرز کی حیثیت سے شہرت ملی۔حسن طارق نے 1963میں ایک اور تجربہ کیا۔27سالہ صبیحہ خانم کو ’’کنیز‘‘میں ’’ینگ ٹو اولڈ‘‘کردار دے دیا۔ اور اُن سے ایسا کام کروایا۔ کہ شائقین فلم عش عش کر اُٹھّے’’بہشت‘‘ ہمارے معاشرے کے ایک اہم کردار ’’ظالم ساس‘‘پر بنائی گئی۔ یہ ایک انتہائی سبق آموز فلم تھی۔’’انجمن،تہذیب اور امرائو جان ادا‘‘حسن طارق کی کامیاب ترین فلموں میں سے تھیں اور اِن سب فلموں میں رانی نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔’’انجمن اور امرائو جان ادا‘‘ میں رانی نے جس عمدگی سے طوائف کا کردار ادا کیا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔یہ حسن طارق کی اعلیٰ ہدایت کاری کا کمال تھا کہ بھارت میں بننے والی فلم ’’امرائو جان‘‘ کی ہیروئن ریکھا نے بھی رانی کی اداکاری کی بے حد تعریف کی۔ حسن طارق نے اپنی فلموں میں اسلم پرویز،محمد علی،وحید مراد، شاہد، رانی، علائوالدین اورآغا طالش جیسے اداکاروں کو کاسٹ کیا اور ان سب سے ان کے فنی مرتبے کے مطابق کام لیا۔حسن طارق کی پنجابی فلم ’’پھنّے خان‘‘ نے بھی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔اس فلم میں انہوں نے علائوالدین سے جس انوکھے انداز میں کام لیا وہ انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ میڈم نورجہاں نے بھی انتہائی خوبصورت گیت گا کر اِس فلم کی بے مثال کامیابی میں اپنا حصّہ ڈالا۔حسن طارق کی ایک فلم ’’اِک گناہ اور سہی‘‘نے تاشقند کے فلمی میلے میں خوب دھوم مچائی۔اِس فلم میں حسن طارق نے ایک اور تجربہ کیا۔صبیحہ خانم کو وہ کردار دیا جس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ ’’بہارو پھول برسائو‘‘ ہدایت کار ایم صادق نے شروع کی تھی۔ وہ بھارت سے آئے تھے لیکن ان کی اچانک وفات کے بعد باقی فلم کی ہدایت کاری کے فرائض حسن طارق نے سرانجام دیے۔اب ذرا ان کی آخری فلم ’’سنگدل‘‘ کی بات ہو جائے۔’’سنگدل‘‘ 1982میں ریلیز ہوئی تھی اور اس میں ندیم اور بابرہ شریف نے اعلیٰ پائے کی اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا۔ اِس فلم کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اِس میں نازیہ حسن کے نغمات شامل کئے گئے۔ ویسے تو یہ نغمات فلم کی ریلیز سے پہلے ہی ہٹ ہو چکے تھے لیکن اِس فلم میں ان کی پکچرائزیشن اتنی اعلیٰ تھی کہ فلم بین واہ واہ کر اٹّھے۔ یہ کریڈٹ حسن طارق کو ہی جاتا ہے۔حسن طارق موسیقی کو بھی خوب سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فلموں کی موسیقی بہت اعلیٰ درجے کی ہوتی تھی۔ ان کی اکثر فلموں میں ماسٹر عنایت حسین، رشید عطرے اورنثار بزمی نے موسیقی دی۔ ان کی فلموں کے گیت بھی سپر ہٹ ثابت ہوئے تھے۔ انہوں نے پہلے نگہت سلطانہ اور پھر ایمی مینوالا سے شادی کی۔اِس کے بعد انہوں نے رانی کو اپنی شریکِ حیات بنایا۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب حسن طارق ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے۔ ان کی کچھ فلمیں فلاپ ہو گئی تھیں۔ جن میں ’’پیاسا‘‘،لیلیٰ مجنوں‘‘شامل ہیں۔ ’’پیاسا‘‘بڑی معیاری فلم تھی لیکن فلم بینوں نے اُسے کامیابی کی سند عطا نہیں کی جس کا حسن طارق کو بہت قلق تھا۔یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستانی فلمی صنعت میں 44فلموں کی ہدایت کاری کے فرائض سرانجام دینا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ انہوں نے بہت زیادہ کام کیا اور بہت عمدہ کام کیا۔ کیا ہماری فلمی صنعت میں آج حسن طارق کے پائے کا کوئی اور ہدایت کار موجود ہے؟اسکا جواب یقینا نفی میں ہے۔ لیکن مقامِ رنج ہے کہ آج ہماری فلمی صنعت حسن طارق جیسے ہدایت کار کو بھی فراموش کر چکی ہے۔ جنہوں نے عوام کو بڑی تعداد میں معیاری فلمیں دیں۔ویسے تو پاکستانی فلمی صنعت کو انور کمال پاشا،نذر الاسلام،ریاض شاہد،خلیل قیصر،اور حسن عسکری جیسے ہدایت کار بھی میسّر آئے لیکن حسن طارق کی شناخت سب سے الگ ہے۔ ہدایت کاری کا جو اسلوب انہوں نے متعارف کرایا تھا اس کا کوئی متبادل نہیں۔24اپریل 1982ء کو یہ بے بدل ہدایت کار اس جہانِ رنگ و بُو سے رخصت ہو گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
روشنی بکھیرنے والے پودے:چینی سائنسدانوں کا انوکھا کارنامہ

روشنی بکھیرنے والے پودے:چینی سائنسدانوں کا انوکھا کارنامہ

انقلابی پیش رفت ماحول دوست،توانائی بحران پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہےسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ہونے والی ترقی نے انسانی زندگی کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے، اور اب روشنی کے حصول کے روایتی ذرائع بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق میں چینی سائنسدانوں نے ایسے پودے تیار کرنے کی کوشش شروع کی ہے جو جگنوؤں کی طرح خود روشنی پیدا کر سکیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں گلیوں، پارکوں اور شہروں کو روشن کرنے کیلئے بجلی پر انحصار نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔ یہ انقلابی پیش رفت نہ صرف ماحول دوست ہوگی بلکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو آج کے دور کا ایک بڑا عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔چینی سائنسدانوں نے ایسے جینیاتی طور پر تیار شدہ پودے متعارف کرائے ہیں جو اندھیرے میں خود روشنی خارج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پودے نہ صرف سیاحت کیلئے کشش کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ شہری زندگی میں بھی ایک نئی جہت متعارف کرا سکتے ہیں۔ رات کے وقت پارکوں، باغات اور عوامی مقامات پر ان پودوں کی مدھم روشنی ایک پرسکون اور دلکش ماحول پیدا کر سکتی ہے، جو مصنوعی روشنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قدرتی اور خوشگوار ہوگا۔ان حیاتیاتی روشنی خارج کرنے والے پودوں کو تیار کرنے کیلئے سائنسدانوں نے جگنوؤں اور چمکتی ہوئی فنگس کے جینز کو پودوں کے خلیات میں منتقل کیا ہے۔ اس عمل کو جینیاتی انجینئرنگ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے مختلف جانداروں کی خصوصیات کو ایک دوسرے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس جدید تکنیک کی مدد سے اب تک بیس سے زائد پودوں کی اقسام کو اندھیرے میں چمکنے کے قابل بنایا جا چکا ہے، جن میں آرکڈ، سورج مکھی اور گلابی چمبیلی جیسی خوبصورت اور مقبول نباتات شامل ہیں۔ بائیو ٹیکنالوجی کمپنی ‘‘میجک پین بائیو'' کے بانی لی رین ہان نے اس منصوبے کو ایک تخیلاتی دنیا سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ان پودوں کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے تو رات کے وقت چمکتے ہوئے باغات اور وادیاں کسی دوسرے سیارے کا منظر پیش کریں گی۔ انہوں نے اس تصور کو مقبول سائنس فکشن فلمAvatar سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہوگا جیسے فلمی دنیا کو حقیقت میں بدل دیا گیا ہو۔ اس طرح کے مناظر نہ صرف سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کریں گے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیں گے۔2024ء میں فائر فلائی پیٹونیا نامی پودے کے اجرا نے اس میدان میں ایک نئی دلچسپی پیدا کی تھی۔ یہ پودا ایک امریکی کمپنی لائٹ بائیونے متعارف کرایا تھا، جسے بھی بائیولومینیسینٹ مشروم کے جینز شامل کر کے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم چینی سائنسدانوں کی حالیہ کامیابیاں اس سے ایک قدم آگے ہیں، کیونکہ انہوں نے نہ صرف ایک بلکہ متعدد پودوں کی اقسام کو چمکدار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں پورے باغات اور پارکس کو قدرتی روشنی سے منور کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ یہ پودے ابھی مکمل طور پر سٹریٹ لائٹس کا متبادل نہیں بن سکتے، لیکن شہر کے ان حصوں میں جہاں روشنی کی کمی ہو یا جہاں ماحول کو قدرتی انداز میں برقرار رکھنا مقصود ہو، وہاں یہ ایک بہترین حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ پودے توانائی کی بچت، کاربن کے اخراج میں کمی اور ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور توانائی کے بحران کے پیش نظر اس طرح کی ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔چین کے محققین نے اس میدان میں ایک اور منفرد طریقہ بھی آزمایا ہے، جس میں پودوں کے پتوں میں دھاتی نینو ذرات داخل کیے گئے ہیں۔ یہ ذرات دن کے وقت سورج کی روشنی کو جذب کر کے چارج ہوتے ہیں اور رات کے وقت ہلکی روشنی خارج کرتے ہیں۔ اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جینیاتی تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ یہ ایک نسبتاً سادہ اور محفوظ طریقہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، مختلف دھاتوں کے امتزاج سے روشنی کے رنگ کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے خوبصورتی اور تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ان ٹیکنالوجیز کو مزید بہتر بنایا جائے تو یہ شہری منصوبہ بندی میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ مستقبل کے شہر ایسے ہو سکتے ہیں جہاں بجلی سے چلنے والی روشنیوں کی جگہ قدرتی طور پر چمکنے والے پودے لے لیں۔ اس سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ شہری ماحول بھی زیادہ صحت مند اور دلکش بن جائے گا۔تاہم، اس جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پودوں کے ماحولیاتی اثرات، ان کی حفاظت اور عوامی قبولیت جیسے مسائل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان پودوں کی روشنی کی شدت کو بڑھانا بھی ایک اہم مرحلہ ہے تاکہ یہ عملی طور پر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بائیولومینیسینٹ پودوں کی یہ ترقی ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔ یہ نہ صرف سائنسی جدت کا مظہر ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی عکاس ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری دنیا واقعی ایک چمکتی ہوئی دنیا میں تبدیل ہو جائے گی۔

مسولیس کا مقبرہ

مسولیس کا مقبرہ

قدیم دنیا کے عجائبات میں سے ایک مسولیس کا مقبرہ، تعمیراتی حسن، محبت اور لافانیت کی ایسی داستان ہے جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے۔ یہ سنگ مرمر سے تراشا گیا ایسا خواب تھا جس نے مقبرہ کی اصطلاح کو جنم دیا، جو آج بھی دنیا بھر میں عظیم الشان مزارات کیلئے استعمال ہوتی ہے۔چوتھی صدی قبل مسیح میں جب فارس کی ہخامنشی سلطنت کا عروج تھا، مسولیس کاریا کے علاقے کا گورنر تھا۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر فارسی سلطنت کے ماتحت تھا لیکن عملاً وہ آزاد بادشاہ کی طرح حکومت کرتا تھا۔ اس نے اپنی سلطنت کا دارالحکومت ہالی کارناسس موجودہ ترکی کا شہر بودرم منتقل کیا اور اسے دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں بدلنے کا عزم کیا۔مسولیس نے اپنی زندگی ہی میں اپنے لیے ایسے مقبرے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی جو رہتی دنیا تک اس کے نام اور مرتبے کی گواہی دے۔ تاہم، 353 قبل مسیح میں اس کے انتقال کے وقت یہ مقبرہ نامکمل تھا۔ اس کی بیوہ ملکہ آرٹیمیسیا دوم، نے اپنے شوہر کی یاد میں اس عظیم منصوبے کو جاری رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ آرٹیمیسیا اپنے شوہر کی موت سے اس قدر غمگین تھی کہ اس نے مسولیس کی راکھ کو شراب میں ملا کر پی لیا تھا تاکہ وہ ہمیشہ اس کے وجود کا حصہ رہے۔مسولیس کا مقبرہ اپنی بلندی، وسعت اور فنکارانہ باریکیوں کی وجہ سے منفرد تھا۔ اس کی تعمیر کیلئے اس وقت کے مشہور ترین یونانی معماروں پیتھیوس اور ستایرس کو مدعو کیا گیا تھا۔مقبرے کی اونچائی تقریباً 45 میٹر تھی اور اسے تین اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ نچلا حصہ بہت بڑا مستطیل چبوترہ تھا جس کی دیواریں یونانی دیومالائی کہانیوں کے نقوش اور جنگی مناظر سے مزین تھیں۔ چبوترے کے اوپر 36 بلند و بالا ستون نصب تھے، جو مندر نما ڈھانچے کو سہارا دیتے تھے۔ سب سے اوپر 24 سیڑھیوں پر مشتمل اہرام نما چھت تھی، جس کی چوٹی پر عظیم الشان سنگ مرمر کا رتھ موجود تھا جسے چار گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ اس رتھ پر مسولیس اور آرٹیمیسیا کے مجسمے نصب تھے۔اس مقبرے کو شہرت اس کے مجسموں اور سنگ تراشی کی وجہ سے ملی۔ اس زمانے کے چار عظیم ترین سنگ تراشوں سکاپاس، لیوچاریس، برایکسس اور تیموتھیئس میں سے ہر ایک کو مقبرے کی ایک ایک سمت کی تزئین و آرائش کی ذمہ داری دی گئی تھی۔دیواروں پر کندہ کی گئی تصویروں میں ایمیزونز جنگجو خواتین اور لیپتھس کے درمیان لڑائی کے مناظر اتنے جاندار تھے کہ وہ زندہ مناظر محسوس ہوتے تھے۔ یہ فن پارے اس وقت کے یونانی اور اناطولیہ کے کلچر کو ظاہر کرتے تھے۔مسولیس کا مقبرہ تقریباً 1600 سال تک اپنی اصل حالت میں موجود رہا۔ سکندر اعظم کی فتوحات، رومی سلطنت کا عروج و زوال اور کئی جنگیں اسے نقصان نہ پہنچا سکیں لیکن 12ویں سے 15ویں صدی کے درمیان آنے والے پے درپے زلزلوں نے اس عظیم عمارت کی کمر توڑ دی۔1402ء میں جب نائٹس آف سینٹ جان نے اس علاقے پر قبضہ کیا، تو انہوں نے مقبرے کے ملبے کو بودرم قلعہ بنانے کیلئے استعمال کیا۔ انہوں نے مقبرے کے قیمتی سنگ مرمر کو جلا کر چونا بنایا اور خوبصورت تراشے ہوئے پتھروں کو دیواروں میں چن دیا۔ اس طرح، دنیا کا یہ ساتواں عجوبہ انسانی ضرورتوں اور قدرتی آفات کی نذر ہو گیا۔19ویں صدی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ چارلس نیوٹن نے مقبرے کی باقیات دریافت کیں۔ اس نے کھدائی کے دوران مسولیس اور آرٹیمیسیا کے مجسمے اور رتھ کے پہیے تلاش کیے، جو آج برٹش میوزیم، لندن میں محفوظ ہیں۔مسولیس کے مقبرے نے فنِ تعمیر کی دنیا کو نیا لفظ مقبرہ دیا۔ آج واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل ہو یا پیرس کا پینتھین، ان سب کے ڈیزائن میں کہیں نہ کہیں مسولیس کے مقبرے کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان کا تاج محل بھی اسی روایت کا ایک حصہ مانا جا سکتا ہے جہاں عظیم محبت کو پتھروں میں قید کر کے لافانی بنا دیا گیا۔مسولیس کا مقبرہ انسانی عزم، بے پناہ محبت اور فنی کمال کا سنگ میل تھا۔ اگرچہ آج اس کی جگہ چند ٹوٹے ہوئے ستون اور بنیادیں باقی ہیں لیکن اس کا تصور آج بھی معماروں اور تاریخ دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ مقبرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بادشاہ اور سلطنتیں فنا ہو جاتی ہیں لیکن فن اور محبت کی یادگاریں صدیوں تک زندہ رہتی ہیں۔

کالج کے طلبہ

کالج کے طلبہ

کالج کے جن طلبہ کے متعلق میرا ایمان تھا کہ وہ زبردست شخصیتو ں کے مالک ہیں، ان کی زندگی کچھ ایسی نہ تھی کہ والدین کے سامنے بطور نمونے کے پیش کی جا سکے۔ ہر وہ شخص جسے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے جانتا ہے کہ ''والدینی اغراض‘‘ کیلئے واقعات کو ایک نئے اور اچھوتے پیرائے میں بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، لیکن اس نئے پیرائے کا سوجھ جانا الہام اور اتفائی پر منحصر ہے۔ بعض روشن خیال بیٹے والدین کو اپنے حیرت انگیز اوصاف کا قائل نہیں کر سکتے اور بعض نالائق طالب علم والدین کو اس طرح مطمئن کر دیتے ہیں کہ ہر ہفتے ان کے نام منی آرڈر پہ منی آرڈر چلا آتا ہے۔جب ہم ڈیڑھ مہینے تک شخصیت اور ہاسٹل کی زندگی پر اس کا انحصا ر، ان دومضمونوں پر وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے، تو ایک دن والد نے پوچھا: ''تمہارا شخصیت سے آخر مطلب کیا ہے؟‘‘میں تو خدا سے یہی چاہتا تھا کہ وہ مجھے عرض و معروض کا موقع دیں۔ میں نے کہا ''دیکھئے نہ! مثلاً ایک طالب علم ہے۔ وہ کالج میں پڑھتا ہے۔ اب ایک تو اس کا دماغ ہے۔ ایک اس کا جسم ہے۔ جسم کی صحت بھی ضروری ہے اور دماغ کی صحت تو ضروری ہے ہی، لیکن ان کے علاوہ وہ ایک اور بات بھی ہوتی ہے جس سے آدمی گویا پہچانا جاتا ہے۔ میں اس کو شخصیت کہتا ہوں۔ اس کا تعلق نہ جسم سے ہوتا ہے نہ دماغ سے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی کی جسمانی صحت بالکل خراب ہوااور اس کا دماغ بھی بالکل بیکار ہو لیکن پھر بھی اس کی شخصیت۔ نہ خیر دماغ تو بے کار نہیں ہونا چاہئے، ورنہ انسان خبطی ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر ہو بھی، تو بھی، گویا شخصیت ایک ایسی چیز ہے۔۔۔ ٹھہریئے، میں ابھی ایک منٹ میں آپ کو بتاتا ہوں‘‘۔ایک منٹ کے بجائے والد نے مجھے آدھے گھنٹے کی مہلت دی جس کے دوران میں وہ خاموشی کے ساتھ میرے جواب کا انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ تین چار دن بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مجھے شخصیت نہیں سیرت کہنا چاہئے۔ شخصیت ایک بے رنگ سا لفظ ہے۔ سیرت کے لفظ سے نیکی ٹپکتی ہے۔ چنانچہ میں سیرت کو اپنا تکیہ کلام بنا لیا لیکن یہ بھی مفید ثابت نہ ہوا۔ والد کہنے لگے ''کیا سیرت سے تمہارا مطلب چال چلن ہے یا کچھ اور؟‘‘۔میں نے کہا، ''کہ چال چلن ہی کہہ لیجیے‘‘۔ ''تو گویا دماغی اور جسمانی صحت کے علاوہ چال چلن بھی اچھا ہونا چاہئے؟‘‘۔میں نے کہا، ''بس یہی تو میرا مطلب ہے‘‘۔ ''اور یہ چال چلن ہاسٹل میں رہنے سے بہت اچھا ہو جاتا ہے؟‘‘۔میں نے نسبتاً نحیف آواز سے کہا،''جی ہاں‘‘۔''یعنی ہاسٹل میں رہنے والے طالب علم نماز روزے کے زیادہ پابند ہوتے ہیں۔ ملک کی زیادہ خدمت کرتے ہیں۔ سچ زیادہ بولتے ہیں۔ نیک زیادہ ہوتے ہیں‘‘۔میں نے کہا،''جی ہاں‘‘کہنے لگے، ''وہ کیوں؟‘‘اس سوال کا جواب ایک بار پرنسپل صاحب نے تقسیم انعامات کے جلسے میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا۔ اے کاش میں نے اس وقت توجہ سے سنا ہوتا۔اس کے بعد پھر سال بھر میں ماموں کے گھر میں ''زندگی ہے تو خزاں کے بھی گزر جائیں گے دن‘‘ گاتا رہا۔ہر سال میری درخواست کا یہی حشر ہوتا رہا۔ لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ ہر سال ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا لیکن اگلے سال گرمیوں کی چھٹی میں پہلے سے بھی زیادہ شد ومد کے ساتھ تبلیغ کا کام جاری رکھتا۔ ہر دفعہ نئی نئی دلیلیں پیش کرتا، نئی نئی مثالیں کام میں لاتا۔ جب شخصیت اور سیرت والے مضمون سے کام نہ چلا تو اگلے سال یہ دلیل پیش کی کہ ہاسٹل میں رہنے سے پروفیسروں کے ساتھ ملنے جلنے کے موقعے زیادہ ملتے رہتے ہیں اور ان ''بیرون ازکالج''ملاقاتوں سے انسان پارس ہو جاتا ہے۔اس سے اگلے سال یہ مطلب یوں ادا کیا کہ ہاسٹل کی آب وہوا بڑی اچھی ہوتی ہے، صفائی کا خاص طور سے خیال رکھا جاتا ہے۔ مکھیاں اور مچھر مارنے کیلئے کئی کئی افسر مقرر ہیں۔ اس سے اگلے سال یوں سخن پیرا ہوا کہ جب بڑے بڑے حکام کالج کا معائنہ کرنے آتے ہیں تو ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ سے فرداً فرداً ہاتھ ملاتے ہیں۔ اس سے رسوخ بڑھتا ہے، لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا گیا میری تقریروں میں جوش بڑھتا گیا۔ معقولیت کم ہوتی گئی۔شروع شروع میں ہاسٹل کے مسئلے پر والد مجھ سے باقائدہ بحث کیا کرتے تھے۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے یک لفظی انکار کا رویہ اختیار کیا۔ پھر ایک آدھ سال مجھے ہنس کے ٹالتے رہے اور آخر میں یہ نوبت آن پہنچی کہ وہ ہاسٹل کا نام سنتے ہی ایک طنز آمیز قہقہے کے ساتھ مجھے تشریف لے جانے کا حکم دے دیا کرتے تھے۔ان کے اس سلوک سے آپ یہ اندازہ نہ لگائیے کہ ان کی شفقت کچھ کم ہو گئی تھی۔ ہر گز نہیں۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ بعض ناگوار حادثات کی وجہ سے گھر میں میرا اقتدار کچھ کم ہو گیا تھا۔اتفاق یہ ہوا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ بی،اے کا امتحان دیا تو فیل ہو گیا۔ اگلے سال ایک مرتبہ پھر یہی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد بھی جب تین چار دفعہ یہی قصہ ہوا تو گھر والوں نے میری امنگوں میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ بی،اے میں پے در پے فیل ہونے کی وجہ سے میری گفتگو میں ایک سوز تو ضرور آ گیا تھا لیکن کلام میں وہ پہلے جیسی شوکت اور میری رائے کی وہ پہلے جیسی وقعت اب نہ رہی تھی۔میں زمانہ طالب علمی کے اس دور کا حال ذرا تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں، کیوں کہ اس سے ایک تو آپ میری زندگی کے نشیب وفراز سے اچھی طرح واقف ہو جائیں گے اور اس کے علاوہ اس سے یونیورسٹی کی بعض بے قاعدگیوں کا راز بھی آپ پر آشکار ہو جائے گا۔

حکایات سعدیؒ:بھید

حکایات سعدیؒ:بھید

ایک بادشاہ نے اپنے غلاموں سے ایک راز کی بات کہی اور انہیں منع کیا کہ اس بات کو کسی دوسرے پرظاہر نہ کرنا۔ایک سال تک تو خیریت رہی پھر غلاموں میں سے ایک نے کسی دوست کے سامنے بھید ظاہر کر دیا اور اسے تاکید کی کہ یہ کسی دوسرے کو نہ بتانا۔ اس کے دوست نے بھی اسی طرح کسی دوسرے کو یہ بات بتا دی۔ آہستہ آہستہ بات ہر طرف پھیل گئی۔ بادشاہ کو علم ہوا تو اس نے غضب ناک ہو کر حکم دیا کہ ان غلاموں کے سرقلم کردو۔ ان میں سے ایک نے امان چاہی اور عرض کی کہ اے بادشاہ اپنے غلاموں کو قتل نہ کر کہ اس خطا کی ابتدا تجھی نے کی ہے۔ تو نے شروع میں چشمے کا منہ کیوں بند نہ کیا۔ جب وہ سیلاب بن گیا تو اس کے آگے بند باندھنے کا کیا فائدہ۔ تو نے جب تک بات منہ سے نہیں نکالی تیرا اس پر قابو ہے۔ جب منہ سے نکال دی تو وہ تیرے اوپر قابو پا لے گی۔

آج تم یاد بے حساب آئے!جاوید کوڈو پستہ قد کے بڑے اداکار (2025-1960ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!جاوید کوڈو پستہ قد کے بڑے اداکار (2025-1960ء)

٭...7جنوری 1960ء کو پیدا ہوئے، اصل نام محمد جاوید تھااور وہ جاوید کوڈو کے نام سے مشہور ہوئے۔٭...وہ پیدائشی طور پر بونا پن کے عارضہ میں مبتلا تھے۔٭...فنکارانہ کریئر کا آغاز 1981ء میں ڈرامہ ''سودے باز‘‘ سے کیا۔٭...پی ٹی وی کی ڈرامہ سیریل ''خواہش‘‘ میں اپنے کردار کی وجہ سے شہرت پائی۔٭...سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والی بچوں کیلئے بنائی گئی ڈرامہ سیریز ''عینک والاجن‘ ‘میں بھی ان کے کردار کو بہت پسند کیا گیا۔٭...جاوید کوڈو 45 سال میڈیا انڈسٹری کے ساتھ وابستہ رہے۔٭... انھوں نے 150 سٹیج ڈراموں، فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں کام کیا۔٭...جن فلموں میں انہوں نے اداکاری کے جوہر دکھائے ان میں ''ہیرو، باکسر، جادو نگری، دیساں دا راجہ، پگڑی سنبھال جٹا‘‘ نمایاں ہیں۔٭...زندگی کے آخری کئی برس صحت کے مختلف مسائل کا شکار رہے۔ 2016 میں دماغ کی شریان میں خرابی کے باعث ہسپتال میں داخل رہے، بعد ازاں ٹریفک حادثے میں کولہے کی ہڈی ٹوٹنے سے بستر سے لگ گئے۔اہل خانہ کے مطابق وہ شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر پیچیدہ امراض میں مبتلا تھے۔٭...ان کا انتقال بیماری کے ساتھ ایک طویل جنگ کے بعد 13 اپریل 2025ء کو لاہور میں ہوا۔٭...ان کا بیٹاشیرا بھی اداکاری سے وابستہ ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

سانحہ جلیانوالہ باغ13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں برطانوی فوج نے ایک نہایت سفاکانہ کارروائی کرتے ہوئے نہتے اور پُرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ یہ لوگ رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کیلئے جمع ہوئے تھے۔ جنرل ڈائر کے حکم پر فوجیوں نے بغیر کسی وارننگ کے گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں 379 افراد شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس المناک واقعے نے برصغیر میں آزادی کی تحریک کو مزید تقویت دی اور برطانوی ظلم و بربریت کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔''اپالو 13‘‘حادثہ 1970ء میں آج کے روز ناسا کو اس وقت ایک خلائی حادثے کا سامنا کرنا پڑا، جب ''اپالو 13‘‘ مشن کے دوران آکسیجن ٹینک پھٹ گیا۔ جس نے کمانڈ ماڈیول کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں خلابازوں کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوئی،بجلی اور پانی کی کمی ہو گئی جبکہ چاند پر اترنے کا منصوبہ بھی ترک کرنا پڑا۔ ناسا کے خلانوردوں کو ''ہوسٹن، ہمیں مسئلہ ہے‘‘ (Houston we have a problem) کہنا پڑا۔ یہ مشن بعد میں ایک کامیاب ریسکیو مشن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ویانا پر سوویت قبضہ1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے آخری مراحل میں سوویت یونین اور بلغاریہ کی افواج نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا پر قبضہ کر لیا۔ یہ کارروائی نازی جرمنی کے خلاف اتحادی طاقتوں کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔ شدید لڑائی کے بعد شہر جرمن افواج کے کنٹرول سے نکل گیا، جس سے یورپ میں جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ ویانا کی فتح نے نہ صرف جرمنی کی دفاعی پوزیشن کو کمزور کیا بلکہ مشرقی یورپ میں سوویت اثر و رسوخ کو بھی مضبوط بنایا، جو بعد ازاں سرد جنگ کے تناظر میں اہم ثابت ہوا۔سوویت جاپان معاہدہ1941ء میں آج کے دن سوویت اور جاپان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا، جسے ''جاپان سوویت عدم جارحیت کا معاہدہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جاپان اور سوویت سلطنت نے سرحدی جنگ کے اختتام کے دو سال بعد 13 اپریل 1941ء کو اس معاہدے پر دستخط کئے۔ 1945ء میں عالمی جنگ کے آخر میں سوویت یونین نے معاہدہ ختم کر دیا اور جاپان کے خلاف اتحادیوں سے مل گیا۔ٹرانزٹ سسٹم1960ء میں آج کے دن ٹرانزٹ سسٹم کو آپریشنل کیا گیا۔ جسے بحری نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔ ریڈیو نیوی گیشن سسٹم کو بنیادی طور پر امریکی بحریہ نے اپنی پولارس بیلسٹک میزائل آبدوزوں کو مقام کی درست معلومات فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا تھا۔ یہ بحریہ کے سطحی جہازوں کے ساتھ ساتھ ہائیڈروگرافک سروے اور جیوڈیٹک سروے کیلئے نیوی گیشن سسٹم کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔ لاپوا فیکٹری دھماکہ13 اپریل 1976ء کو گولہ بارود بنانے والی فیکٹری لاپوا، فن لینڈ میں دھماکہ ہوا۔اسے فن لینڈ کی تاریخ میں بدترین صنعتی تباہی سمجھا جاتا ہے۔ اس ناخوشگوار واقعہ میں 40 مزدور ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ دھماکہ کے نتیجے میں فیکٹری کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ دھماکے کی آواز 20 کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ زخمی ہونے والے زیادہ افراد فیکٹری کے اندر موجود تھے ۔