ناہید نیازی…50 ء اور60 ء کی دہائی کی منفرد گلوکارہ

ناہید نیازی…50 ء اور60 ء کی دہائی کی منفرد گلوکارہ

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


خواجہ خورشید انور نے انہیںدریافت کیا، انہوں نے یادگار گیت گائے*****ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت میں کچھ ایسی اداکارائیں بھی تھیں جو جتنی حسین تھیں اتنی ہی اچھی اداکارائیں بھی تھیں۔ ان میں مدھوبالا، وحیدہ رحمان، زیبا اور رانی کا نام لیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نورجہاں اور ثریا بھی بہت حسین تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ گلوکاری کی دنیا میں بھی ان کا طوطی بولتا تھا۔پاکستان کی فلمی صنعت میں 50ء اور 60ء کی دہائی میں ایک گلوکارہ ایسی آئی جو نہ صرف حسن کا مجسمہ تھی بلکہ اس کی گلوکاری بھی سب سے الگ تھی۔ اس گلوکارہ کا نام ہے ناہید نیازی۔ اپنے دور میں نہ صرف ان کے حسن و جمال کے چرچے عام تھے بلکہ ان کی آواز کو ہوا کا تازہ جھونکا بھی کہا جاتا تھا۔ ناہید نیازی کی گلوکارہ بننے کی داستان بھی بڑی عجیب ہے۔ بے بدل موسیقار خواجہ خورشید انور ’’زہر عشق‘‘ کی موسیقی دے رہے تھے ۔وہ ’’زہر عشق‘‘ کے تمام نغمات میڈم نور جہاں سے گنوانا چاہتے تھے لیکن میڈم نور جہاں تیار نہیں تھیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ میڈم نور جہاں اس وقت بھی گلوکاری کے ساتھ اداکاری بھی کر رہی تھیں۔ یعنی وہ اس وقت بھی (Singer-cum-actress) تھیں۔ نور جہاں ’’زہر عشق‘‘ میں وہ کردار ادا کرنے کی آرزو مند تھیں جو مسرت نذیر کو دیا گیا تھا۔ خواجہ خورشید انور نے نورجہاں کو اپنی فلم کے نغمات کی گائیکی کیلئے آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن انہیں ناکامی ہوئی۔ مایوس ہو کر انہوں نے ’’زہر عشق‘‘ کے ایک گیت ’’موہے پیا ملن کو جانے دے‘‘ کیلئے اقبال بانو کا انتخاب کیا۔ گیت ریکارڈ ہوگیا لیکن خواجہ صاحب مطمئن نہ ہوئے۔ دراصل خواجہ صاحب میڈم نور جہاں کے علاوہ اور کسی گلوکارہ کی گائیکی سے مطمئن نہیں تھے۔ خواجہ صاحب نے بھارتی گلوکارہ گیتادت سے رابطہ کیا کیونکہ وہ گیتا دت کی صلاحیتوں کے بڑے معترف تھے۔ بھارت میں گیتا دت نے خواجہ خورشید انور کی موسیقی میں فلم ’’نشانہ‘‘ اور ’’نیلم پری‘‘ کیلئے کئی گیت گائے تھے۔ گیتا دت نے ’’زہر عشق‘‘ کے نغمات گانے کی حامی بھرلی۔ اس پر پاکستانی فلمی صنعت میں شور مچ گیا۔ خواجہ صاحب پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ پاکستانی گلوکارائوں کو ترجیح دیں۔ ان حالات میں خواجہ صاحب نے ایک نئی آواز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے دوست سجاد انور نیازی کی بیٹی ناہید نیازی کی تربیت شروع کردی۔ اور یوں ناہید نیازی (اصل نام شاہدہ نیازی) پلے بیک سنگر بن گئیں اور فلمی صنعت کو ایک خوبصورت اور منفرد آواز مل گئی ۔ اسے اتفاق کہئے یا کچھ اور کہ ناہید نیازی اور گیتا دت کے گانے کا اسلوب خاصی حد تک ایک جیسا تھا۔’’زہر عشق‘‘ کا گیت ’’موہے پیاملن کو جانے دے‘‘ ناہید نیازی نے گایا اور اتنا اعلیٰ گایا کہ وہ ان کی شناخت بن گیا۔ موسیقی اور گلوکاری کے اسرارو رموز سمجھنے والے ابھی تک اس نغمے کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ ان کے بعد خواجہ صاحب کی فلم ’’جھومر‘‘ کے گیتوں نے ناہید نیازی کو شہرت کے آسمان پر پہنچا دیا۔ ’’جھومر‘‘ میں ان کا گایا ہوا یہ نغمہ کلاسک کی حیثیت رکھتا ہے۔’’چلی رے چلی رے چلی رے‘‘ بڑی آس لگاکے چلی رے‘‘ اس کے علاوہ ان کے مندرجہ ذیل گیت بھی بہت مشہور ہوئے۔-1 رقص میں ہے سارا جہاں (فلم ایاز)-2 چاہے بولو یا نہ بولو (گھونگھٹ)اس کے بعد انہوں نے اپنے شوہر مصلح الدین (موسیقار) کے ساتھ اپنی ٹیم بنالی اور دونوں نے کئی اعلیٰ گیت تخلیق کیے۔ ان دونوں کی کاوشیں ثمر آور ثابت ہوئیں اور ان کے گیتوں کو زبردست پذیرائی ملی۔ مندرجہ ذیل گیت ملاحظہ کریں۔-1 جاگ، تقدیر کو جگا لوں گی (آدمی)-2 میرا کہا کبھی مان لو (آدمی)-3 رات سلونی آئی (احمد رشدی کے ساتھ) (زمانہ کیا کہے گا)-4سمجھ نہ آئے دل کو کہاں (دال میں کالا)-5 رات چلی ہے جھوم کے (احمد رشدی کے ساتھ)(جوش)ناہید نیازی اور مصلح الدین نے بہت سی کامیابیاں سمیٹیں۔ ناہید نیازی کے بارے میں یہ تسلیم کرلیا گیا کہ ان کی آواز سب سے جدا ہے اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ناہید نیازی کے شوہر مصلح الدین مرحوم بنگالی تھے۔1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مغربی پاکستان میں یہ افواہ پھیل گئی کہ بنگالی شوہر اپنی پاکستانی بیویوں کو چھوڑ دیں گے۔ یہ افواہ بھی گردش کرنے لگی کہ ناہید نیازی کی شادی بھی خطرے سے دوچار ہے۔ لیکن یہ افواہیں دم توڑ گئیں۔ اس کے بعد ناہید نیازی اور مصلح الدین نے برطانیہ آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔ برطانیہ میں انہوں نے ایک نئی زندگی شروع کی۔ مصلح الدین نے برطانیہ میں ایک کمال کا کام کیا۔ انہوں نے جنوبی ایشیا کی مشہور ڈش چکن تکہ مصالحہ ایجاد کی۔ اس ڈش کو بے حد پسند کیا گیا، ناہید نیازی نے بھی اس کی تصدیق کی کہ یہ ڈش مصلح الدین نے ہی برطانیہ میں ایجاد کی۔2003ء میں مصلح الدین کی وفات کے بعد ناہید نیازی گوشہ تنہائی میں چلی گئیں۔ آج کل وہ بنگالی زبان سیکھنے پر زیادہ وقت صرف کر رہی ہیں۔ برطانیہ میں رہ کر وہ اپنے وطن کو نہیں بھولیں۔ وہ اپنی گفتگو میں اکثر اپنے ملک کو یاد کرتی ہیں۔ ناہید نیازی کو ویسے تو اپنے بہت سے گیت پسند ہیں لیکن ان کا اپنا پسندیدہ نغمہ ’’اک بار پھر کہو ذرا‘‘ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گیت کو سب سے پہلے شمشاد بیگم نے گایا تھا۔ ان کی پسندیدہ گلوکارائوں میں میڈم نور جہاں اور لتا منگیشکر شامل ہیںجبکہ گلوکاروں میں وہ محمد رفیع اور مہدی حسن سے بہت متاثر ہیں۔ ان کے دو بچے ہیں جو امریکہ اور برطانیہ میں آباد ہیں۔ناہید نیازی کا شمار ان گلوکارائوں میں کرنا چاہیے جنہوں نے کم گایا لیکن جتنا گایا بہت خوبصورت گایا۔ انہوں نے کبھی سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش نہیںکی ۔ وہ حسن کا پیکر تو ہیں ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بااصول اور وضع دار خاتون بھی ہیں۔ اس وقت وہ برطانیہ میں بڑی مطمئن اور خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں۔ ہماری دعا ہے وہ سلامت رہیں اور ان کی آواز کا خزانہ بھی قائم رہے۔ انہوں نے اچھا نہیں بلکہ بہت اچھا کام کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 موبائل لائف پوڈ: مستقبل کی محفوظ پناہ گاہ

موبائل لائف پوڈ: مستقبل کی محفوظ پناہ گاہ

جدید دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے، وہیں قدرتی آفات، جنگوں، دہشت گردی اور عالمی عدم استحکام کے خدشات نے انسان کو اپنی بقا کے نئے طریقے تلاش کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں ایک ایسا جدید اور مستقبل کا تصور پیش کرنے والا ''موبائل لائف پوڈ‘‘ متعارف کرایا گیا ہے جو ہنگامی حالات میں ایک محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ تقریباً 35 ہزار پاؤنڈ مالیت کا یہ جدید حفاظتی کیپسول گولیوں، دھماکوں اور دیگر جان لیوا خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک عارضی پناہ گاہ نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کی مثال ہے جو مستقبل میں شہری دفاع، ہنگامی امداد اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے نظام کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔ اگرچہ اس کی افادیت اور قیمت پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، تاہم اس ایجاد نے یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا آنے والے دور میں ذاتی حفاظتی پناہ گاہیں بھی روزمرہ زندگی کی ضرورت بن جائیں گی؟فرانس میں قائم ٹیکنالوجی کمپنی مومنٹم ٹیکنالوجیز نے ایک ایسا جدید حفاظتی شیلٹر متعارف کرایا ہے جو گولیوں سے لے کر بم دھماکوں تک مختلف خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ''لائف پوڈ‘‘ نامی یہ کیپسول انتہائی مضبوط اور جدید تکنیکی فولاد (ہائی اسٹرینتھ ٹیکنیکل اسٹیل) سے تیار کیا گیا ہے، تاہم اسے مکمل طور پر متحرک (موبائل) رکھنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے۔کمپنی کے مطابق ''روایتی حفاظتی ڈھانچوں کے برعکس، جو عموماً ایک ہی مقام پر مستقل نصب ہوتے ہیں اور صرف ایک مخصوص خطرے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، لائف پوڈ کیپسولز کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ انہیں آسانی سے منتقل، صنعتی پیمانے پر تیار، فوری طور پر نصب اور مختلف عملی حالات کے مطابق استعمال کیا جا سکے۔ان کیپسولز کو کنٹینرز کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے، ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جا سکتا ہے، انہیں ایک دوسرے کے اوپر رکھا جا سکتا ہے، اور شہری علاقوں، صنعتی تنصیبات یا دور دراز مقامات پر بھی باآسانی نصب کیا جا سکتا ہے۔البتہ اس جدید حفاظتی ٹیکنالوجی کی قیمت بھی خاصی زیادہ ہے۔لائف پوڈ کے بنیادی کیپسول کی قیمت 25,404 سے 34,904 برطانوی پاؤنڈ (تقریباً 96 لاکھ سے ایک کروڑ 32 لاکھ پاکستانی روپے) کے درمیان رکھی گئی ہے، جبکہ یہ قیمت صرف کیپسول کی ہے اور اس میں اضافی سہولیات شامل نہیں ہیں۔لائف پوڈ تین مختلف ماڈلز میں دستیاب ہے، جنہیں کیپسول W01، کیپسول B01 اور کیپسول Q01 کا نام دیا گیا ہے۔کیپسول W01 ایک تیرنے والا (Floating) حفاظتی کیپسول ہے، جسے دو سے چار افراد کیلئے خاص طور پر سونامی، اچانک آنے والے سیلاب، ساحلی علاقوں میں طغیانی، ڈیم یا پشتوں کے ٹوٹنے جیسے شدید قدرتی حالات میں استعمال کیلئے تیار کیا گیا ہے۔کمپنی کے مطابق ''اس کا 5083 میرین گریڈ ایلومینیم سے تیار کردہ ڈھانچہ، تیرنے کا نظام، مربوط بیلسٹ (وزن متوازن رکھنے کا نظام) اور اندرونی حفاظتی سہولیات کسی خاندان یا چھوٹے گروہ کو عارضی طور پر محفوظ پناہ فراہم کرتی ہیں۔یہ کیپسول پانی پر تیرنے، بہتے ہوئے ملبے کے ٹکراؤ کو برداشت کرنے اور اپنے اندر موجود افراد کو اس وقت تک محفوظ رکھنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے جب تک امدادی ٹیمیں نہ پہنچ جائیں۔ اس کے ڈیزائنرز کا کہنا ہے کہ W01 پر کیے گئے ابتدائی تجربات کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں، تاہم اسے مارکیٹ میں کب متعارف کرایا جائے گا، اس بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔کیپسول B01 ایک سے دو افراد کیلئے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد جنگی یا انتہائی خطرناک ماحول میں محفوظ پناہ فراہم کرنا ہے۔ مومنٹم ٹیکنالوجیز کے مطابق ''B01‘‘ کو گولیوں، دھاتی ریزوں (شریپنل)، مسلح حملوں اور شدید خطرناک ماحول سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔یہ ماڈل حساس مقامات، اہم قومی تنصیبات، سکیورٹی فورسز، صنعتی اداروں اور ایسی تنظیموں کیلئے موزوں ہے جنہیں فوری، مختصر حجم اور پہلے سے تعینات کیے جا سکنے والے حفاظتی حل کی ضرورت ہو۔کمپنی کے مطابق اس کیپسول میں موجود افراد چند ہی سیکنڈز میں اس کے اندر پناہ لے کر حفاظتی نظام کو لاک کر سکتے ہیں، جس سے ہنگامی حالات میں فوری تحفظ ممکن ہو جاتا ہے۔ کیپسول B01 اس وقت تیاری کے مرحلے میں ہے، جبکہ اس کی حتمی جانچ اور منظوری اسی ماہ مکمل ہونے کی توقع ہے۔ کیپسول Q01 کو خاص طور پر زلزلوں، عمارتوں کے منہدم ہونے اور تعمیراتی عدم استحکام سے پیدا ہونے والی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔مومنٹم ٹیکنالوجیز کے مطابق ''Q01‘‘ ایسے علاقوں کیلئے تیار کیا گیا ہے جہاں زلزلوں اور اچانک عمارتیں گرنے کے خطرات زیادہ ہوں۔اس کا بنیادی مقصد ایک ایسی مختصر، آسانی سے قابلِ رسائی اور مضبوط محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا ہے، جو اس وقت زندہ بچنے کے امکانات میں اضافہ کرے جب کسی عمارت سے فوری انخلا ممکن نہ رہے۔یہ جدید حفاظتی لائف پوڈز پیرس میں منعقد ہونے والی معروف ٹیکنالوجی نمائش ویوا ٹیک میں متعارف کرائے گئے، جہاں مومنٹم ٹیکنالوجیز کے بانی سیڈرک شوفا نے مستقبل کے تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے حوالے سے اپنے وژن سے بھی آگاہ کیا۔

سڑک بند ہے!

سڑک بند ہے!

سڑک کی مرمت ہو رہی ہو تو سڑک کے درمیان میں ایک بورڈ لگا دیا جاتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے ''سڑک بند ہے‘‘ ۔ اس کا مطلب کبھی یہ نہیں ہوتا کہ سرے سے راستہ بند ہو گیا ہے اور اب آنے جانے والے اپنی گاڑی روک کر کھڑے ہو جائیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ''یہ سامنے کی سڑک بند ہے‘‘۔ ہر شخص کو اس قسم کے بورڈ کے معنی معلوم ہیں چنانچہ سواریاں جب وہاں پہنچ کر بورڈ کو دیکھتی ہیں تو وہ ایک لمحہ کیلئے بھی نہیں رکتیں۔ وہ دائیں بائیں گھوم کر اپنا راستہ نکال لیتی ہیں اور آگے جا کر دوبارہ سڑک پکڑ لیتی ہیں۔ اور اگر کسی وجہ سے دائیں بائیں راستہ نہ ہو تب بھی سواریوں کیلئے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ اطراف کی سڑکوں سے اپنا سفر جاری رکھتی ہیں۔ کچھ دور آگے جا کر دوبارہ انہیں اصل سڑک مل جاتی ہے اور اس پر اپنا سفر جاری کھتی ہیں اور وہ منزل پر پہنچ جاتی ہیں۔ اس طرح کچھ منٹوں کی تاخیر تو ضرور ہو سکتی ہے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ان کا سفر رک جائے یا وہ منزل پر پہنچنے میں نا کام رہیں۔یہی صورت زندگی کے سفر کی بھی ہے۔ زندگی کی جدوجہد میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی محسوس کرتاہے کہ اس کا راستہ بند ہے۔ مگر اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ سامنے کا راستہ بند ہے نہ کہ ہر طرف کا۔ جب بھی ایک راستہ بند ہو تو دوسرے بہت سے راستے کھلے ہوئے ہوں گے۔ عقل مند شخص وہ ہے جو اپنے سامنے ''سڑک بند ہے‘‘ کا بورڈ دیکھ کر رک نہ جائے بلکہ دوسرے راستے تلاش کرکے اپنا سفر جاری رکھے۔ایک میدان میں مواقع نہ ہوں تو دوسرے میدان میں اپنے لئے مواقع کار تلاش کر لیجئے۔ حریف سے براہِ راست مقابلہ ممکن نہ ہو تو بالواسطہ مقابلہ کا طریقہ اختیار کیجئے۔ آگے کی صف میں آپ کو جگہ نہ مل رہی تو پیچھے کی صف میں اپنے لئے جگہ حاصل کر لیجئے۔ ٹکراؤ کے ذریعہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہ آتا ہو تو مصالحت کے ذریعہ مسئلہ کے حل کی صورت نکال لیجئے۔ دوسروں کا ساتھ حاصل نہ ہو رہا ہو تو تنہا اپنے کام کا آغاز کر دیجئے۔ چھت کی تعمیر کا سامان نہ ہو تو بنیاد کی تعمیر میں اپنا وقت صرف کریں۔ بندوں سے ملتا ہوا نظر نہ آتا ہو تو خدا سے پانے کی کوشش کیجئے... ہر بند سڑک کے پاس ایک کھلی سڑک بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کو وہی لوگ پاتے ہیں جو آنکھ والے ہوں۔

موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کا معاشی بحران

موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کا معاشی بحران

جعفرآباد، بلوچستان کی ایک شام، سورج غروب ہو رہا تھا اور بینظیر اپنی اس زمین کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی جو کبھی اس کے خاندان کی روزی روٹی کا ذریعہ تھی۔ آج وہاں دور دور تک صرف پانی ہی پانی تھا۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے اس کی فصلیں، جمع پونجی اور برسوں کی محنت پل بھر میں بہا دی۔ اس کی زبان پر صرف ایک جملہ تھا: ''سیلاب نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا‘‘۔یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی لاکھوں خواتین کی مشترکہ حقیقت ہے۔ 2022ء کے سیلاب نے ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کیاتھا، مگر سب سے زیادہ نقصان خواتین، بچوں اور دیہی آبادی نے اٹھایا تھا۔ آج جب حالیہ مون سون کے دوران مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کا خطرہ ایک بار پھر موجود ہے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو گئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف امدادی سرگرمیوں سے نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی، پانی کے دانشمندانہ استعمال اور خواتین کی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر ان خواتین پر پڑتا ہے جو دیہی معیشت، زراعت، مویشی پالنے اور خوراک کی پیداوار میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، مگر زمین کی ملکیت، مالی وسائل اور سماجی تحفظ سے محروم رہتی ہیں۔زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین بے ترتیب بارشوں، شدید گرمی، خشک سالی اور فصلوں کی تباہی کا براہِ راست سامنا کر رہی ہیں۔ جب سیلاب آتا ہے تو صرف کھیت ہی نہیں ڈوبتے بلکہ روزگار، تعلیم، صحت اور خاندان کا معاشی استحکام بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی پالیسیوں میں خواتین کو مرکزی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔خوش آئند امر یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں وفاقی اور صوبائی اداروں نے مون سون سے قبل حفاظتی انتظامات پر نسبتاً زیادہ توجہ دی ہے۔ دریائوں اور ندی نالوں کی نگرانی، فلڈ وارننگ سسٹم، بندوں کی مضبوطی، حساس مقامات پر حفاظتی پشتوں کی تعمیر، ریسکیو اداروں کی پیشگی تعیناتی اور ممکنہ انخلاء کے منصوبے ایسے اقدامات ہیں جو جانی و مالی نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔ تاہم ان اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کیلئے مقامی آبادی خصوصاً خواتین، کسانوں اور کمیونٹی تنظیموں کو بھی اس عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے۔پاکستان کیلئے اب وقت آ گیا ہے کہ سیلابی پانی کو صرف ایک آفت نہیں بلکہ ایک قیمتی قدرتی وسیلہ سمجھا جائے۔ ہر سال اربوں مکعب فٹ میٹھا پانی سمندر میں بہہ جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ملک پانی کی قلت اور زیرزمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم، ریٹینشن بیسن، حفاظتی جھیلیں اور سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کے تالاب نہ صرف سیلاب کی شدت کم کر سکتے ہیں بلکہ زرعی ضروریات بھی پوری کر سکتے ہیں۔اسی طرح بارش کے پانی سے زیرزمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے (Groundwater Recharge) کے لیے قومی سطح پر مؤثر نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ شہری علاقوں میں ری چارج ویلز، پرکولیشن ٹینک، بارشی پانی جمع کرنے کے ذخائر اور نئی تعمیرات میں رین واٹر ہارویسٹنگ کو لازمی قرار دیا جائے۔ دیہی علاقوں میں کھیتوں کے کنارے چھوٹے ذخیرہ آب، قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی اور بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے والے منصوبے زیرزمین پانی کی سطح بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ اقدامات خواتین کیلئے بھی معاشی تحفظ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ جب پانی دستیاب ہوگا تو زرعی پیداوار بڑھے گی، مویشی پالنے میں آسانی ہوگی اور دیہی خواتین کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اگر انہیں جدید زرعی ٹیکنالوجی، موسمی معلومات، آسان قرضوں، فصلوں کے بیمہ، مالی معاونت اور تربیت تک رسائی دی جائے تو وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔قدرتی آفات کے بعد خواتین کو صرف امداد کی مستحق نہیں بلکہ بحالی اور منصوبہ بندی کی شراکت دار سمجھنا ہوگا۔ مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں، واٹر مینجمنٹ پروگراموں اور موسمیاتی منصوبوں میں خواتین کی مؤثر نمائندگی نہ صرف بہتر فیصلوں کا باعث بنے گی بلکہ وسائل کے زیادہ منصفانہ استعمال کو بھی یقینی بنائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی انصاف، سماجی مساوات اور قومی سلامتی کا بھی اہم چیلنج ہے۔ اگر پاکستان سیلاب سے بچائو کیلئے مضبوط بند، جدید وارننگ سسٹم، بارش کے پانی کے ذخیرے، زیرزمین آبی ذخائر کی ری فلنگ اور مربوط واٹر مینجمنٹ کو قومی ترجیح بنا دے اور اس پورے عمل میں خواتین کو فیصلہ سازی اور معاشی سرگرمیوں کا مرکزی کردار دے تو نہ صرف سیلابی نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ پانی کی قلت، زرعی بحران اور دیہی غربت جیسے دیرینہ مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ پائیدار مستقبل کا راستہ پانی کے بہتر انتظام اور خواتین کو بااختیار بنانے سے ہو کر گزرتا ہے اور یہی پاکستان کی حقیقی موسمیاتی حکمت عملی ہونی چاہیے۔

کھپرا اور سسری اناج کے دشمن

کھپرا اور سسری اناج کے دشمن

گندم کی فصل سردیوں میں یعنی اکتوبر نومبر میں کاشت کی جاتی ہے اور گرمیوں میں یعنی اپریل مئی میں پک کر تیار ہونے کے بعد کاٹی جاتی ہے۔ گندم کی فصل کو تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ زمین کی تیاری، خالص بیج کا حاصل کرنا، کاشت کرنا، مہنگی کھادیں، جڑی بوٹی مار ادویات، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، کٹائی، تھریشنگ اور سب سے زیادہ محنت طلب کام پانی لگانا ہے۔ شدید سردی میں گندم کو رات کے وقت جنگلی جانوروں کی موجودگی میں پانی لگانا سخت جان کاشتکار ہی کر سکتا ہے۔یہ کسان کی خوراک کی فصل ہے۔ پرانی کہاوت ہے کہ ''جس کے گھر میں دانے اس کے کملے بھی سیانے‘‘ ورنہ اس میں کاشتکار کو منافع نہیں ہوتا ہے۔ کاشتکار کی فصل پک جانے اور گھر میں دانے آ جانے کے بعد بھی مصیبت پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ گندم کے دانے گھر آ جانے کے بعد گھر والوں کیلئے 1/2یا 1من تک گندم پسوائی جاتی ہے جس سے روٹی پکا کر گھر والوں کیلئے خوراک کا حصہ بنتی ہے اور باقی گندم کے دانے بوریوں اور بڑھولوں میں سنبھال دی جاتی ہے۔ دوسری وجہ سنبھالنے کی یہ بنتی ہے کہ فصل تیار ہو کر گھر آ جانے کے بعد نرخ کم لگتا ہے اس لئے گندم کے دانوں کو محفوظ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔یہ گندم کے دانے کیڑوں سے صاف بوریوں یا بڑھولوں میں بھرنے چاہئے ورنہ ان بوریوں یا بڑھولوں میں محفوظ شدہ دانوں پر کھپرا اور سسری جیسے کیڑے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ان کیڑوں کی چار حالتیں ہوتی ہے مثلاً انڈہ، لاروا( گرب)، پیو پا اور کھپرا یا سسری۔ یہ کیڑے یعنی کھپرا یا سسری اور لاروا( گرب) کی حالت میں دانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ کیڑے نمی والے مہینوں مثلاً جون، جولائی اور اگست میں زیادہ پھیلتے ہیں اس لئے ان کی روک تھام کیلئے جون، جولائی بہترین مہینے ہیں۔ گندم کے دانوں کی جلد سخت ہوتی ہے۔ کیڑوں کو اس طرح دانوں کو کھانا مشکل ہوتا ہے۔ کیڑا دو وجوہات سے گندم کے دانوں کو خراب کرتا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ سٹور کرتے وقت ٹوٹے ہوئے دانوں کی موجودگی جو کہ عموماً تھریشر کی وجہ سے شامل ہو جاتے ہیں اور دوسری وجہ نمی کی ہے جس سے گندم کا دانہ نرم ہو جاتا ہے۔ گندم کے دانہ کو اگر دانت سے توڑیں تو ''کڑک‘‘ کی آواز آنی چاہئے۔ ایسے دانوں میں نمی کا تناسب صحیح ہوتا ہے اور یہ سٹور کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ٹونے ٹوٹکوں پر عمل نہیں کرنا چاہئے اور صرف اینٹو مولوجسٹ کے مشوروں پر عمل کریں۔سب سے بہترین دوائی المونیم فاسفائیڈ ہے۔ یہ گولیوں کی شکل میں ہر زرعی ادویات کے ڈیلروں کے پاس موجود ہیں۔ پیکنگ 10 گولیوں سے لے کر 150گولیوں تک ہوتی ہے۔ 2.5من دانوں میں ایک گولی کے حساب سے خرید کریں یا اتنی خریدیں جتنی ضرورت ہے۔ ورنہ اس کو گھر میں اگلے سال تک کیلئے رکھنا نقصان دہ ہے۔ اگر پچھلے سال بوریوں یا بھڑولوں میں کھپرا اور سسری کا حملہ ہو چکا تھا تو ضروری ہے کہ استعمال شدہ بوریوں اور بھڑولوں کو گندم کے دانے ڈالنے سے پہلے ڈیلٹا میتھرین ایک حصہ دوائی اور 50 حصہ پانی میں ملا کر بھڑولہ کے اندر یا بوریوں پر سپرے کریں۔ ایک یا دو دن کے بعد گندم کے دانے ڈالیں اور ان کے اندر پلیٹ یا پیالے میں 2.5من دانوں کیلئے ایک گولی کے حساب سے استعمال کریں۔ ان گولیوں کو کپڑے میں باندھ کر نہ رکھیں اس طریقہ سے گولیوں سے صحیح طریقہ سے گیس خارج نہیں ہوتی ہے۔ گولیوں کی گیس 15فٹ تک نیچے، اوپر اور دائیں بائیں اثر کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ پیالہ یا پلیٹ اس لئے بھی بہتر ہے کہ بعد میں گولیوں کی راکھ گندم کے دانوں میں مکس نہیں ہونی چاہیے۔گولیاں رکھنے کے بعد بھڑولہ میں گندم ڈالنے والی اور نکالنے والی جگہوں کو صحیح طور پر بند(سیل) کرنا ضروری ہے۔ بھڑولہ کا اوپر والا حصہ اور دانے نکالنے والے حصہ کو اچھی طرح آٹا کو گیلا کرکے یا گارا سے لیپ دینا چاہئے تاکہ گیس باہر نہ نکل سکے اور اس طرح دانوں کو دو ہفتہ (15دن)تک سیل بند رہنا چاہئے اور سیل کھولنے کے 2دن بعد تک گندم کے دانوں کو ہرگز استعمال نہ کریں۔ گولیوں کی راکھ کو شاپر میں ڈال کر دانوں کے باہر زمین میں دبا دیں یا کوڑا کرکٹ میں ڈال دیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!بروس لی :مارشل آرٹ کا شہنشاہ (1973-1940ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!بروس لی :مارشل آرٹ کا شہنشاہ (1973-1940ء)

٭...27 نومبر 1940ء کو سان فرانسسکو( امریکہ) میں پیدا ہوئے۔اصل نام لی جون فین تھا۔٭...ان کے والد ایک اوپیرا سنگر اور اداکار تھے، اسی لیے بروس لی بھی بچپن میں ہی فنونِ لطیفہ سے وابستہ ہوگئے۔٭... بچپن ہانگ کانگ میں گزرا، جہاں بطور چائلڈ سٹار فلموں میں کام کیا۔٭...ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور فلمی دنیا میں ہانگ کانگ کا مارشل آرٹس متعارف کروایا۔ ٭...ہدایت کاری، اداکاری اور مارشل آرٹ میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔٭...وہ روزانہ پانچ ہزار پنج (مکے)، ایک ہزار ککس، آٹھ کلو میٹر رننگ اور پندرہ کلو میٹر سائیکلنگ کیا کرتے تھے۔ ٭...وہ نن چاقو کے اتنے ماہر تھے کہ نن چاقو سے ٹیبل ٹینس کھیلا کرتے تھے۔٭... 1973ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''انٹر دی ڈریگن‘‘ میں کنگ فو لیجنڈ بروس لی کو آخر بار دیکھا گیا تھا۔ فلم نے زبردست بزنس کیا تھا۔ اس فلم کا کُل بجٹ ساڑھے 8 لاکھ ڈالر تھا لیکن اس نے حیران کن طور پر 400 ملین ڈالر کمائے۔ اسے اب بھی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٭...1960ء کی دہائی میں مارشل آرٹ کی پرائیویٹ کلاس یا کوچنگ دینے کا بروس لی ایک گھنٹے کا دو سو پچھتر ڈالر (آج کے اڑھائی ہزار ڈالر) لیتے تھے۔٭... وہ مطالعے کے شوقین اور اس کی لائبریری میں دو ہزار سے زائد کتب تھیں‘ وہ شاعری کا بھی شوق رکھتے تھے۔٭... ہاتھ پاوں چلانے والا یہ انسان ایک بہترین سینس آف ہیومر بھی رکھتا تھا۔اس کے قریبی دوست کہتے ہیں یہ جب موڈ میں ہوتا تو دوستوں کو ہنسانے میں ید طولی رکھتا تھا۔ ٭... فلمی دنیا کے عظیم ترین مارشل آرٹ آرٹسٹ بروس لی کا انتقال 20 جولائی 1973ء کو 32 سال کی عمر میں ہوا۔٭... موت کی وجہ ایک دماغی سوجن (Cerebral edema)بتائی گئی، جو ایک دوا کے ری ایکشن کی وجہ سے ہوئی۔فلموگرافی٭...گولڈن گیٹ گرل (1941ء)،٭... دی برتھ آف مینکائنڈ(1946ء)٭...ویلتھ از لائیک اے ڈریم(1948ء)٭...دی سٹوری آف فین لی فا(1949ء)٭...دی کڈ، بلومز اینڈ بٹر فلائی(1950ء)٭...انفنسی، بلیم اٹ آن فادر(1951ء)٭...دی گائیڈنگ لائٹ، ان دی فیس آف ڈیمولیشن٭...لو، دی فیتھ فل وائف(1955ء)٭...دی وائز گائیز ،ہو فول ارائونڈ(56ء)٭...دی تھنڈر سٹورم (1957ء)، دی اورفن (1960ء)٭...دی ریکنگ کریو(68ء)، مارلوئے(1969ء)٭...اے واک ان دی سپرنگ رین (1970ء)٭...فسٹ آف فیوری، دی بگ بوس(1971ء)٭...دی گیم آف دیتھ، دی وے آف دی ڈریگن

آج کا دن

آج کا دن

سپیشل اولمپکس کا آغاز20جولائی 1968ء کو شکاگو میں پہلی انٹرنیشنل اسپیشل اولمپکس سمر گیمز کا انعقاد کیا گیا، جس میں ذہنی معذوری رکھنے والے ایک ہزار ایتھلیٹس نے شرکت کی۔ اس تاریخی ایونٹ کا مقصد ایسے افراد کو کھیلوں کے ذریعے اپنی صلاحیتیں دکھانے، اعتماد حاصل کرنے اور معاشرے میں مساوی مقام دلانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ آج اسپیشل اولمپکس لاکھوں کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر یکجا کرنے والی ایک اہم تنظیم بن چکی ہے۔ہٹلر پرقاتلانہ حملہ20 جولائی 1944ء کو جرمن فوجی افسرکرنل اسٹاؤفن برگ نے جرمن آمرایڈولف ہٹلر کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس منصوبے کے تحت ہیڈ کوارٹر میں بم نصب کیا گیا، تاہم دھماکے میں ہٹلر معمولی زخمی ہوا۔ قاتلانہ حملے کا بظاہر مقصد جرمنی اور اس کی مسلح افواج کا سیاسی کنٹرول نازی پارٹی سے چھیننا تھا۔ ناکام حملے کے بعد 7ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور 4980افراد کو پھانسی دی گئی۔خلائی سیاحت میں اہم سنگِ میل20 جولائی 2021ء کو امریکی کاروباری شخصیت جیف بیزوس اپنی نجی خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے نیو شیپرڈ این ایس16 مشن کے ذریعے کامیابی سے خلا میں گئے۔ یہ مختصر مگر تاریخی پرواز خلائی سیاحت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔ اس مشن نے نجی شعبے کی خلائی صلاحیتوں کو اجاگر کیا ۔امریکہ اور کیوبا کے تعلقات کی بحالی20 جولائی 2015ء کو تقریباً پچاس برس بعد امریکہ اور کیوبا نے مکمل سفارتی تعلقات بحال کر لیے۔ دونوں ممالک نے اپنے اپنے سفارتخانے دوبارہ کھولے، جس سے سرد جنگ کے دور سے جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آئی۔ اس تاریخی پیش رفت نے باہمی مذاکرات، تجارت، سفر اور تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے۔ قبرص پر ترکی کا حملہ1974 ء میں آج کے روز ترکی نے فوجی کارروائی کرتے ہوئے قبرص کے شمالی حصے پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد آج تک جزیرہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ترکی نے دعویٰ کیا کہ وہ ترک نسل کے قبرصی باشندوں کے تحفظ کیلئے مداخلت کر رہا ہے۔ 2لاکھ یونانی قبرصی بے گھر ہوئے جبکہ تقریباً 3ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتہ ہوئے۔