ساقی…پاکستانی فلمی صنعت کا بیش قیمت اثاثہ

ساقی…پاکستانی فلمی صنعت کا بیش قیمت اثاثہ

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


اس ورسٹائل اداکار نے ہالی وڈ کی فلم سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا******کسی بھی فلم کی کامیابی میں صرف ہیرو ہیروئن، ہدایتکار یا موسیقار ہی اہم کردار ادا نہیں کرتے بلکہ اس فلم میں کارکردگی دکھانے والے معاون اداکار بھی اتنی ہی توصیف کے مستحق ٹھہرتے ہیں جتنی کہ دوسرے لوگ… مقام افسوس ہے کہ فلم بینوں کی اکثریت ہیرو، ہیروئن، کامیڈین یا ولن کی اداکاری کا نوٹس تو لیتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان فنکاروں کو نظرانداز کردیتی ہے جنہوں نے فلم کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالا ہوتا ہے۔ معاون اداکار کسی بھی فلم کا وہ حصہ ہوتے ہیں جن کے بغیر فلم کی تکمیل کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔پاکستانی فلمی صنعت میں بھی کئی معاون اداکار ایسے تھے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنا پر شائقین فلم سے بہت داد وصول کی۔ ان میں ایک نام ساقی کا بھی تھا۔ساقی کا اصل نام عبدالطیف بلوچ تھا۔ وہ دو اپریل 1925ء کو عراق کے شہر بغداد میں پیدا ہوئے۔ یہ پاکستان کے واحد اداکار تھے جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ہالی وڈ کی فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ سے کیا۔ 1955ء میں وہ لاہور میں فلم پروڈکشن یونٹ میں اسسٹنٹ ہوگئے۔ پاکستان میں ان کی پہلی فلم ’’التجا‘‘ تھی جو 1955 میں ریلیز ہوئی۔ اس کے بعد وہ 1958 میں ’’لکھ پتی‘‘ میں نگہت سلطانہ کے ساتھ ہیرو آئے۔ پھر اس کے بعد سسی پنوں، اور بمبئے والا میں کام کیا۔ 1959ء میں ان کی ایک اہم فلم ناگن ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے سپیرے کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نیلو اوررتن کمار نے ہیرو اور ہیروئن کے کردار ادا کیے تھے۔ یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی اور ساقی کی اداکاری کوبے حد سراہا گیا۔ ویسے تو پاکستان اور بھارت کے کئی اور اداکاروں نے بھی سپیرے کا کردار ادا کیا جن میں امریش پوری بھی شامل ہیں۔ 80ء کی دہائی میں سری دیوی کی یادگار فلم ’’نگینہ‘‘ میں امریش پوری نے جس اعلیٰ درجے کی اداکاری کی اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ لیکن پاکستانی فنکار ساقی نے بھی سپیرے کے کردار میں جاندار اداکاری کی۔ ناگن کو ساقی کی اہم ترین فلم قرار دیا جا سکتا ہے۔ 1960ء میں ’’رات کے راہی‘‘ اور پھر 1965ء میں ’’ہزارداستان‘‘ میں بھی انہوں نے چونکا دینے والی اداکاری کی۔ ساقی کی ایک اور یادگار فلم لاکھوں میں ایک 1967ء میں ریلیز ہوئی۔ ہدایتکار رضامیر کی اس فلم کو پاکستان کی عظیم ترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ فلم کے دیگر اداکاروں کی طرح ساقی کی اداکاری کوبھی بے حد پسند کیا گیا۔ ساقی نے500 سے زیادہ اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو زبان کی فلموں میں کام کیا۔ ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ ساقی گیارہ زبانیں جانتے تھے اور ان جیسی صلاحیتوں کا حامل کوئی اور دوسرا اداکار پاکستانی فلمی صنعت کو نہیں ملا۔ویسے تو ساقی بغداد میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد کچھ عرصہ کیلئے کاروبار کے سلسلے میں قیام پذیر تھے لیکن ان کا تعلق سندھ کے شہر دادو سے تھا۔ ساقی نے کیریکٹر ایکٹر اور ولن کے کرداروں سے شہرت حاصل کی۔ انہوں نے ’’پاپی اور ہم لوگ‘‘ کے نام سے ذاتی فلمیں بھی بنائیں لیکن یہ باکس آفس پر کامیاب نہ ہوسکیں۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں الہ دین کا بیٹا، تاج اور تلوار، بارہ بجے ، میں نے کیا جرم کیا، عورت ایک کہانی، شہید، موسیقار، زرقا، ایک منزل دو راہیں، بیٹی، شطرنج، نہلے پہ دہلا، ایک دل دو دیوانے، وہ کون تھی، نغمہ صحرا، نصیب اپنا اپنا، یوسف خان شیربانو اور میرا گھر میری جنت شامل ہیں۔ اداکار مصطفی قریشی سے ان کی بڑی دوستی تھی۔ وہ ان کے ہمدم دیرینہ تھے۔ سمن آباد لاہور میں ساقی کی رہائش گاہ پر مصطفی قریشی اکثر دیکھے جاتے تھے۔ساقی بڑے خوش اخلاق اور حلیم الطبع تھے۔ اپنی خودداری اور وضع داری کی وجہ سے بھی ان کا بڑا احترام کیا جاتا تھا۔ ساقی کا کریڈٹ یہ بھی ہے کہ انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت کومسعود رانا اور مجیب عالم جیسے گلوکار دیئے۔ یہ وہ گلوکار ہیں جنہوں نے پاکستانی فلموں کیلئے ایسے شاندار گیت گائے جو ہمیشہ زندہ رہیں گے۔پشتو فلموں کی ناموراداکارہ یاسمین خان ساقی کی اہلیہ تھیں۔ جنہوں نے ایک زمانے میں بہت شہرت سمیٹی۔ ساقی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے دریا دل تھے اور ان کا دل انسانیت کے درد سے معمور تھا۔ پوری فلمی صنعت میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جسے ان سے شکایت ہو۔ انہوں نے کئی عشروں تک فلموں میں کام کیا اور فلمی صنعت کو ہر دور میں ان کی ضرورت محسوس ہوتی رہی۔ وہ ایک عالی ظرف اور محب وطن شخص تھے۔ ریاض شاہد نے انہیں اپنی فلم ’’زرقا‘‘ میں ایک چھوٹے سے کردار کیلئے منتخب کرلیااور ساقی نے حامی بھر لی۔ کیونکہ ان کے بقول’ زرقا‘ فلم جس مقصد کیلئے بنائی جا رہی تھی وہ عظیم تھا اور اس مقصد کو پانے کیلئے وہ ہر صورت اپنا حصہ ڈالنا چاہتے تھے۔ یہ ساقی کی فنکارانہ صلاحیتوں کا شاخسانہ تھا کہ انہیں زرقا میں اس چھوٹے سے کردار میں بھی پسند کیا گیا۔ ریاض شاہد باکمال ہدایتکار تھے۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے کہ چھوٹے سے چھوٹے کردار کیلئے بھی کن اداکاروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ساقی نے ہمیشہ نوجوان اداکاروں کی حوصلہ افزائی کی اور ہر نوجوان فنکار نے ان کی تعریف کی۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ نوجوان فنکاروں کی حوصلہ افزائی ان کا فرض اولین ہے کیونکہ ایسا کرنے سے سینئر فنکاروں کے احترام میں اضافہ ہوتا ہے۔ ساقی نے کچھ ٹی وی ڈراموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کے مداحوں کی تعداد میں کبھی کمی نہ آئی کیونکہ وہ ایک ورسٹائل اداکار تھے جو اپنے مداحوں کی توقعات پر پورا اترتے تھے۔22 دسمبر 1986ء کو یہ شاندار اداکار اس دارفانی سے کوچ کرگیا۔ وہ پاکستانی فلمی صنعت کا بیش قیمت اثاثہ تھے۔ بطور اداکار اور بطور انسان وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 کیا مصنوعی ذہانت نے انسانی ذہانت کا مقام حاصل کر لیا ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت نے انسانی ذہانت کا مقام حاصل کر لیا ہے؟

جی پی ٹی 6 آسٹرا اور اے جی آئی کا دعویٰمصنوعی ذہانت کی ترقی نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ایسے نظام جو کبھی صرف سوالات کے جواب دینے یا مختصر تحریریں لکھنے تک محدود تھے اب ریاضی کے پیچیدہ مسائل حل کرنے، سافٹ ویئر تیار کرنے، سائنسی تحقیق میں مدد دینے اور کمپیوٹر پر متعدد مراحل پر مشتمل کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی پس منظر میں اوپن اے آئی کے نئے ماڈل جی پی ٹی 6 آسٹرا (GPT-6 Astra) کے بارے میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے ایک نئے دور یعنی آرٹیفشل جنرل انٹیلی جنس (AGI) کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا جدید اے آئی ماڈلز کی غیر معمولی کارکردگی واقعی انسانی ذہانت جیسی عمومی صلاحیت کا ثبوت ہے یا ہم ابھی ایسے ماڈلز کے دور میں ہیں جو مخصوص حالات میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن حقیقی دنیا کے غیر متوقع مسائل میں ان کی صلاحیتیں محدود ہو سکتی ہیں؟ اے جی آئی کیا ہے؟آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس سے مراد ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو مختلف شعبوں میں سیکھنے، تجزیہ کرنے، نئے مسائل سمجھنے اور حاصل شدہ علم کو نئی صورت حال میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ موجودہ اے آئی ماڈلز بہت سے کاموں میں غیر معمولی مہارت دکھاتے ہیں لیکن کسی ایک یا کئی مخصوص امتحانات میں کامیابی لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ ہر طرح کے مسئلے کو انسان کی طرح سمجھ سکتے ہیں۔تاہم اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین نے جی پی ٹی 6 آسٹرا کی رونمائی کے موقع پر اس امکان کا اظہار کیا کہ مستقبل میں لوگ موجودہ دور کو AGI کے آغاز کے طور پر یاد کر سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل سافٹ ویئر انجینئرنگ، ریاضی، کمپیوٹر کے خودکار استعمال اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھاتا ہے۔اس کی صلاحیتوں کی مثالوں میں تھری ڈی ڈیزائن کے لیے کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (CAD) کوڈ تیار کرنا، الیکٹرانک سرکٹ بورڈز کی ترتیب میں مدد دینا، تھری ڈی ماڈلز کو ڈیجیٹل ماحول میں تبدیل کرنا اور تحریری ہدایات کی بنیاد پر ویب ایپلی کیشنز تیار کرنا شامل ہیں۔یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ اے آئی اب محض معلومات فراہم کرنے والا نظام نہیں رہی بلکہ ایسے کاموں میں بھی حصہ لے رہی ہے جن کے لیے منصوبہ بندی، مختلف ٹولز کا استعمال اور کئی مراحل کو مربوط کرنا ضروری ہوتا ہے۔ شاندار بینچ مارک نتائج اور ان کی حقیقتمصنوعی ذہانت کی صلاحیت جانچنے کے لیے مختلف بینچ مارک استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ ایسے معیاری ٹیسٹ ہوتے ہیں جن کے ذریعے ماڈلز کی ریاضی، منطق، پروگرامنگ اور نئے مسائل حل کرنے کی صلاحیت کا موازنہ کیا جاتا ہے۔جی پی ٹی 6 آسٹرا نے ARC-AGI-3 ٹیسٹ میں مخصوص جانچ کے طریقے کے تحت 99.9 فیصد سکور حاصل کیا۔ یہ ٹیسٹ ایسے نئے ماحول میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت جانچتا ہے جہاں نظام کو خود تجربات کرکے قواعد سمجھنے اور اگلا قدم طے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بینچ مارکس، شفافیت اور مصنوعی ذہانت پر اعتماداے آئی کی دنیا میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات ماڈل کے نتائج بہتر بنانے کے لیے سوالات کی عبارت، اضافی ہدایات، کمپیوٹنگ وسائل یا سافٹ ویئر کے طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ اگر ان تبدیلیوں کی مکمل تفصیلات فراہم نہ کی جائیں تو دوسرے ریسرچرز کے لیے انہی نتائج کو دہرانا اور ان کی درستگی جانچنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس عمل کو Benchmaxxing کہتے ہیں۔ اس سے مراد ٹیسٹ کے طریقوں میں بار بار تبدیلی کرکے زیادہ سے زیادہ سکور حاصل کرنے کی کوشش ہے۔جی پی ٹی 6 آسٹرا کے حوالے سے بھی مختلف ٹیسٹ نتائج اور بعض اعدادوشمار میں تبدیلیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اے جی آئی کے امکانات، خطرات اور مستقبل کی ذمہ داریاںاے آئی کی ترقی کے ساتھ سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی ہے کہ ماڈلز اب صرف سوالات کے جواب دینے کے بجائے صارف کی ہدایات کے مطابق متعدد مراحل پر مشتمل کام بھی انجام دے سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہ صلاحیت تعلیم، تحقیق، صنعت، کاروبار اور روزمرہ زندگی میں نمایاں فوائد پیدا کر سکتی ہے۔لیکن خودمختاری میں اضافے کے ساتھ خطرات بھی بڑھتے ہیں۔ اگر اے آئی کسی ہدایت کو غلط سمجھے، نامکمل معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرے یا مقررہ حدود سے باہر کارروائی کرنے کی کوشش کرے تو نقصان ہو سکتا ہے۔ سائبر سکیورٹی کے شعبے میں طاقتور نظاموں کے غلط استعمال کا خدشہ بھی موجود ہے۔اسی لیے اے آئی کی ترقی کے ساتھ حفاظتی اقدامات، واضح اجازتوں، انسانی نگرانی اور مؤثر قانونی و اخلاقی اصولوں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

  مستقبل کی گاڑیاں

مستقبل کی گاڑیاں

خودکار ڈرائیونگ، شمسی توانائی اور ایک دوسرے سے رابطہآنے والی دہائی میں ہماری سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں آج کے مقابلے میں بالکل مختلف ہو سکتی ہیں۔ تصور کیجیے کہ آپ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے ہیں مگر سٹیئرنگ سنبھالنے اور بار بار بریک لگانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی گاڑی نہ صرف خود راستہ پہچانتی ہے بلکہ آس پاس چلنے والی دوسری گاڑیوں سے بھی رابطے میں رہتی ہے۔ اس کی چھت اور باڈی پر موجود سولر سسٹم سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرتا ہے جبکہ ضرورت سے زائد انرجی کو برقی نظام میں واپس بھیجا جا سکتا ہے۔یہ محض سائنس فکشن کی کہانی نہیں۔ معروف سائنسی ویب سائٹ 'لائیو سائنس‘ پر شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ان میں سے بعض ٹیکنالوجیز عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ سولر انرجی سے چلنے والی گاڑیاںالیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک چارجنگ کا وقت، بیٹری کی قیمت اور چارجنگ سٹیشنوں کی دستیابی ہے۔سولر انرجی ان مسائل کو کسی حد تک کم کر سکتی ہے۔ مستقبل میں گاڑی کی چھت، بونٹ اور دیگر حصوں پر ایسے سولر سیل نصب کیے جا سکتے ہیں جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کریں۔ امریکی کمپنی اپٹیرا نے 2024ء میں ایسی گاڑی کا پروٹوٹائپ پیش کیا تھاجس میں چھت، بونٹ اور دوسرے حصوں پر سولر پینل لگائے گئے تھے۔ کمپنی کے بیان کردہ اندازوں کے مطابق موزوں حالات میں یہ گاڑی روزانہ تقریباً 64 کلومیٹر تک سولر انرجی کی مدد سے سفر کر سکتی ہے جبکہ مکمل چارج پر اس کی بتائی گئی حد تقریباً 640 کلومیٹر ہے۔ ایک اور دلچسپ پیش رفت فوٹو وولٹائک پینٹ ہے۔ مرسڈیز بینز نے 2024ء میں ایسی ٹیکنالوجی پر تحقیق کا ذکر کیا تھا جو گاڑی کی باڈی پر رنگ کی تہہ کے ذریعے سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کر سکے۔ کمپنی کے مطابق لاس اینجلس جیسے دھوپ والے شہر میں اس سے سالانہ تقریباً 12 ہزار کلومیٹر کے سفر کے مساوی توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ آپس میں بات کرتی گاڑیاںمستقبل کی گاڑیوں میں ایک اہم تبدیلی ان کا باہمی رابطہ ہو گا۔ گاڑی سے گاڑی اور گاڑی سے سڑک کے نظام تک رابطے کی ٹیکنالوجی کوV2VاورV2X کہا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے گاڑیاں اپنی رفتار، سمت اور بریک لگانے جیسی معلومات ایک دوسرے تک پہنچا سکتی ہیں۔ بعض موجودہ نظام مختصر فاصلے کے ریڈیو سگنلز کے ذریعے تقریباً 300 میٹر تک معلومات پہنچا سکتے ہیں حتیٰ کہ ایسی گاڑیوں سے بھی جو ڈرائیور کو براہ راست دکھائی نہ دے رہی ہوں۔اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ گاڑیاں اسے استعمال کریں اور مختلف کمپنیوں کے نظام ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں۔ خودکار ڈرائیونگ: ڈرائیور کی ذمہ داری کتنی کم ہو گی؟مصنوعی ذہانت، کیمروں، ریڈار اور کمپیوٹرز کی مدد سے گاڑیاں اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور راستے کا فیصلہ کرنے کے قابل ہو رہی ہیں۔ آج بھی کئی گاڑیوں میں لین سے باہر نکلنے کی وارننگ اور خودکار رفتار برقرار رکھنے جیسی سہولتیں موجود ہیں۔ اگلے دس سالوں میں ایسی خصوصیات مزید بہتر ہو سکتی ہیں۔مکمل خودکار گاڑی پیدل چلنے والوں، اچانک سامنے آنے والی رکاوٹوں، تعمیراتی کام اور سڑک پر غیر متوقع حالات کو پہچاننے کی کوشش کرے گی۔ بعض نظام ڈرائیور کی آنکھوں اور سر کی حرکت پر بھی نظر رکھیں گے تاکہ غفلت یا تھکن کی صورت میں اسے خبردار کیا جا سکے۔ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق مخصوص علاقوں اور حالات میں وسیع خودکار صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں 2035ء تک مارکیٹ کا تقریباً چار فیصد ہو سکتی ہیں۔امکانات اور چیلنجزپاکستان جیسے ممالک کے لیے ان ٹیکنالوجیز کی اہمیت خاص طور پر زیادہ ہے۔ یہاں پٹرول اور ڈیزل پر انحصار، فضائی آلودگی، ٹریفک حادثات اور بڑے شہروں میں ٹریفک جام اہم مسائل ہیں۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں الیکٹرک بسوں، ٹیکسیوں اور سرکاری گاڑیوں سے آغاز نسبتاً عملی قدم ہے۔پاکستان میں دھوپ کی وافر دستیابی سولر چارجنگ کے لیے ایک بڑا موقع ہے لیکن گاڑی کی باڈی پر لگے پینلز ہر وقت پوری توانائی فراہم نہیں کر سکتے۔ موسم، گردوغبار، پارکنگ کا سایہ، گاڑی کا استعمال اور بیٹری کی گنجائش نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے گھر، دفتر اور عوامی مقامات پر شمسی چارجنگ سٹیشنز بھی اہم ہوں گے۔اسی طرح خودکار گاڑیوں کے لیے واضح قوانین، معیاری سڑکیں، قابل اعتماد انٹرنیٹ یا مواصلاتی نظام، سائبر سکیورٹی اور تربیت یافتہ تکنیکی عملہ درکار ہو گا۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ حادثے کی صورت میں ذمہ داری ڈرائیور، گاڑی بنانے والی کمپنی یا سافٹ ویئر فراہم کرنے والے پر کیسے عائد ہو گی۔

آج کا دن

آج کا دن

معرکہ ہیسٹنگزمعرکہ ہیسٹنگز انگلستان کی تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ جنگ انگلستان کے بادشاہ ہیرلڈ دوم کی فوج اور نارمنڈی کے ڈیوک ولیم کی افواج کے درمیان لڑی گئی۔1066ء میں انگلستان کے بادشاہ ایڈورڈ دی کنفیسر کی وفات کے بعد تخت کی جانشینی کا تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ہیرلڈ دوم نے بادشاہت سنبھالی لیکن ولیم آف نارمنڈی نے بھی انگلستان کے تخت پر اپنا حق جتایا۔ 14 اکتوبر کو دونوں افواج موجودہ مشرقی سسیکس کے علاقے میں آمنے سامنے آئیں۔ اس فتح کے نتیجے میں ولیم نے انگلستان پر اپنی حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار کی اور دسمبر 1066ء میں بادشاہ بن گیا۔ آواز کی رفتار سے تیز پرواز 14 اکتوبر 1947ء کو فضائی تاریخ میں ایک انقلابی کامیابی ہوئی جب امریکی پائلٹ چک ییگر نے تجرباتی راکٹ طیارے بیل ایکس-1 میں پرواز کرتے ہوئے آواز کی رفتار عبور کی۔ اس کامیابی نے تیز رفتار طیاروں کی تحقیق کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ چک ییگر نے اس طیارے میں کیلیفورنیا کے راجرز ڈرائی لیک کے اوپر پرواز کی۔ یہ کامیابی صرف ایک پائلٹ کا ریکارڈ نہیں تھی بلکہ جدید فضائی انجینئرنگ کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تھی۔ اس نے یہ ثابت کرنے میں مدد دی کہ مناسب ڈیزائن، طاقتور انجنوں اور سائنسی تحقیق کے ذریعے سپرسونک پرواز ممکن ہے۔ اس کے بعد فوجی طیاروں، تجرباتی جہازوں اور بالآخر مسافر طیاروں کی تیز رفتار پرواز سے متعلق تحقیق کو نئی تحریک ملی۔ مارٹن لوتھر کنگ ، نوبیل انعام 14 اکتوبر 1964ء کو نسلی امتیاز کے خلاف پرامن جدوجہد کے اعتراف میں امریکی شہری حقوق کی تحریک کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو امن کے نوبیل انعام کے لیے منتخب کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر امریکا میں سیاہ فام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے۔ ان کی تقریر ''آئی ہیو اے ڈریم‘‘ نے نسلی مساوات کے مطالبے کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔14 اکتوبر 1964ء کو امن کے نوبیل انعام کے اعلان نے ان کی جدوجہد کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا۔ اس وقت ان کی عمر صرف 35 برس تھی۔انعام کی باقاعدہ تقریب دسمبر میں اوسلو، ناروے میں منعقد ہوئی۔ کنگ نے انعام کی رقم بھی شہری حقوق کی تحریک کے لیے وقف کر دی۔ کیوبا میزائل بحران 14 اکتوبر 1962ء کوسرد جنگ اور جوہری تصادم کا خطرہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکی جاسوس طیارے یو2 نے کیوبا میں سوویت میزائل تنصیبات کی تصاویر حاصل کیں۔ ان شواہد نے اس بحران کو جنم دینے میں بنیادی کردار ادا کیا جس نے دنیا کو جوہری جنگ کے قریب پہنچا دیا۔ ان تصاویر کا تجزیہ کرنے کے بعد امریکی حکام کو کیوبا میں سوویت جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کی موجودگی کے شواہد ملے۔ کئی دن تک امریکا اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی برقرار رہی اور جوہری جنگ کا خطرہ حقیقی محسوس ہونے لگا۔ بالآخر سفارتی مذاکرات کے نتیجے میں سوویت یونین نے کیوبا سے میزائل ہٹانے پر اتفاق کیا جبکہ امریکا نے کیوبا پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ڈیزرٹ فاکس کی موت 14 اکتوبر 1944ء کو جرمن فیلڈ مارشل ایرون رومیل جو ڈیزرٹ فاکس کے نام سے مشہور تھا، ہٹلر کے خلاف سازش کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں خودکشی کر کے ہلاک ہوا۔ایرون رومیل دوسری عالمی جنگ کے معروف جرمن فوجی کمانڈروں میں شامل تھا۔ شمالی افریقہ کی مہم میں اس کی فوجی حکمت عملی اور تیز رفتار کارروائیوں کے باعث اسے ڈیزرٹ فاکس کا لقب دیا گیا۔ جون 1944ء میں اتحادی افواج نے فرانس کے نارمنڈی ساحل پر اتر کر مغربی یورپ میں جرمن قبضے کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی۔ اسی سال 20 جولائی کو ہٹلر کو قتل کرنے کی ناکام سازش کے بعد جرمن حکومت نے فوجی اور سیاسی حلقوں میں وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دیں۔رومیل کی موت فوجی قیادت، سیاسی وفاداری اور آمریت کے دباؤ پر تاریخی بحث کا موضوع ہے۔

پراسرار ذرات کی کھوج

پراسرار ذرات کی کھوج

فرانسس ہالزن کی تحقیق، کائنات کو سمجھنے کی کوشش 2026 ء کا فزکس کانوبل انعام امریکی یونیورسٹی وسکانسن میڈیسن سے وابستہ بیلجیئم نژاد پروفیسر فرانسس ہالزن کو دیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز انٹارکٹیکا میں قائم آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی تیاری اور کائناتی ماخذ رکھنے والے انتہائی توانائی کے حامل نیوٹرینو ذرات کی دریافت میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔ ان کی تحقیق نے سائنسدانوں کو کائنات کے ان گوشوں کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جہاں تک روایتی دوربینوں کی رسائی محدود ہے۔ اس تحقیق کے ذریعے انسان نے کائنات کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے دور دراز علاقوں سے آنے والے انتہائی چھوٹے ذرات کا سراغ لگانے کا ایک نیا طریقہ حاصل کیا ہے۔ نیوٹرینو کیا ہیں اور ان کی دریافت کیوں اہم ہے؟نیوٹرینو انتہائی چھوٹے بنیادی ذرات ہیں جو برقی چارج نہیں رکھتے اور ان کی کمیت بھی نہایت معمولی ہوتی ہے۔ یہ ذرات سورج، دوسرے ستاروں اور کائنات میں ہونے والے انتہائی توانائی بخش واقعات کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ہر لمحے کھربوں نیوٹرینو ذرات ہمارے جسم اور زمین میں سے گزرتے ہیں لیکن ہمیں ان کا احساس نہیں ہوتا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیوٹرینو عام مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ روشنی کے ذرات یا برقی چارج رکھنے والے ذرات کے برعکس نیوٹرینو کائنات میں طویل فاصلے طے کرتے ہوئے گیس، گردوغبار اور دوسرے مادے سے تقریباً غیر متاثر رہ سکتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں سائنسی تحقیق کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی دور دراز کہکشاں کے مرکز میں بلیک ہول کے گرد مادہ انتہائی تیزی سے حرکت کر رہا ہو تو وہاں پیدا ہونے والی روشنی اور دوسری شعاعیں گردوغبار یا گرم مادے میں جذب ہو سکتی ہیں۔ اس کے برعکس وہاں پیدا ہونے والے نیوٹرینو نسبتاً آسانی سے باہر نکل کر زمین تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے منبع اور وہاں ہونے والے طبیعی عمل کے بارے میں معلومات اپنے ساتھ لاتے ہیں۔تاہم ان ذرات کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہ شاذونادر ہی کسی دوسرے ذرے سے ٹکراتے ہیں۔ اسی لیے سائنسدانوں کو ایسے غیر معمولی بڑے آلات کی ضرورت پڑی جو بہت بڑی مقدار میں مادے کے اندر ان کے انتہائی نایاب تعاملات کو ریکارڈ کر سکیں۔ آئس کیوب آبزرویٹری، برف میں چھپی ہوئی ایک عظیم تجربہ گاہفرانسس ہالزن کی نمایاں سائنسی بصیرت یہ تھی کہ انٹارکٹیکا کے جنوبی قطب پر موجود صاف اور گہری برف کو نیوٹرینو کی شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 1980 ء کی دہائی کے آخر میں اس تصور پر کام شروع کیا۔ بعد ازاں اس خیال کو عملی شکل دینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر طویل تحقیق، انجینئرنگ اور مالی وسائل درکار ہوئے۔اس منصوبے کا نتیجہ آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی صورت میں سامنے آیا جس کی تعمیر 2011ء میں مکمل ہوئی۔ یہ دنیا کے منفرد ترین سائنسی آلات میں سے ایک ہے۔ اس کے تقریباً ایک مکعب کلومیٹر کے حجم میں پھیلی ہوئی برف کے اندر پانچ ہزار سے زیادہ حساس سینسر نصب ہیں۔ یہ سینسر سطح زمین سے تقریباً 1450 سے 2450 میٹر کی گہرائی میں موجود ہیں۔ برف نیوٹرینو کو کیسے پکڑ سکتی ہے؟جب کوئی نیوٹرینو انتہائی کم امکان کے باوجود برف میں موجود کسی ایٹمی نیوکلیس یا دوسرے ذرے سے تعامل کرتا ہے تو اس عمل کے نتیجے میں دوسرے چارج شدہ ذرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات برف میں سفر کرتے ہوئے ایک مخصوص قسم کی نیلی روشنی خارج کرتے ہیں جسے چیرینکوف روشنی کہا جاتا ہے۔ آبزرویٹری میں نصب سینسر اس روشنی کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ سائنسدان ان روشنی کے سگنلز کے وقت، سمت اور شدت کا تجزیہ کرکے اندازہ لگاتے ہیں کہ نیوٹرینو کہاں سے آیا، اس کی توانائی کتنی تھی اور اس نے کس قسم کا تعامل کیا۔ نیوٹرینو کی دریافت نے کیا بدلا؟آئس کیوب آبزرویٹری نے 2013ء میں دور دراز کائناتی ذرائع سے آنے والے انتہائی توانائی کے حامل نیوٹرینو کی موجودگی کے شواہد پیش کیے۔ یہ کامیابی نیوٹرینو فلکیات کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس کے بعد سائنسدانوں کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ صرف روشنی یا دوسری برقی مقناطیسی شعاعوں کی مدد سے نہیں بلکہ نیوٹرینو کے ذریعے بھی کائنات کا مطالعہ کریں۔ 2026ء کا نوبل انعام اسی سائنسی بصیرت، قیادت اور نیوٹرینو فلکیات کے میدان میں ان کے فرانسس ہالزن کے کردار کا اعتراف ہے۔یہ دریافت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کائنات کے راز صرف روشنی سے نہیں کھلتے۔ نیوٹرینو کی مدد سے سائنسدان اب ان دور دراز مقامات کا مطالعہ کر سکتے ہیں جہاں کائنات کے انتہائی توانائی بخش واقعات جنم لیتے ہیں۔ مستقبل میں یہ تحقیق بلیک ہولز، کہکشاؤں اور کائنات کی بنیادی طبیعیات کے بارے میں ہماری سمجھ کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔

قدرتی آفات کے خطرے میں کمی کا عالمی دن

قدرتی آفات کے خطرے میں کمی کا عالمی دن

محفوظ پاکستان کی جانب ایک قدمہر سال 13 اکتوبر کو قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کا عالمی دن(International Day for Disaster Risk Reduction) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں عوام، حکومتوں اور اداروں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں لیکن بہتر منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور عوامی آگاہی کے ذریعے ان سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس دن کی اہمیت دوچند ہے جہاں سیلاب، زلزلے، شدید گرمی، خشک سالی، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی خطرات لاکھوں افراد کی زندگیوں، روزگار اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع، موسمیاتی حالات اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ اسے مختلف قدرتی آفات کے حوالے سے غیر معمولی طور پر حساس بناتے ہیں۔ شمالی علاقوں میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے، گلیشیئر پگھلنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے جبکہ پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں کو دریاؤں میں طغیانی اور شہری سیلاب کا سامنا رہتا ہے۔ بلوچستان اور تھر جیسے علاقوں میں خشک سالی اور پانی کی قلت انسانی زندگی اور زراعت کے لیے بڑے مسائل پیدا کرتی ہے۔2022 ء کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کو ایک تلخ حقیقت سے دوچار کیا۔ بڑے پیمانے پر آبادی متاثر ہوئی، گھر تباہ ہوئے، فصلوں اور مویشیوں کو نقصان پہنچا اور بنیادی سہولتوں کا نظام شدید متاثر ہوا۔ اس سانحے نے واضح کیا کہ قدرتی آفت صرف بارش یا سیلاب کا نام نہیں بلکہ اس کے اثرات کا انحصار غربت، کمزور تعمیرات، نکاسی آب، صحت کی سہولتوں اور حکومتی تیاری پر بھی ہوتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے ان خطرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ شدید بارشوں، گرمی کی لہروں اور غیر معمولی موسمی واقعات کے باعث ایسے علاقوں میں بھی خطرات بڑھ سکتے ہیں جہاں پہلے ان کی شدت نسبتاً کم تھی، لہٰذا پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی محض ہنگامی امداد تک محدود نہ رہے ۔ ناقص منصوبہ بندی اور عوامی مسائلپاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں شدید بارش کے بعد سڑکوں پر پانی جمع ہونابار بار پیش آنے والا مسئلہ ہے۔ اس کی وجوہات میں نکاسی آب کے ناکافی انتظامات، نالوں پر تجاوزات، کوڑا کرکٹ، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور قدرتی آبی گزرگاہوں میں رکاوٹیں شامل ہیں۔جب بارش کا پانی گھروں، دکانوں اور سڑکوں میں داخل ہوتا ہے تو صرف ٹریفک ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ بجلی کے نظام، کاروبار، تعلیمی سرگرمیوں اور صحت عامہ کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ کھڑا پانی مچھروں کی افزائش اور مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ غریب اور کم آمدنی والے خاندان جو عموماً غیر محفوظ علاقوں میں رہتے ہیں ان نقصانات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اس صورت حال کا حل صرف بارش کے بعد پانی نکالنے میں نہیں بلکہ مؤثر شہری منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہے۔ حکومتوں کو نکاسی آب کے نظام کی باقاعدہ صفائی، نالوں کی بحالی، تجاوزات کے مؤثر انتظام، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور تعمیرات کے لیے حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔ شہریوں کو بھی کچرا نالیوں میں پھینکنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اجتماعی غفلت ایک معمولی بارش کو بھی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے خطراتپاکستان زلزلوں کے خطرے سے بھی دوچار ہے۔ 2005ء کا تباہ کن زلزلہ آج بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ غیر محفوظ عمارتیں اور ناقص تعمیراتی معیار کسی قدرتی واقعے کو بڑے انسانی المیے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ بالخصوص زلزلے کے خطرے والے علاقوں میں عمارتوں کے نقشوں، تعمیراتی معیار اور حفاظتی ضابطوں پر سختی سے عمل ضروری ہے۔ سکولوں، ہسپتالوں اور عوامی عمارتوں کی حفاظت کو خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب، شدید گرمی کی لہریں پاکستان میں انسانی صحت کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہیں۔ شمالی پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے۔ ایسے واقعات پہاڑی آبادیوں، پلوں، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید نگرانی، موسم کی درست پیش گوئی، خطرے سے دوچار آبادیوں کی نشاندہی اور بروقت انخلا کے انتظامات ضروری ہیں۔محفوظ پاکستان کیلئے مشترکہ ذمہ داریقدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کم کرنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو چاہیے کہ وہ خطرات سے متعلق معلومات عوام تک بروقت پہنچائیں، مقامی سطح پر تربیتی پروگرام منعقد کریں اور امدادی ٹیموں کو ضروری وسائل فراہم کریں۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں اور سرکاری انتباہات کو مؤثر انداز میں عام کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔اس سلسلے میں شہری چند بنیادی اقدامات سے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت یقینی بنا سکتے ہیں۔ خاندان کے افراد کے ساتھ ہنگامی صورتحال میں رابطے اور محفوظ مقام تک پہنچنے کا منصوبہ بنائیں۔سکولوں اور کالجوں میں فرضی مشقیں، آگاہی لیکچرز اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت نوجوان نسل کو زیادہ ذمہ دار اور تیار بنا سکتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

نائٹس ٹیمپلرز کی گرفتاریاں13 اکتوبر 1307ء کو فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم کے حکم پر نائٹس ٹیمپلر نامی مذہبی و عسکری تنظیم کے متعدد ارکان کو گرفتار کیا گیا۔ یہ تنظیم صلیبی جنگوں کے زمانے میں قائم ہوئی تھی اور اس کے ارکان عیسائی زائرین کی حفاظت اور مشرقِ وسطیٰ میں صلیبی ریاستوں کی معاونت کے لیے مشہور تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ تنظیم نے بڑی دولت، زمینیں اور مالیاتی وسائل حاصل کر لیے تھے۔ فرانسیسی بادشاہ فلپ چہارم کو تنظیم کی طاقت اور مالی حیثیت پر اعتراضات تھے جبکہ اسے اپنی حکومت کے مالی مسائل کا بھی سامنا تھا۔ گرفتار کیے گئے ارکان پر بدعنوانی، مذہبی بے حرمتی اور دیگر سنگین الزامات لگائے گئے۔ بعد کے برسوں میں پوپ کلیمنٹ پنجم کے دور میں تنظیم کے خلاف کارروائی جاری رہی اور 1312ء میں اسے باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔ امریکی بحریہ کی بنیاد13 اکتوبر 1775ء کو امریکی کانٹی نینٹل کانگریس نے فلاڈیلفیا میں ایک بحری کمیٹی قائم کی جسے جنگی جہازوں کی تیاری اور بحری کارروائیوں کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ فیصلہ برطانیہ کے خلاف جاری امریکی جنگِ آزادی کے ابتدائی مرحلے میں کیا گیا تھا۔ اس وقت امریکی نوآبادیات کو برطانوی فوج کے ساتھ ساتھ طاقتور برطانوی بحریہ کا بھی سامنا تھا۔ کانگریس نے دو مسلح بحری جہاز تیار کرنے اور ایسے برطانوی جہازوں کو روکنے کا منصوبہ بنایا جو برطانوی فوج کے لیے اسلحہ اور رسد لے کر آتے تھے۔ اس اقدام نے امریکی بحری طاقت کی منظم تشکیل کی بنیاد رکھی۔ اسی وجہ سے امریکی بحریہ ہر سال 13 اکتوبر کو اپنا یومِ تاسیس مناتی ہے۔وائٹ ہاؤس کا سنگ ِبنیاد 13 اکتوبر 1792ء کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں اس عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا جو بعد میں وائٹ ہاؤس کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ عمارت امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور انتظامی دفتر ہے۔ امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے نئے وفاقی دارالحکومت کے قیام اور اس کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ عمارت کے ڈیزائن کے لیے آئرش نژاد معمار جیمز ہوبن کا منصوبہ منتخب کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کی تعمیر ایک طویل منصوبہ تھا اور عمارت مکمل ہونے سے پہلے ہی امریکہ کا دارالحکومت فلاڈیلفیا سے واشنگٹن منتقل کیا جانے لگا۔ صدر جان ایڈمز اور ان کی اہلیہ ابیگیل ایڈمز یکم نومبر 1800ء کو اس نامکمل عمارت میں منتقل ہوئے۔ اٹلی کا اعلان جنگ13 اکتوبر 1943ء کو اٹلی کی حکومت نے نازی جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے دوران یورپی سیاست میں ایک اہم تبدیلی تھی کیونکہ اٹلی اور جرمنی اس سے پہلے محوری طاقتوں (Axis Powers) کے اتحادی تھے۔ اٹلی میں مسولینی کی حکومت نے کئی برس تک جرمنی کے ساتھ مل کر جنگ میں حصہ لیا تھا تاہم جولائی 1943ء میں اتحادی افواج نے سسلی پر حملہ کیا جس کے بعد اٹلی میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا۔ مسولینی کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور پیٹرو بادولیو کی قیادت میں نئی حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ جنگ بندی کی راہ اختیار کی۔ اس صورتِ حال میں اٹلی کی نئی حکومت نے 13 اکتوبر کو جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ چلی، کان کنوں کی بازیابی13 اکتوبر 2010ء کو چلی میں سان ہوزے کی تانبے اور سونے کی کان میں پھنسے تمام 33 کان کنوں کو کامیابی سے باہر نکال لیا گیا۔ یہ واقعہ جدید تاریخ کے نمایاں ترین امدادی اور انسانی بقا کے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ 5 اگست 2010ء کو کان کے اندر چٹانیں گرنے کے باعث کان کن تقریباً 700 میٹر زیرِ زمین پھنس گئے تھے۔ چلی کی حکومت نے ماہرین، انجینئروں اور بین الاقوامی معاونت سے امدادی کارروائی شروع کی۔ کان کنوں تک خوراک، پانی اور ضروری سامان پہنچانے کے لیے تنگ سوراخ استعمال کیے گئے جبکہ انہیں باہر نکالنے کے لیے خصوصی کیپسول تیار کیا گیا۔ 13 اکتوبر کو ایک ایک کرکے تمام 33 افراد کو سطحِ زمین پر لایا گیا۔ وہ تقریباً 69 دن زیرِ زمین گزار چکے تھے۔