اولاد اورہاتھ کی لکیریں
اسپیشل فیچر
بچوں کی صحیح تعداد بتانے کی خاطر ایک کام یہ کرنا پڑتا ہے کہ ہاتھ کے خطوں کا مطالعہ نہایت غور سے کیا جائے۔ عام قسم کے مطالعہ کے برعکس یہاں زیادہ وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔اس سلسلے میں میرے صحیح جوابات اور ٹھیک مطالعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں ذرا اس نقطے کے متعلق زیادہ وضاحت سے لکھوں میں اپنی طرف سے اس کی پوری کوشش کروں گا۔اس سلسلے میں تمام ہاتھوںکا مکمل مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ مثلاً جس شخص کا ابھارِ زہرہ بھرپور اور ترقی یافتہ نہ ہو اس شخص کے اتنے بچے نہیںہوں گے جتنے اس شخص کے جس کا ابھارِ زہرہ بھرپور اور ترقی یافتہ ہوگا۔بچوں کے خطوط وہ خطوط ہوتے ہیں جو خطِ شادی کے آخر پر خطِ شادی سے نکل کر اوپر کو جائیں۔ بعض اوقات یہ خطوط اتنے باریک ہوتے ہیں کہ دوربین کی مدد سے دیکھنے پڑتے ہیں۔ مگر اس حالت میں ہاتھ کی دوسری لکیریں مدھم ہونی چاہئیں۔ ان خطوط کی نشست سے اور جس ابھار کو وہ چھو رہے ہوں ہم ٹھیک اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایسے بچے ماں باپ کی زندگی میں اہم رول ادا کریں گے کہ نہیں‘ کیا ان کی صحت نازک ہو گی یا بہت اچھی۔ ان میں کتنے لڑکے ہوں گے اور کتنی لڑکیاں۔ان خطوط سے متعلق مندرجہ ذیل باتیں نہایت اہم ہیں۔چوڑی لکیریں لڑکوں کی علامت ہوتی ہیں۔ تنگ خوبصورت لکیریں لڑکیوں کا اظہار کرتی ہیں۔جب یہ لکیریں صاف دکھائی دیں تو بچے بڑے تندرست اور صحتمند ہوتے ہیں اور مدھم اور خم دار ہوں گی تو نتیجہ برعکس ہوگا۔جب کسی لکیر کے ابتدائی حصہ پر جزیرہ ہو تو بچے کی صحت ابتدا میں بڑی نازک ہو گی۔ لیکن اگر لکیر بعد میں صاف ہو جائے تو اچھی صحت کی علامت ہوتی ہے۔جب یہ لکیر کسی جزیرے پر جا کر ختم ہو جائے تو بچے کی موت واقع ہو جاتی ہے۔اگر ایک لکیر دوسری لکیروں سے لمبی اور برتر ہو تو ایک بچہ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ اہم اور زیادہ ضروری ہوگا۔مرد کے ہاتھ پر بھی یہ لکیریں اتنی ہی صاف ہوتی ہیں جتنی کہ عورت کے ہاتھ پر ۔ اس حالت میں مرد بچوں کا بڑا دلدادہ ہوگا۔ اور ان سے بڑی محبت کرے گا۔ عورت کے ہاتھ پر یہ لکیریں زیادہ برتر ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں ان تفصیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے علم دست شناسی کے طالب علم کافی فائدہ اٹھا سکیں گے۔(پامسٹری کے شہرئہ آفاق مصنف کیرو کی کتاب’’ہاتھ کے راز‘‘ سے ماخوذ)٭…٭…٭