ریسرچ گیٹ
اسپیشل فیچر
یہ سائنس دانوں کی محنت کا ایسا مرتبان ہے جہاں آپ کو ہر طرح کی وہ سائنسی معلومات ملیں گی جو سائنس دان آپس میں شیئر کرتے ہیں تا کہ ایک گرینڈ ڈینٹ کے بعد ان معلومات کو پبلک کیا جا سکے۔اسے ریسرچ گیٹ کہتے ہیں۔ یہ یسرچ گیٹ 2008 میں قائم ہوا تھا۔ یہ ایک سوشل نیٹ ورک ہے جہاں ماہرین اپنے اپنے کام کے بارے میں معلومات پوسٹ کرتے ہیں ، مثلاً مقالہ جات کی اشاعت اور اپنی خصوصیات وغیرہ۔ ساتھ ہی تحقیق ، تعاون اور فنڈنگ کے نئے مواقعوں پر بھی بات چیت اور معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ریسرچ گیٹ کے موجودہ سی ای اوآئی جیڈ مش نے بتایا کہ ایسی معلومات عام نیٹ ورکس پر نہیں ملتیں۔ان کی خواہش ہے کہ ریسرچ گیٹ کو سائنسدانوں کے فیس بک کا درجہ حاصل ہوجائے۔ جہاں ماہرین اپنی تحقیقات کے غیر حتمی نتائج دوسروں سے شیئر کرکے کام آگے بڑھائیں اور اس پر مفروضے قائم کریں۔واضح رہے کہ اس وقت ریسرچ گیٹ کے اراکین کی تعداد 29 لاکھ ہے جن میں بائیالوجی سے لے کر فزکس تک کے ماہرین شامل ہیں۔ یہ پورٹل نوجوان سائنسدانوں میں بہت مقبول ہورہا ہے۔یہ ایک سنجیدہ مشن ہے۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں ریسرچر ایک دوسرے سے رابطہ رکھ سکیں اور اپنے ایسے کام کے بارے میں معلومات فراہم کر سکیں جو ابھی شائع نہیں ہوا۔سائنسی تحقیق بالخصوص امراض کے علاج اور ادویہ کی تیاری کیلئے ’’ ریسرچ گیٹ‘‘نامی ایک سوشل نیٹ ورک کیلئے سافٹ ویئر کمپنی مائیکرو سوفٹ کے سابق سربراہ اور انسانی خدمت پر کام کرنے والے بل گیٹس نے ایک کمپنی کے ساتھ مل کر 35ملین ڈالر کی رقم جمع کی ہے تاکہ نہ صرف سائنسی تحقیق شفاف انداز میں آگے بڑھے بلکہ سائنسدانوں کے درمیان بھی روابط فروغ پاسکیں۔فیس بک جیسا سوشل نیٹ ورک دوستوں کو آپس میں مربوط رکھتا ہے، پرانے کلاس فیلوز کو ڈھونڈ نے میں مدد بھی دیتا ہے اور ہر کوئی جان لیتا ہے کہ اِرد گِرد ہو کیا رہا ہے۔ اور اب سائنس دانوں کے لیے ایک سوشل نیٹ ورک قائم کیا جارہا ہے جس کے لیے امید ہے کہ وہ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے سائنسی ترقی میں پیش رفت کے لیے ‘معاون ثابت ہوگا۔ہارورڈ کے ایک ریسرچر ایجات مادش چند برس قبل میڈیکل امیجنگ کے ایک تجربے میں مصروف تھے جب اْنھیں مختلف مسائل کا سامنا ہوا۔ کوئی ایسی بات تھی جو ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ سائنسی تجربات کرتے ہوئے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی بہت سا وقت لگ جاتا ہے۔مادش کے مشیر بھی یہ نہیں جانتے تھے کہ تجربہ آخر سود مند ثابت کیوں نہیں ہو رہا۔ اْن کی اپنی تجربہ گاہ میں کوئی اور اِس مسئلے پر کام بھی نہیں کر رہا تھا اور اْن کے ساتھی ریسرچرز اِس معاملے پر کوئی مدد نہیں دے سکتے تھے۔مادش بتاتے ہیں کہ وہ بے حد مایوس ہوئے۔اْنھوں نے سوچا کہ کوئی شخص تو آن لائن ایسا ہونا چاہیے جو اِس مسئلے پر کام کر رہا ہو۔ کوئی تو ایسی جگہ ہونی چا ہیے جہاں لوگ خود کو سائنس دان کے طور پر پیش کرسکیں اور اپنی ریسرچ اور پبلیکیشنز کے بارے میں معلومات دے سکیں تاکہ دوسرے سائنس دان اْن سے فائدہ اْٹھا سکیں۔یہی وہ وقت تھا جب مادش کو سائنس دانوں کے لیے ایک سوشل نیٹ ورک بنانے کا خیال آیا۔ فیس بک کی طرح، لیکن ایک زیادہ سنجیدہ مشن کے ساتھ۔ ایک ایسا پلیٹ فارم بنانا جہاں ریسرچر ایک دوسرے سے رابطہ رکھ سکیں اور اپنے ایسے کام کے بارے میں معلومات فراہم کر سکیں جو ابھی شائع نہیں ہوا۔مادش نے دیکھا کہ ’ریسرچ گیٹ‘ نامی اْن کا ’آئیڈیا‘ سائنس دانوں کوزیادہ سود مند بنانے میں کام دے گا۔وہ کہتے ہیں کہ، ’ میرا مقصد نوبل پرائز حاصل کرنا ہے اور اِسی میں میرا پختہ عزم ہے۔ اگر ہم یہ سوچیں کہ ریسرچ گیٹ کے باعث مختلف شعبوں میں ریسرچ تیز ہو سکتی ہے اوراس سے مستقبل میں سائنس کی رفتار میں تبدیلی آجائے گی تو میرا خیال ہے کہ ایک دِن ایسا آئے گا جب ریسرچ گیٹ‘ ضرور نوبل پرائز حاصل کرسکے گا۔یہ ایک وسیع تصور تھا، جس نے سرمایہ کاروں کو متاثر کیا۔ریسرچ گیٹ کے لیے فیس بک کے ایک سابق ایگزیکٹو نے سرمایہ فراہم کیا۔ یہ وہی فرم ہے جس نے’’ ٹوئٹر‘ ‘کے لیے بھی مدد کی تھی۔ ریسرچ گیٹ پر اب تک نو لاکھ افراد بطوررکن سائن کر چکے ہیں۔اِس کی ایک ممبر کرولائن مور کوکلس ہیں۔ وہ بوسٹن یونیورسٹی میں اپنے دفتر میں اِس ویب سائٹ پر لاگ اِن کر رہی ہیں۔ اْن کے پروفائل پیج پر اْن کی تصویر متعلقہ شعبہ نیورو سائنس اْن کی ڈاکٹوریٹ کے لیے ایڈوائزر اور پبلیکیشنز سبھی کا تعارف شامل ہے۔ وہ اِسی طرح دوسرے ریسرچرز کو بھی دیکھ سکتی ہیں اور اْن کا کام بھی۔ یا پھر کسی موضوع پر ہونے والی بحث میں حصہ لے سکتی ہیں۔ اْن کا کہنا تھا کہ، آئیے دیکھتے ہیں کہ آج کمپی ٹیشنل نیورو سائنس گروپ کیا کر رہا ہے۔مورکوکلس ریسرچ کو پسند کرتی ہیں کیونکہ یہاں وہ کوئی سوال یا پھر کسی مخصوص کیمیاوی ردِ عمل کے بارے میں بات کرسکتی ہیں۔اْنھیں یہ بھی پتا چل سکتا ہے کہ تجربہ گاہوں میں کیا کام کیا جارہا ہے اور تازہ ترین اشاعتی مواد سے باخبررہ سکتی ہیں۔ دوسری طرف ہر ریسرچر’ ریسرچ گیٹ‘ سے خوش نہیں۔ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ میں کام کرنے والی کِم برٹرانڈ کہتی ہیں۔’’مجھے تو اِس میں کوئی نئی بات نظر نہیں آتی۔‘‘’’ریسرچ گیٹ‘ ‘کے بانی مادش کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ اْن کی ویب سائٹ صرف اِس صورت میں فائدہ مند ثابت ہوگی اگر سائنس داں اِسے استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ لیکن جیسا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اگر یہ سائنس دانوں کے لیے ناگزیر سوشل نیٹ ورک بن سکے تو وہ سمجھیں گی کہ اْنھوں نے ایک ریسرچر ہونے کی حیثیت سے سائنس کی ایک بڑی خدمت کی ہے۔٭…٭…٭