گردے کی پتھری
اسپیشل فیچر
انسانی جسم میں پیٹ کے نچلے حصے میں ریڑھ کی ہڈی کے دائیں بائیں دو گردے ہوتے ہیں، دایاں گردہ بائیں گردے سے تھوڑا سا آگے کی طرف ہوتا ہے۔گردہ شکل میں لوبیے کے بیج سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس کے باہر کی سطح ابھری ہوئی ہوتی ہے اور اندرونی سطح پچکی ہوئی ہوتی ہے۔ اندرونی سطح سے ایک باریک سی نالی نکلتی ہے، جو پچھلی طرف جا کر مثانے میں کھلتی ہے۔ اس طرح دونوں گردوں سے دو نالیاں مثانے میں کھل جاتی ہیں، ان نالیوں کو یوریٹر کہتے ہیں۔ مثانے سے ایک ٹیوب نکلتی ہے، جس کے ذریعے پیشاب جسم سے خارج ہوتا ہے، اس کو یوریتھرا کہتے ہیں۔ ’’پتھری‘‘ کیا، کیوں اور کیسے؟گردوں کا اہم کام خون سے یوریا، یورک ایسڈ جیسے بیکار مادوں کو خارج کرنا ہے۔ اس کے علاوہ گردے خون کی ترکیب کو مستقل رکھنے کے لیے اس میں سے سوڈیم کلورائیڈ، پوٹاشیم، کیلشیم سلفیٹ اور فاسفیٹ جیسے نمکیات کی زیادتی کو کم کرتے ہیں۔ نامیاتی او رغیر نامیاتی مرکبات پانی میں حل ہو کر بادامی رنگ کا پیشاب بنا دیتے ہیں۔اب بعض اوقات خوراک میں کیلشیم وغیرہ والی چیزوں کی زیادتی، گردے کی بیماری اور پانی کی کمی کی وجہ سے آہستہ آہستہ یہ چیزیں گردے، یوریٹر یا مثانے میں جمع ہوتی رہتی ہیں اور مجتمع ہو کر چھوٹے چھوٹے پتھر کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ گردے کی پتھری کی عموماً تین اقسام سادہ، مرکب اور پیچیدہ پائی جاتی ہیں۔ کیمیائی اجزائے ترکیبی کے اعتبار سے عموماً یہ مندرجہ ذیل چیزوں پہ مشتمل ہوتا ہے؛کیلشیم آگذالیٹ اور فاسفیٹ، یوریا، یورک ایسڈ، میگنیشیم وغیرہ۔علامات:’’فاسفیٹ‘‘ والی پتھری بعض اوقات سال ہا سال خاموش رہتی ہے، مگر اندر ہی اندر یہ اپنے تباہی کے عمل میں مصروف رہتی ہے اور آتش فشاں کی صورت میں گردے کی ناکامی کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔’’گردے کی پتھری‘‘ سے متاثرین زیادہ تر 30 سال سے 50 سال کی عمر میں آتے ہیں۔ بیماری کا تناسب مرد اور عورت میں 3:4 ہے۔ یہ مرض موروثی بھی ہو سکتا ہے۔ 75 فیصد سے زیادہ کیسوں میں درد سب سے بڑی علامت ہے۔ گردے کا درد انتہائی تکلیف دہ اور تڑپا دینے والا ہوتا ہے۔عموماً درد کمر کے نچلے حصے سے شروع ہو کر آگے کی طرف آتا ہے۔ مریض درد سے دہرا ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سخت قسم کی متلی ہوتی ہے۔ سر چکرانے لگتا ہے اور قے بھی آ جاتی ہے۔ نبض کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ پیشاب میں خون اور پیپ بھی آنا شروع ہو جاتی ہے،اگر کسی کو ان علامات میں سے کوئی بھی ہو، تو فوراً اچھی لیبارٹری سے پیشاب ٹیسٹ کروانا چاہیے اور اس کے ساتھ X-Ray اور IVP کروا کر کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔علاج:گردہ کی پتھری ایک جان لیوا مرض ہے۔ اس کا بہترین علاج آپریشن تجویز کیا جاتا تھا، لیکن اب اس کے علاج کے لیے نت نئی آسان تراکیب استعمال کی جا رہی ہیں۔ شعاعوں کے ذریعے علاج:اس سلسلے میں ایک نئی اور جدید ترین ایجاد لیتھوٹریپسی مشین ہے، جس میں شاک دیوز شعاعوں کے ذریعے گردہ کی پتھری کو توڑا جاتا ہے۔اس مشین میں الٹرا سائونڈ فریکوئنسی والی شعاعیں کافی طاقت کے ساتھ گردے کی پتھری کو توڑتی ہیں۔ شعاعوں سے پتھر ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد مریض کو بہت سا Fluid دیا جاتا ہے، جس کی مدد سے یہ ریزے پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتے ہیں۔ ’’پتھری کے بعد‘‘ایک مشہور سرجن کا قول ہے کہ ’’میں نے گردے سے پتھری نکال دی ہے، مگر مریض کو ٹھیک خدا کرے گا‘‘۔اصل میں ایک دفعہ آپریشن یا شعاعوں کے ذریعے علاج سے آدمی کی جان پتھری سے مکمل طور پر نہیں چھوٹتی بلکہ ہر وقت اس کے دوبارہ جنم لینے کا احتمال رہتا ہے۔mپتھری کے بعد ہمیشہ خوراک میں مائع مشروبات کا استعمال زیادہ کر دیں۔ پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔ mکیلشیم والی اشیاء کا استعمال کم سے کم کر دیں۔ mاس کے علاوہ لال گوشت، مچھلی، اوجھڑی وغیرہ سے پرہیز کریں۔ mعلاوہ ازیں پھلوں مثلاً آلو بخارا، الیچی اور پالک اور سفید مولی کا استعمال بھی گھٹا دینا چاہیے۔ ٭…٭…٭