عمر بڑھانے کا راز ویٹ لفٹنگ میں پوشیدہ
اسپیشل فیچر
ہفتہ میں ایک بار وزن اٹھانے سے قبل از وقت موت کے خطرہ کم ہوجاتاہے: ماہرین
صحت مند اور طویل عمر کی خواہش رکھنے والے افراد کیلئے نئی سائنسی تحقیق نے ایک اہم اور حوصلہ افزا نکتہ سامنے رکھا ہے۔ حالیہ مطالعات کے مطابق ہفتے میں کم از کم ایک بار وزن اٹھانے (ویٹ لفٹنگ)کی ورزش کرنے کا تعلق لمبی عمر کے امکانات میں نمایاں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت نہ صرف جسمانی طاقت کو برقرار رکھتی ہے بلکہ دل، ہڈیوں اور مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ یہ تحقیق اس خیال کو مزید تقویت دیتی ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی صحت مند زندگی کی کلید ہے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 90 سے 120 منٹ تک وزن اٹھانے یا طاقت بڑھانے والی ورزش کرنے سے قبل از وقت موت کے خطرے میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے امریکہ میں ایک لاکھ 47ہزار 373 افراد کا 30 سال تک جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ جو لوگ ہفتے میں تقریباً دو گھنٹے ویٹ لفٹنگ کرتے تھے، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 13 فیصد کم تھا۔یہ شرح 19 فیصد تک بڑھ گئی جب دل کی بیماری یا فالج سے موت کے خطرے کو مدنظر رکھا گیا۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ وزن اٹھانے کی ورزش یا مزاحمتی پٹیاں(resistance bands)استعمال کرنے والے افراد میں اعصابی بیماریوں سے موت کا خطرہ 27 فیصد کم تھا۔تاہم محققین نے یہ بات بھی دریافت کی کہ ہفتے میں دو گھنٹے سے زیادہ ویٹ لفٹنگ کرنے سے اضافی صحت بخش فوائد حاصل نہیں ہوتے۔یہ نتائج ''برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئے، جن میں سفارش کی گئی کہ لمبی اور صحت مند زندگی کیلئے ایروبک ورزش اور طاقت بڑھانے والی مشقوں کا امتزاج اختیار کرنا چاہیے۔
ٹام برٹن جو سپورٹ انگلینڈ میں صحت اور فلاح و بہبود کی پالیسی کے اسٹریٹجک سربراہ ہیں، نے بھی اس خیال کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ طاقت پر مبنی جسمانی سرگرمیاں صحت مند بڑھاپے کیلئے ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ یہ نہ صرف خراب صحت کو روکنے یا اس میں تاخیر کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ ہمیں متحرک اور خودمختار رکھنے کے ساتھ ساتھ صحت اور نگہداشت کی خدمات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی کم کرتی ہیں۔
اسپورٹ انگلینڈ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فعال طرزِ زندگی ہر سال دائمی بیماریوں کے تقریباً 33 لاکھ کیسز کی روک تھام کرتا ہے، جبکہ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات پر آنے والے اخراجات میں سالانہ 8 ارب پاؤنڈ کی بچت بھی ممکن بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی کو ہر فرد کیلئے قابلِ رسائی بنایا جائے، کیونکہ یہی صحت مند، خوشحال اور زیادہ مسرور معاشروں کی بنیاد ہے۔ماہرین کی موجودہ ہدایات کے مطابق بالغ افراد کو چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم دو دن ایسی طاقت والی ورزشیں کریں جو جسم کے تمام بڑے عضلاتی حصوں، یعنی ٹانگوں، کولہوں، کمر، پیٹ، سینے، کندھوں اور بازوؤں کو متحرک اور مضبوط بنائیں۔
بالغ افراد کو یہ بھی چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ زیادہ شدت کی جسمانی سرگرمی انجام دیں۔معتدل شدت کی سرگرمیوں میں تیز رفتاری سے چہل قدمی (فی گھنٹہ 4 میل یا اس سے زیادہ)، 10 سے 12 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سائیکل چلانا، یا بیڈمنٹن کھیلنا شامل ہیں۔زیادہ شدت کی سرگرمیوں میں پہاڑی علاقوں میں پیدل سفر (ہائیکنگ)، 6 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے دوڑنا یا جاگنگ کرنا، تیز رفتار سائیکل چلانا، باسکٹ بال اور ٹینس کھیلنا شامل ہیں۔
نئی تحقیق میں شرکاء سے ہر دو سال بعد یہ سوال کیا گیا کہ وہ طاقت بڑھانے والی ورزشوں اور ایروبک ورزشوں کیلئے کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔اس تحقیق میں ایروبک ورزشوں میں تیز چہل قدمی، دوڑنا، جاگنگ، تیراکی، سائیکلنگ، ٹینس اور اسکواش شامل تھے، جبکہ طاقت بڑھانے والی ورزشوں میں وزن اٹھانے یا جسمانی وزن کے ذریعے کی جانے والی مشقیں، مثلاً ڈمبل ورزش، اسکواٹس اور لنجز شامل تھیں۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ بیماریوں اور قبل از وقت موت کے سب سے کم خطرات اُن افراد میں دیکھے گئے جو ایروبک سرگرمیوں اور طاقت بڑھانے والی ورزشوں، دونوں میں زیادہ سرگرم تھے۔ سب سے زیادہ متحرک افراد میں یہ خطرات 58 فیصد تک کم ہو گئے۔
جدید تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ طویل اور صحت مند زندگی کیلئے صرف دوڑنا یا چہل قدمی ہی کافی نہیں، بلکہ عضلات کو مضبوط بنانے والی ورزشیں بھی یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔ ہفتے میں محض ایک یا دو بار ویٹ لفٹنگ یا طاقت بڑھانے والی مشقیں نہ صرف جسمانی قوت اور توازن کو بہتر بناتی ہیں بلکہ دل کے امراض، فالج اور قبل از وقت موت کے خطرات میں بھی نمایاں کمی لاتی ہیں۔ مصروف طرزِ زندگی میں اگر ہم ورزش کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلیں تو بڑھتی عمر کے باوجود صحت، توانائی اور خود اعتمادی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند بڑھاپا کسی جادو کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی کا ثمر ہے، اور ویٹ لفٹنگ اس سفر کا ایک مؤثر اور قابلِ عمل ذریعہ ثابت ہو رہی ہے۔