اودھ کی روح رواںبیگم بادشاہ
اسپیشل فیچر
اودھ کے حکمرانوں کا مورث ِ اعلیٰ سید محمد امیر تھا۔وہ نیشا پور سے ہندوستان میں آیا تھا۔فرخ سیر نے اسے ایک فوجی عہدہ پیش کیا۔اس نے دربارِ دہلی کو سید بھائیوں سے نجات دلانے میں شہنشاہ کی بہت مدد کی۔ اسے آگرہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔شہنشا ہ کی طرف سے اسے سعادت خاں کاخطاب دیا گیا۔اس زمانہ میں اودھ سازشوں اور بغاوتوں کا مرکز بن چکا تھا۔نواب سعادت خاں نے ان سازشوں کو ختم کیا ۔ اس کے جانشین صفدر جنگ کو دربارِ دہلی سے’نواب وزیر‘ کاخطاب ملا۔اودھ کے حکمرانوں کا یہ خطاب نواب غازی الدین حیدر کے زمانہ تک نوابانِ اودھ کو وراثت میں ملتا رہا۔نواب صفدر نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کے لیے بہت زیادہ جد وجہد کی۔نواب صفدر جنگ کی وفات پر اس کا بیٹا شجاع الدولہ اودھ کا حکمران بنا۔شجاع الدولہ کے زمانہ میںمغلوں کی سلطنت بہت زیادہ کمزور ہو چکی تھی۔دہلی کی مرکزیت ختم ہو چکی تھی ۔ہر طرف آزاد اور خود مختار ریاستیں پیدا ہو رہی تھیں۔چنانچہ شجاع الدولہ کی حیثیت بھی ایک آزاد تاجدار جیسی تھی۔اس نے ایسٹ انڈ یا کمپنی کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن بکسر میں اسے شکست ہوئی۔اودھ کی راج دھانی فیض آباد کو اس نے بہت بڑا تجارتی شہر بنا دیا۔اودھ کی فوج کو جدید ترین سامانِ جنگ فراہم کرنے کے لیے اس نے فیض آباد میں اسلحہ سازی کا ایک کارخانہ قائم کیا۔نواب شجاع الدولہ کی موت کے بعد نواب آصف الدولہ نے راج دھانی کو فیض آباد سے لکھنؤ منتقل کیا۔راج دھانی بنتے ہی لکھنؤ نے تہذیب و تمدن کی منز لیں بہت جلد طے کر لیں۔لکھنؤ ہندوستانی تہذیب ، ادب اور آرٹ کا مر کز بن گیا۔آصف الدولہ کی کوششوںسے لکھنؤ میں شاندار عمارتیں کھڑی ہو گئیں۔باغوں اور سراؤں کی بہت کمی تھی۔دہلی اجڑ چکاتھا۔دہلی کے عالموں، شاعروں اور فنکاروں نے لکھنؤ کی راہ لی۔رومی دروازہ اس عہد کی یاد گار ہے۔نواب کی موت کے بعد جانشینی کے لیے کش مکش شروع ہو گئی۔نواب وزیر علی کے بعد آصف الدولہ کے بھائی نواب سعادت علی خاں نے عنانِ حکومت سنبھالی۔نواب سعادت علی خاں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو اپنی سلطنت کا آدھا حصہ دے کر تخت حاصل کیا۔غازی الدین حیدر کو گورنر جنرل نے مجبور کر دیا کہ وہ اپنی آزاد بادشاہت کا اعلان کر دے۔چنانچہ غازی الدین حیدر کی رسمِ تخت نشینی بڑی دھوم دھام سے منائی گئی۔1820ء میں غازی الدین حید رکی مو ت کے بعدنصیر الدین حیدر تخت نشین ہوا۔نصیر الدین حیدر مغربی تہذیب و معاشرت کا بہت دل دادہ تھا۔اس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو تین لاکھ روپیہ، چار فیصد شرح سود پر اس لیے قرض دیا کہ اس کی سالانہ آمدنی سے ایک محتاج خانہ کے اخراجات برداشت کیے جائیں۔اس نے لکھنؤ میں پہلا انگریزی سکول قائم کیا۔اور غریب طلباء کے لیے ۳۶ ہزار روپیہ سالانہ وقف کیے ۔لکھنؤ میں پہلا پریس بھی اسی عہد میں نصب کیا گیا۔انگریزی کی علمی و ادبی کتابوں کے تراجم کا بھی سلسلہ شروع ہوا۔اس کی مو ت کے بعد جانشینی کے لیے ایک طویل کش مکش ہوئی۔نواب غازی الدین حیدر کی بیگم اور نصیر الدین حیدر کی سوتیلی ماںبادشاہ بیگم نے منا جان کو تخت نشین کر دیا۔اس پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے اودھ کے معاملات میں مداخلت کی۔ کمپنی کی فوجوں نے بادشاہ بیگم اور مناجان کو گرفتا ر کر لیا۔کمپنی نے ناصر الدولہ کو تخت ِ اودھ پر بٹھا دیا۔بادشاہ بیگم ہندوستان کی ایک حیرت انگیز خاتون تھی۔وہ انیسویں صد ی کے پہلے ربع میں سیاسیاتِ اودھ کی روح تھی۔مشرق کی اس ملکہ نے اپنے اصول کے لیے ہر چیز قربان کر دی۔اس کا خاوند غازی الدین حیدر اور اس کا بیٹا نصیر الدین حیدر کمزور اور تن آسان تھے۔لیکن وہ اپنی ہمت سے اودھ کو آزاداور آسودہ بنانے کے لیے سر گر م رہی۔نصیر الدین کی موت کے بعد لکھنؤ کے ریذیڈنٹ نے سعادت علی خان کے بڑے بیٹے کی جانشینی کا اعلان کیا۔ریذیڈنٹ کے اس فیصلہ کے خلاف بادشاہ بیگم نے احتجاج کیااور مناجان کو جسے وہ متوفی بادشاہ کا بیٹا خیال کرتی تھی، تختِ اودھ پر بٹھانے کے لیے کوشش کی۔بادشاہ بیگم کے خلاف بہت سی قوتیں متحد ہو چکی تھیں۔لیکن اودھ کی یہ خاتون اپنے دعوے سے ذرہ بھر منحرف نہ ہوئی۔وہ اپنے دعوے کی صداقت ثابت کرنے کے لیے لڑی ،ہاری اور قید ہوئی۔