گلبدن بیگم اور ہمایوں نامہ
اسپیشل فیچر
برطانوی عجائب خانہ لندن میں ایک قلمی کتاب فارسی زبان میں ہے جس کے سرورق پر یہ الفاظ تحریر ہیں: ہمایوں نامہ۔ تصنیف گلبدن بیگم بنت بابر بادشاہ… اس کتاب کاکوئی اور قلمی نسخہ دستیاب نہیں ہوا، یہ امر قابل افسوس ہے کیونکہ موجودہ کتاب نامکمل ہے یعنی اس کے آخر کے کچھ اوراق مفقود ہیں اور سلسلہ بیان بے محل طور پر دفعتاً ختم ہو جاتا ہے۔ ایک فاضلہ انگریز خاتون اینٹ ایس بیورج نے اس دل چسپ نادر کتاب کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا ہے اور یہ ترجمہ ادبی تحقیق میں ایک بلند پایہ مقام رکھتا ہے۔ظہیر الدین بابر بادشاہ کے بچوں میں ایک گلبدن بیگم ہی ایسی تھیں کہ جنہیں اپنے پُراوصاف والد کی خوبیٔ تحریر اور ذوقِ شاعری گویا ورثہ میں ملے تھے۔ تزک بابری ایک مشہور و معروف کتاب ہے جس میں بابر بادشاہ نے اپنی پُرحوادث زندگی کے حالات بہت دل چسپ انداز میں تحریر کیے ہیں۔ بابر بادشاہ شعر گوئی میں بھی اچھی دسترس رکھتے تھے اور آپ کی متفرق غزلیات اور اشعار تزک بابری میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح گلبدن بیگم نے ہمایوں نامہ میں اپنے بھائی ہمایوں بادشاہ کے عہد کے واقعات تحریر کیے ہیں۔ اس تصنیف کے علاوہ آپ کے متفرق اشعار بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فن شاعری میں آپ اپنے والد کی طرح مہارت رکھتی تھیں۔ بابر بادشاہ نے اپنی کتاب اپنی مادری زبان ترکی میں لکھی ہے اور آپ کے اکثر اشعار بھی ترکی زبان میں ہیں۔ آپ کے زمانہ میں ترکی ایک بلند پایہ زبان کی حیثیت رکھتی تھی۔ وہ محض نیم مہذب تاتاری قبائل کی زبان نہ تھی بلکہ اس میں بہت سے باکمال شاعر اور ادیب موجود تھے مثلاً دلی شیر نوائی اور مرزا حیدر دوغلات۔ گلبدن بیگم نے اپنی کتاب فارسی زبان میں لکھی ہے، بابر بادشاہ کی اولاد میں فارسی زبان کا رواج رفتہ رفتہ ہوتا گیا۔ سمرقند چھوڑنے کے بعد بابر بادشاہ عرصہ تک کابل میں مقیم رہے۔ یہاں کے باشندوں کی زبان فارسی تھی۔ اس کے بعد آپ ہندوستان میں آئے تو یہاں جو مسلمان آباد تھے وہ بھی فارسی زبان ہی سے مانوس تھے۔ اس طرح آہستہ آہستہ فارسی زبان چغتائی ترکی پر غالب آتی گئی۔ یہاں تک کہ چند پشت کے بعد بابر بادشاہ کی اولاد اپنی مادری زبان سے بالکل ناآشنا ہو گئی۔ گلبدن بیگم ترکی زبان سے واقف تھیں اور آپ کی فارسی تحریر میں جابجا آپ کی مادری زبان کی جھلک دکھائی دیتی ہے یعنی آپ اپنی تحریر میں بہت سے ترکی الفاظ بھی استعمال کرتی ہیں۔ گلبدن بیگم بابر بادشاہ کی بیٹی تھیں، اس طرح آپ کی رگوں میں تیموری خون کے ساتھ چنگیزی خون بھی موجود تھا کیونکہ بابر بادشاہ اپنے والد کی طرف سے امیر تیمور کے بیٹے میراں شاہ کی نسل سے اور والدہ کی طرف سے چنگیز خاں کے بیٹے چغتائی خاں کی نسل سے تھے۔ گلبدن بیگم 1523ء میں کابل میں پیدا ہوئیں۔ آپ کی پیدائش کے وقت بابر بادشاہ کو کابل پر حکمرانی کرتے ہوئے قریب انیس سال کا عرصہ گزر چکا تھا، اور آپ ان دنوں ہندوستان پر فوج کشی کا سامان کر رہے تھے۔ بچپن کا زمانہ گلبدن بیگم نے اپنے والد کے سایۂ عاطفت میں کابل اور ہندوستان میں بسر کیا۔ جب پہلی مرتبہ آپ ہندوستان آئیں تو آپ کی عمر قریباً پانچ سال کی تھی، یہاں آنے کے دو ڈھائی سال بعد آپ کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد آپ اپنے بھائی ہمایوں بادشاہ کی حفاظت میں رہیں اور وہ آپ سے ہمیشہ بہت شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے۔ سولہ سال کی عمر میں آپ کی شادی ہو گئی۔ آپ کے خاوند خضر خواجہ خاں تھے، ایمن خواجہ کے بیٹے اور اپنی والدہ کی جانب سے حیدر مرزا دوغلات کی نسل سے تھے۔ اپنی شادی کا ذکر گلبدن بیگم نے ایک جگہ اشارۃً کیا ہے، جب ہمایوں بادشاہ بنگال کی مہم سے واپس آئے تو آپ نے گلبدن بیگم کو لچک قصابہ پہنے دیکھ کر پہلی نظر میں پہچانا ہی نہیں۔ لچک قصابہ ایک خاص وضع کا رومال ہوتا تھا جو لڑکیاں شادی کے بعد پہنتی تھیں۔ یہ کتخدائی کا نشان تھا، اپنی شادی کے متعلق صرف یہی ایک اشارہ گلبدن بیگم کی کتاب میں پایا جاتا ہے، اور اپنے خاوند کے ذکر کرنے میں آپ بہت حجاب برتتی ہیں۔ انہیں اپنے ہاتھ سے خط لکھنا بھی معیوب سمجھتی تھیں، مگر اس ازدواجی کہنہ خیالی کے ساتھ اس زمانہ کی عورتوں میں بعض باتوں کے متعلق ایسی روشن خیالی موجود تھی جو اب کم یاب ہے۔ پردے کی قیود بہت کم تھیں اور عورتیں آزادی سے سیروسفر کرتی تھیں، شہسواری چوگان سازی، تیراندازی اور کئی اور قسم کے فنون میں انہیں مردوں کی طرح مہارت حاصل کرنے کے مواقع تھے۔ فن موسیقی کا بھی بہت رواج تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پردے کی رسم مغلوں میں ہندوستان آنے کے بعد پختہ ہوتی گئی ورنہ سمرقند اور کابل میںپردہ کا رواج بہت کم تھا۔ گلبدن بیگم نے ہمایوں نامہ اپنے بھتیجے اکبر بادشاہ کی فرمائش پر لکھا تھا۔ اس وقت اگرچہ آپ کا بڑھاپا تھا مگر گزشتہ واقعات کے متعلق آپ کی یادداشت میں کوئی نقص نہیں آیا تھا، اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بوڑھے افراد نسبتاً قریب کے زمانہ کی باتیں تو بھول جاتے ہیں مگر اوائل عمر کی پرانی باتیں زیادہ اچھی طرح ان کے ذہن میں محفوظ رہتی ہیں۔ کتاب کا آغاز بابر بادشاہ کے ذکر سے ہوتا ہے۔ بابر بادشاہ کے انتقال کے وقت بہت کمسن تھیں اس لیے اس زمانے کی زیادہ باتیں آپ کو یاد نہیں اور اس زمانہ کے بہت سے واقعات کا تذکرہ واقعہ نامہ یعنی تزک بابری سے ماخوذ ہے۔ شروع میں ماوریٔ النہر کے علاقہ میں بابر بادشاہ کی اپنے دشمنوں سے کشمکش کا ذکر ہے، تین مرتبہ سمرقند فتح کر کے کھو دینے کے بعد بابر بادشاہ مجبوراً اپنے آبائی ملک کو خیر باد کہتے ہیں اور بے سروسامانی کی حالت میں کابل چلے آتے ہیں، ہندوستان پر آپ کی فوج کشی سلطان ابراہیم سے جنگ اور رانا سانگا کی شکست کا مفصل ذکر ہمایوں نامہ میں موجود ہے، آگرہ میں آپ مختلف عمارات تعمیر کراتے ہیں اور خواجہ کلاں کے ہاتھ بیگمات کے لیے ہندوستان کے تحائف کابل بھجواتے ہیں، رانا سانگا کی شکست کے بعد ماہم بیگم کابل سے ہندوستان تشریف لاتی ہیں اور ان کی ہمراہی میں گلبدن بیگم قریباً پانچ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ ہندوستان کی سرزمین میں قدم رکھتی ہیں۔