مایا قوم کا عجیب شہر: ٹسکال
اسپیشل فیچر
جنوبی میکسیکو اور وسطی امریکا کے گھنے جنگلات میں ہمیں مایا تہذیب کا سراغ ملتا ہے۔ وسطی میکسیکو کے حکم رانوں نے یہاں بہت کروفر سے حکومت کی۔ مگر ہر سلطنت ایک عروج پر پہنچ کر زوال پذیر ہوجاتی ہے۔3000 سال قبل مایا تہذیب کو اس قدر عروج حاصل ہوا کہ یہ سینکڑوں برس تک زندہ رہی۔ اس تہذیب کے فرزندوں نے یہاں کے خطرناک حالات اور موسم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور زراعت، تعمیرات اور آب پاشی کو فروغ دیا۔ سخت محنت کے بعد ایک ایسی تہذیب کا جنم ہوا جو آس پاس کی تہذیبوں سے ہزار درجے بہتر تھی ۔ وہ مایا تہذیب تھی۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ وہ فنون لطیفہ کے دلدادہ تھے، سفر کا تصور بھی انھوں نے ہی پیش کیا۔ہولمل شہر کو مایا تہذیب کا اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے مگر اس قدیم شہر کے بارے میں بہت زیادہ معلومات حاصل نہیں کی جاسکی ہیں۔ ایک عام مبصر کی نظر میں یہ میکسیکو کی سرحد پر گوئٹے مالا کے جنگلات کے درمیان کھڑا ایک پہاڑی سلسلہ ہے۔پیٹس بیسن کا یہ جنگل لوگوں کی توقع سے کہیں گھنا اور گرم مگر خشک ہے، جہاں اکثر سناٹے میں صرف بندروں کا شوروغل سنائی دیتا ہے۔لیکن اس کا جب قریب سے مطالعہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ پہاڑیاں بڑے بڑے دائروں کی صورت میں ایستادہ ہیں۔ ان کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مسافر دوران سفر رات کے اندھیرے میں آگ کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھے ہوں اور قریب جاکر معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہاڑیاں شہروں کو کاٹ کر بنائی گئی ہیں اور بعض کے اندر تو سرنگیں بھی موجود ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ پہاڑیاں نہیں بلکہ اہرام ہیں۔ وہ قدیم اہرام جو ہزاروں سال قبل مایا تہذیب کی تباہی کے بعد زوال پذیر و زمین بوس ہونے کے لیے باقی رہ گئے تھے۔250 سے 900 عیسوی کے درمیان یہاں عالی شان مایا تہذیب سے جڑی فروغ پذیرآبادی تھی۔ وسطی امریکا اور شمالی میکسیکو میں آج نظر آنے والی ثقافت اسی دور میں پروان چڑھی ۔ علاوہ ازیں،وہ سیاسی انقلابات کا دور تھا، جس میں دو متحارب ریاستیں بالادستی کی خواہش میں ایک دوسرے سے الجھی رہیں پھر ایک ریاست نے مایا تہذیب کی تاریخ میں ایک مفصل زمانہ گزارا۔یہ وقت تھا جب ’’کینوآل‘‘ خاندان کے ’’سانپ بادشاہ‘‘ نے حکمرانی کی، کچھ عرصہ قبل کوئی بھی اس بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ اب ماہرین آثار قدیمہ ہولمل اور دیگر شہروں سے ملنے والے شواہد اور باقیات کی مدد سے بادشاہت کی کہانی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سن 2000 ء سے پہلے ہولمل ماہرین کی توجہ کا مرکز کبھی بھی نہیں رہا، کیوں کہ کبھی بھی اتنا مشہور نہیں رہا جتنا اس کا نزدیکی شہر ’’ٹسکال‘‘ تھا۔ پھر ایک اٹلی نڑاد گوئٹے مالن فرانسکو ’’ایسٹراڈا‘‘ یہاں آیا۔ اس کے آنے کا مقصد کسی ماورا چیز کی تلاش نہیں تھی بل کہ وہ مایا تہذیب کی جڑوں کی تلاش میں یہاں آیا۔ سب سے پہلی چیز جو اس کو ملی وہ ہولمل کے مرکزی اہرام کے پاس ایک عمارت تھی۔ اب اس دیوار کی باقیات موجود ہیںجسے دیکھنے کے لئے دور دراز سے زائرین یہاں آتے تھے۔زیادہ عجیب بات تو یہ ہے کہ اس دیوار کو ان لوگوں نے خود ہی مسمار کیا گویا وہ خود اپنی تاریخ چھپانا چاہتے ہوں۔ ایسٹراڈا اپنی کھوج میں سرنگوں سے گزر کر اہرام تک پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ قدیم زمانے کے وسطی امریکن باشندے اپنے اہرام مختلف مراحل میں تیار کرتے تھے ،وہ سب سے اونچی جگہ پر ہوتا تھا اور ان تک پہنچنے کے لیے سرنگیں بنائی جاتی تھیں۔سن 2003 ء میں ایسٹراڈا نے اپنی ٹیم کے ساتھ ایسے ہی ایک بڑے اہرام پر تحقیقی کام کیا یہاں تک پہنچنے کے لیے پہلے سیڑھیوں کو تلاش کیا گیا داخلی راستے میں اوپر کی جانب ایک قدیم مزار ملا جس میں 26 فٹ لمبی حنوط شدہ لاش موجود تھی۔ ایک نازک اور نادر عمل کے ذریعے لاشوں کو ایک خاص پلاسٹر میں محفوظ کیا گیا تھا۔ یہاں ایک بھاری کپڑے میں تین نفوس کو ایک ساتھ دکھایا گیا تھا جس میں ایک ہولمل کا بادشاہ تھا جو ایک بدصورت دیو کے منہ سے نکل رہا تھا اور اس نے دو بڑے پر دار سانپ لپیٹے ہوئے تھے۔ یہ بلاشبہ ایک موثر شاہکار تھا۔ پھر ایسٹراڈا کو اس کے نچلے حصے میں پتھروں کی ایک قطار نظر آئی اس نے جھک کر دیکھا تو وہاں اس وقت کے کچھ تراشے بھی موجود تھے۔ یہاں انھیں ایک چونکا دینے والی چیز نظر آئی اور وہ تھا ایک مسکراتا ہوا سانپ۔ اس سانپ کا نام ان تراشوں میں ’’کانوال‘‘ درج تھا۔ ایسٹراڈا کہتے ہیں کہ اب ہم مایا تاریخ کے ایک بہت دلچسپ حصے میں پہنچ چکے تھے۔یہاں سے اس سانپ (کانوال) کی دریافت ہوئی اور ’’ٹسکال‘‘ میں بادشاہت کے حصول کے لیے ان کی طرف سے ہونے والی کوششوں کا سراغ ملا۔ مایا قوم کا ’’ٹسکال‘‘ کے میدانی علاقوں میں صدیوں تک غلبہ رہا۔ 750 عیسوی میں یہ وسیع و عریض شہر ساٹھ ہزار کی آبادی کا حامل تھا اور اس کی دلکش عمارتیں یہاں آنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتی تھیں۔اپنی کھوج میں ماہرین کو یہاں سے سیکڑوں پتھروں سے بنی ہوئی قبریں بھی ملیں، جن کے کتبوں پر موجود تصاویر اور عبارتوں سے تحقیق دانوں نے ’’ٹسکال‘‘ کی تاریخ کو ازسر نو تعمیر کیا۔ 1960ء میں ماہرین کو اس قدیم شہر کے اطراف بکھری باقیات سے مزید تراشے ملے۔یہ تمام علامتیں اس مسکراتے ہوئے سانپ کے بادشاہ ہونے کا واضح اشارہ کر رہی تھیں۔ 1973ء میں ایک اور ماہرآثارقدیمہ ’’جوائس مارکس‘‘ کو کچھ اور تراشے بھی ملے، جن میں اس شہر کی حکمرانی کی علامات اور خطابات درج تھے۔یہ تہذیب مٹ چکی ہے لیکن سیاحوں کے لئے اس میں کافی دلچسپی اور غور و فکر کا سامان موجود ہے، ہر عروج کو زوال ہے یہی سبق اس کے کھنڈرات میں بھی موجود ہے۔