پہلے مزاحیہ شاعر کا قتل

پہلے مزاحیہ شاعر کا قتل

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد شعیب



اردو شاعری میں فارسی کے توسط سے کئی اصناف اور موضوعات مستقل صورت اختیار کر گئے۔ ہجو، تحریف، رندی وسر مستی، زاہد سے چھیڑ چھاڑ وغیرہ اِسی فارسی شاعری کی دین ہیں اور اردو شاعری میں طنز و مزاح کے ابتدائی نمونے انہی پیمانوں میں مقید ہو کر یکسانیت کا شکار تھے۔ اس عہد میں جو شاعر سب سے پہلے طنز و مزاح کی دستار اپنے سر پر سجاتا ہے، اس کا نام مرزا محمد جعفر تھا جسے دنیائے طنز و مزاح میں جعفر زٹلی کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ بلاشبہ اس کی شاعری میں ابتذال کی کثرت تھی لیکن اولیت کی وجہ سے اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ مغلیہ حکومت کا زمانہ تھا جو بظاہر استحکام پذیر نظر آتا تھا لیکن اس کی تہذیبی اکائیاں اندر ہی اندر زوال کا شکار تھیں۔ طاؤس و رباب نے شمشیروسناں پر اوّلیت پا کر امرائے سلطنت کو راہِ اعتدال سے ہٹا دیا تھا جس کی وجہ سے معاشرے میں ابتری کا دور دورہ تھا۔ عوامی جذبات و احساسات کی گردنیں مار کر ان کی زبانیں کاٹی جا چکی تھیں۔ ایسے وقت میں جعفر زٹلی نے اپنے عہد کی ترجمانی کا فریضہ اس طرح انجام دیا کہ تین صدیاں گزرنے کے باوجود اس کا نام آج بھی زندہ ہے۔ عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے اس شاعر نے جب بادشاہ کے خلاف ایک شعر کہا تو بادشاہِ وقت فرخ سیر نے بھڑک کر جعفر زٹلی کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ شعر درج ذیل ہے:
سکّہ زد بر گندم و موٹھ و مٹر 
پادشاہے تسمہ کش فرّخ سیر
(ترجمہ: یہ بادشاہ فرخ سیر تسمہ بنانے والا جس نے گندم، جَو کی ایک قسم اور مٹر پر ٹیکس لگایا ہے)
بادشاہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے 1713ء میں بے باک شاعر جعفر زٹلی کو قتل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے جعفر زٹلی کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے :
''...یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس(جعفر زٹلی)کے مختصر سے معروف کلام کو چھوڑ کراس کا دیوان ہجویہ بلکہ فحش اور مغلظ طنزیہ شاعری سے بھرا پڑا ہے۔ عام لوگوں نے چونکہ جعفر زٹلی کا صرف نام سن رکھا ہے، اسے پڑھا نہیں اس لیے وہ اس کی ''گھناؤنی شاعری‘‘ سے واقف نہیں۔‘‘یہ وہ دور تھا جب ملک سیاسی افراتفری، اقتصادی بدحالی، سماجی بے اعتدالی اور اخلاقی بے راہ روی کا شکار ہو چکا تھا۔ غیر اقوام کی لوٹ مار نے عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا تھا اور بیرونی یلغار معمول بن چکی تھی۔اس ابتر صورت حال میں ہر شخص کی حالت ایسی تھی کہ وہ روز مرتا اور روز جیتا تھا۔ روزگار نہ ہونے کے باعث بے عملی، ناامیدی و یاس اور شکست خوردگی نے ہر گھر میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ خوف اور سراسیمگی کی فضا نے تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر زندگی سے فرار کی راہ دکھائی۔ یوں شاعری میں بھی فرار کی اس فضا نے قنوطیت کو جنم دے کر جذبات کی تیز لہروں کا رخ اپنے ماحول اور خیالی زاہد و واعظ سے چھیڑ چھاڑ کی جانب موڑ دیا۔ زاہد ومحتسب سے اس چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں شگفتگی اور رندی و بے باکی کے مضامین کھل کر سامنے آنے لگے جو فارسی شاعری میں اس سے پہلے موجود تھے۔ بقول ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا:
''...دکنی شاعروں کے کلام میں واعظ اور ناصح سے چھیڑ چھاڑ کے اشعار فارسی شعرا کے تتبع میں موجود ہیں۔یہ رو دکی، میر، مصحفی، آتش، غالب، حالی وغیرہ سے ہوتی ہوئی جدید شعرا یعنی فیض وغیرہ تک پہنچتی ہے۔ ایک اور رو جس میں ظرافت نے ہزل کا روپ اختیار کر لیا ہے اور ثقاہت کے تمام نقاب الٹ دیے ہیں، اس کے نمائندہ جعفر زٹلی، عطا، اٹل، زانی، افسق وغیرہ ہیں۔ تیسری رو ہجویات کی ہے۔ قدیم شاعری میں طنزیہ اور مزاحیہ شاعری کے قابلِ ذکر نمونے ہجویات میں نظر آتے ہیں۔ سودا، نظیر، انشا وغیرہ کے ہاں کہیں تو ہجو معاشرے کی آلودگیوں کی پردہ دری کر کے بلند منصب پر فائز ہو گئی ہے اور کہیں ذاتیات میں الجھ کر اپنے مقام سے گر گئی ہے...‘‘
جب برصغیر میں اسلام کی شمع روشن ہوئی تو اس وقت خطے میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں موجود تھیں جن پر ہندو راجے راج کرتے تھے۔ ذات پات کا نظام انسانوں کی کچھ نسلوں کو دوسروں سے بلند کیے ہوئے تھا اور کچھ لوگ جانوروں کی طرح زندگی بسر کر رہے تھے۔ برہمن، ویش،کھشتری اور شودر کی تقسیم نے انسانیت کو غلام بنا رکھا تھا۔ ایسے میں اسلام نے انسانی مساوات و برابری کا علم بلند کر کے برصغیر کے لوگوں میں شعور پیدا کیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برصغیر کے مسلمانوں میں وہی پرانی ہندوانہ انسانی تفریق اپنی جڑیں پھیلانے لگی اور واضح طور پر دو طبقے وجود میں آ گئے۔ دینی احکام کی تربیت دینے والے ایک مخصوص طبقے نے مسلمانوں کو گناہ گار قرار دے کر دوسرے درجے کی مخلوق قرار دیا۔ اردو شاعری میں شعرا نے شروع سے ہی اس تنگ نظری پر احتجاج کرتے ہوئے شیخ و ناصح کو معتوب ٹھہرایا اور فارسی شاعری کے نقشِ قدم پر چلنے لگے۔واعظ مخالف اشعار سے ہر عہد کے شعرا کے دیوان بھرے پڑے ہیں۔ اس رسم کو کسی بھی طرح قابلِ رشک و تقلید قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 
اوّلین طنزیہ و مزاحیہ اردو شاعری کا ایک اور پہلو محبوب و معشوق کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہے۔ جب معشوق اپنے عاشق سے التفات نہیں برتتا تو عاشق اس کو جلی کٹی سنانے لگ جاتا ہے۔ایسے مواقع طنز و مزاح کو جنم دیتے ہیں اور محبوب اس چھیڑ چھاڑ سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ چڑ کر مزید بے پروائی کا مظاہرہ کرنے لگ جاتا ہے۔مثلاً: 
دیوار پھاندنے میں دیکھو گے کام میرا
جب دھم سے آ کہوں گا، صاحب سلام میرا
ہمسائے آپ کے میں لیتا ہوں اک حویلی
اس شہر میں ہوا گر چندے قیام میرا
(انشا)
بے پردہ ہو نہ ظالم! ہو جائے گی قیامت
اک تو یہ شکل تس پر یہ سن و سال تیرا
(مصحفی)
ترے وعدے پہ جئے ہم، تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو؟
اِک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
(غالب)
شہر آشوب اور ہجویات میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے جو نمونے ملتے ہیں ان میں فریقِ مخالف پر حملوں اور معاصرانہ چشمکوں کی کارستانیاں نمایاں ہیں۔ شہروں کے لٹنے،عوام کی اخلاقی ابتری اور بے روزگاری و خستہ حالی پر لکھے گئے شہر آشوب جہاں اپنے اندر درد و الم کی لہریں سموئے ہوئے ہیں وہیں سے طنز و مزاح کے کچھ چشمے بھی پھوٹ نکلتے ہیں۔ میر و سودا اور انشا و مصحفی کے درمیان معاصرانہ چپقلش سے وجود میں آنے والی ہجویات کے نمونے طنز و مزاح کی غیر شعوری کوششوں کی مثالیں ہیں۔ اودھ پنچ کے عہدسے پہلے طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں نظیر اکبر آبادی (شیخ ولی محمد) کی آوازدوسروں سے الگ سنائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی طویل زندگی کے نشیب و فراز اور زمانے کی مختلف تصاویر کو شاعری میں نقش کر دیا۔ اپنے گرد و پیش کے مناظر کی منظر نگاری کو عوامی زبان اور لہجہ دے کر نظیر نے طنز و مزاح کے ایک جدا اور مانوس دبستان کی بنیاد رکھی جو صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی انفرادیت قائم رکھے ہوئے ہے۔ اپنے عہد کے مزاج اور انسانی نفسیات ومحسوسات کی نقش نگاری کے نمونے ان کی نظموں روٹی نامہ، آدمی نامہ، پیسہ نامہ، مفلسی، خوشامد وغیرہ میں ملتے ہیں۔ ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار ان کی نظموں کے متعلق اپنی رائے یوں دیتے ہیں :
''نظیر نے اپنی جولانیِ طبع کا ثبوت مختلف النوع نظموں میں دیا ہے۔ یہ نظمیں نظیر کے سیاسی ماحول اور معاشرے کے مختلف پہلوؤں کی ترجمانی کرتی ہیں۔...نظیر کی فطری زندہ دلی اور شگفتہ مزاجی ہر رنگ اور ہر روپ میں کہیں کم کہیں زیادہ ظاہر ہو ہی جاتی ہے...‘‘
طنز و مزاح کے اس دور کا ایک ممتاز نمائندہ غالب ہے۔ غالب کی طبیعت میں پائی جانے والی شگفتگی کا عکس ان کی شاعری میں نکتہ آرائی کی صورت میں ملتا ہے۔ غالب کی شگفتگی ان کی خانگی زندگی کے مصائب ومسائل کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا اظہار طنز کی شکل میں ان کی غزلیات کے کئی مطلعوں میں موجود ہے:
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
000
ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب! دشمن آسماں اپنا
000
کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 عمر بڑھانے کا راز ویٹ لفٹنگ میں پوشیدہ

عمر بڑھانے کا راز ویٹ لفٹنگ میں پوشیدہ

ہفتہ میں ایک بار وزن اٹھانے سے قبل از وقت موت کے خطرہ کم ہوجاتاہے: ماہرینصحت مند اور طویل عمر کی خواہش رکھنے والے افراد کیلئے نئی سائنسی تحقیق نے ایک اہم اور حوصلہ افزا نکتہ سامنے رکھا ہے۔ حالیہ مطالعات کے مطابق ہفتے میں کم از کم ایک بار وزن اٹھانے (ویٹ لفٹنگ)کی ورزش کرنے کا تعلق لمبی عمر کے امکانات میں نمایاں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت نہ صرف جسمانی طاقت کو برقرار رکھتی ہے بلکہ دل، ہڈیوں اور مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ یہ تحقیق اس خیال کو مزید تقویت دیتی ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی صحت مند زندگی کی کلید ہے۔ایک نئی تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 90 سے 120 منٹ تک وزن اٹھانے یا طاقت بڑھانے والی ورزش کرنے سے قبل از وقت موت کے خطرے میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے امریکہ میں ایک لاکھ 47ہزار 373 افراد کا 30 سال تک جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ جو لوگ ہفتے میں تقریباً دو گھنٹے ویٹ لفٹنگ کرتے تھے، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 13 فیصد کم تھا۔یہ شرح 19 فیصد تک بڑھ گئی جب دل کی بیماری یا فالج سے موت کے خطرے کو مدنظر رکھا گیا۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ وزن اٹھانے کی ورزش یا مزاحمتی پٹیاں(resistance bands)استعمال کرنے والے افراد میں اعصابی بیماریوں سے موت کا خطرہ 27 فیصد کم تھا۔تاہم محققین نے یہ بات بھی دریافت کی کہ ہفتے میں دو گھنٹے سے زیادہ ویٹ لفٹنگ کرنے سے اضافی صحت بخش فوائد حاصل نہیں ہوتے۔یہ نتائج ''برٹش جرنل آف سپورٹس میڈیسن‘‘ میں شائع ہوئے، جن میں سفارش کی گئی کہ لمبی اور صحت مند زندگی کیلئے ایروبک ورزش اور طاقت بڑھانے والی مشقوں کا امتزاج اختیار کرنا چاہیے۔ٹام برٹن جو سپورٹ انگلینڈ میں صحت اور فلاح و بہبود کی پالیسی کے اسٹریٹجک سربراہ ہیں، نے بھی اس خیال کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ طاقت پر مبنی جسمانی سرگرمیاں صحت مند بڑھاپے کیلئے ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ یہ نہ صرف خراب صحت کو روکنے یا اس میں تاخیر کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ ہمیں متحرک اور خودمختار رکھنے کے ساتھ ساتھ صحت اور نگہداشت کی خدمات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی کم کرتی ہیں۔اسپورٹ انگلینڈ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فعال طرزِ زندگی ہر سال دائمی بیماریوں کے تقریباً 33 لاکھ کیسز کی روک تھام کرتا ہے، جبکہ صحت کی دیکھ بھال کی خدمات پر آنے والے اخراجات میں سالانہ 8 ارب پاؤنڈ کی بچت بھی ممکن بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی کو ہر فرد کیلئے قابلِ رسائی بنایا جائے، کیونکہ یہی صحت مند، خوشحال اور زیادہ مسرور معاشروں کی بنیاد ہے۔ماہرین کی موجودہ ہدایات کے مطابق بالغ افراد کو چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم دو دن ایسی طاقت والی ورزشیں کریں جو جسم کے تمام بڑے عضلاتی حصوں، یعنی ٹانگوں، کولہوں، کمر، پیٹ، سینے، کندھوں اور بازوؤں کو متحرک اور مضبوط بنائیں۔بالغ افراد کو یہ بھی چاہیے کہ وہ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ زیادہ شدت کی جسمانی سرگرمی انجام دیں۔معتدل شدت کی سرگرمیوں میں تیز رفتاری سے چہل قدمی (فی گھنٹہ 4 میل یا اس سے زیادہ)، 10 سے 12 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سائیکل چلانا، یا بیڈمنٹن کھیلنا شامل ہیں۔زیادہ شدت کی سرگرمیوں میں پہاڑی علاقوں میں پیدل سفر (ہائیکنگ)، 6 میل فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے دوڑنا یا جاگنگ کرنا، تیز رفتار سائیکل چلانا، باسکٹ بال اور ٹینس کھیلنا شامل ہیں۔نئی تحقیق میں شرکاء سے ہر دو سال بعد یہ سوال کیا گیا کہ وہ طاقت بڑھانے والی ورزشوں اور ایروبک ورزشوں کیلئے کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔اس تحقیق میں ایروبک ورزشوں میں تیز چہل قدمی، دوڑنا، جاگنگ، تیراکی، سائیکلنگ، ٹینس اور اسکواش شامل تھے، جبکہ طاقت بڑھانے والی ورزشوں میں وزن اٹھانے یا جسمانی وزن کے ذریعے کی جانے والی مشقیں، مثلاً ڈمبل ورزش، اسکواٹس اور لنجز شامل تھیں۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ بیماریوں اور قبل از وقت موت کے سب سے کم خطرات اُن افراد میں دیکھے گئے جو ایروبک سرگرمیوں اور طاقت بڑھانے والی ورزشوں، دونوں میں زیادہ سرگرم تھے۔ سب سے زیادہ متحرک افراد میں یہ خطرات 58 فیصد تک کم ہو گئے۔جدید تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ طویل اور صحت مند زندگی کیلئے صرف دوڑنا یا چہل قدمی ہی کافی نہیں، بلکہ عضلات کو مضبوط بنانے والی ورزشیں بھی یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔ ہفتے میں محض ایک یا دو بار ویٹ لفٹنگ یا طاقت بڑھانے والی مشقیں نہ صرف جسمانی قوت اور توازن کو بہتر بناتی ہیں بلکہ دل کے امراض، فالج اور قبل از وقت موت کے خطرات میں بھی نمایاں کمی لاتی ہیں۔ مصروف طرزِ زندگی میں اگر ہم ورزش کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلیں تو بڑھتی عمر کے باوجود صحت، توانائی اور خود اعتمادی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند بڑھاپا کسی جادو کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی کا ثمر ہے، اور ویٹ لفٹنگ اس سفر کا ایک مؤثر اور قابلِ عمل ذریعہ ثابت ہو رہی ہے۔

بالی: قدرتی حسن سے مالامال جزیرہ

بالی: قدرتی حسن سے مالامال جزیرہ

بالی نہ تو کسی ناول کا نام ہے اور نہ کسی افسانے کا عنوان اور نہ ہی یہ کسی ناول یا افسانے کا مرکزی کردار، بلکہ بالی نام ہے انڈونیشیا کے 17ہزار جزیروں میں سے ایک جزیرے کا جس کو زندگی میں ایک دفعہ دیکھنے کیلئے دُنیا کے سیاحوں کے دل میں ایک حسرت رہتی ہے۔ اگر ایک دفعہ سیاح اس خوبصورت جزیرے کو بچشم خود دیکھ لیں تو دوبارہ دیکھنے کی کسک سینے میں دھڑکتی رہتی ہے۔بالی کا شمار دُنیا کے ٹاپ ٹین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بالی کا جزیرہ یونان کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا کے آٹھ پر کشش اور خوبصورت مقامات میں بالی کا مقام سب سے اوّل نمبر پر ہے۔ اس عالمی رینکنگ سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ بالی کے جزیرہ میں دُنیا بھر کے سیاحوں کیلئے کشش کے بے پناہ لوازمات موجود ہیں۔ جن کی ہر زبان کے سفرنامہ نگار اپنے الفاظ میں تصویر کشی تو ضرور کرتے ہیں مگر پھر بھی بالی کی خوبصورتی کا مکمل احاطہ کرنے کیلئے ان کے پاس الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔بالی کا جزیرہ انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے مشرق میں واقع ہے۔ جزیرہ جاوا پر انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ واقع ہے۔ بالی کا جزیرہ جاوا سے 3.2 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے اور آبنائے بالی دونوں جزیروں کو ایک دوسرے سے جُدا کرتی ہے۔بالی کے مشرق میں لومباک (Lombak ) کا جزیرہ واقع ہے۔ بالی کا جزیرہ شرقاً غرباً 140 کلو میٹرلمبا اور جنوباً شمالاً 90 کلو میٹر چوڑا ہے۔ اس کا کل رقبہ 5633 مربع کلو میٹر ہے۔ یہ جزیرہ خط ِاستوا سے 8 ڈگری جنوب میں واقع ہے۔ بالی کا اوسط درجہ حرارت سارا سال 26 سے 28 ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔ انڈونیشیا کے 32 انتظامی صوبوں میں سے بالی کا جزیرہ بھی ایک مکمل صوبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالی جزیرے کی کل آبادی تقریباً چالیس لاکھ ہے۔ جزیرے کے جنوبی حصہ میں ڈینپاسر (Denpasar) کا شہر صوبے کا صدر مقام ہے، جس کی آبادی پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ صوبے کے گورنر کی رہائش بھی اسی شہر میں ہے۔ یہ بالی جزیرے کا انتظامی مرکز اور نہایت پر رونق شہر ہے۔ بالی کا بڑا بین الاقوامی ائیر پورٹ اسی شہر کے قریب پندرہ کلو میٹر جنوب میں واقع ہے۔ بالی کے شمالی سمت سنگارا جابالی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ سنگاراجا بالی کا بندر گاہی شہر (پورٹ سٹی) ہے۔ بالی کی تمام درآمدات و برآمدات اسی بندر گاہ سے ہی کی جاتی ہیں۔ یہ بالی جزیرے کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ سنگاراجا کی آبادی ایک لاکھ ہے۔اوبود بالی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ جو ڈینپاسر کے شمال میں آدھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ پہاڑی پر واقع ہے۔ اوبودکا شہر بالی جزیرے کے کلچر اورہر طرح کے فن ِ ثقافت کا جیتا جاگتا شہر ہے۔ یہ شہر ہے جزیرہ بالی کے مشہور فن کاروں اور مجسمہ سازوں کا۔ لکڑی میں کھدائی کر کے خوبصورت بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں۔ مصور شاعر، سنگ تراش اور ماہر رقاص اسی شہر میں قیام پذیر ہیں۔ پورا شہر ایک طرح کا عجائب گھر معلوم ہوتا ہے۔ بڑے شہر ڈینپاسر کے مقابلہ میں یہاں پر افراتفری دکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ بہت پر سکون شہر ہے۔ فن ِ وثقافت کے شائقین سیاح ائیر پورٹ سے باہر آتے ہی اسی شہر کا رُخ کرتے ہیں۔ ڈینپاسر کے بعد بالی کا دوسرا بڑا شہر اوبود ہی ہے۔ ایک صوبہ ہونے کی حیثیت سے بالی جزیرے کی اپنی صوبائی انتظامی حکومت ہے۔ گورنر صوبے کا نگران اعلیٰ ہوتا ہے۔ صوبہ بالی کی معیشت کا زیادہ تر حصہ جکارتہ میں مرکزی حکومت ہی کے کنٹرول میں ہے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے بالی 1000 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور پرواز کا دورانیہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ہے۔ جبکہ بالی سنگاپور سے سوا دو گھنٹے، ہانگ کانگ سے 4.5 گھنٹے اور سڈنی اور ملبورن سے بالی پانچ چھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ نگورا رائے بالی کا انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے جو دارالحکومت ڈینپاسر سے جنوب میں شہر سے پندرہ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اس بین الاقوامی ائیرپورٹ پر دُنیا کی تیس سے زائد ائیر لائنزکے جہاز لینڈ کرتے ہیں۔ سڈنی، ملبورن، نیویاک، لاس اینجلز، سان فرانسسکو، لندن، پیرس، شنگھائی، بیجنگ، فرنیکفرٹ اور ٹوکیو سے پروازیں براہِ راست بالی کے ائیر پورٹ پر اُترتی ہیں۔ہر سال 28 لاکھ سے زائد سیاح بالی آتے ہیں۔ سب سے زیادہ سیاح چین سے آتے ہیں۔٭...بالی میں ایک بندروں کا جنگل بھی ہے، یہاں کے ہندو لوگ اسے بہت مقدس مانتے ہیں۔ ٭...کبھی یہ جزیرہ ہاتھیوں، چیتوں اور شیروں کی آماجگاہ تھا لیکن اب یہ جانور ناپیدہوچکے ہیں۔٭...چاول یہاں کی بڑی فصل ہے جو سال میں دو دفعہ کاشت کی جاتی ہے۔٭... اس کے پھل دار باغات میں پپیتا، ناریل، انناس کی پیداوار بہت زیادہ ہے۔ ٭...شمالی علاقہ میں کافی بھی پیدا ہوتی ہے۔٭...سمندر سے بڑی مقدار میں مچھلی،مرجان، مونگا اور سیپ حاصل کیا جاتا ہے۔ ٭...بالی جزیرے میں چار زندہ آتش فشاں پہاڑ موجود ہیں۔٭...مائونٹ آگنگ یہاں کا سب سے بلند پہاڑ ہے،جو 10328 فٹ بلند ہے۔بالی میں فلموں کی عکس بندییوں توبالی جزیرے میں دُنیا کی کئی فلموں کی عکسبندی کی جا چکی ہے۔ لیکن اس جزیرے کو زیادہ شہرت اُس ناول سے ملی جسے الزبتھ گلبرٹ نے تحریر کیا اور پھر بعد میں اس ناول کی عکس بندی کا بیشتر حصہ بالی کے پہاڑوں، میدانوں اور بیچز (Beaches ) پر فلمایا گیا۔ اس ناول اور فلم کا نام Eat, Pray, Love تھا۔ اس فلم نے ریلیز ہونے کے بعد بہت رش لیا اور ناظرین نے اس فلم کو بے حد پسند کیا۔ اس فلم کی بے پناہ مقبولیت کے بعد دُنیا کی کئی فلمی کمپنیوں نے بالی میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

خلائی مشن ''میرینر 5‘‘ کی روانگی1967ء میں میرینر خلائی پروگرام کے تحت ''میرینر 5‘‘ کو سیارہ زہرہ (وینس) کی جانب روانہ کیا گیا۔ یہ خلائی جہاز ناسانے 14 جون 1967ء کو لانچ کیا تھا۔ اس مشن کا مقصد زہرہ کے ماحول، درجہ حرارت، فضائی دباؤ اور مقناطیسی میدان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔ میرینر 5 نے کامیابی سے زہرہ کے قریب سے پرواز کرتے ہوئے اہم سائنسی مشاہدات کیے اور زمین پر قیمتی اعداد و شمار بھیجے۔امریکہ کا ''یوم پرچم‘‘ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 14 جون کو ''یوم پرچم‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن 14جون 1777ء کو دوسری کانٹی نینٹل کانگریس کی قرارداد کے ذریعے ریاستہائے متحدہ کے جھنڈے کو اپنانے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ بہت سی ریاستوں میں کافی عرصے تک یہ دن نہیں منایا جاتا تھا لیکن جیسے جیسے امریکہ کی ریاستوں میں پرچم کو اپنا یا جاتا رہا اس کے ساتھ ساتھ یہ دن بھی وہاں منایا جانے لگا۔خون عطیہ کرنے کا عالمی دنہر سال 14جون کوخون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد خون کی محفوظ منتقلی کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ان افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو اپنا خون دوسروں کی زندگی بچانے کیلئے عطیہ کرتے ہیں۔دراصل یہ دن کارل لینڈسٹائنر کی یاد میں منایا جاتا ہے جس نے خون کے گروپ دریافت کرنے کے ساتھ اس تھیوری کی بنیاد رکھی تھی کہ ایک جیسے بلڈ گروپ آپس میں ملائے جا سکتے ہیں۔ اس تھیوری پر ایک ہی گروپ کے خون کو ملانے کا کامیاب تجربہ 1907ء میں کیا گیاتھا۔برطانیہ میں بدترین آتشزدگی14 جون 2017ء کو ویسٹ لندن میں واقع 24منزلہ رہائشی عمارت گریفل ٹاور میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس خوفناک حادثے میں 72 افراد ہلاک ،70زخمی جبکہ223افراد اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔ یہ 1988ء کے پائپر الفا آئل پلیٹ فارم کی تباہی کے بعد برطانیہ میں سب سے مہلک آتشزدگی تھی۔ فریج میں خرابی کی وجہ سے لگنے والی آگ تقریباً60گھنٹے تک لگی رہی، لندن فائر بریگیڈ کے 250 سے زیادہ فائر فائٹرز اور 70 فائر انجن آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں شامل تھے۔جاپان: فضائی حادثہ1972ء میں جاپان ایئر لائنز کی پرواز 471 بھارت کے شہر نئی دہلی کے ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوگئی۔ یہ المناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچتے ہوئے گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار 87 افراد میں سے 82 جان کی بازی ہار گئے، جبکہ زمین پر موجود مزید چار افراد بھی ہلاک ہو گئے۔ اس سانحے نے جاپان اور بھارت سمیت دنیا بھر میں غم و افسوس کی لہر دوڑا دی۔ یہ حادثہ اس دور کے مہلک ترین فضائی سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔''جنگ فریڈلینڈ‘‘1807ء میں فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ کی عظیم فوج نے پولینڈ کے مقام فریڈلینڈ میں روسی فوج کو فیصلہ کن شکست دی۔ یہ معرکہ ''فریڈلینڈ جنگ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں فرانسیسی افواج کی شاندار حکمت عملی اور فوجی مہارت نے روسی لشکر کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ فریڈلینڈ کی فتح نے نپولین کی یورپ میں سیاسی و عسکری برتری کو مزید مضبوط بنایا۔ یہ جنگ نپولینی دور کی اہم ترین فتوحات میں شمار کی جاتی ہے۔

ایل نینو کی واپسی

ایل نینو کی واپسی

کیا پاکستان شدید موسموں کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے؟دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موسمی رجحان کے اثرات کی طرف بڑھ رہی ہے جس نے ماضی میں کئی ممالک کو شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور قدرتی آفات سے دوچار کیا تھا۔ عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو نامی موسمیاتی نظام دوبارہ فعال ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے معمولات بری طرح متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو اس عالمی موسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر آ سکتے ہیں۔ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے لیکن موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس کے اثرات کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے مسلسل حکومتوں اور عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ایل نینو کیا ہے ؟ایل نینو(El Niño) بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصوں میں سمندر کے پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کو کہا جاتا ہے۔ جب سمندر کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے تو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ، بارشوں کے نظام اور درجہ حرارت کے توازن میں تبدیلی آتی ہے۔یہ رجحان عام طور پر ہر چند سال بعد نمودار ہوتا ہے اور کئی مہینوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ اس دوران بعض علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب آتے ہیں جبکہ دیگر خطوں میں خشک سالی اور گرمی کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ ایل نینو ایک قدرتی عمل ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس کے اثرات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔پاکستان کیلئے ممکنہ خطراتپاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک شدید گرمی کی لہروں، غیر معمولی بارشوں، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور تباہ کن سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے۔ایل نینو کی صورت میں پاکستان میں مون سون بارشوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس رجحان کے دوران جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہو جاتی ہیں جس سے پانی کی قلت اور زرعی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بعض خطوں میں اچانک اور شدید بارشوں کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے، جو سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب،سندھ اور بلوچستان جیسے علاقے پہلے ہی پانی کی کمی اور شدید گرمی کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر ایل نینو کے باعث درجہ حرارت مزید بڑھتا ہے تو ان علاقوں میں خشک سالی کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بجلی کی طلب بڑھنے سے توانائی کا بحران بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔زراعت اور معیشت پر اثراتپاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ چاول، کپاس، گندم اور گنے جیسی فصلیں موسمی حالات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ اگر بارشوں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے یا گرمی کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے تو زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔پانی کی قلت نہ صرف فصلوں بلکہ مویشیوں کے شعبے کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ زرعی پیداوار میں کمی کا براہ راست اثر خوراک کی قیمتوں پر پڑتا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی ماہرین کسانوں کو جدید زرعی طریقوں اور پانی کے بہتر استعمال کی طرف توجہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔عالمی سطح پر بھی ایل نینو غذائی اجناس کی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ ایسے حالات پاکستان جیسے درآمدی ضروریات رکھنے والے ممالک کے لیے معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔صحت اور زندگی کیلئے چیلنجزشدید گرمی کی لہریں انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان میں ہر سال گرمی کے موسم میں ہیٹ سٹروک اور پانی کی کمی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ اگر ایل نینو کے باعث درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ شدید بارشیں اور سیلاب مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ صحت کے شعبے کو ان ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر پیشگی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔ تیاری اور احتیاط موسمیاتی خطرات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں لیکن بہتر منصوبہ بندی سے نقصانات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی نگرانی کے نظام، ارلی وارننگ سسٹمز اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہوگا۔زرعی شعبے میں پانی بچانے والی ٹیکنالوجی، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور موسمی پیش گوئیوں کی بنیاد پر کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دینا ہوگا۔ اسی طرح شہری علاقوں میں درخت لگانے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور توانائی کے متبادل ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ایل نینو کی متوقع واپسی صرف ایک موسمی خبر نہیں بلکہ ایک ایسا انتباہ ہے جس کے اثرات پاکستان کے ماحول، معیشت، زراعت اور عوامی زندگی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کے حتمی اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے لیکن عالمی اداروں کی وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے مہینوں میں غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایسے میں حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں بروقت تیاری ہی مستقبل کے نقصانات کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

تہذیبوں میں مکالمے کا عالمی دن

تہذیبوں میں مکالمے کا عالمی دن

امن اور باہمی احترام کی ضرورتدنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ذرائع ابلاغ اور گلوبلائزیشن نے مختلف ممالک، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان فاصلے کم کر دیے ہیں۔ آج مختلف پس منظر کے حامل لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف رابطے میں ہیں بلکہ تجارت، تعلیم، کاروبار، سیاحت اور دیگر شعبوں میں مسلسل تعاون بھی کر رہے ہیں۔ تاہم اس قربت کے باوجود دنیا کو تعصب، نفرت، نسلی امتیاز اور ثقافتی تنازعات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ انہی چیلنجز کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ نے 10 جون کوInternational Day for Dialogue among Civilization کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان افہام و تفہیم، احترام اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی اہمیتانسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مختلف تہذیبوں کے درمیان رابطے اور تبادلہ خیال نے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ علم، ادب، فنونِ لطیفہ، سائنس اور فلسفے کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت مختلف معاشروں کے باہمی تعامل کا نتیجہ رہی ہے۔ جب قومیں ایک دوسرے کے تجربات اور خیالات سے استفادہ کرتی ہیں تو نہ صرف علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ باہمی اعتماد بھی فروغ پاتا ہے۔تہذیبوں میں مکالمہ مختلف ثقافتی اور فکری پس منظر رکھنے والے افراد اور معاشروں کے درمیان تعمیری گفتگو کا نام ہے۔ اس کا مقصد اختلافات کو ختم کرنا نہیں بلکہ انہیں سمجھنا اور ان کے باوجود باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔آج دنیا کو متعدد سماجی اور ثقافتی چیلنجز درپیش ہیں۔ نسلی امتیاز، ثقافتی تعصبات، انتہا پسندانہ رویے، پناہ گزینوں کے مسائل اور نفرت انگیز بیانیے عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہیں۔ ایسے مسائل صرف سیاسی یا قانونی اقدامات سے مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتے بلکہ مختلف معاشروں کے درمیان اعتماد سازی اور مسلسل مکالمہ بھی ضروری ہے۔جب لوگ ایک دوسرے کی تاریخ، ثقافت اور نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو غلط فہمیاں کم ہوتی ہیں اور تنازعات کے امکانات بھی محدود ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے مکالمے کو امن کے قیام کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔پاکستان میں تہذیبی ہم آہنگی پاکستان ایک متنوع معاشرہ ہے جہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور علاقائی روایات پائی جاتی ہیں۔ پنجابی، سندھی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، کشمیری اور دیگر ثقافتی اکائیاں ملک کی اجتماعی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔ اس تنوع کو مثبت انداز میں قبول کرنا قومی یکجہتی اور سماجی استحکام کے لیے ضروری ہے۔پاکستان میں تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور ذرائع ابلاغ مختلف ثقافتوں کے درمیان احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر نوجوان نسل کو برداشت، احترامِ اختلاف اور مکالمے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے تو زیادہ پُرامن اور متحد معاشرے کی تشکیل ممکن ہے۔نوجوانوں اور میڈیا کا کردارڈیجیٹل دور میں نوجوان نسل اور میڈیا معاشرتی رویوں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا مختلف معاشروں کو قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے لیکن اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نفرت اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بھی بنتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اور میڈیا مثبت گفتگو، تحقیق پر مبنی معلومات اور تعمیری خیالات کو فروغ دیں۔ ثقافتی تبادلوں، آن لائن مباحثوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے مختلف معاشروں کے درمیان بہتر روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔تہذیبوں کے مابین مکالمے کا بین الاقوامی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اختلافات انسانی معاشروں کا فطری حصہ ہیں لیکن ان اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے۔ موجودہ دور میں امن، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے درمیان احترام، برداشت اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ یہی اس عالمی دن کا بنیادی مقصد ہے اور یہی ایک بہتر، محفوظ اور پُرامن دنیا کی ضمانت بھی۔

آج کا دن

آج کا دن

فریڈرک بارباروسا کی موت 10 جون 1190ء کورومی سلطنت کا شہنشاہ فریڈرک اول جو بارباروسا کے نام سے مشہور تھا تیسری صلیبی جنگ کے دوران دریائے سیلیف (موجودہ ترکی) عبور کرتے ہوئے ڈوب گیا۔ یہ واقعہ قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک نہایت اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ بارباروسا اس وقت یورپ کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہوتا تھا۔اس کی فوج ہزاروں سپاہیوں پر مشتمل تھی اور یورپ سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی تاہم دریائے سیلیف کو عبور کرتے ہوئے وہ پانی کے تیز بہاؤ کا شکار ہو گیا اور ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ اس کی اچانک موت نے صلیبی فوج کے حوصلے شدید متاثر کیے۔ بہت سے سپاہی واپس لوٹ گئے جبکہ باقی منتشر ہو گئے۔ سیلم وِچ ٹرائلز10 جون 1692ء کو بریجٹ بشپ نامی عورت کو امریکی نوآبادیاتی تاریخ کے مشہور سیلم وِچ ٹرائلز (Salem witch trials) کے دوران پھانسی دی گئی۔ وہ اس سلسلے میں سزائے موت پانے والی پہلی شخص تھی۔یہ مقدمات میساچوسٹس کی نوآبادی میں اس وقت شروع ہوئے جب چند نوجوان لڑکیوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جادو کے اثر میں ہیں۔ اس کے بعد خوف اور افواہوں کا ایسا ماحول پیدا ہوا کہ تقریباً دو سو افراد پر جادوگری کے الزامات لگائے گئے۔ ان میں سے متعدد افراد کو قید کیا گیا اور بیس افراد کو موت کی سزا دی گئی۔بعد ازاں مؤرخین نے اس واقعے کو اجتماعی خوف، مذہبی انتہاپسندی اور عدالتی غلطیوں کی ایک مثال قرار دیا۔ اٹلی دوسری جنگِ عظیم میں شامل 10 جون 1940ء کو اٹلی کے آمر مسولینی نے برطانیہ اور فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور یوں اٹلی باضابطہ طور پر دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہو گیا۔ اس وقت جرمنی یورپ میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہا تھا اور مسولینی کو یقین تھا کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اٹلی کو بھی فتح کے ثمرات حاصل ہوں گے۔جنگ میں شمولیت کے بعد اٹلی نے شمالی افریقہ، بحیرہ روم اور یورپ کے مختلف محاذوں پر کارروائیاں شروع کیں تاہم اٹلی کی فوجی تیاری جرمنی کے مقابلے میں کمزور تھی اور اسے متعدد محاذوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں جرمنی کو اپنے اتحادی کی مدد کے لیے کئی علاقوں میں مداخلت کرنا پڑی۔ اورادورسرگلان قتلِ عام 10 جون 1944ء کو فرانس کے گاؤں اورادورسرگلان (Oradour-s ur-Glane) میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمن فوجیوں نے ایک ہولناک قتلِ عام کیا۔ اس واقعے میں 642 شہریوں کو قتل کر دیا گیا۔گاؤں کو گھیر کر تمام لوگوں کو جمع کیا گیا۔ مردوں کو الگ کر کے گولیوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ خواتین اور بچوں کو ایک چرچ میں بند کر کے آگ لگا دی گئی۔ چند افراد ہی زندہ بچ سکے۔ یہ واقعہ نازی جرائم کی بدترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔جنگ کے بعد فرانسیسی حکومت نے گاؤں کے کھنڈرات کو اسی حالت میں محفوظ رکھا تاکہ آنے والی نسلیں اس سانحے کو یاد رکھ سکیں۔