انسداد سگریٹ نوشی کا عالمی دن اور ’’گناہ ٹیکس‘‘

انسداد سگریٹ نوشی کا عالمی دن اور ’’گناہ ٹیکس‘‘

اسپیشل فیچر

تحریر : خاورنیازی


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں تمباکو نوشی سے ہر سال 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ اس میں 12 لاکھ افراد وہ ہیں جو اپنے اردگرد تمباکو پینے والے افراد کے خارج کئے گئے دھوئیں سے ہلاک ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بچوں کی صحت کے حوالے سے اقوام متحدہ ہی کی ایک رپورٹ میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ سگریٹ کے دھوئیں سے 65 ہزار بچوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں سے بچے بہت جلدی متاثر ہوتے ہیں جو ممکنہ طور پر سماعت میں کمی اور بہرے پن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ تمباکو کی تمام اقسام انسانی صحت کیلئے خطرناک ہیں۔ڈبلیو ایچ او، یورپ کی ایک ٹیکنیکل آفیسر انجیلا سیو بانو کا کہنا ہے کہ، دوسرے لوگوں کے چھوڑے گئے سگریٹ کے دھوئیں میں سات ہزار سے زائد کیمیکل ہوتے ہیں جن میں سے ستر سے زائد کینسر کا باعث بن سکتے ہیں۔
تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کیلئے دوسروں کی جانب چھوڑے گئے دھوئیں سے پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بیس سے تیس فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تمباکو کا دھواں ارد گرد بیٹھے لوگوں کے دلوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ تمباکو نوشی گلے اور منہ کے کینسر کے ساتھ سانس کی متعدد بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ''گرینڈ ویو ریسرچ‘‘ کے ایک تجزیے کے مطابق دنیا بھر میں 2021ء میں تمباکو کی صنعت کا حجم 850 ارب ڈالر تھا۔
تمباکو کا پس منظر
تمباکو بنیادی طور پر ''نکوٹیانا‘‘ نامی پودوں کے تازہ پتوں کی پیداوار ہے۔ اس کی ابتدا امریکہ میں ہوئی اور اسے یورپ میں 1559ء میں فرانس میں پرتگال کے سفیر جین نکوٹ نے متعارف کرایا تھا۔یہ تیزی سے مقبول ہوااور اہم تجارتی فصل بن گئی۔
1900ء کی دہائی میں یہ واضح ہو گیا کہ تمباکو کے استعمال سے دل کے دورے، فالج، کینسر اور سانس کی متعدد بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے باعث تیزی سے بڑھتی ہوئی اموات کی وجہ سے 15 مئی 1987ء کو ڈبلیو ایچ او نے ایک قرار داد منظور کی جس میں 7 اپریل 1988ء کو سگریٹ نوشی کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ بعد ازاں 17 مئی 1989ء کو ہر سال 31 مئی کو '' انسداد تمباکو نوشی‘‘ کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس قرار داد کی منظوری کے بعد اب باقاعدگی سے دنیا بھرمیں یہ دن ''انسداد تمباکو نوشی‘‘کے طور پر منایا جاتا ہے۔
پاکستان میں سگریٹ کا بڑھتا رجحان
پاکستان میں سگریٹ نوش افراد کی تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے جبکہ عالمی سروے رپورٹس کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ شرح کمی کی طرف جارہی ہے۔ایک سروے کے مطابق ہر روز چھ سے پندرہ سال تک عمر کے 1200 پاکستانی بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے۔ نوجوانوں بالخصوص نابالغ افراد میں سگریٹ نوشی کا بڑھتا رجحان ان کی صحت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 3لاکھ 37ہزار افراد براہ راست یا بالواسطہ طور پر تمباکو نوشی کی وجہ سے لگنے والی بیماریوں کا شکار ہو کر مرجاتے ہیں۔
دنیا میں سگریٹ نوشی کی شرح
کیری باتی جزیرہ: یہ جزیرہ سگریٹ نوشی میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔ بحرالکاہل کے اس جزیرے کی آبادی تقریباً ایک لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے 66 فیصد بالغ مرد اور 32 فیصد خواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔

مونٹی نیگرو : اس کی آبادی 6 لاکھ 33ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ اپنے براعظم میں سب سے زیادہ سگریٹ نوش افراد پر مشتمل ہے۔ اس کی 46 فیصد آبادی سگریٹ نوشی کرتی ہے۔
یونان: یونان سگریٹ نوشی کی عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر ہے۔اس کی کل آبادی کے 53 فیصد مرد جبکہ 35 فیصد خواتین سگریٹ نوش ہیں۔
مشرقی تیمور : مشرقی تیمور کی کل آبادی میں سے 80فیصد مرد، جبکہ صرف 6 فیصد خواتین سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔
روس : روس کی کل آبادی کے 60 فیصد مرد جبکہ 15 فیصد خواتین سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔
ڈنمارک : ڈنمارک دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عورتیں اپنے ملک کے مردوں سے زیادہ سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔یہاں عورتوں کا تناسب 19.3 فیصد جبکہ مردوں کا تناسب 18.9 فیصد ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ سگریٹ نوشی
گنتی کے اعتبار سے چین دنیا کا سب سے زیادہ سگریٹ بنانے اور پینے والا ملک ہے۔یہاں کل دنیا کے 33 فیصد سگریٹ نوش پائے جاتے ہیں جبکہ 140 کروڑ سے زیادہ آبادی کے اس ملک میں 30 کروڑ سے زائد افراد یعنی کل آبادی کے 21 فیصد افراد سگریٹ نوش ہیں۔ کل دنیا کے ایک تہائی سگریٹ نوش صرف چین میں رہتے ہیں۔
سب سے کم سگریٹ نوشی کہاں ؟
نائجیریا، ایریٹیریا ، پاناما ، گھانا اور ایتھوپیا وہ ممالک ہیں جہاں دنیا میں سب سے کم سگریٹ نوش بستے ہیں۔
'' گناہ ٹیکس‘‘ کا نفاذ :
عالمی ادارہ صحت پاکستان کو بار بار متنبہ کرتا آرہا ہے کہ 6 سے 15 سال تک کی عمر کے1200 بچے ہر سال سگریٹ نوشی کی لعنت میں پڑرہے ہیں۔ اگرچہ ہمارے اکابرین ہر سال سگریٹ کی قیمتیں بڑھا کر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اب یہ تعداد خودبخود کم ہو جائے گی ، جبکہ یہ قیاس حقیقت کے برعکس ہے ۔اس سلسلے میں 2017ء میں تھائی لینڈ میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب حکومت نے اچانک ملک میں سگریٹ پر ایک نیا ٹیکس عائد کر دیا، جسے وہاں کے میڈیا نے ''گناہ ٹیکس‘‘ کا نام دے ڈالا۔اور اب یہ اسی نام کی شناخت سے جانا جاتا ہے۔ اس نئے ٹیکس کے نفاذ کے بعد مذکورہ بالا اشیاء کی قیمتوں میں 40 فیصد تک اضافہ ہوا تاہم استعمال میں اضافہ رک نہ سکا۔
حرف آخر : حکومت وقت کو چائیے کہ وہ عالمی رپورٹس کے تناظر میں والدین کے ساتھ مل کر نابالغ افراد کی سگریٹ نوشی کی عادت کے ساتھ ہنگامی طور پر آہنی ہاتھوں سے نمٹے تاکہ کم عمر نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مریم زمانی مسجد

مریم زمانی مسجد

تاریخی،ثقافتی اور جمالیاتی ورثہمریم زمانی مسجد جسے بیگم شاہی مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لاہور میں مغل دور کی اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے اور برصغیر کی اسلامی تعمیراتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔لاہور قلعہ کے بالمقابل اکبری دروازے کے باہر 1614ء میں تعمیرکی گئی یہ مسجد مغل شہنشاہ اکبر کی اہلیہ ملکہ مریم الزمانی سے منسوب ہے۔یہ مسجد نہ صرف اپنی تاریخی اہمیت کے باعث ممتاز ہے بلکہ اپنے منفرد فنِ تعمیر، تزئین و آرائش اور محلِ وقوع کے اعتبار سے بھی ایک نمایاں ثقافتی ورثہ ہے۔ شاہی قلعے کے دروازے کے بالکل سامنے واقع ہونے سے قلعے اور اس مسجد کے تعلق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یہ قربت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مسجد شاہی خاندان اور درباری افراد کے لیے بہت اہم رہی ہو گی۔فنِ تعمیرفنِ تعمیر کے لحاظ سے مریم زمانی مسجد مغل طرزِ تعمیر کے ابتدائی ارتقائی دور کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً پچاس میٹر مشرق تا مغرب اور پچاس میٹر شمال تا جنوب ہے، جس سے یہ ایک نسبتاً چھوٹی مگر متوازن اور منظم عمارت دکھائی دیتی ہے۔ اس مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا پانچ محرابی داخلی حصہ ہے جو بعد کے مغل دور میں تعمیر ہونے والی مساجد کا ایک مخصوص اور معیاری عنصر بن گیا۔ یوں یہ مسجد اس طرزِ تعمیر کی اولین مثالوں میں شمار ہوتی ہے جس نے بعد میں مغل مساجد کے ڈیزائن کو متاثر کیا۔تاریخی ماہرین کے مطابق یہ مسجد لودھی اور مغل طرزِ تعمیر کے درمیان ایک عبوری کیفیت کی عکاسی کرتی ہے‘ تاہم اس کی تعمیر چونکہ اس وقت ہوئی جب مغل سلطنت کو قائم ہوئے تقریباً نوے سال ہو چکے تھے اس لیے اسے مغل معماروں کی جانب سے روایتی افغان اور سلطنت دور کے طرزِ تعمیر کی ایک نئی تشریح قرار دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مرکزی پیش طاق (پشتہ نما محراب)، گنبدی ساخت اور کشادہ صحن اس بات کی دلیل ہے کہ مغل معماروں نے سابقہ اسلامی تعمیراتی روایات کو اپناتے ہوئے انہیں اپنے جمالیاتی معیار کے مطابق ڈھالا۔اس مسجد کا تقابلی جائزہ دہلی کی قلعہ کہنہ مسجد سے لیا جائے تو دونوں عمارتوں کے خدوخال میں نمایاں مماثلت نظر آتی ہے۔ قلعہ کہنہ مسجد بھی ایک گنبد دار، پانچ محرابی عمارت ہے جس کے سامنے وسیع صحن موجود ہے۔ یہی خصوصیات مریم زمانی مسجد میں بھی نظر آتی ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ مغل فنِ تعمیر نے سابقہ افغان اور سلطنتی روایت کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا مگر اس میں اپنے مخصوص جمالیاتی عناصر شامل کیے۔تزئین و آرائش تزئین و آرائش کے اعتبار سے مریم زمانی مسجد اپنی نوعیت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس کے اندرونی حصے میں پلاسٹر پر بنے ہوئے مقرنس طرز کے طاق، کثیر رنگی فریسکو پینٹنگ اور باریک نقش و نگار پائے جاتے ہیں۔ جیومیٹریائی ڈیزائن، بیل بوٹے، درختوں کی مثالی تصاویر، گلدان اور پرندوں کی مصوری اس کے داخلی حسن کو مزید نکھارتی ہے۔ اگرچہ بیرونی حصے کی آرائش صدیوں کے موسمی اثرات اور آلودگی کے باعث خاصی متاثر ہو چکی ہے لیکن مرکزی پیش طاق کے اندر موجود مقرنس طاق اور اندرونی فریسکو آج بھی اپنی اصل شان کی جھلک پیش کرتے ہیں۔تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد کی فریسکو آرائش اتنی مشہور تھی کہ لاہور قلعہ کے مشرقی دروازے کو ''مسجدی یا مسیتی دروازہ‘‘ کہا جانے لگا۔ یہ امر اس مسجد کی فنی عظمت اور اس کے ثقافتی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ اندرونی سجاوٹ کا انداز جہانگیر اور ابتدائی شاہجہانی دور کی عمارات سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں سنجیدگی، توازن اور باوقار رنگوں کا استعمال نمایاں ہے۔ اس اسلوب میں وہی رسمی اور شائستہ جمالیات نظر آتی ہیں جو مغل دربار کے ذوقِ فن کی نمائندگی کرتی ہیں۔تعمیراتی خصوصیاتتعمیراتی نقطہ نظر سے یہ مسجد مغل دور کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے جب سلطنت اپنی شناخت مستحکم کر رہی تھی اور فنِ تعمیر میں تجرباتی رجحانات موجود تھے۔ اکبر اعظم کے عہد میں شروع ہونے والی مذہبی اور ثقافتی وسعت نے ایسے منصوبوں کو فروغ دیا جن میں روایت اور جدت کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اسی فکری تسلسل کے تحت مریم زمانی مسجد جیسی عمارات وجود میں آئیں جو نہ صرف عبادت گاہیں تھیں بلکہ ثقافتی علامت بھی بن گئیں۔اگرچہ بعد کے ادوار میں مغل فنِ تعمیر نے عظیم الشان مساجد کی صورت میں اپنی معراج حاصل کی جیسے بادشاہی مسجد لاہور، تاہم مریم زمانی مسجد کو ایک بنیادی اور ابتدائی نمونے کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی سادگی، تناسب اور تاریخی اہمیت اسے مغل فنِ تعمیر کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی مثال بناتی ہے۔آج کے دور میں مریم زمانی مسجد لاہور کے تاریخی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور محققین، سیاحوں اور فوٹو گرافروں کے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے۔ یہ مسجد اس حقیقت کی علامت ہے کہ مغل عہد میں تعمیراتی فن صرف عظمت اور شان و شوکت تک محدود نہیں تھا بلکہ جمالیاتی توازن، روحانیت اور فنی باریکیوں پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔ صدیوں پر محیط موسمی اثرات کے باوجود اس مسجد کی اصل شناخت بڑی حد تک محفوظ ہے، جو اس کی مضبوط تعمیر اور فنی مہارت کا ثبوت ہے۔

آرٹیمس دوم کی لانچ میں تاخیر کیوں؟

آرٹیمس دوم کی لانچ میں تاخیر کیوں؟

NASA کا چاند کے گرد انسانی خلائی مشن آرٹیمس دوم ایک بار پھر تکنیکی پیچیدگیوں کے باعث تاخیر کے خدشات سے دوچار ہو گیا ہے۔ خلائی ادارے کے مطابق راکٹ کے نظام میں ہیلیم کے بہاؤ میں تعطل کی نشاندہی کے بعد انجینئرز تفصیلی تکنیکی جائزہ لے رہے ہیں جس کے نتیجے میں مارچ کی تمام ممکنہ لانچ تاریخیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہ مشن جدید خلائی تاریخ کے اہم ترین منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعے تقریباً نصف صدی بعد انسانوں کو دوبارہ چاند کے قریب بھیجا جائے گا۔ناسا کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق تکنیکی ماہرین نے راکٹ کے اپر سٹیج کے ایک اہم نظام میں ہیلیم کے بہاؤ میں رکاوٹ دیکھی ہے۔ ہیلیم راکٹ کے پریشرائزیشن نظام کا بنیادی جزو ہوتا ہے جو ایندھن کے ٹینکوں کے دباؤ کو مستحکم رکھنے اور انجن کی کارکردگی کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس بہاؤ میں معمولی سی خرابی بھی لانچ کے دوران خطرات پیدا کر سکتی ہے، اس لیے ناسا اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ادارے نے عندیہ دیا ہے کہ راکٹ اور اورائن خلائی جہاز کو لانچ پیڈ سے واپس وہیکل اسمبلی بلڈنگ منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ مزید جانچ، معائنہ اور ممکنہ مرمت کی جا سکے۔ اس عمل کو خلائی اصطلاح میں ''رول بیک‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ عام طور پر اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی اہم تکنیکی نظام میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے۔ اگر رول بیک کا فیصلہ حتمی صورت اختیار کرتا ہے تو مارچ میں لانچ منسوخ ہو سکتی ہیں اور مشن کو اپریل یا اس کے بعد کی تاریخوں تک مؤخر کرنا پڑ سکتا ہے۔آرٹیمس دوم مشن کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ 1972ء کے بعد انسانوں کو پہلی بار چاند کے قریب لے جانے والا مشن ہو گا۔ آخری بار انسان چاند کے مشن پر اپالو 17 کے ذریعے گئے تھے۔ اس کے بعد طویل عرصے تک انسان بردار قمری مشنز معطل رہے اور خلائی تحقیق زیادہ تر مدار یا غیر عملہ مشنز تک محدود رہی۔ اب آرٹیمس پروگرام کے ذریعے ناسا ایک بار پھر قمری تحقیق کو انسانی سطح پر بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔آرٹیمس مشن میں چار خلا بازوں کو تقریباً دس روزہ سفر پر چاند کے گرد بھیجا جائے گا۔ اگرچہ اس مشن میں چاند پر لینڈنگ شامل نہیں تاہم یہ مستقبل کے قمری لینڈنگ مشنز کے لیے عملی بنیاد فراہم کرے گا۔حالیہ ہفتوں میں لانچ سے قبل ہونے والی ویٹ ڈریس ریہرسل یعنی لانچ کی مکمل مشق کے دوران مجموعی پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا گیا تھا۔ اس عمل میں راکٹ کو حقیقی لانچ کی طرح ایندھن سے بھرا جاتا ہے اور ہر چیز کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تاہم اس سے قبل ہونے والے ٹیسٹوں میں مائع ہائیڈروجن کے اخراج، سیلز کی تبدیلی اور لانچ کنٹرول سینٹر کے ساتھ عارضی مواصلاتی خلل جیسے مسائل بھی سامنے آئے تھے۔ ناسا کے مطابق ان مسائل کو انجینئرنگ اصلاحات کے ذریعے بڑی حد تک حل کر لیا گیا مگر ہیلیم سے متعلق حالیہ مسئلہ مزید تجزیے کا تقاضا کرتا ہے۔آرٹیمس دوم مشن میں جدید اورائن خلائی جہاز اور سپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ استعمال کیا جا رہا ہے جو اب تک تیار کیے گئے طاقتور ترین راکٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہ راکٹ گہرے خلا کے مشنز کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے اور مستقبل میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی کے منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ اس مشن کے ذریعے نہ صرف خلا نوردوں کے لیے گہرے خلا کے سفر کے عملی تجربات حاصل ہوں گے بلکہ طویل المدتی خلائی رہائش اور بین الاقوامی خلائی تعاون کی راہ بھی ہموار ہو گی۔مزید برآں، آرٹیمس پروگرام کا ایک طویل المدتی مقصد چاند پر پائیدار انسانی موجودگی قائم کرنا اور وہاں تحقیقی انفراسٹرکچر کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس کے ذریعے مستقبل میں مریخ سمیت دیگر خلائی مشنز کی تیاری میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق چاند کو ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈکے طور پر استعمال کیا جائے گا جہاں نئی ٹیکنالوجی، توانائی کے نظام اور انسانی بقا سے متعلق تجربات کیے جائیں گے۔ناسا اس وقت آرٹیمس اول کے ڈیٹا سمیت تمام سابقہ ٹیسٹ ریکارڈز کا تقابلی جائزہ لے رہا ہے تاکہ ہیلیم کے مسئلے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔

رمضان کے مشروب وپکوان:لقمی سموسہ

رمضان کے مشروب وپکوان:لقمی سموسہ

اجزاء: میدہ ایک کلو، گھی آدھا کلو، قیمہ ایک کلو،مرچ سیاہ، نمک، پیاز،لہسن حسب ضرورت۔ترکیب:میدہ میں گھی ملا کر خوب ملیے اور دودھ سے گوندھئے۔ ایک کلو قیمہ کو دو پیازہ کی طرح پکایئے۔ تیاری کے بعد مصالحہ سادہ تیار کر کے میدہ کی پوریاں بنا کر دوپارہ کر لیجیے اورآدھی پوری میں بھرکر ہر ایک پوری کے دو سموسے بنا لیجیے۔ اگر میوہ ڈالنا ہو تو قیمہ کی بجائے کشمش ثابت اخروٹ، پستہ اور بادام کو کوٹ کر کے بھر دیجیے۔پائن ایپل سن شائناجزاء : انناس کے ٹکڑے ایک پیالی، کینو کا رس دو پیالی، برائون شوگر تین کھانے کے چمچ، کُٹی ہوئی برف حسب پسند۔ترکیب: بلینڈر میں انناس کے ٹکڑے اور ایک پیالی پانی ڈال کر بلینڈ کریں، جب انناس پانی کے ساتھ یکجان ہو جائے تو اس میں برائون شوگر، کینو کا رس اور کٹی ہوئی برف ڈال کر بلینڈ کر لیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!اے آر خاتون رومانی ناولوں کی مصنفہ (1965-1900ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!اے آر خاتون رومانی ناولوں کی مصنفہ (1965-1900ء)

٭... 1900ء میں دہلی میں پیدا ہوئیں، اصل نام امت الرّحمن خاتون تھا۔٭...اس دور کے رواج کے مطابق ان کی تعلیم و تربیت گھر پر مکمل ہوئی۔ وہ ابتدائی عمر ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوق رکھتی تھیں۔ ٭... اے آر خاتون نے اپنے شوق اور ادب میں دلچسپی کو مضمون نگاری کی شکل میں دوسروں کے سامنے رکھا اور حوصلہ افزائی نے انھیں باقاعدہ لکھنے پر آمادہ کیا۔٭...1929ء میں ان کا پہلا ناول ''شمع ‘‘منظرِ عام پر آیاجو برصغیر کے مسلمانوں کی تہذیب اور اقدار کے پس منظر میں تحریر کیا گیا تھا۔ ٭...ان کے کئی ناول اردو ادب میں کلاسیکی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں افشاں،ہالہ،تصویر،شمع،چشمہ،رْمانہ،فرحانہ،زیور،عصمہ،شمع اور پروانہ،دل کی دنیا،محبت ایک خواب،پیار کا پیکر قابل ذکر ہیں۔ ٭...ان کے ناولوں کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ مگر دلکش اسلوب ہے، جو قاری کو ابتدا سے لے کر اختتام تک جکڑے رکھتا ہے۔٭... انہوں نے اپنی کہانیوں میں مشرقی تہذیب اور معاشرتی اقدار کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔٭...انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے اردو ادب میں منفرد پہچان بنائی۔٭...اے آر خاتون کا ناول ''افشاں‘‘ 1970ء کے اواخر میں پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا گیا تھا جو اپنے وقت کا مقبول ترین ڈرامہ ثابت ہوا۔٭...قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آ گئی تھیں اور یہاں بھی تصنیف کا سلسلہ جاری رکھا۔ ٭...24 فروری 1965ء کو ان کا لاہور میں انتقال ہوا۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگ ِ کرنال1739ء میں ہونے والی جنگِ کرنال میں 24فروری کو ایران کے طاقتور حکمران نادر شاہ نے مغل بادشاہ محمد شاہ کو شکست دی۔ یہ جنگ موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر کرنال کے قریب لڑی گئی۔ مغل فوج تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود ناقص حکمت عملی کے باعث کامیاب نہ ہو سکی۔ اس شکست کے نتیجے میں نادر شاہ نے دہلی پر قبضہ کیا اور بے پناہ دولت لوٹ کر ایران لے گیا۔بغداد پیکٹ1955ء میں آج کے دن ''بغداد پیکٹ‘‘ کا قیام ہوا، جس میں ترکی، عراق، پاکستان اور ایران شامل تھے۔ کچھ عرصے بعد اس کا نام بدل کر ''سینٹو‘‘ کر دیا گیا۔ بعد میں ریاستہائے متحدہ امریکا اور عراق بھی اس میں شامل ہو گئے۔ جولائی 1958ء میں عراق میں انقلاب آیا اور نئی حکومت نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس طرح اس کے مرکزی دفاتر بھی بغداد سے انقرہ منتقل ہو گئے۔ چودہ سال فعال رہنے کے بعد یہ تنظیم 16 فروری 1979ء کو معدوم ہو گئی۔ اس کا مقصد وسطی ایشیا میں اشتمالیت کے فروغ کو روکنا تھا۔مصری وزیر اعظم کا قتل24فروری 1945ء کو مصر کے وزیراعظم احمد ماہر پاشا کو پارلیمنٹ میں سرکاری فرمان پڑھنے کے فوراً بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ دوسری جنگ عظیم کے تناظر میں اہم سیاسی اعلان کر رہے تھے۔ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ احمد ماہر پاشا کا قتل مصر کی سیاست میں ایک بڑا سانحہ سمجھا جاتا ہے۔

 شیخ زید جامع مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

شیخ زید جامع مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں واقع شیخ زید جامع مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین تعمیرات اور سیاحوں کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے۔ سفید سنگِ مرمر سے مزین یہ عظیم الشان مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ اتحاد، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔یہ مسجد متحدہ عرب امارات کے بانی صدر شیخ زید بن سلطان النہیان کے وژن کا عملی نمونہ ہے، جن کی خواہش تھی کہ ایک ایسی جامع مسجد تعمیر کی جائے جو اسلامی تہذیب کی خوبصورتی اور وسعتِ نظر کی عکاسی کرے۔ 1996ء میں شروع ہونے والا یہ عظیم منصوبہ 2007ء میں مکمل ہوا۔ مسجد میں بیک وقت تقریباً چالیس ہزار نمازیوں کی گنجائش موجود ہے، جو اسے دنیا کی بڑی مساجد میں شامل کرتی ہے۔شیخ زید مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 82 سفید گنبد اور چار بلند و بالا مینار ہیں جو تقریباً 107 میٹر کی بلندی تک پہنچتے ہیں۔ مرکزی صحن میں سنگِ مرمر پر کی گئی نفیس پھولدار نقش و نگاری دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ مسجد کے اندر نصب عظیم الشان کرسٹل فانوس جرمنی سے تیار کروا کر لائے گئے، جبکہ مرکزی ہال میں بچھا قالین ہاتھ سے بْنے ہوئے دنیا کے بڑے قالینوں میں شمار ہوتا ہے جو ایرانی ماہرین کا تیار کردہ ایک شاہکار ہے۔ یہ مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی مرکز بھی ہے۔ یہاں دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے رہنمائی کے خصوصی انتظامات موجود ہیں تاکہ وہ اسلامی تعلیمات اور فن تعمیر کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ ہو سکیں۔ خاص طور پر غروبِ آفتاب کے وقت مسجد کا منظر، جب سفید گنبد سنہری روشنی میں نہا جاتے ہیں، دلکش اور یادگار ہوتا ہے۔ شیخ زید جامع مسجد دراصل جدید دور میں اسلامی فنِ تعمیر کی نئی جہتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ مسجد اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی روحانیت اور عصری جمالیات ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ ابو ظہبی کی یہ عظیم مسجد آج نہ صرف امارات کی پہچان ہے بلکہ عالمِ اسلام کیلئے فخر کا باعث بھی ہے۔