’’ٹوبیکو ہارم ریڈکشن‘‘

’’ٹوبیکو ہارم ریڈکشن‘‘

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد زابر سعید بدر


جس طرح ایٹمی ہتھیار اور ماحولیاتی آلودگی پوری دنیا کیلئے بڑے خطرات بن چکے ہیں، اسی طرح سگریٹ نوشی بھی ایک ایسا خاموش قاتل ہے جس سے زیادہ تر لوگ پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریاں ہر سال لاکھوں زندگیاں نگل رہی ہیں اور ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ 60 ہزارافراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جو کہ ہمارے ملک کے صحت عامہ کے نظام پر ایک بڑا بوجھ ہے۔
پاکستان میں تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کیلئے کئی اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن یہ اقدامات اس حد تک موثر ثابت نہیں ہو سکے جتنی ہمیں ضرورت ہے۔ تمباکو سے متعلق بیماریوں کی روک تھام کیلئے ایک جامع اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سویڈن کی مثال ہمارے لیے ایک امید کی کرن بن سکتی ہے جہاں تمباکو کے نقصان کو کم کرنے کی حکمت عملی ''Harm Reduction‘‘کے ذریعے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
''ٹوبیکو ہارم ریڈکشن‘‘(THR)ایک اہم حکمت عملی ہے جس کا مقصد تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا ہے۔ جہاں سونگھنے والے تمباکوکا استعمال سگریٹ نوشی کے متبادل کے طور پر کیا گیا۔سویڈن کا یہ اقدام ایک انقلابی موڑ ثابت ہوا جس نے تمباکو نوشی کی شرح کو صرف5فیصد تک محدود کر دیا ہے۔ ماہرین نے اس کامیابی کی بڑی وجہ ''سنوس‘‘ نامی بے دھوئیں تمباکو کو قرار دیا جس نے سگریٹ نوشی سے ہونے والے نقصانات میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔ سویڈن کی اس حکمت عملی نے دنیا بھر میں تمباکو کنٹرول کے ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ تمباکو کے مضر اثرات میں کمی کی حکمت عملی زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں سگریٹ نوشی اور تمباکو کی دیگر مصنوعات کا استعمال بڑے پیمانے پر عام ہے۔ تقریباً23.9ملین (2کروڑ 39لاکھ) افراد باقاعدگی سے سگریٹ نوشی کرتے ہیں، جب کہ15.9ملین افراد دھوئیں کے بغیر تمباکو کا استعمال کرتے ہیں، اور 6.2 فیصد افراد ویپنگ کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کے پیش نظر، مضر اثرات میں کمی کی حکمت عملی کو اپنانا پاکستان کیلئے ایک موثر اور اہم قدم ہو سکتا ہے۔نقصان میں کمی کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو تمباکو کے کم مضر متبادل فراہم کیے جائیں تاکہ صحت کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ سویڈن میں اس حکمت عملی نے ثابت کیا ہے کہ ای سگریٹ، نیکوٹین پاچز اور دیگر کم نقصان دہ مصنوعات کا استعمال تمباکو نوشی کے نقصانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان میں بھی اسی طرح کے اقدامات کیے جائیں تو ماہرین کا کہنا ہے کہ 2020 ء سے 2060 ء کے درمیان تقریباً 1.2ملین زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ جس کا عنوان ہے''Lives Saved: Integrating Harm Reduction into Tobacco Control‘‘ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اگر پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصان میں کمی کی حکمت عملیوں کو تمباکو کنٹرول کی موجودہ پالیسیوں میں شامل کیا جائے، تو یہ تمباکو سے جڑی اموات میں بڑی حد تک کمی لا سکتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اگر نقصان میں کمی کے اقدامات کو پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی تشخیص اور علاج کے ساتھ ملا کر اپنایا جائے تو ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے نقصانات میں کمی کی حکمت عملیوں کو اپنانے کے بعد مختلف ممالک میں لاکھوں زندگیاں بچائی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر، بنگلہ دیش میں اس حکمت عملی کو اپنانے سے 9لاکھ 20 ہزار زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں جبکہ جنوبی افریقہ میں 3لاکھ 20ہزار اور قازقستان میں ایک لاکھ 65ہزار اموات کی روک تھام ممکن ہے۔پاکستان میں تمباکو سے جڑی بیماریوں کو کم کرنے کیلئے ایک مربوط اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ تمباکو کے نقصان دہ اثرات کو کم کرنے والی مصنوعات، جیسے نیکوٹین پاچز، ای سگریٹ، اور دیگر متبادل عوام کو بہتر صحت کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں تمباکو کنٹرول کی موجودہ کوششوں میں نقصان میں کمی کی حکمت عملی کو شامل کرنے سے ہم سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات میں نمایاں کمی دیکھ سکتے ہیں۔وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی تمباکو کنٹرول کی حکمت عملی میں تبدیلی لائے اور عالمی تجربات سے سیکھتے ہوئے نقصان میں کمی کی حکمت عملی کو اپنائے۔
سویڈن کے ماڈل کی کامیابی ہمارے لیے ایک مثال ہے کہ اگر صحیح اقدامات کیے جائیں تو ہم بھی سگریٹ نوشی کی شرح میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں اور اس سے ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان اس وقت تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں ایک نازک موڑ پر ہے۔ سویڈن کی طرح اگر ہم بھی تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصانات میں کمی کی حکمت عملی کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بنائیں اور عوام کو کم مضر متبادل فراہم کریں تو ہم لاکھوں زندگیاں بچا سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں مدد دے گا بلکہ ہمارے صحت عامہ کے نظام پر بوجھ کو بھی کم کرے گا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے تمباکو کنٹرول کے اقدامات کو نئے سرے سے ترتیب دیں اور ایک صحت مند، مضبوط اور روشن مستقبل کی جانب بڑھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سیلفی کرے گی کینسر کے خطرے کی پیشگوئی

سیلفی کرے گی کینسر کے خطرے کی پیشگوئی

سائنس دانوں کا جدید اے آئی نظامطب کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی حیرت انگیز پیشرفت نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے، کیا انسان کے چہرے کی ایک عام سی تصویر یہ اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے کہ کینسر کا مریض کتنی مدت تک زندہ رہ سکتا ہے؟ سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا جدید نظام تیار کیا ہے جو مریض کی سیلفی کا تجزیہ کرکے اس کی حیاتیاتی عمر اور کینسر سے متعلق موت کے خطرے کا اندازہ لگاتا ہے۔ اس تحقیق سے مستقبل میں ڈاکٹروں کو مریض کی حالت سمجھنے اور علاج کے بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی طبی استعمال کیلئے مکمل طور پر تیار نہیں اور اس کی افادیت کی مزید جانچ ضروری ہے۔یہ نظام مریض کے چہرے کا تجزیہ کرکے ان افراد کی نشاندہی کر سکتا ہے جنہیں موت کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ آزمائشوں کے دوران زیادہ خطرے والے گروپ میں شامل نصف سے زائد مریض 90 دن کے اندر انتقال کر گئے، جبکہ اس کے برعکس کم خطرے والے گروپ میں اسی عرصے کے دوران صرف دو فیصد مریضوں کی موت ہوئی۔ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ کن مریضوں کی جسمانی حالت کینسر کے سخت علاج کی متحمل ہو سکتی ہے اور کن مریضوں کیلئے نسبتاً محتاط طریقہ علاج اختیار کرنا ضروری ہے۔''فیس سروائیول‘‘ (FaceSurvival) نامی یہ نظام امریکا کے طبی تحقیقی ادارے میس جنرل بریگھم (Mass General Brigham)کے محققین نے تیار کیا ہے۔یہ تحقیق سابقہ مطالعات کی بنیاد پر کی گئی ہے، جن سے ظاہر ہوا تھا کہ کینسر کے وہ مریض جو اپنی اصل عمر سے زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیتے ہیں، ان میں موت کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔تاہم، مریض کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے بجائے مصنوعی ذہانت کا یہ نیا نظام چہرے کے ان معمولی اور باریک نشانات کا تجزیہ کرتا ہے جو مریض کے زندہ رہنے کے امکانات کے بارے میں اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔یہ تحقیق علاج شروع کرنے سے پہلے مریضوں کی حالت کا جائزہ لینے کے طریقہ کار میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ڈاکٹر پہلے ہی مریض کو دیکھ کر اس کی صحت کے بارے میں فوری اندازہ لگاتے ہیں۔ اس طریقے کو ''آئی بال ٹیسٹ‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مریض بظاہر کتنا کمزور یا ناتواں دکھائی دیتا ہے۔بڑی آنت اور مقعد کی سرجری کی ماہر اور تحقیق کی شریک مصنف ڈاکٹر گریس لی کے مطابق معالجین پہلے ہی مریض کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کی صحت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ہمارا تیار کردہ نظام اس تجرباتی اندازے کو ایک باقاعدہ اور قابلِ پیمائش طریقے میں تبدیل کرنے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے، جس سے بیماری کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کی درستگی اور طبی فیصلوں کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے‘‘۔اس ٹیکنالوجی کی تیاری کیلئے محققین نے مصنوعی ذہانت کے نظام کو 4 کروڑ سے زائد عوامی طور پر دستیاب چہروں کی تصاویر کے ذریعے تربیت دی۔ اس کے بعد 34 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں کی تصاویر استعمال کر کے '' فیس سروائیول‘‘ کو موت کے خطرے کی پیش گوئی کرنا سکھایا گیا۔بعدازاں 3 ہزار 820 مریضوں کے ایک الگ گروپ پر اس نظام کی آزمائش کی گئی۔ اس دوران مصنوعی ذہانت نے ہر مریض کو صفر سے ایک کے درمیان خطرے کا اسکور دیا، جس کی مدد سے ان کیلئے موت کے خطرے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔سب سے زیادہ خطرے کا اسکور حاصل کرنے والے 122 مریضوں میں سے 64 تین ماہ کے اندر انتقال کر گئے، جبکہ کم ترین خطرے والے گروپ کے 975 مریضوں میں سے صرف 20 کی موت ہوئی۔مجموعی طور پر، سب سے زیادہ خطرے والے گروپ کے ایک چوتھائی مریضوں میں موت کا امکان، کم ترین خطرے والے گروپ کے مریضوں کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ تھا۔ یہ فرق مریضوں کی عمر، جنس اور کینسر کی قسم کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی برقرار رہا۔ محققین نے ان نتائج کی جانچ نیدرلینڈز کے تقریباً 4 ہزار 900 کینسر کے مریضوں پر بھی کی۔سائنس دانوں نے ''ایف اے ایچ آر فیس ایج‘‘ کے نام سے ایک دوسرا نظام بھی تیار کیاہے، جو چہرے کی تصویر سے کسی شخص کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتا ہے۔ عام عمر کے برعکس، حیاتیاتی عمر سے مراد یہ ہے کہ جسم پر بڑھتی عمر کے اثرات کس حد تک مرتب ہو چکے ہیں۔اس سے قبل ایک تحقیق میں ٹیم نے ہالی وڈ کے دو اداکاروں کی مثالوں کے ذریعے اس تصور کو واضح کیا تھا۔ دونوں کی تصاویر اس وقت لی گئی تھیں جب ان کی عمر 50 سال تھی۔فلم ''اینٹ مین‘‘ اور ''دی 40 ایئر اولڈ ورجن‘‘ کے اداکار پال رڈ، جن کی موجودہ عمر 57 سال ہے، کی حیاتیاتی عمر محض 42.6 سال لگائی گئی۔ اس کے برعکس، 1985ء کی فلم ''کوکون‘‘ میں اداکاری کرنے والے ول فورڈ برملے، جن کا انتقال 2020ء میں 85 سال کی عمر میں ہوا، کی حیاتیاتی عمر 69 سال بتائی گئی تھی۔تازہ تحقیق میں سائنس دانوں نے حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے والے اس نئے نظام کو 38 ہزار سے زائد کینسر کے مریضوں پر آزمایا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن مریضوں کے چہرے ان کی اصل عمر سے کم از کم پانچ سال زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیتے تھے، ان میں موت کا خطرہ 21 فیصد زیادہ تھا۔ اس کے برعکس، جو مریض اپنی حقیقی عمر سے پانچ سال چھوٹے دکھائی دیتے تھے، ان میں موت کا خطرہ 17 فیصد کم پایا گیا۔تحقیق میں تمباکو نوشی اور منشیات کے استعمال کا تعلق بھی عمر سے زیادہ بوڑھا دکھائی دینے والے چہرے سے سامنے آیا۔ ان عوامل میں تمباکو نوشی کا تعلق سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ موجودہ سگریٹ نوش افراد کے چہرے سابقہ سگریٹ نوشوں اور کبھی سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں حیاتیاتی طور پر زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دینے کا رجحان رکھتے تھے۔محققین کا خیال ہے کہ مستقبل میں ان دونوں نظاموں کو بیک وقت استعمال کرکے ڈاکٹروں کو مریضوں کی حالت کا زیادہ تیزی اور کم لاگت سے جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔تاہم، یہ ٹیکنالوجی ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور اسپتالوں میں اس کے استعمال سے پہلے مزید تحقیق ضروری ہے۔ سائنسدان یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا پلاسٹک سرجری اور چہرے کی کاسمیٹک تبدیلیاں اس نظام کی درستگی کو متاثر کرتی ہیں یا نہیں۔اس کے علاوہ، اگرچہ مصنوعی ذہانت زیادہ خطرے والے مریضوں کی نشاندہی کر سکتی ہے، لیکن ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس نظام کی مدد سے علاج کے فیصلے کرنے سے مریضوں کے زندہ رہنے کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں۔

دنیا کی سب سے پتلی گاڑی

دنیا کی سب سے پتلی گاڑی

انجینئرنگ کی مہارت کانمونہگاڑی کا تصور ذہن میں آتے ہی ایک ایسی سواری کا خیال آتا ہے جس میں ڈرائیور آرام سے بیٹھ کر سفر کرسکے، لیکن اگر کوئی گاڑی محض 50 سینٹی میٹر چوڑی ہو تو اسے دیکھ کر حیران ہونا فطری ہے۔ جدید دور میں نت نئے تجربات اور غیر معمولی ایجادات نے آٹو موبائل کی دنیا کو بھی حیرت انگیز بنا دیا ہے۔ اٹلی کے ایک مکینک نے پرانی گاڑی کو اس انداز میں تبدیل کیا کہ وہ دنیا کی سب سے کم چوڑائی والی قابل ڈرائیونگ گاڑی بن گئی۔ یہ انوکھی سواری نہ صرف انجینئرنگ کی مہارت کا نمونہ ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی بھی دلچسپ مثال ہے۔ اس گاڑی کی لمبائی محض 3.38 میٹر (11 فٹ) اور چوڑائی 1.46 میٹر (4 فٹ 9 انچ) تھی۔ اسے اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ اٹلی کے قدیم شہروں کی تنگ اور پتھر کی اینٹوں سے بنی گلیوں میں باآسانی گزر سکے۔تاہم، اطالوی مکینک آندریا مارازی کے خیال میں اس پھرتیلی اور چھوٹی گاڑی کی جسامت مزید کم کی جا سکتی تھی۔ 2024ء میں جب 1993ء کی ایک اچھی حالت میں موجود فیٹ پانڈا گاڑی ان کے خاندانی کباڑ خانے میں لائی گئی تو آندریا نے اسے ایک نئی زندگی دینے کا فیصلہ کیا۔ان کا مقصد دنیا کی سب سے پتلی قابلِ ڈرائیونگ گاڑی تیار کرنا تھا۔کمپنی نے 1980ء سے 2003ء کے درمیان پانڈا ماڈل کی تقریباً 45 لاکھ گاڑیاں تیار کیں۔ اٹلی میں اس گاڑی کے بیشمار مداح ہیں۔ آندریا مارازی بھی کئی برس سے قریبی قصبے پانڈینو میں منعقد ہونے والے ''پانڈا اے پانڈینو‘‘ نامی اجتماع میں شرکت کرتے آ رہے ہیں، جہاں اس گاڑی کے شوقین افراد جمع ہوتے ہیں۔اگلے سال ہونے والی کار نمائش کو مدنظر رکھتے ہوئے آندریا نے ایک منفرد منصوبے کا خاکہ تیار کیا، جسے انہوں نے ''پانڈا پر اونو‘‘ (ایک شخص کیلئے پانڈا) کا نام دیا۔ اس منصوبے کے تحت پہلے ہی مختصر جسامت والی گاڑی کی چوڑائی گھٹا کر محض 50.2 سینٹی میٹر (ایک فٹ 7.6 انچ) کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آندریا کی تیار کردہ یہ حیرت انگیز چھوٹی گاڑی گنیز ورلڈ ریکارڈز 2027ء کی کتاب میں بھی شامل کی گئی ہے۔''پانڈا پر اونو‘‘ کی تیاریگزشتہ کئی برسوں کے دوران آٹو ڈیمو لیزیونے مارازی نامی خاندانی کباڑ خانے سے فیٹ پانڈا کی سیکڑوں گاڑیاں گزر چکی تھیں، اس لیے آندریا مارازی اس گاڑی کے ڈیزائن اور اس کی ساخت سے بخوبی واقف تھے۔انہوں نے سب سے پہلے گاڑی کے دروازے اور اطراف میں لگے پینل احتیاط سے اتارے۔ اس کے بعد گاڑی کے درمیانی حصے کو کاٹ کر اس کے مختلف حصوں کو دوبارہ ویلڈنگ کے ذریعے جوڑنے کا کام شروع کیا۔ آندریا نے گاڑی کے اگلے بونٹ، چھت اور پچھلے دروازے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت مخصوص باڈی ورک اور شیشے بھی تیار کیے، تاہم گاڑی کے باقی حصوں کو ان کی اصل حالت میں برقرار رکھا۔اپنی غیرمعمولی تبدیلیوں کے باوجود ''پانڈا پراونو‘‘ کی 90 فیصد ساخت انہی پرزوں سے تیار کی گئی ہے جو اصل گاڑی میں موجود تھے۔ اس منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ گاڑی کے فریم کو کاٹنا تھا، تاکہ دونوں حصوں کو دوبارہ جوڑنے پر وہ مکمل طور پر متناسب اور متوازن رہیں۔یہ گاڑی محض ایک خالی ڈھانچا نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک چھوٹی برقی موٹر، بیٹری پیک اور مختصر جسامت کا اسٹیئرنگ نظام بھی نصب کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی ہیڈلائٹس اور اشارے بھی کام کرتے ہیں۔اس گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار صرف 15 کلومیٹر فی گھنٹہ (9.3 میل فی گھنٹہ) ہے۔ تاہم، اس کی کم رفتار مناسب ہی ہے، کیونکہ موڑ کاٹتے وقت یہ زیادہ مستحکم نہیں رہتی۔پانڈا گاڑیوں کی حیرت انگیز دنیا''پانڈا پراونو‘‘ اٹلی میں فیٹ پانڈا گاڑیوں کے نت نئے اور منفرد تجربات کی صرف ایک مثال ہے۔ ان پرانی گاڑیوں کی سادہ میکانکی ساخت اور کباڑ خانوں میں آسانی سے دستیابی نے شوقین افراد کیلئے ان میں مختلف تبدیلیاں کرنا ممکن بنا دیا ہے۔ یوں اٹلی میں پانڈا گاڑیوں کی ایک دلچسپ دنیا آباد ہو چکی ہے۔پانڈینو میں منعقد ہونے والی نمائشوں میں پانڈا کی کئی منفرد شکلیں بھی پیش کی جا چکی ہیں۔ ان میں ''پانڈا کورٹا‘‘ (مختصر پانڈا) بھی شامل ہے، جس کے پہیوں کے درمیان فاصلہ صرف ایک میٹر (3 فٹ 3.3 انچ) ہے۔ اس گاڑی کی ایک اور خاص بات اس کی انتہائی کم بلندی ہے، جسے دنیا کی سب سے کم بلندی والی قابلِ ڈرائیونگ گاڑی کا ریکارڈ بھی حاصل ہے۔یہ منفرد گاڑی آندریا مارازی کے دوستوں کوکی روڈی، میٹیو مارزیٹی اور نکولا گواڈانین نے تیار کی۔ یہ تینوں سوشل میڈیا پر مشترکہ طور پر ''کارماگیڈن‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی تخلیقات ظاہر کرتی ہیں کہ پرانی گاڑیوں کو تخلیقی صلاحیتوں اور فنی مہارت سے کس قدر حیرت انگیز شکل دی جا سکتی ہے۔اب اگلا منصوبہ کیا ہے؟آندریا مارازی کا رواں سال کا بڑا منصوبہ فیٹ پانڈا گاڑی کو 1980ء کی دہائی کے لینڈینی ٹریکٹر کے ڈرائیو ٹرین نظام کے ساتھ جوڑنا تھا، تاکہ اٹلی کے مخصوص انداز کا ایک دیوہیکل مونسٹر ٹرک تیار کیا جا سکے۔ دوسری جانب، ان کے دوستوں نے موسمِ گرما کے دوران کرسلر پی ٹی کروزر گاڑی کو ایک موٹر بوٹ میں تبدیل کرنے کا تجربہ کیا۔آندریا اب بھی عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے نئے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی کتاب میں جگہ پانے کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں شامل ہونا ان کیلئے ایک اعزاز ہے اور وہ اس کامیابی پر بے حد پرجوش ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

دنیا کا طویل ترین سمندری پل کا افتتاح24 اکتوبر 2018ء کو دنیا کے طویل ترین سمندری پل، ہانگ کانگ، ژوہائی اور مکاؤ کو ملانے والے پل کو عوامی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ یہ عظیم الشان منصوبہ چین کے بنیادی ڈھانچے اور جدید انجینئرنگ کا ایک غیرمعمولی شاہکار ہے۔ اس پل کی تعمیر سے تین اہم علاقوں کے درمیان زمینی رابطہ آسان ہوا اور سفر کے دورانیے میں نمایاں کمی آئی۔ یہ پل سمندر کے اوپر تعمیر ہونے والے طویل ترین رابطہ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔چین کے پہلے قمری سیٹلائٹ کی روانگی24 اکتوبر 2007ء کو چین نے اپنے قمری تحقیقاتی پروگرام کے پہلے سیٹلائٹ ''چانگ ای ون‘‘ کو خلا میں روانہ کیا۔ اسے چین کے صوبے سیچوان میں واقع شی چانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا۔اس مشن کا بنیادی مقصد چاند کی سطح، ساخت اور جغرافیائی خصوصیات کا مطالعہ کرنا تھا۔ اس کامیابی نے چین کے خلائی تحقیقاتی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کی اور چاند کی تحقیق کیلئے مستقبل کے مزید مشنز کی راہ ہموار کی۔نیاگرا آبشار سے بیرل میں گرنے والی پہلی خاتون24 اکتوبر 1901ء کو امریکی خاتون اینی ایڈسن ٹیلر دنیا کی پہلی شخصیت بنیں جنہوں نے لکڑی کے ایک بڑے بیرل میں بیٹھ کر نیاگرا آبشار سے نیچے گرنے کا خطرناک کارنامہ انجام دیا۔ اس وقت ان کی عمر 63 سال تھی۔ انہوں نے یہ مہم شہرت اور مالی فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے اختیار کی تھی۔ بیرل کو خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا تاکہ وہ پانی کے شدید دباؤ اور بلندی سے گرنے کے باوجود محفوظ رہ سکیں۔ اس مہم کے بعد وہ دنیا بھر میں مشہور ہوگئیں۔جنگ عظیم اوّل: وٹوریو وینیٹو میں اٹلی کی فتح24 اکتوبر 1918ء کو پہلی جنگ عظیم کے دوران اٹلی نے وٹوریو وینیٹو کے محاذ پر آسٹرو ہنگری افواج کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس جنگ میں اطالوی فوج نے اہم کامیابی حاصل کی، جس نے آسٹرو ہنگری سلطنت کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ معرکہ پہلی جنگ عظیم کے آخری مراحل میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گیا۔ اس شکست کے بعد آسٹرو ہنگری سلطنت کا شیرازہ بکھرنے لگا اور چند ہی دنوں بعد اس نے اٹلی کے ساتھ جنگ بندی کے لیے اقدامات کیے۔بیکانور خلائی مرکز میں آتش زدگی، سات افراد ہلاک24 اکتوبر 1963ء کو سوویت یونین کے بیکانور خلائی مرکز میں ''آر 9 ڈیسنا میزائل‘‘ سے آکسیجن کے اخراج کے باعث خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے میں سات افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آکسیجن کے اخراج نے آگ لگنے کے خطرے کو بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں خلائی مرکز میں موجود اہلکاروں کو جان لیوا صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ واقعہ خلائی تحقیق اور میزائل ٹیکنالوجی کی تاریخ کے اہم حادثات میں شمار ہوتا ہے۔

شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

انسانی وقار کسی عہدے، دولت، رنگ، نسل یا سماجی مرتبے کا محتاج نہیں، یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی سے زیادہ اس رویے سے ہوتی ہے جو اس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ کسی معاشرے میں انسان کی عزت کو اس کی حیثیت اور دولت کے بجائے اس کی انسانیت کی بنیاد پر تسلیم کیا جاتا ہے تو وہاں حقیقی ترقی، امن اور سماجی ہم آہنگی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔'عالمی یومِ انسانی وقار‘ جو کہ اکتوبر کے تیسرے بدھ کو منایا جاتا ہے، اسی بنیادی انسانی قدر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کا ہر فرد عزت، احترام اور مساوی سلوک کا مستحق ہے۔انسانی وقار کا مفہوم اور اہمیتوقار محض ایک لفظ نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی بنیادی قدر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ایک باعزت زندگی گزارنے، اپنی رائے کا اظہار کرنے، اپنے حقوق سے فائدہ اٹھانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کسی شخص کو اس کی غربت، جسمانی معذوری یا سماجی حیثیت کی وجہ سے کمتر سمجھنا انسانی وقار کے منافی ہے۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا، وہاں نفرت، استحصال، ناانصافی اور تصادم نے جنم لیا۔ اس کے برعکس جن معاشروں نے انسانی عزت، قانون کی بالادستی اور مساوات کو فروغ دیا، وہاں سماجی استحکام اور باہمی اعتماد کو تقویت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی وقار کا تحفظ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں بھی انسانی وقار اور تمام انسانوں کے مساوی حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس اصول کی روشنی میں ہر ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جن میں کسی انسان کی تذلیل نہ ہو اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا مناسب موقع میسر آئے۔معاشرتی رویے اور احترامِ انسانیتانسانی وقار کا اصل امتحان روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے۔ ہم اکثر بڑے بڑے اصولوں کی بات کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں اپنے سے کمزور افراد کے ساتھ ہمارا رویہ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کر دیتا ہے۔کسی شخص کو اس کی مالی حیثیت کی وجہ سے حقیر سمجھنا، کسی کمزور کا مذاق اڑانا، عوامی مقامات پر کسی کی تضحیک کرنا یا اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کی کردار کشی کرنا ایسے رویے ہیں جو انسانی وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے تضحیک، توہین اور کردار کشی کو عام کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ کسی کی تصویر یا ویڈیو کو مذاق کا نشانہ بنانا، بغیر تصدیق الزام لگانا اور ذاتی معلومات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ کسی کی عزت اور نجی زندگی پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی گفتگو، تحریر اور ڈیجیٹل سرگرمیوں میں شائستگی کو فروغ دیں۔ اختلاف ضرور کیا جائے مگر دلیل کے ساتھ، تنقید ضرور کی جائے مگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر۔ پاکستان میں انسانی وقار کے تقاضےپاکستانی معاشرے میں انسانی وقار کے تحفظ کی اہمیت کئی حوالوں سے نمایاں ہے۔ ہمارے ہاں غربت، طبقاتی فرق، صنفی امتیاز، کم عمر بچوں سے مشقت، ملازمت کے مقامات پر نامناسب رویے اور بعض کمزور طبقات کے حقوق سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ان پر مؤثر عمل درآمد اور معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی بھی ضروری ہے۔آئینِ پاکستان شہریوں کی مساوات، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو اہمیت دیتا ہے۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ ہر شہری کو قانون کے تحت عزت و انصاف ملے اور کسی شخص کے ساتھ اس کی معاشی یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ سرکاری اداروں، تعلیمی مراکز، ہسپتالوں اور کام کی جگہوں پر ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں ہر فرد کی بات سنی جائے، اس کے حقوق کا احترام کیا جائے اور اس کے ساتھ منصفانہ برتاؤ ہو۔خصوصی افراد، بزرگوں، خواتین، بچوں اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی بھی انسانی وقار کے تحفظ کا حصہ ہے۔اس مقصد کے حصول میں خاندان، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، مذہبی رہنماؤں اور ریاستی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے یہ سکھانا ضروری ہے کہ کسی انسان کی عزت اس کے لباس، زبان، دولت یا عہدے سے متعین نہیں ہوتی۔تعلیم، نوجوان اور بہتر مستقبلانسانی وقار کے فروغ میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا یا روزگار کے مواقع پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ذمہ دار، باشعور اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والا شہری بنانا بھی ہے۔ تعلیمی اداروں میں برداشت، مساوات، ہمدردی اور اختلافِ رائے کے احترام کو عملی طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔نوجوان اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ مستقبل کے معاشرے کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔ وقار کا آغاز اپنے رویے سےعالمی یومِ انسانی وقار ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دوسروں کی عزت کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، محنت کش کی خدمات کو تسلیم کرنا، کمزور کے حق میں آواز اٹھانا، اختلاف رکھنے والے شخص کی بات سننا اور کسی کی تضحیک سے گریز کرنا ایسے عملی اقدامات ہیں جو انسانی وقار کو مضبوط بناتے ہیں۔بہتر معاشرے کی تعمیر اس وقت ممکن ہے جب عزت و احترام ہر انسان کا حق سمجھا جائے۔ اگر ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر انسانی وقار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ایک زیادہ منصفانہ، پرامن اور ہمدرد معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

سپرال نینو

سپرال نینو

عالمی ماحولیاتی نظام کیلئے نیا خطرہقدرتی موسمیاتی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیاں کبھی کبھار پوری دنیا کے موسم، زراعت، سمندری حیات اور انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ال نینو بھی ایسا ہی ایک قدرتی عمل ہے، لیکن 2026ء میں اس کے غیر معمولی طور پر طاقتور ہونے کے خدشات نے سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات کی تشویش بڑھا دی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ ال نینو انتہائی شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف درجہ حرارت میں اضافے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں ماحولیاتی توازن، جنگلی حیات اور انسانی خوراک کے وسائل بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کی 8 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ال نینو مضبوط ہو رہا ہے اور جنوری سے مارچ 2027 ء تک اس کے شدید یا انتہائی شدید رہنے کا امکان نمایاں ہے۔ تاہم اس کی شدت اور مختلف علاقوں پر اس کے اثرات کے بارے میں پیش گوئیوں کو مسلسل نئے مشاہدات کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے۔ال نینو اور سپر ال نینو کیا ہے؟ال نینو بحرالکاہل کے خطِ استوا کے قریب سمندر کی سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کے موسمیاتی عمل کو کہا جاتا ہے۔ اس تبدیلی سے سمندر اور فضا کے درمیان حرارت کا تبادلہ، ہواؤں کی سمت اور بارش کے معمولات متاثر ہوتے ہیں نتیجتاً دنیا کے ایک حصے میں خشک سالی ہو تی ہے جبکہ دوسرے حصے میں غیر معمولی بارشیں اور سیلاب آ سکتے ہیں۔جب بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے بہت زیادہ بڑھ جائے اور اس کے ساتھ فضائی گردش میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں تو اسے سپر ال نینو کہا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ زمین پہلے ہی انسانی سرگرمیوں، بالخصوص فوسل فیول کے استعمال کے باعث گرم ہو رہی ہے۔ ایسے میں ال نینو کی اضافی حرارت عالمی درجہ حرارت کو مزید بلند کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اس رجحان کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ہر علاقے میں یکساں گرمی یا خشک سالی ہوگی۔ اس کے اثرات خطے، موسم اور سمندر و فضا کی دیگر تبدیلیوں کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ بحری اور جنگلی حیات پر اثرات سپر ال نینو کے ممکنہ اثرات میں سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والا نقصان خاص طور پر تشویشناک ہے۔ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنے سے مرجان کی چٹانیں متاثر ہوتی ہیں، اس عمل کو کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔مرجان کی چٹانیں بے شمار مچھلیوں اور دوسرے سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے جگہ فراہم کرتی ہیں۔ ان کی تباہی سے پورا غذائی سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گرم پانی میں غذائی اجزا کی فراہمی اور سمندری جانداروں کی نقل مکانی میں تبدیلیاں مچھلیوں کی آبادی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔کہیں خشک سالی، کہیں سیلاب اور کہیں آگال نینو کے اثرات زمین پر شدید نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہونے کے باعث پانی کی قلت، فصلوں کی تباہی اور جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انڈونیشیا جیسے علاقوں میں خشک پیٹ لینڈز اور جنگلات میں آگ لگنے سے بڑے پیمانے پر دھواں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو تی ہے۔ اس سے انسانی صحت اور ماحول دونوں متاثر ہوتے ہیں۔اس کے برعکس جنوبی امریکہ کے ساحل اور مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ تمام اثرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنگلات کی آگ سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ کرتی ہیں جبکہ پہلے سے کمزور ماحولیاتی نظام شدیدموسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں۔ تاہم ہر آفت کو صرف ال نینو سے منسوب کرنا درست نہیں؛ مقامی حالات، انسانی سرگرمیاں اور طویل مدتی عالمی حدت بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کیلئے سبق پاکستان میں ال نینو کے اثرات خاص طور پر مون سون، پانی کی دستیابی، زراعت اور گرمی کی شدت کے حوالے سے اہم ہو سکتے ہیں۔ ماضی کے موسمیاتی مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ال نینو جنوبی ایشیا کے مون سون پر اثر انداز ہو تا ہے لیکن اس کا نتیجہ ہر مرتبہ یکساں نہیں ہوتا۔ کہیں بارشوں میں کمی ہو سکتی ہے تو کہیں مقامی موسمی نظام کے باعث شدید بارشیں بھی ہو سکتی ہیں۔اگر بارشیں کم ہوں تو پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں آب پاشی کی ضرورت بڑھ سکتی ہے، زیرِ زمین پانی پر دباؤ پڑتا ہے اور گندم سمیت اہم فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو تا ہے۔ان حالات میں بروقت موسمی پیشگوئی، پانی کا محتاط استعمال، فصلوں کی منصوبہ بندی اور کسانوں کو درست معلومات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ موسمیاتی نگرانی کے نظام مضبوط کریں، خشک سالی اور سیلاب کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں، جنگلات اور آبی وسائل کی حفاظت کریں اور ماحولیاتی نظام کی بحالی پر سرمایہ کاری بڑھائیں۔ طویل مدت میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے۔سپر ال نینو ایک قدرتی رجحان ہے مگر اس کے ممکنہ نقصانات کا پیمانہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ انسان اور معاشرے اس کے لیے کتنے تیار ہیں۔ بروقت سائنسی معلومات، مؤثر منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ذریعے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اصل چیلنج صرف ایک طاقتور موسمیاتی واقعے کا سامنا کرنا نہیں بلکہ بدلتی ہوئی آب و ہوا میں زمین کے نازک ماحولیاتی توازن کو محفوظ رکھنا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ ٹرافلگر جنگِ ٹرافلگر یورپ کی بحری تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس زمانے میں فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ یورپ پر اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا تھا اور برطانیہ پر حملے کے امکانات بھی زیرِ غور تھے۔ اس مقصد کے لیے فرانسیسی اور ہسپانوی بحری بیڑوں کی مشترکہ طاقت اہم سمجھی جاتی تھی۔ 21 اکتوبر 1805ء کو برطانوی بحریہ کا مقابلہ فرانسیسی اور ہسپانوی بحری افواج سے ہوا۔ برطانوی بیڑے کی قیادت ایڈمرل ہوریشیو نیلسن کر رہے تھے۔ انہوں نے روایتی جنگی حکمتِ عملی سے ہٹ کر اپنے جہازوں کو دو کالموں میں آگے بڑھایا اور دشمن کی صفوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ برطانیہ کو اس جنگ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی لیکن نیلسن جنگ کے دوران زخمی ہوئے اور بعد میں وفات پا گئے۔ تھامس ایڈیسن کا برقی بلب21 اکتوبر 1879ء کو امریکی موجد تھامس الوا ایڈیسن نے برقی روشنی کی ترقی میں ایک اہم کامیابی حاصل کی۔ انیسویں صدی میں گھروں، دکانوں اور کارخانوں میں روشنی کے لیے تیل کے چراغ اور گیس کے لیمپ عام تھے۔ ایڈیسن اور ان کی ٹیم ایک ایسا برقی بلب تیار کرنے پر کام کر رہے تھے جو مناسب مدت تک روشن رہ سکے۔ اس روز ان کی تجربہ گاہ میں کاربنائز کیے گئے دھاگے پر مشتمل ایک بلب کامیابی سے روشن ہوا اور کئی گھنٹوں تک جلتا رہا۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایڈیسن برقی بلب کے پہلے موجد نہیں تھے؛ ان سے پہلے بھی مختلف موجد اس ٹیکنالوجی پر کام کر چکے تھے۔ تاہم ان کی کوششوں نے بلب کو زیادہ عملی اور تجارتی طور پر قابلِ استعمال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آچن پر اتحادیوں کا قبضہدوسری جنگِ عظیم کے آخری مرحلے میں 21 اکتوبر 1944ء کو امریکی افواج نے جرمنی کے شہر آچن پر قبضہ مکمل کر لیا۔ آچن مغربی جرمنی میں واقع ایک تاریخی شہر ہے جو اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے اتحادی افواج کی پیش قدمی کے لیے اہم تھا۔ جون 1944ء میں نارمنڈی کے ساحل پر اتحادی افواج کے اترنے کے بعد مغربی یورپ میں جرمن فوجوں کے خلاف کارروائیاں تیز ہو گئی تھیں۔ امریکی فوجیوں نے آچن کے دفاع کے لیے موجود جرمن دستوں کے خلاف شدید لڑائی لڑی۔ تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شدید جنگ کے بعد جرمن مزاحمت ختم ہوئی اور شہر اتحادیوں کے قبضے میں آ گیا۔ آچن مغربی محاذ پر اتحادی افواج کے ہاتھوں قبضہ کیا جانے والا پہلا بڑا جرمن شہر تھا۔ فرانس میں خواتین کا ووٹ 21 اکتوبر 1945ء فرانس کی جمہوری تاریخ میں خواتین کے سیاسی حقوق کے حوالے سے ایک اہم دن تھا۔ اس روز فرانس میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے اور فرانسیسی خواتین نے پہلی مرتبہ قومی سطح کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کیا۔ فرانس میں خواتین کو ووٹ کا حق دینے کا قانونی فیصلہ اپریل 1944ء میں جنرل ڈیگال کی قیادت میں قائم عارضی حکومت کے دور میں کیا گیا تھا۔ تاہم اس حق کا عملی استعمال جنگِ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد 1945ء میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر سامنے آیا۔ اس پیش رفت کے بعد فرانسیسی خواتین پارلیمانی سیاست اور عوامی زندگی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہوئیں۔ ایبرفان کا المناک حادثہ21 اکتوبر 1966ء کو ویلز کے گاؤں ایبرفان میں ایک ایسا المناک حادثہ پیش آیا جس نے پورے برطانیہ کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ اس علاقے میں کوئلے کی کانوں سے نکلنے والا فضلہ اور مٹی ایک بڑے ڈھیر کی صورت میں جمع کی جاتی تھی۔ مسلسل بارش کے باعث کان کے فضلے کا ایک بڑا حصہ غیر مستحکم ہو گیا اور اچانک ڈھلوان سے نیچے گاؤں کی طرف بہہ نکلا۔ مٹی اور کوئلے کے اس تودے نے راستے میں موجود عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پینٹگلاس جونیئر سکول بھی اس کی زد میں آ گیا۔ حادثے میں مجموعی طور پر 144 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 116 بچے شامل تھے۔ اس سانحے نے صنعتی فضلے کو محفوظ انداز میں ٹھکانے لگانے، کان کنی کے ضوابط اور خطرات کی بروقت نشاندہی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے۔