باڈی شیمنگ کیا ہے ؟

باڈی شیمنگ کیا ہے ؟

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور نیازی


کسی انسان میں جسمانی کمی یا تبدیلی کی وجہ سے طعنہ زنی کا نشانہ بننے کی کیفیت کے عمل کو ''باڈی شیمنگ‘‘کہا جاتا ہے۔ اسے مزید آسان الفاظ میں اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ جب کسی بھی انسان کو ہئیت یا سائز کی وجہ سے مذاق کا نشانہ بنایا جائے تو اسے باڈی شیمنگ کہا جائے گا۔ عام طور پر ہمارے معاشروں میں پستہ قد ، طویل القامت، بہت موٹے، بہت دبلے اور سیاہ رنگت والے افراد باڈی شیمنگ کا زیادہ نشانہ بنتے دیکھے گئے ہیں۔
باڈی شیمنگ، ہمارے معاشرے میں صدیوں سے چلی آ رہی ہے ، کہیں کسی کو اگر موٹاپے کا طعنہ دیا جا رہا ہے تو اسے تضحیک آمیز انداز میں ''اوئے موٹے‘‘کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی شخص دبلا پتلا ہے تو اسے ''اوئے کانگڑی پہلوان‘‘ کہا جاتا ہے۔اسی طرح کالی رنگت والے کو ''اوئے کالے‘‘ کا طعنہ دے کر مخاطب کیا جاتا ہے۔ گویا ہمارے معاشرے میں کسی کی جسمانی ہئیت یا شکل و صورت کا مذاق اڑانا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔
باڈی شیمنگ سروے
چند سال پہلے ایک معروف بین الاقوامی میڈیا گروپ نے فیس بک کے ذریعے ایک آن لائن سروے منعقد کرایا تھا، جس کا عنوان تھا ''سب سے زیادہ باڈی شیمنگ کون کرتا ہے ؟، کس بارے کرتا ہے؟ عمر کے کس حصے تک باڈی شیمنگ ہوتی ہے؟ اور انسانی زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟‘‘۔سروے کروانے والے گروپ کو اس کے بہت حوصلہ افزا جواب موصول ہوئے تھے۔ سروے کی تفصیل کچھ اس طرح سے تھی۔
باڈی شیمنگ کون کرتے ہیں ؟
اس سروے میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ انہیں سب سے زیادہ گھر والے ہی باڈی شیمنگ کا نشانہ بناتے ہیں کیونکہ ان کا بیشتر وقت گھر پر گزرتا ہے۔سروے کے مطابق 50 فیصد لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں گھر والوں سمیت رشتہ داروں کے طعنوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے، 25 فیصد کا ماننا تھا کہ انہیںدوستوں، 12 فیصد کے مطابق کلاس فیلوز اور دفتری ساتھی جبکہ 13 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں اجنبی لوگوں کے ہاتھوں تنقید اور طعنوں کا شکار ہونا پڑتا ہے۔
انسانی زندگی کس قدر متاثر ہوتی ہے ؟
باڈی شیمنگ سے متاثرہ انسان پر بہت زیادہ نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ باڈی شیمنگ کے انسانی کی نفسیات پر کسی نہ کسی حد تک اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں ، جبکہ ایک قلیل تعداد کا خیال تھا کہ انسانی نفسیات پر باڈی شیمنگ کے اثرات نہ ہونے کے برابر مرتب ہوتے ہیں۔
کس عمر میں زیادہ باڈی شیمنگ ہوتی ہے
77 فیصد شرکاء کا کہنا تھا کہ باڈی شیمنگ کا سامنا زیادہ تر نوجوانی میں ہوتا ہے ۔ 18 فیصد کی رائے تھی کہ ایسا زیادہ تر بچپن میں ہوتا ہے جبکہ 5 فیصد کا خیال تھا کہ ایسا بڑھاپے اور ادھیڑ پن میں ہوتا ہے۔ 70 فیصد شرکاء کی رائے کے مطابق ہر انسان کو زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر ضرور باڈی شیمنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہر نفسیات کیا کہتے ہیں ؟
معروف ماہر نفسیات بشری عسکری کا کہنا ہے کہ باڈی شیمنگ کے باعث لوگوں کے دماغ پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کے باعث ان میں خود اعتمادی کی کمی، ذہنی دباو اور ڈپریشن کے باعث ان میں کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔عام طور پر باڈی شیمنگ کا شکار بننے والے افراد لوگوں سے رابطے ختم یا کم از کم محدود کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ خود کو تنہائی کا شکار بنا لیتے ہیں۔
سینئر ماہر نفسیات دان روحی جو ایک این جی او کے ساتھ کام کرتی ہیں نے اپنے ایک انٹرویو میں باڈی شیمنگ سے متعلق بتا یاکہ انہیں ہر ماہ نفسیاتی مسائل سے متعلق لگ بھگ 50 لوگوں کے مسائل سننے سے واسطہ پڑتا ہے۔ان مسائل میں 10 سے 20 لوگوں کے مسائل کے درپردہ باڈی شیمنگ ایک جزو کے طور پر سامنے آتا ہے۔
ایک اور ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ باڈی شیمنگ سے متاثرہ افراد بعض اوقات ان رویوں کے باعث جارحانہ پن کا شکار ہو کر غصے اور چڑچڑے پن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے ماہر نفسیات کہتے ہیں ، جب ایک شخص مسلسل باڈی شیمنگ کی زد میں رہتا ہے یا پھر کسی شخص کے چہرے کے نقوش مسلسل تنقید کا نشانہ بنتے ہیں تب اس شخص کے ذہن میں منفی جذبات شدت اختیار کر جاتے ہیں۔ جس کے باعث باڈی شیمنگ کا شکار بننے والوں میں اپنی ہر چیز سے نفرت کرنے کا رجحان جنم لے سکتا ہے، خواہ وہ چہرے کے نقوش ہوں یا پھران کی مکمل شخصیت۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم لوگوں کو دراصل اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر ناشائستہ اور غیر مہذبانہ انداز میں مسلسل دیگر لوگوں کی جسمانی ساخت پر نکتہ چینی کر رہے ہیں اور ان کے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جس طرح ہم اپنی زندگی میں کسی کی بے جا مداخلت کو کسی طور بھی پسند نہیں کرتے تو پھر ہمیں کیا حق ہے کہ ہم دوسروں کی زندگیوں میں دخل اندازی کر کے انہیں بے سکون کریں۔
ماہر نفسیات بشریٰ عسکری کہتی ہیں کہ باڈی شیمنگ اکثر وہی لوگ کرتے ہیں جو خود گہرے تنازعات میں جکڑ چکے ہوتے ہیں کیونکہ صحت مند ذہن کا مالک کبھی کسی کا مذاق نہیں اڑاتا۔
متاثرین کو کرنا کیا ہو گا ؟
باڈی شیمنگ ہمارے معاشرے کا وہ ناسور ہے جو نہ صرف تیزی سے ہماری صفوں میں پھیلتا چلا گیا بلکہ یہ ہماری روایات اور اقدار میں سرایت کر چکا ہے۔ اگرچہ ماہرین نفسیات اس کا علاج متاثرین کی ''کونسلنگ‘‘، سیمینارز اور ٹریننگ سیشنز کے ذریعے تجویز کرتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ ایک کٹھن اور صبر آزما کوشش سے زیادہ کچھ نہیں۔
بحیثیت فرد ہمارا یہ فرض ہونا چاہئے کہ ہم ہر ایک میں صرف اور صرف خوبصورتی تلاش کریں، ہمیں دوسروں کے چہروں کے نقوش اور جسمانی ساخت کا مذاق اڑانے سے پہلے اپنے ذہن میں یہ سوچ پیدا کرنا ہو گی کہ بہت ممکن ہے کہ ہمارے اندر بھی ایسے بے شمار نقائص پوشیدہ ہوں جن کے بارے ہمیں علم ہی نہ ہو۔
دوسری طرف بیشتر ماہرین اس کا جو سب سے موثر حل تجویز کرتے ہیں وہ ''اپنی مدد آپ‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔آپ جیسے بھی ہیں خود کو قبول کیجئے ، اردگرد دیکھئے یقینی طور پر آپ کے ارد گرد آپ سے بڑھ کر بھی متاثرین ہوںگے۔اپنی شکل و صورت اور جسمانی ساخت کو قبول کرنا کامیابی کی طرف بنیادی قدم ہو گا۔خود کو صحت مند سرگرمیوں کا عادی بنائیے۔مثلاً آپ کسی نیک اور رفاہی کام میں حصہ ڈال کر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
رمضان کے مشروب و پکوان

رمضان کے مشروب و پکوان

فروٹ سلاداجزا: سیب: ایک عدد، پپیتا:آدھا، سرخ مرچ: کٹی ہوئی ایک عدد، لیمن جوس: دو کھانے کے چمچ، مونگ پھلی:چوتھائی کپ، کیلا:ایک عدد، کوکونٹ ملک: ایک کپ، تازہ دھنیا :کٹا ہوا ایک چمچ، فش ساس: ایک چمچ، سلاد کے پتے :6عددترکیب:سیب کو آدھا کاٹ لیں اور درمیان سے بیج اور سخت حصہ نکال دیں۔ پھر سیب کے باریک سلائس بنالیں، پپیتا کے باریک ٹکڑے بنالیں۔ کوکونٹ ملک، مرچ، دھنیا،لیمن جوس ، فش ساس اور سیب ایک بائول میں ڈال دیں اور اچھی طرح مکس کرلیں ۔اسے ڈھانپ کر ایک گھنٹہ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ چاروں طرف سلاد کے پتوں سے بارڈر لگادیں۔ملکی لیموئنیڈاجزا: لیمن جوس:آدھی پیالی، سوفٹ ڈرنک :ایک چھوٹی بوتل، دودھ: دو پیالی، چینی: چار کھانے کے چمچ، فریش کریم: آدھی پیالی، کُٹی ہوئی برف: حسب پسند۔ترکیب: دودھ، سوفٹ ڈرنک اور فریش کریم کو علیحدہ علیحدہ پیالوں میں رکھ کر یخ ٹھنڈا کر لیں۔ بلینڈر میں پہلے چینی اور لیمن جوس ڈال کر بلینڈ کر لیں پھر اس میں سوفٹ ڈرنک ڈال کر بلینڈر کو ایک سے دو منٹ چلائیں۔ آخر میں اس میں دودھ ، فریش کریم اور کٹی ہوئی برف ڈال کر بلینڈ کر لیں۔

فون چارجنگ کی عادت بدلیں

فون چارجنگ کی عادت بدلیں

یہ ایک عمل گھروں میں آگ کے خطرات کو کم کر سکتاہےفائر ڈیپارٹمنٹس کے ماہرین موبائل فون چارج کرنے کی ایک عام عادت کو گھروں میں آگ لگنے کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔فائر سیفٹی حکام کے مطابق سب سے خطرناک عادت یہ ہے کہ لوگ موبائل فون کو بستر، تکیے یا کمبل کے نیچے رکھ کر چارج کرتے ہیں یا رات بھر چارجنگ پر لگا چھوڑ دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات لگتی ہے لیکن یہ عادت حرارت کے غیر معمولی اضافے سے آگ بھڑکنے کا سبب بن سکتی ہے۔حرارت کیوں بڑھتی ہے؟زیادہ تر سمارٹ فونز میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بیٹریاں طاقتور اور مؤثر ضرور ہیں مگر ان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ زیادہ حرارت برداشت نہیں کر پاتیں۔ جب فون کو بستر یا تکیے پر رکھا جاتا ہے تو ہوا کا گزر رک جاتا ہے نتیجتاً فون اور چارجر کی پیدا کردہ حرارت باہر نہیں نکل پاتی۔اگر یہ درجہ حرارت ایک حد سے بڑھ جائے تو بیٹری میں کیمیائی ردعمل تیز ہو جاتا ہے جسے ماہرین تھرمل رن اوے کہتے ہیں۔ اس مرحلے پر بیٹری پھول سکتی ہے، دھواں نکل سکتا ہے یا شعلہ بھڑک سکتا ہے۔ فائر ڈیپارٹمنٹس بار بار اس عادت سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔رات بھر چارجنگ ، خطرات اکثر لوگ سونے سے پہلے فون کو چارج پر لگا دیتے ہیں اور پوری رات وہ بجلی سے منسلک رہتا ہے۔ اگرچہ جدید فونز میں اوورچارجنگ سے بچاؤ کے کچھ نظام موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود چارجر، کیبل یا ساکٹ میں خرابی ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ غیر معیاری چارجرز اس حوالے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں حفاظتی سرکٹس کمزور ہوتے ہیں جس کے باعث شارٹ سرکٹ یا اوور ہیٹنگ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے متعدد واقعات میں غیر معیاری چارجر یا خراب کیبل بنیادی وجہ بنے۔ بستر، صوفہ یا قالین جیسی سطح نہ صرف حرارت کو جذب کرتی ہیں بلکہ خود بھی آتش گیر مواد سے بنی ہوتی ہیں۔ اگر فون یا چارجر میں چنگاری پیدا ہو تو یہ نرم سطح فوراً آگ پکڑ سکتی ہے۔ اگر فون کو کسی سخت سطح جیسے لکڑی کی میز یا ماربل پر رکھا جائے تو حرارت نسبتاً کم جمع ہوتی ہے اور اوورہیٹنگ کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔بچوں کے لیے اضافی خطرہآج کل بچے اور نوجوان موبائل فون کو تکیے کے نیچے رکھ کر ویڈیوز دیکھتے دیکھتے سو جاتے ہیں۔ اس دوران فون چارجنگ پر بھی لگا ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف آگ کے خطرے کو بڑھاتی ہے بلکہ زیادہ حرارت کی وجہ سے جلد یا آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کو محفوظ چارجنگ عادات سکھائیں اور سونے کے کمرے میں چارجنگ کے بجائے کسی کھلی اور محفوظ جگہ کا انتخاب کریں۔محفوظ چارجنگ کے اصولفائر سیفٹی ماہرین نے چند بنیادی احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں:1 ۔موبائل فون کو ہمیشہ سخت، ہموار اور غیر آتش گیر سطح پر چارج کریں۔2۔ بستر، تکیے، کمبل یا صوفے پر چارجنگ سے گریز کریں۔3 ۔ممکن ہو تو فون کو رات بھر چارجنگ پر نہ چھوڑیں۔4 ۔صرف اصل یا مستند برانڈ کے چارجر اور کیبل استعمال کریں۔5 ۔اگر کیبل کٹی ہوئی، جلی ہوئی یا ڈھیلی ہو تو فوراً تبدیل کریں۔6 ۔اگر فون غیر معمولی حد تک گرم ہو جائے یا بیٹری پھول جائے تو فوری طور پر استعمال بند کر دیں۔سموک الارم کی اہمیتفائر ڈیپارٹمنٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ گھروں میں سموک الارم کا فعال ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر خدانخواستہ چارجنگ کے دوران آگ لگ جائے تو سموک الارم ابتدائی مرحلے میں خبردار کر سکتا ہے جس سے جانی و مالی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کے تناظر میںپاکستان میں بجلی کے اتار چڑھاؤ، غیر معیاری ایکسٹینشن بورڈز اور سستے چارجرز کے استعمال کی وجہ سے یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ خصوصاً گرمیوں کے موسم میں جب درجہ حرارت پہلے ہی زیادہ ہو موبائل فون اور چارجر مزید گرم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صارفین کو اضافی احتیاط کی ضرورت ہے۔موبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے مگر اس سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ چند احتیاطی تدابیر نہ صرف آپ کے گھر کو کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکتی ہیں بلکہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کی جان بھی بچا سکتی ہیں۔

حکایت سعدیؒ:عیبوں کی ٹوہ

حکایت سعدیؒ:عیبوں کی ٹوہ

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں، ایک نوجوان حُسنِ صورت اور حُسنِ سیرت کے ساتھ علم کی دولت سے بھی مالا مال تھا۔ وہ جس موضوع پر لب کشا ہوتا تھا، لوگ اس کی بات بہت شوق اور توجہ سے سنتے تھے اور اس کے فیصلوں کو درست مانتے تھے۔ وہ ایسا روشن چراغ تھا کہ اس کے سامنے کسی اور کا چراغ مشکل ہی سے جلتا تھا لیکن ان ساری خوبیوں کے باوصف اس میں ایک کمزوری یہ تھی کہ وہ الفاظ کو ان کے صحیح تلفظ کے ساتھ ادا نہ کر سکتا تھا۔ ایک دن ایک بزرگ کی محفل میں اس ہمہ صفت موصوف نوجوان کا ذکر چھڑا تو میں نے اس کی اس کمزوری کا ذکر کرنے کے بعد رائے ظاہر کی کہ میرے نزدیک اس کی تقریر میں یہ نقص اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کے دانت درست نہیں ہیں۔ میری یہ بات سن کر بزرگ بہت ناراض ہوئے۔ انہوں نے فرمایا:تعجب ہے کہ اس نوجوان کی اتنی بہت سی خوبیوں کے مقابلے میں تمہاری نگاہ اس کے اس معمولی عیب کی طرف گئی۔ کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ طاؤس کو دیکھنے والے کی نگاہ اس کے بدزیب پیروں پر ہی مرکوز رہ جائے۔ مناسب تو یہ ہے کہ انسان ہنر اور خوبیاں دوسروں کی ذات میں تلاش کرے اور عیب اپنی ذات کے یاد رکھے۔ دنیا میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ جس طرح گلزار میں پھول بھی ہوتے ہیں اور خار بھی۔ جس کے دل کا آئینہ میلا ہو، اسے ہر چیز دھندلی اور جس کا روشن ہو اسے ہر چیز روشن نظر آتی ہے۔ شیشۂ دل کو مجلا کرنے پر سب سے زیادہ توجہ صرف کرنی چاہیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!آغا طالش: ایک بڑا اداکار (1998-1923ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!آغا طالش: ایک بڑا اداکار (1998-1923ء)

٭... 10 نومبر 1923ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا۔٭... والد پولیس میں ملازم تھے جن کے مختلف شہروں میں تبادلوں کی وجہ سے آغا طالش کو شہروں اور انسانوں کو دیکھنے کا بھر پور موقع ملا۔٭... قیامِ پاکستان کے بعدریڈیو پشاور سینٹر سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور پھر فلم کی طرف آگئے۔٭... تقسیم سے قبل انہوں نے بمبئی میں بننے والی ایک فلم میں بھی کام کیا تھا۔٭... 1962ء میں فلم ''شہید‘‘ نے آغا طالش کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔٭...اپنی طویل فنی زندگی میں 400سے زائد اردو، پنجابی فلموں میں کام کیا۔٭... ان کی مشہور فلموں میں نتھ، جھیل کنارے، سات لاکھ، باغی، شہید، سہیلی، فرنگی، زرقا، وطن، نیند، زینت، امرائو جانِ ادا اپنے وقت کی کامیاب فلمیں تھیں۔٭...وہ کبھی نواب کے بہروپ میں سکرین پر نظر آئے تو کہیں ایمان دار اور فرض شناس پولیس افسر، کسی فلم میں انہوں نے ڈاکو کا روپ دھارا تو کہیں ایک مجبور باپ کے رول میں شائقین کے دل جیتے۔٭... فلم کے سیٹ پر بروقت پہنچنا، اپنے سکرپٹ اور کردار پر غور کرنا، کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ڈائریکٹر سے پوچھنا اس بڑے اداکار کا شیوہ تھا۔ ٭... شاندار اداکاری کی بدولت انہوں نے پاکستان فلم نگری کا نگار ایوارڈ سات مرتبہ اپنے نام کیا۔٭... چند مفاد پرست فلمسازوں کے رویے کے باعث فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ ٭... 19فروری 1998ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

آج کا دن

آج کا دن

روزویلٹ کا ایگزیکٹو آرڈر19فروری1942ء کو امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے ایگزیکٹو آرڈر 9066 پر دستخط کیے جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکی شہری حقوق کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ یہ آرڈر امریکی حکومت کو اختیار دیتا تھا کہ وہ تقریباً 125,000 لوگوں ،جن میں اکثر جاپانی نژاد امریکی تھے ، کو فوجی زونوں سے باہر منتقل کر کے انٹرنمنٹ کیمپوں میں قید کر دے۔ اس فیصلے کا پسِ منظر جنگ کی خوفناک شدت اور جاپان کے حملے کے بعد پیدا شدہ بے یقینی تھا۔ حکومت نے دلیل دی کہ اس اقدام سے سکیورٹی کو تحفظ ملے گا، مگر حقیقت میں پوری برادری کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا پڑا۔ایڈیسن کا فونوگراف پر پیٹنٹ 19فروری1878ء کو مشہور امریکی موجدایڈیسن نے فونوگراف (دنیا بھر میں پہلی مشین جو ریکارڈ شدہ آواز کو محفوظ اور دوبارہ بجاسکتی تھی) پر پیٹنٹ حاصل کیا ۔ یہ ایجاد دنیا کے صوتی تجربات میں انقلاب لے آئی۔ فونوگراف دراصل گھومتے ہوئے سلنڈر اور ایک سلیکون سٹائل سے مل کر کام کرتا تھا۔ ایڈیسن نے پہلے اس مشین کو اپنی وائس میں ایک نظم ریکارڈ کر کے چلایا، جس نے لوگوں کو حیران اور محظوظ کیا۔ یہ ایجاد دنیا بھر میں انفارمیشن اور تفریح کے علاقے میں ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ فونوگراف بعد میں ریکارڈ پلیئرز، ٹیپ ریکارڈرز، اور جدید ڈیجیٹل آڈیو کی سمت گامزن ہوا۔ ڈونر پارٹی کی بچاؤ مہم 19فروری1847ء کو ڈونر پارٹی کے اراکین کو سیرا نیوا پہاڑوں میں شدید سردی اور برف میں پھنس جانے کے بعد آخرکار بچا لیا گیا۔ڈونر پارٹی ایک گروپ تھا جو مغربی سفر کے دوران غلط راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے برفانی طوفان میں پھنس گیا تھا اور کئی ماہ تک خوراک کی شدید کمی کا شکار رہا۔ ان حالات میں کچھ لوگوں کو بچاؤ کے لیے خطرناک راستہ اختیار کر کے مدد طلب کرنی پڑی۔ بالآخر 19فروری کوریسکیو ٹیموں نے انہیں برف سے نکال لیا مگر اس تک پہنچنے تک بہت سے افراد کا زندہ رہنا مشکل ہو چکا تھا۔ یو ایس مارینز کا حملہ19فروری 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکی بحری فوج نے جزیرہ Iwo Jima پر حملہ کیا۔یہ جاپان کے ساحل سے قریب ایک چھوٹا مگر اہم جزیرہ تھا جسے امریکی فوج نے اپنے فضائی بمباروں کی خدمات کے لیے ایک سٹریٹیجک مقام کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ جاپانی فوج نے جزیرے کی حفاظتی پوزیشن مضبوط کی تھی۔ Iwo Jima کی فتح نے امریکہ کو جاپانی دفاع کی گہرائیوں میں مزید حملوں کی راہ ہموار کی۔ سوویت یونین کاخلائی سٹیشن 19فروری1986ء کو سوویت یونین نے Mir (میر) خلائی سٹیشن کو زمین کی مدار میں بھیجا۔ Mir دنیا کا پہلا ماڈیولر خلائی سٹیشن تھا جسے مختلف ماڈیولوں کے جوڑ سے بنایا گیا تھا۔Mir نے 28 طویل مدت کے مشنز کو ہوسٹ کیا جس میں مختلف ممالک کے خلائی مسافر شامل تھے۔ اس نے سائنسی تحقیق، خلائی رہائش اور عالمی تعاون کی مثال قائم کی، جس نے بعد میں انٹر نیشنل سپیس سٹیشن جیسے بڑے پراجیکٹس میں مدد دی۔ 2001ء میں Mir کو واپس زمین کی فضا میں لایا گیا۔Mir کے اثرات آج بھیخلائی تحقیق میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

منہ کے جراثیم اورجسمانی پیچیدگیاں

منہ کے جراثیم اورجسمانی پیچیدگیاں

درست طریقے سے برش نہ کرنا 50سے زائد بیماریوں کی وجہجدید طبی تحقیق نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ صحت مند زندگی کی بنیاد چھوٹی مگر باقاعدہ عادات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دانتوں کو صحیح طریقے سے برش کرنا نہ صرف منہ کی صفائی اور خوشبو کیلئے ضروری ہے بلکہ یہ ڈیمنشیااور گٹھیا سمیت پچاس سے زائد دیگر بیماریوں سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بظاہر ایک سادہ سا عمل، اگر نظر انداز کر دیا جائے تو اس کے اثرات پورے جسم پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری اور منہ میں موجود جراثیم خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ کر سوزش اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی سوزش دل، دماغ اور جوڑوں سمیت کئی اعضا کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں روزانہ کم از کم دو مرتبہ درست طریقے سے برش کرنا، فلاس کا استعمال اور باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ محض ذاتی صفائی نہیں بلکہ مجموعی صحت کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق دانتوں کو درست طریقے سے برش کرنا ڈیمنشیا (dementia)، ریمیٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis )(گٹھیا کی ایک قسم) اور پارکنسنز(Parkinson's) سمیت پچاس سے زائد بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات دنیا کی سب سے بڑی عمومی سائنسی کانفرنس میں ماہرین کے ایک پینل نے پیش کی، جہاں بتایا گیا کہ منہ میں موجود بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی سوزش اور انفیکشن کے پھیلاؤ کا تعلق جسم کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ منہ کی صحت جوڑوں، دماغ اور آنتوں سمیت مختلف اعضا اور بافتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف مینیسوٹا (Minnesota) کے شعبہ دندان سازی کے پروفیسر الپدوگان کانترچی (Alpdogan Kantarci)نے کہا کہ مسوڑھوں کی شدید بیماری، جسے پیریوڈونٹائٹس (periodontitis) کہا جاتا ہے، لازمی طور پر ڈیمنشیا جیسی بیماریوں کی براہِ راست وجہ نہیں بنتی، تاہم یہ مشترکہ خطرے کے عوامل کو متحرک کر سکتی ہے اور ان افراد میں بیماری کی رفتار تیز کر سکتی ہے جو پہلے ہی اس کیلئے حساس ہوں۔تحقیقات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہلکی یا درمیانی نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا وہ افراد جو باقاعدگی سے برش کرتے ہیں، دانتوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں یا ڈینٹسٹ سے رجوع کر کے مکمل صفائی کرواتے ہیں، ان میں ذہنی کارکردگی کے نتائج کہیں بہتر دیکھے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہمیں یقین ہونے لگا ہے کہ دانتوں کو صحت مند رکھنا پچاس سے زائد جسمانی امراض کے خطرے میں کمی سے وابستہ ہو سکتا ہے۔پروفیسر کانترچی نے چوہوں پر کی گئی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پیریوڈونٹائٹس دماغی سوزش میں اضافہ کر سکتی ہے اور منہ کے مضر بیکٹیریا خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی رکاوٹ (بلڈ برین بیریئر) کو عبور کر سکتے ہیں، خصوصاً عمر رسیدہ چوہوں میں۔اسی دوران جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے شعبۂ طب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فیلیپ اینڈریڈ(Dr Felipe Andrade) نے شواہد پیش کیے کہ مسوڑھوں کی بیماری پیدا کرنے والے جراثیم ریمیٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis)کی نشوؤنما میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔اسی طرح یونیورسٹی آف مشی گن سے وابستہ ڈاکٹر نوبوہیکو کامادا( Dr Nobuhiko Kamada) نے وضاحت کی کہ منہ کے بیکٹیریا آنتوں کے مائیکرو بائیوم (جرثومی نظام) کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں آنتوں کی سوزشی بیماری (Inflammatory Bowel Disease) اور بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق دل کے امراض، فالج اور ذیابیطس بھی ان بیماریوں میں شامل ہیں جن کا تعلق منہ کی صحت سے جوڑا جا رہا ہے۔پروفیسر کانترچی نے خبردار کیا کہ زیادہ چینی اور حد سے زیادہ پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال دانتوں کی خرابی اور مسوڑھوں کی بیماری میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے منہ کی دیکھ بھال کے حوالے سے برطانیہ کا موازنہ تیسرے درجے کے ملک سے کرتے ہوئے کہا کہ پراسیس شدہ خوراک، نرم غذا اور موٹاپا لوگوں کو دانتوں کے مسائل کی طرف مائل کر رہے ہیں۔انگلینڈ کے اورل ہیلتھ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 1998ء سے 2009ء کے درمیان واضح دانتوں کی خرابی کی شرح 46 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی تھی، تاہم اب یہ رجحان الٹ چکا ہے۔ 2023ء کے تازہ ترین سروے کے مطابق قدرتی دانت رکھنے والے 41 فیصد بالغ افراد میں نمایاں کیویٹیز یا دانتوں کی خرابی پائی گئی۔مزید یہ کہ تقریباً 93فیصد افراد میں مسوڑھوں کی بیماری کی کم از کم ایک علامت موجود تھی، جیسے سوزش، ٹارٹر (میل) کا جماؤ یا دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان خلا بن جانا۔پروفیسر کانترچی نے کہا کہ فوڈ ڈیلیوری سروسز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور پراسیس شدہ غذاؤں کے زیادہ استعمال نے لوگوں کو قدرتی غذا اور گھر کے پکے کھانوں سے دور کر دیا ہے۔اس کا اثر لوگوں کے دانتوں اور منہ کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ بیماریاں زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہیں۔حل بالکل واضح ہے، ہمیں مجموعی جسمانی صحت کیلئے منہ کی صحت سے متعلق آگاہی کو بہتر بنانا ہوگا۔ یہ ماہرِ دندان سازی اور مسوڑھوں کے سرجن ان محققین کی ایک ٹاسک فورس کا بھی حصہ ہیں جو اس بات کا اندازہ لگانے پر کام کر رہی ہے کہ عوام کی منہ کی صحت بہتر بنانے سے معاشی اور سماجی سطح پر کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔