ذیابیطس کا ممکنہ خاتمہ سٹیم سیل تھراپی سے
اسپیشل فیچر
دنیا بھر میں ذیابیطس کے کروڑوں مریضوں کے لیے خوشخبری ہے کہ چین کے سائنسدانوں نے سٹیم سیل تھراپی کے ذریعے ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ،دونوں اقسام کے ذیابیطس کو کامیابی سے ریورس کر دیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف طب کی دنیا کے لیے ایک نیا باب کھولتی ہے بلکہ مستقبل میں ذیابیطس کے روایتی علاج اور انسولین کی عالمی صنعت کے لیے بھی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔شنگھائی میں ایک 25 سالہ خاتون جو برسوں سے ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار تھیں اس جدید علاج کے ذریعے محض 75 دن میںمکمل طور پر صحت یاب ہو گئیں۔ سائنسدانوں نے اُس کے جسم سے حاصل شدہ چربی کے خلیات کو سٹیم سیلز میں تبدیل کیا اور پھر انہیں انسولین پیدا کرنے والے ''آئیلیٹ سیلز‘‘ میں تبدیل کر کے جسم میں منتقل کیا۔ حیران کن طور پر یہ سیلز معمول کے مطابق کام کرنے لگے اور مریضہ کا لبلبہ دوبارہ انسولین بنانے کے قابل ہو گیا۔ ایک سال سے زائد عرصے سے وہ بغیر انسولین انجکشن کے نارمل زندگی گزار رہی ہیں۔اسی تحقیق میں ایک 59 سالہ مرد کو بھی یہی علاج فراہم کیا گیا۔ محض گیارہ ہفتوں میں اُس کی انسولین پر انحصار ختم ہو گیا اور اب وہ ایک سال سے زائد عرصے سے بغیر کسی دوا یا انجکشن کے صحتمند زندگی گزار رہا ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سٹیم سیل تھراپی نہ صرف ٹائپ 1 بلکہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں بھی انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔
علاج کے نئے امکانات
یہ نتائج طب کی دنیا میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم ماہرین اس پر زور دے رہے ہیں کہ ابھی مزید تحقیق اور طویل مدتی مشاہدات ضروری ہیں کیونکہ اس میں ابھی چند بڑے چیلنجز درپیش ہیں جیسا کہ مدافعتی نظام کا خطرہ ،جو کہ ٹائپ 1 ذیابیطس میں جسم اپنے ہی انسولین بنانے والے خلیات پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئے خلیات کو جسم کتنا عرصہ قبول کرتا ہے۔مزید یہ کہ یہ طریقہ علاج فی الحال مہنگا اور محدود پیمانے پر ہے۔ اسے عام مریضوں تک پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل اور وقت درکار ہوگا۔ اگر یہ نتائج پانچ یا دس سال تک برقرار رہتے ہیں تو ہی اسے ذیابیطس کا مستقل علاج کہا جا سکے گا۔یقینی طور پر اس کے انسولین کی صنعت پر بھی اثرات ہوں گے۔ اس وقت انسولین کی عالمی صنعت کا حجم تقریباً 20 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ اگر یہ طریقہ علاج کامیاب ہو گیا تو انسولین پر انحصار کم ہو جائے گا۔ تاہم فی الحال انسولین دنیا بھر میں سب سے زیادہ دستیاب اور کم لاگت کا آپشن ہے لہٰذا یہ تبدیلی فوری طور پر ممکن نہیں۔
دنیا بھر میں تقریباً 50 کروڑ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں۔ اگر سٹیم سیل تھراپی بڑے پیمانے پر کامیاب ہو گئی تو یہ نہ صرف کروڑوں مریضوں کو انسولین اور دواؤں سے نجات دلا سکتی ہے بلکہ صحت عامہ کے شعبے پر دباؤ بھی کم کرے گی۔یہ تحقیق طب کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت ہے۔ ابھی یہ آغاز ہے لیکن اگر آئندہ برسوں میں اس کے نتائج برقرار رہتے ہیں تو ذیابیطس کا شمار ان بیماریوں میں ہوگا جنہیں کبھی ناقابلِ علاج سمجھا جاتا تھا لیکن سائنس نے شکست دے دی۔ وہ دن دور نہیں جب ذیابیطس کے مریض اپنی روزمرہ زندگی میں انسولین کے انجکشن اور ادویات سے آزاد ہو سکیں گے۔