عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

عباسی مسجد قلعہ دراوڑ

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد علی


 چولستان کے صحرا میں مغل طرزِ تعمیر کی جھلک

پنجاب کے ضلع بہاولپور میں واقع چولستان کے وسیع و عریض صحرا میں قلعہ دراوڑ اپنی شان و شوکت کے باعث صدیوں سے سیاحوں اور مؤرخین کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس عظیم الشان قلعے کے قریب واقع مسجد جسے عام طور پر عباسی مسجد یا قلعہ دراوڑ کی شاہی مسجد بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورت مغل طرزِ تعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث خطے کی نمایاں مذہبی و ثقافتی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔قلعہ دراوڑ اگرچہ دسویں صدی میں تعمیر ہوا اور وقتاً فوقتاً اس کی ازسرِ نو تعمیر ہوتی رہی تاہم عباسی مسجد نسبتاً بعد کی تعمیر ہے۔ اس کی بنیاد 1835ء میں ریاست بہاولپور کے حکمران نواب بہاول خان سوم نے رکھی۔ بعض تاریخی حوالوں میں اس کی تعمیر 1849ء بتائی جاتی ہے، مگر عمومی طور پر 1835ء کو ہی اس کا سنِ تعمیر مانا جاتا ہے۔نواب بہاول خان سوم ریاست بہاولپور کے پانچویں حکمران تھے اور ان کا تعلق عباسی خاندان سے تھا، جس نے بہاولپور کو مضبوط اور خوشحال ریاست کے طور پر قائم رکھا۔ برطانوی دور کے سرکاری گزٹ میں ان کی شخصیت کو خاصی تعریف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ انہیں سخی بہاول خان کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنی سخاوت اور رعایا پروری کی وجہ سے مشہور تھے۔ برطانوی حکومت کے ساتھ ان کے خوشگوار تعلقات بھی تاریخ میں درج ہیں خصوصاً ملتان کی مہم کے دوران انہوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔
مغل طرزِ تعمیر کی جھلک
عباسی مسجد کو عموماً دہلی کی معروف جامع مسجد کی طرز پر تعمیر شدہ مسجد قرار دیا جاتا ہے۔ دہلی کی یہ عظیم مسجد سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دور میں تعمیر ہوئی تھی اور برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ انیسویں صدی تک مغل سلطنت کمزور ہو چکی تھی اور اس کا اقتدار عملاً محدود ہو گیا تھا تاہم مغل طرزِ تعمیر اب بھی اقتدار، وقار اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے برصغیر کی مختلف ریاستوں کے حکمران اپنی عمارتوں میں مغل طرز کو اپنانا باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ عباسی مسجد کی تعمیر بھی اسی روایت کا تسلسل ہے۔ یہ مسجد ایک وسیع صحن کے سامنے پانچ محرابی دروازوں والی سیدھی قطار میں تعمیر کی گئی ہے۔ اس طرزِ تعمیر کی مثالیں دہلی کے قدیم دورِ لودھی کی مساجد میں بھی ملتی ہیں۔ مسجد کے دونوں اطراف پر بلند و بالا مینار تعمیر کیے گئے ہیں جو عمارت کو مزید شان و شوکت عطا کرتے ہیں۔یہ مینار اس طرز کی یاد دلاتے ہیں جو لاہور کی مسجد وزیر خان میں پہلی مرتبہ نمایاں طور پر سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں یہی طرز برصغیر کی بڑی جامع مساجد میں عام ہو گیا۔
گنبد اور ساخت
مسجد کے تین بڑے گنبد اونچی بنیاد پر قائم ہیں اور دور سے دیکھنے پر نہایت دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ مغل دور کی بعض ابتدائی مساجد میں گنبدوں کو عمارت کے اگلے حصے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جاتی تھی جیسا کہ فتح پور سیکری کی بعض مساجد میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن عباسی مسجد میں گنبدوں کو نمایاں انداز میں بلند رکھا گیا ہے تاکہ وہ آسمان کی طرف ابھرتے ہوئے دکھائی دیں۔
داخلی دروازے اور خطاطی
اس مسجد کی ایک دلچسپ خصوصیت اس کے نسبتاً چھوٹے دروازے ہیں۔ عمارت کے سامنے والے بڑے اور بلند حصے کے مقابلے میں یہ دروازے چھوٹے دکھائی دیتے ہیں جو اس دور کی کچھ دیگر مساجد میں بھی نظر آتا ہے مگر دراوڑ مسجد میں یہ تناسب خاصا منفرد ہے۔معماروں نے اگلے حصے کی خالی جگہ کو خوبصورت محرابی طاقچوں اور خطاطی کے پینلوں سے بھر دیا ہے۔ مرکزی دروازہ خاص طور پر نہایت نفیس انداز میں بنایا گیا ہے جس میں دو تہہ دار محرابیں ہیں۔ ان محرابوں کے گرد قرآن مجید کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ خوبصورت خطاطی میں کندہ کیے گئے ہیں۔چھت کے کناروں پر شعلہ نما محرابی کنگرے بنائے گئے ہیں۔
مغربی دیوار کا منفرد جھروکہ
مسجد کی مغربی دیوار میں ایک منفرد جھروکہ نما کھڑکی بھی موجود ہے جو محراب کے مقام کی نشاندہی کرتی ہے۔ برصغیر کی اکثر مساجد میں مغربی دیوار سادہ رکھی جاتی ہے کیونکہ یہ قبلہ کی سمت ہوتی ہے اور عام طور پر وہاں سے آمد و رفت نہیں ہوتی مگر عباسی مسجد کے معماروں نے اس حصے کو بھی آرائشی انداز دیا۔ماہرینِ تعمیرات کے مطابق اس جھروکے کا مقصد شاید یہ تھا کہ جب نواب قلعے سے نماز کے لیے مسجد آتے تو امام یہاں کھڑے ہو کر ان کا استقبال کر سکتے تھے۔ چونکہ مسجد قلعہ دراوڑ کے مشرق میں واقع ہے اس لیے مغربی دیوار قلعے کی سمت پڑتی ہے اور اس پر آرائش کرنا ضروری سمجھا گیا۔
صحرا میں عظیم مسجد کی تعمیر
چولستان کے سنسان صحرا کے کنارے اتنی خوبصورت اور بڑی مسجد کی تعمیر بظاہر حیران کن معلوم ہوتی ہے۔ تاہم اس کی وجہ اس علاقے میں عباسی خاندان کی موجودگی تھی۔ قلعہ دراوڑ کے قریب عباسی حکمرانوں کے مقبرے بھی موجود ہیں جو اس جگہ کی سیاسی اور روحانی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ نواب بہاول خان اور ان کا خاندان قلعے کے اندر ایک وسیع رہائش گاہ بھی رکھتے تھے۔
وقت گزرنے کے باوجود عباسی مسجد آج بھی کافی اچھی حالت میں ہے۔ قلعہ دراوڑ کی کہنہ سال فصیلیں جگہ جگہ سے بیٹھ گئی ہیں مگر مسجد کی عمارت نسبتاً محفوظ اور مضبوط نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اسے بعد کے دور میں تعمیر کیا گیا اور اس کی دیکھ بھال بھی نسبتاً بہتر رہی۔یہ مسجد نہ صرف مذہبی اہمیت رکھتی ہے بلکہ برصغیر کی اسلامی فنِ تعمیر کی ایک خوبصورت مثال بھی ہے۔ اس کی تعمیر اس بات کی علامت ہے کہ بہاولپور کے نواب خود کو مغل سلطنت کی تہذیبی و سیاسی روایت کا وارث سمجھتے تھے اور اسی طرزِ تعمیر کو اپناتے ہوئے اپنی حکمرانی کی شان و شوکت ظاہر کرنا چاہتے تھے۔یوں چولستان کے خاموش صحرا میں عباسی مسجد تاریخ، فنِ تعمیر اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ آج بھی جب سیاح قلعہ دراوڑ کی فصیلوں کے سائے میں اس مسجد کو دیکھتے ہیں تو انہیں ماضی کی وہ جھلک دکھائی دیتی ہے جب ریاست بہاولپور اپنی شان و شوکت کے عروج پر تھی اور اس کے حکمران فن و ثقافت کے سرپرست سمجھے جاتے تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
انٹارکٹیکا میں خطرے کی گھنٹی، سائنسدانوں کا انتباہ

انٹارکٹیکا میں خطرے کی گھنٹی، سائنسدانوں کا انتباہ

گلوبل وارمنگ کے تباہ کن اثرات سامنے آنے لگےتھویٹس گلیشیئر کے انہدام نے ساحلی علاقوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دیزمین کا جنوبی قطب، جو صدیوں سے برف کے عظیم ذخائر کا محافظ سمجھا جاتا تھا، آج موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ انٹارکٹیکا میں موجود ''تھویٹس گلیشیئر‘‘ جسے دنیا بھر کے ماہرین ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کے نام سے جانتے ہیں، تیزی سے پگھلنے کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس گلیشیئر کی برفانی تہہ مکمل طور پر ٹوٹ گئی تو دنیا بھر میں سمندری سطح خطرناک حد تک بلند ہو سکتی ہے، جس سے ساحلی شہر، جزائر اور کروڑوں انسان متاثر ہوں گے۔ یہ صورتحال نہ صرف ماحولیاتی بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ انسان کو یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ قدرت کے نظام میں بے احتیاطی کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔انٹارکٹیکا کا ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ مکمل تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے اور سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ رواں سال اپنی پوری برفانی تہہ بھی کھو سکتا ہے۔ تھویٹس گلیشیئر دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز میں شمار ہوتا ہے اور اس کا رقبہ تقریباً برطانیہ کے برابر ہے۔ اگر یہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا تو سمندروں کی سطح میں حیران کن حد تک 26 انچ (65 سینٹی میٹر) اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے دنیا کے ساحلی علاقوں میں تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اب محققین کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کو سہارا دینے والی تیرتی ہوئی برفانی دیوار چند مہینوں میں ٹوٹ کر بکھر سکتی ہے۔تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف برف کی ایک عظیم دیوار ہے جو گلیشیئر کے مشرقی کنارے سے جڑی ہوئی ہے اور برف کے سمندر میں بہاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔یہ حفاظتی برفانی رکاوٹ 1,150 فٹ (350 میٹر) سے زیادہ موٹی ہے اور 580 مربع میل (1,500 مربع کلومیٹر) رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، جو تقریباً گریٹر لندن کے برابر بنتا ہے۔ تاہم، انٹارکٹیکا کے گرد سمندروں کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے یہ برفانی قلعہ تیزی سے پتلا ہوتا جا رہا ہے۔ برٹش انٹارکٹک سروے کے بحری جغرافیائی ماہر ڈاکٹر رابرٹ لارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اس برفانی تہہ کا ٹوٹ جانا ''بہت زیادہ امکان ہے کہ اسی سال کسی وقت واقع ہو جائے‘‘۔اگرچہ سائنسدان نہیں سمجھتے کہ تھویٹس گلیشیئر کا مکمل انہدام فوری طور پر ہونے والا ہے، لیکن متعدد مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف تباہی کے دہانے پر ہے۔ لائیو سائنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر لارٹر نے کہا کہ گلیشیئر کے سامنے موجود برفانی تہہ کا آخری حصہ ٹوٹ کر بکھرنے کے قریب ہے۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ برفانی تہہ کس طرح ٹوٹے گی، لیکن یہ یقینی طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس بڑی تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گرم پانی برف کے نیچے بہہ کر اسے اندر سے پتلا کر رہا ہے۔ایک حالیہ مہم میں برفانی تہہ میں سوراخ کر کے کیے گئے مطالعے سے معلوم ہوا کہ تھویٹس کے نیچے موجود پانی گرم ہو رہا ہے، جو اس کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر رہا ہے اور اس کی ساخت کو کمزور بنا رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ برفانی تہہ میں نئی دراڑیں تیزی سے پیدا ہو رہی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ دراڑیں اب ''گراؤنڈنگ لائن‘‘ کے ساتھ ساتھ بن رہی ہیں، یعنی وہ مقام جہاں تیرتی ہوئی برف نیچے موجود چٹان سے ملتی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برف کے اندرونی حصوں کی طبعی حالت بدل چکی ہے اور اب یہ تہہ خود کو توڑ رہی ہے کیونکہ برف اس اہم ''پننگ پوائنٹ‘‘ سے ٹکرا رہی ہے۔ڈاکٹر لارٹر کے مطابق اس وقت یہ برفانی تہہ گلیشیئر سے الگ ہو کر ٹوٹ رہی ہے، اور اس کی اندرونی ساخت زیادہ سے زیادہ کمزور اور نازک ہوتی جا رہی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کی ترتیب وار (سیریز) میں آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ دراڑیں اور شگاف مسلسل بڑھ رہے ہیں۔جنوری 2020ء سے جنوری 2026ء کے درمیان محققین نے پایا کہ تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف کی بہاؤ کی رفتار تین گنا بڑھ کر سالانہ 2,000 میٹر سے کچھ زیادہ ہو گئی ہے۔اس سال کے آغاز کے ابتدائی پانچ مہینوں میں یہ برفانی تہہ مزید تیزی سے حرکت کرنے لگی ہے۔صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ڈاکٹر لارٹر نے نیو سائنٹسٹ کو بتایا کہ برٹش انٹارکٹک سروے نے اس برفانی تہہ کیلئے پہلے ہی ایک ''تعزیتی (obituary) پریس ریلیز‘‘ تیار کر لی ہے۔اگر تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف اسی سال ڈاکٹر لارٹر کی پیشگوئی کے مطابق ٹوٹ جاتا ہے تو بہت سے سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ یہ پورے ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کی تباہی کے عمل کو مزید تیز کر سکتا ہے۔برفانی تہہ کی سہارا دینے والی مخالف قوت ختم ہونے کے بعد بعض ماہرین کا خیال ہے کہ گلیشیئر سمندر کی طرف اپنی رفتار اور تیزی سے بڑھنا شروع کر دے گا۔آخرکار یہ صورت حال گلیشیئر کے مکمل انہدام تک پہنچ سکتی ہے۔تاہم، چاہے یہ چند دہائیوں میں ہو یا چند صدیوں میں، ڈاکٹر لارٹر کا کہنا ہے کہ تھویٹس گلیشیئر کا ٹوٹنا یقینی ہے۔ اگر ہم 2050ء تک نیٹ زیرو (کاربن اخراج) بھی حاصل کر لیں، تب بھی یہ گلیشیئر ختم ہو جائے گا۔ یہ سمندر کی سطح میں 65 سینٹی میٹر (26 انچ) اضافہ کرے گا اور دنیا کے کئی حصوں کیلئے اس سے نمٹنا انتہائی مشکل ہو گا۔یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے آئس شیٹ ماہر ڈاکٹر ڈینیئل گولڈکہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر لارٹر سے اتفاق کرتے ہیں کہ تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف اس سال کے دوران تباہی کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیٹلائٹ تصاویر میں یہ ایسے لگتا ہے جیسے برف کے بہت سے ٹکڑے ہوں جو محض اکٹھے تیر رہے ہوں۔ تھویٹس کے برفانی شیلف کا ختم ہونا لازمی طور پر اس طرح کی تیز رفتار تباہی کو جنم نہیں دے گا جیسا کہ بعض سائنسدان پیش گوئی کرتے ہیں۔تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف کے علاقے میں تو کچھ بڑے تبدیلیاں ضرور ہوں گی، لیکن مجموعی طور پر تھویٹس گلیشیئر پر اس کا اثر کچھ حد تک زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔اسے ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کا لقب کیوں دیا گیا؟تھویٹس گلیشیئر جو رقبے میں تقریباً برطانیہ یا امریکی ریاست فلوریڈا کے برابر ہے کو ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض مقامات پر اس کی برف کی موٹائی 2ہزار میٹر تک ہے۔ اگر یہ گلیشیئر مکمل طور پر منہدم ہو جائے تو عالمی سطح پر سمندروں کی سطح میں 65 سینٹی میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اضافہ کئی ساحلی آبادیوں کو پانی میں ڈبو دے گا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے ہجرت کر کے محفوظ اندرونی علاقوں کی طرف جانا پڑے گا۔

الاسکا: سیاحوں کیلئے پُر کشش کیوں؟

الاسکا: سیاحوں کیلئے پُر کشش کیوں؟

دنیا بھر میں قدرتی حسن سے مالا مال مقامات سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، لیکن الاسکا اپنی منفرد جغرافیائی خصوصیات، برف پوش پہاڑوں، وسیع گلیشیئرز، دلکش جنگلات اور نایاب جنگلی حیات کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ امریکہ کی سب سے بڑی ریاست کہلانے والا الاسکا فطرت کے ایسے حیرت انگیز مناظر پیش کرتا ہے جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں کی شفاف جھیلوں، برفانی وادیوں،روشنیوں اور مہم جوئی سے بھرپور سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کیلئے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الاسکا دنیا کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔دنیا بھر سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال الاسکا آ تی ہے۔قومی سیاحتی ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا بھر سے الاسکا آنے والوں میں یورپی سیاحوں کی تعداد تسلسل سے سب سے زیادہ (38فیصد) چلی آ رہی ہے۔ تاہم چین، بھارت، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ الاسکا میں واقع آٹھ میں سے کسی ایک نیشنل پارک میں جا کر سیاح کراس کنٹری سکی اِنگ کے ذریعے پہاڑوں اور گلیشیئر کے نظاروں سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔ ریاست میں دیگر مقبول سیاحتی سرگرمیوں میں کیاک کشتی رانی، گھومنا پھرنا، گلیشیئراور پہاڑوں پر چڑھائی اور دریا کے تند و تیز پانیوں میں کشتی چلانا شامل ہیں۔ سیاح سمندر میں ہیلی بٹ اور کنگ سالمن قسم کی مچھلیوں کے شکار، الاسکا کے بہت سے دریاؤں، ندیوں اور جھیلوں میں ٹراؤٹ مچھلی پکڑنے کیلئے بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔الاسکا جنگلی حیات کے نظارے کیلئے دنیا کے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ مثال کے طور پر آرکٹک ساحل کے قریب کونگاکٹ دریا میں اترائی کے رخ کشتی چلانے سے بھورے ریچھوں، کیریبو کہلانے والے برفانی ہرنوں کے ریوڑ اور سنہری عقابوں کو دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ الاسکا کے بیابان علاقوں میں واقع لکڑی کے بنے کسی گھروندے میں ٹھہرنے سے آپ مکمل تنہائی میں جنگلی حیات کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ الاسکا کے پہاڑوں کے درمیان ٹرین کا سفر، پس منظر میں برف سے ڈھکے پہاڑ آپ کو عجب ہی نظارہ دیں گے۔وائٹ پاس اور یوکون کے راستے پر ریل کی پٹری ''سکیگوے‘‘ کی جانب جاتی پہاڑی چوٹیوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ریل کا سفر الاسکا میں اہم ترین سیاحتی سرگرمیوں میں سے ایک ہے جہاں سیاح محفوظ اور آرام دہ طور سے ریل گاڑی میں کھڑکی کے قریب بیٹھ کر مختلف النوع نظاروں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ الاسکا میں ریل کی 756 کلومیٹر طویل پٹری جزیرہ نما کینائی میں سیوارڈ سے لے کر شمال کی جانب اینکریج، ٹلکیٹنا، ڈینالی نیشنل پارک اور فیئربینکس تک جاتی ہے۔الاسکا میں مغربی اینکریج کے علاقے پوائنٹ ورونزوف پر آسمان میں شمالی روشنیاں رقص کناں ہوتی ہیں۔ستمبر کے وسط سے اپریل کے اواخر تک سیاحوں کی بڑی تعداد شمالی روشنیاں دیکھنے الاسکا کا رخ کرتی ہے جو کہ آرکٹک خطوں میں فطری روشنیوں کا قابل دید نظارہ ہوتا ہے۔ صاف راتوں میں خیرہ کن سبز، نیلی، سرخ اور جامنی روشنیاں ستاروں بھرے آسمان پر رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ دراصل یہ قطبی روشنیاں سورج کی تمازت سے برقی طور پر چارج ذرات اور زمینی ماحول میں گیسوں کے ذرات کے مابین ٹکراؤ سے جنم لیتی ہیں۔مارچ میں سیاح، کتا گاڑیوں کی دوڑ دیکھنے یہاں آتے ہیں جس ''‘آڈیٹاراڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ طویل فاصلے کے اس مقابلے میں برفانی کتا گاڑیاں اینکریج سے نومے تک اندازاً 1,688 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہیں ۔

کلید کامیابی

کلید کامیابی

ہم لوگ خوش قسمت ہیں کیونکہ ایک حیرت انگیز دور سے گزر رہے ہیں۔ آج تک انسان کو ترقی کرنے کے اتنے موقعے کبھی میسر نہیں ہوئے، پرانے زمانے میں ہرایک کو ہرہنرخود سیکھنا پڑتا تھا، لیکن آج کل ہر شخص دوسروں کی مدد پر خواہ مخواہ تلا ہوا ہے اوربلاوجہ دوسروں کو شاہراہ ِکامیابی پر گامزن دیکھنا چاہتا ہے۔ اس موضوع پربیشمارکتابیں موجود ہیں۔ اگرآپ کی مالی حالت مخدوش ہے تو فوراً ''لاکھوں کماؤ‘‘ خرید لیجئے۔ اگر مقدمہ بازی میں مشغول ہیں تو ''رہنمائے قانون‘‘ لے آئیے۔ اگر بیمار ہیں تو ''گھر کا طبیب‘‘ پڑھنے سے شفا یقینی ہے۔ اس طرح ''کامیاب زندگی‘‘، ''کامیاب مرغی خانہ‘‘، ''ریڈیو کی کتاب‘‘، ''کلید کامیابی‘‘، ''کلید مویشیاں‘‘ اور دوسری لاتعداد کتابیں بنی نوع انسان کی جو خدمت کر رہی ہیں، اس سے ہم واقف ہیں۔مصنف ان کتابوں سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے ازراہ ِتشکر کلیدِ کامیابی، حصہ دوم، لکھنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ چند نکتے جو اس افادی ادب میں پہلے شامل نہ ہو سکے، اب شریک کر لیے جائیں۔عظمت کا رازتاریخ دیکھئے۔ دنیا کے عظیم ترین انسان غمگین رہتے تھے۔ کار لائل کا ہاضمہ خراب رہتا تھا۔ سیزر کو مرگی کے دورے پڑتے تھے۔ روس کا مشہور IVAN نیم پاگل تھا۔ خود کشی کی کوشش کرنا کلائیو کا محبوب مشغلہ تھا۔ کانٹ کو یہ غم لے بیٹھا کہ اس کا قد عظیم ادب مغموم موڈ کی تخلیق ہے اور اکثر جیلوں میں لکھا گیا ہے۔ لہٰذا غمگین ہوئے بغیر کوئی عظیم کام کرنا ناممکن ہے۔ غم ہی عظمت کا راز ہے ''یا غم آسرا تیرا‘‘۔ تو پھر آج ہی سے رنجیدہ رہنا شروع کردیجئے۔ بہت تھوڑے ملک ایسے ہیں، جہاں غمگین ہونے کے اتنے موقعے میسر ہیں، جتنے ہمارے ہاں۔ ابھی چند اشعار پڑھئے، ہماری شاعری ماشاء اللہ حزن و الم سے بھر پور ہے۔ سوچئے کہ زندگی پیاز کی طرح ہے، چھیلتے رہیے اندر سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوتا۔ رشتہ داروں اور ان کے طعنوں کو یاد کیجئے۔ پڑوسی عنقریب آپ کے متعلق نئی افواہیں اڑانے والے ہیں۔جن لوگوں نے آپ سے قرض لیا تھا، ایک پائی بھی ادا نہیں کی (ویسے جو قرض آپ نے لیا ہے، وہ بھی ادا نہیں ہوا) زندگی کتنی مختصر ہے؟ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ شام کی گاڑی سے کوئی پندرہ بیس رشتہ دار بغیر اطلاع دیئے آجائیں گے۔ ان کیلئے بستروں کا انتظام کرنا ہوگا۔ یہ چستی صاحب اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ پچھلے ہفتے قطب الدین صاحب نے کھانے پرسارے شہرکومدعو کیا، سوائے آپ کے وغیرہ وغیرہ۔اب آپ غمگین ہیں۔ آہیں بھریئے۔ ماتھے پر شکنیں پیدا کیجئے۔ ہرایک سے لڑئیے۔ عنقریب آپ اس برتری سے آشنا ہوں گے جو سدا بیزار رہنے والوں کاہی حصہ ہے۔ وہ احساس جو انسان کے نطشے کا فوق الانسان بناتا ہے۔ اب آپ شاید کوئی عظیم کام کرنے والے ہیں۔عظیم کام کرچکنے کے بعد اگرموڈ بدلنا منظور ہو تو فوراً بازار سے 'مسرور ہو‘ مسکراتے رہیے، یا ایسی کوئی کتاب لے کر پڑھیے اور خوش ہو جائیے۔اپنے آپ کو پہچانوحکماء کا اصرار ہے کہ اپنے آپ کو پہچانو۔ لیکن تجربے سے ثابت ہوا کہ اپنے آپ کو کبھی مت پہچانو، ورنہ سخت مایوسی ہوگی۔ بلکہ ہو سکے تو دوسروں کو بھی مت پہچانو۔ایمرسن فرماتے ہیں کہ ''انسان جو کچھ سوچتا ہے، وہی بنتا ہے‘‘کچھ بننا کس قدر آسان ہے، کچھ سوچنا شروع کردواوربن جاؤ۔خواب اورعملاپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیے۔ یہ جامہ جتناجلد پہنایا گیا، اتنا ہی بہترہوگا۔ ان لوگوں سے بھی مشورہ کیجئے۔ جو اس قسم کے جامے اکثر پہناتے رہتے ہیں۔حافظہ تیزکرنااگر آپ کوباتیں بھول جاتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا حافظہ کمزور ہے۔ فقط آپ کو باتیں یاد نہیں رہتیں۔ علاج بہت آسان ہے۔آئندہ ساری باتیں یاد رکھنے کی کوشش ہی مت کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ باتیں آپ کو ضرور یاد رہ جائیں گے۔بہت سے لوگ باربار کہا کرتے ہیں،ہائے یہ میں نے پہلے کیوں نہیں سوچا؟ اس سے بچنے کی ترکیب یہ ہے کہ ہمیشہ پہلے سے سوچ کر رکھیے اور یا پھر ایسے لوگوں سے دور رہیے، جو ایسے فقرے کہا کرتے ہیں۔ دانشمندوں نے مشاہدہ تیز کرنے کے طریقے بتائے ہیں کہ پہلے پھرتی سے کچھ دیکھئے، پھر فہرست بنا ئیے کہ ابھی آپ نے کیا کیا دیکھا تھا۔ اس طرح حافظے کی ٹریننگ ہوجائے گی اور آپ حافظ بنتے جائیں گے۔ لہٰذا اگر اور کوئی کام نہ ہو تو آپ جیب میں کاغذ اور پنسل رکھیے۔ چیزوں کی فہرست بنائیے اور فہرست کو چیزوں سے ملایا کیجئے۔ بڑی فرحت حاصل ہوگی۔مشہور فلسفی شو پنہارسیر پرجاتے وقت اپنی چھڑی سے درختوں کو چھوا کرتا تھا۔ ایک روز اسے یاد آیا کہ پل کے پاس جو لمبا درخت ہے، اسے نہیں چھوا۔ وہ مردعاقل ایک میل واپس گیا اور جب تک درخت نہ چھو لیا، اسے سکون قلب حاصل نہ ہوا۔شو پنہارکے نقش قدم پر چلیے۔ اس سے آپ کا مشاہدہ اس قدر تیز ہوگا کہ آپ اورسب حیران رہ جائیں گے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!ریاض الرحمان ساغر کثیر الجہات شخصیت (2013-1941ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!ریاض الرحمان ساغر کثیر الجہات شخصیت (2013-1941ء)

٭...یکم دسمبر1941ء کو بٹھنڈا(بھارت) میں پیدا ہوئے،تقسیم ہند کے وقت ہونے والی قتل و غارت سے گزر کر اپنی والدہ کے ساتھ پاکستان آئے۔بچپن ملتان میں انتہائی غربت میں گزرا۔ ٭...شاعری کا آغاز سکول کے زمانے میں کیا۔اپنے استاد ساغر علی سے متاثر ہو کر اپنا تخلص ساغر رکھ لیا۔٭...کالج پہنچنے تک انہیں قدیم و جدید شعراء کے سیکڑوں شعر یاد ہو چکے تھے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کی۔٭...ریاض الرحمن ساغر شاعر بھی تھے اور فلمی گیت نگار بھی۔ صحافت بھی کی اور کالم نویسی میں بھی نام کمایا۔ مکالمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں کا سکہ جمایا۔ ٭...فلموں، ریڈیو اور ٹی وی کیلئے 2ہزارسے زیادہ نغمات تخلیق کیے۔ ٭...75 فلموں کے مکالمے اور سکرپٹ بھی لکھے۔ ٭...ریاض الرحمان ساغر کے فلمی گیتوں کی کتاب ''میں نے جو گیت لکھے‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ ٭...ان کی نثری تصنیفات میں ''وہ بھی کیا دن تھے‘‘(خود نوشت)، ''کیمرہ، قلم اور دنیا‘‘ (سات ملکوں کے سفر نامے)، ''لاہور تا ممبئی براستہ دہلی‘‘ (بھارت کا سفر نامہ)، ''سرکاری مہمان خانہ‘‘ (جیل میں بیتے لمحات پر کتاب)‘‘ شامل ہیں۔ ٭...ان کی شاعری کی بھی کئی کتب منظر عام پر آئیں۔ ان میں ''چاند سُر ستارے‘‘، ''آنگن‘‘، ''آنگن تارے‘‘، ''سورج کب نکلے گا‘‘ شامل ہیں۔ ٭...انہوں نے غزلیں بھی لکھیں اور نظمیں بھی۔ خاص طور پر ان کی سیاسی نظمیں بہت مقبول ہوئیں۔ ٭... 1958ء میں پہلا فلمی گیت لکھا۔ انہیں اصل شہرت فلم ''شریک حیات‘‘ کے گیت سے ''مرے دل کے صنم خانے میں ایک تصویر ایسی ہے‘‘ سے ملی۔ ٭...ایک پنجابی فلم ''عشق خدا‘‘ کیلئے بھی گیت لکھے جو ان کی وفات کے بعد ریلیز ہوئی۔ ٭...جن مشہورفلموں کے مکالمے اور سکرپٹ لکھے ان میں ''شمع، نوکر، سسرال، شبانہ، نذرانہ، عورت ایک پہیلی، آواز، بھروسہ، ترانہ اور مور‘‘ شامل ہیں۔٭...یکم جون 2013 کو ریاض الرحمان ساغر کینسر کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے۔ وہ اقبال ٹائون کے ایک قبرستان میں مدفن ہیں۔ ''سرگم ‘‘ ریاض الرحمان ساغر کی یادگار فلم ساغر صاحب کی سب سے بڑی نغماتی فلم ''سرگم‘‘ تھی جو 1995ء میں ریلیز ہوئی۔ اس میں عدنان سمیع خان نے گلوکاری اور موسیقاری کے علاوہ اداکاری بھی کی تھی۔ یہ ان کی اکلوتی پاکستانی فلم تھی، جس کی کہانی، مکالمے، سکرین پلے، گیت، سیٹ اور ڈائریکشن اعلیٰ پائے کی تھی۔ اداکارہ زیبا بختیار کی پہلی پاکستانی فلم تھی جبکہ ایک موسیقار مہاراج حسین کتھک نے اپنی اس اکلوتی فلم میں بڑی نیچرل اداکاری کی تھی۔ فلم ''سرگم‘‘ کے سبھی گیت بڑے زبردست تھے۔ اس فلم کے گیارہ میں سے دس گیت ریاض الرحمان ساغر نے لکھے تھے۔مشہور فلمی نغمات ٭... چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں(سماج)٭...آنکھیں غزل ہیں آپ کی (سہیلی)٭...دیکھا جو چہرہ تیرا(گھونگھٹ)٭...مجھ کو بھی تو لفٹ کرا دے( عدنان سمیع)٭... کل شب دیکھا(مجھے چاند چاہیے)٭... میری وفا، میرے وعدے پہ(بے قرار)٭... دل لگی میں ایسی دل کو لگی(دل لگی)٭... ذرا ڈھولکی بجائو گوریو(سرگم) ٭...پیار ہے، یہی تو پیار ہے (سرگم)٭...لکھ دی ہم نے ( نیک پروین) ''چلو چین چلیں‘‘ ''چلو چین چلیں‘‘ چین کے سفرنامے پر مشتمل کتاب ہے، جس میں چین کے سفر کی منظوم داستان بیان کی گئی ہے اور اردو زبان کی تاریخ میں یہ پہلی کتاب ہے کہ کسی ملک پر کسی شاعر نے منظوم سفرنامہ لکھا۔اس منظوم سفر نامے کو دلچسپی سے اوربہت کم وقت میں پڑھا جا سکتا ہے اور چین کے بارے میں بہت کچھ جانا جاسکتا ہے۔چند سطریں درج ذیل ہیں۔بچ کے کچھوے سے ہم نے فش کھائیکئی چیزوں پہ آئی ابکائیشوق سے چینی کھا رہے تھے جنہیںچوس کر وہ چبا رہے تھے جنہیںپی رہے تھے وہ مینڈکوں کا سوپتلے کچھوے کا بھی الگ تھا روپکھلی آنکھوں سمیت مچھلی بھیمع سلاد و پیاز ڈش میں تھیاور کچھ چیزیں رینگنے والیدم ِبرسات بھیگنے والیتیلیوں کے شکنجے میں کس کرچینی کھاتے ہیں ان کو ہنس ہنس کرپیٹ بھر کر سلاد سے اُٹھےگرچہ کچھ نامراد سے اُٹھے

آج کا دن

آج کا دن

ائیر فرانس حادثہایئر فرانس کی پرواز447 برازیل سے فرانس جانے کیلئے طے شدہ پروازتھی۔ یکم جون 2009ء کو ائیر بس A330کو کنٹرول کی ناکامی کی وجہ سے بحر اوقیانوس میں گر کر تباہ ہو گئی۔ جہاز میں سوارتمام228 لوگ ہلاک ہو گئے۔برازیل کی بحریہ نے حادثے کے پانچ دن بعد سمندر سے پہلا بڑا ملبہ اور دو لاشیں نکالیں۔ فرانس کے بیورو آف انکوائری اینڈ اینالیسز فار سول ایوی ایشن سیفٹی (بی ای اے) کی تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں کیونکہ طیارے کے فلائٹ ریکارڈرز کو برآمد نہیں کیا جا سکا تھا۔یونیورسل سٹوڈیو میں آتشزدگییکم جون 2008 ء کو کیلی فورنیا کی لاس اینجلس کاؤنٹی کے علاقے سان فرنینڈو ویلی میں واقع یونیورسل سٹوڈیو ہالی ووڈ کے تھیم پارک میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ اس وقت شروع ہوئی جب ایک کارکن نے چمڑے کو گرم کرنے کیلئے بلیو ٹارچ کا استعمال کیا۔ جسے فلم میں استعمال کیلئے تیار کیا جا رہا تھا۔ وہ چیک کرنے سے پہلے چلا یاگیا کہ تمام جگہیں ٹھنڈی ہو چکی ہیں۔اس کے جلتے ہی خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔آگ بجھانے کے دوران فائر فائٹرز کو بھی چوٹیں لگیں، 24گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔کینٹکی امریکہ کی ریاست بنی1792ء میں یکم جون کو کینٹکی کو ریاستہائے متحدہ امریکا کی پندرہویں ریاست کے طور پر یونین میں شامل کیا گیا۔ اس سے قبل کینٹکی ریاست ورجینیا کا حصہ تھا، مگر وہاں کے باشندے ایک الگ ریاست کی حیثیت چاہتے تھے۔ یکم جون 1792ء کو امریکا کی کانگریس نے باضابطہ طور پر کینٹکی کو نئی ریاست تسلیم کر لیا۔ اس تاریخی اقدام کے بعد امریکا کی ریاستوں کی تعداد پندرہ ہو گئی۔ کینٹکی اپنی سرسبز وادیوں، گھوڑوں کی افزائش، تمباکو کی پیداوار اور ثقافتی اہمیت کی وجہ سے مشہور ہے۔بوسٹن ہاربر لڑائییکم جون1813ء کو رائل نیوی اور ریاست ہائے متحدہ نیوی کے درمیان ایک لڑائی لڑی گئی جس میں رائل نیوی کی طرف سے فریگیٹ شینن اور ریاستہائے متحدہ کی طرف سے فریگیٹ چیسپیک نے شرکت کی۔ یہ 1812ء کی جنگ کا ہی ایک حصہ تھا۔یہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ہونے والی مختصر مگر شدید جنگ تھی۔اس لڑائی کے دوران رائل نیوی نے ریاستہائے متحدہ کے فریگیٹ پر قبضہ کر لیا،دونوں جانب سے 71آدمی ہلاک ہوئے۔20مئی 1913ء کو کپتان جیمز نے چیسپیک کی کمان سنبھالی،شینن کے کپتان نے جیمز کوکو لڑائی کرنے کیلئے ایک تحریری چیلنج بھی کیا تھا ۔سی این این کا آغازکیبل نیوز نیٹ ورک(سی این این) کا آغاز یکم جون 1980ء کو ہوا۔ ٹیڈ ٹرنر کے تعارف کے بعد، ڈیوڈ واکر اور لوئس ہارٹ چینل کے پہلے نیوز کاسٹر تھے اور پہلی خبریں پڑھیں۔ برٹ رین ہارڈ، CNN کے افتتاح کے موقع پر چینل کے ایگزیکٹیو نائب صدر نے پہلے 200 ملازمین میں سے زیادہ تر کو بھرتی کیا جن میں سی این این کے پہلے نیوز اینکر برنارڈ شا بھی شامل تھے۔اپنے آغاز کے بعد سے، CNN نے کئی کیبل اور سیٹلائٹ ٹیلی ویژنز کے ساتھ متعدد ویب سائٹس تک اپنی رسائی کو ممکن بنایا۔اس وقت سی این این کے پاس11ملکی اور31غیر ملکی بیوروز موجود ہیں۔غیر علاقائی اور غیر ملکی زبانوں میں بھی نیٹ ورک موجود ہے۔

عمر رسیدہ ونگ واکر 98 سالہ جنگی ہیرو کا حیرت انگیز کارنامہ

عمر رسیدہ ونگ واکر 98 سالہ جنگی ہیرو کا حیرت انگیز کارنامہ

زندگی کی آخری دہائیوں میں بھی حوصلہ اور عزم کی مثال قائم کرتے ہوئے دوسری عالمی جنگ کے ایک 98 سالہ سابق فوجی نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو حیران اور متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کی مدد کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کی خاطر ایک خطرناک وِنگ واکنگ (ہوائی جہاز کے پروں پر چلنے) کا مظاہرہ کیا اور اس عمل کے ذریعے ہزاروں پاؤنڈ جمع کرنے میں کامیاب رہے۔یہ بزرگ جنگی ہیرو نہ صرف اپنی طویل عمر کے باوجود غیر معمولی جسمانی جرات کا مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے جذبے کو بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ اقدام اس بات کی روشن مثال ہے کہ عمر کسی بھی انسان کے عزم، ہمت اور نیک مقاصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔98 سالہ شخص نے اپنی زندگی کا دیرینہ خواب پورا کیا کہ وہ ایک اڑتے ہوئے جہاز کے اوپر کھڑے ہو سکیں اور ساتھ ہی انہوں نے ایک عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ہیری ہیزمین نے آسمانوں کا سفر کیا اور تاریخ کے معمر ترین مرد وِنگ واکر بن گئے۔بے خوف بزرگ شہری نے یہ سنسنی خیز چیلنج اپنی مرحوم بیوی اور بیٹے کی یاد میں لیا، جو دونوں کینسر کے باعث وفات پا گئے تھے، اور اس کے ذریعے وہ ''لینوکس چلڈرنز کینسر فنڈ‘‘ کیلئے عطیات جمع کر رہے ہیں۔دوسری عالمی جنگ کے سابق فوجی ہیری، جنہیں جہاز کے اوپر مضبوطی سے باندھا گیا تھا، کے ساتھ طیارہ ایک ہزار فٹ سے زیادہ بلندی تک جا پہنچا اور برطانیہ کے دیہی علاقوں کے اوپر پرواز کرتا رہا۔ اس دوران ہیری نے نہ صرف دلکش مناظر سے لطف اٹھایا بلکہ تاریخ کے معمر ترین مرد وِنگ واکر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔انہوں نے کہا کہ میں خود کو پہلے سے ایک ہزار گنا مختلف اور 100 گنا بہتر محسوس کر رہا ہوں۔ یہ میری زندگی کا سب سے حیرت انگیز تجربہ تھا اور اگر ممکن ہو تو میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے دوبارہ کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں بچپن سے اس خواب کو دیکھ رہا تھا اور 98 سال کی عمر میں اسے حقیقت بنانا اور گنیز ورلڈ ریکارڈ ہولڈر بننا میرے وہم و گمان سے بھی بڑھ کر ہے۔گنیز ورلڈ ریکارڈز کے جج پروین پٹیل، جو اس کوشش کی نگرانی کیلئے موجود تھے، نے کہا کہ ہیری واقعی ایک متاثر کن شخصیت ہیں۔ وِنگ واکنگ جیسے جسمانی طور پر مشکل کام کو انجام دینا آسان نہیں، اور پھر ذہنی طور پر اتنی مضبوطی کہ آپ اس چیلنج کو پورا کر سکیں، یہ واقعی حیرت انگیز ہے۔ ہیری کو اس فضائی سفر کا خیال اس وقت آیا جب ان کے کیئر ہوم کی منیجر کیرولن سِسٹو نے ان سے اپنی خواہشات لکھنے کو کہا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ فلاحی کام کیلئے وِنگ واکنگ کرنا چاہتے ہیں تو اس نے ان کا خواب پورا کرنے کیلئے عملی اقدامات شروع کر دیئے۔ہیری نے اپنے بڑے دن کیلئے خود کو تیار کرنے کیلئے فزیو تھراپسٹ ریف کوول کے ساتھ کام کیا اور تقریباً 11 ماہ تک سخت محنت کرتے ہوئے اپنی جسمانی فٹنس کو بہتر بنایا۔ کیئر ہوم ایسٹ ہیم کیئر ہوم سے تعلق رکھنے والی کیرولن نے کہا کہ ہیری نے صرف وِنگ واک مکمل نہیں کیا بلکہ دنیا کی اس سوچ کو بدل دیا کہ 98 سال کی عمر میں کیا کچھ ممکن ہے۔ہیری نے اپنے اس خطرناک اور دلیرانہ اقدام کے ذریعے 5ہزار پاؤنڈ جمع کرنے کا ہدف رکھا تھا، لیکن انہوں نے یہ ہدف پہلے ہی عبور کر لیاتھا۔ لینزی بِڈویل، جو ''لینوکس چلڈرنز کینسر فنڈ‘‘ سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ ہیری اس بات کا ثبوت ہیں کہ خوابوں کے پیچھے دوڑنے کیلئے کبھی بھی دیر نہیں ہوتی۔ 98 سال کی عمر میں انہوں نے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ غیر معمولی سے کم نہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں مجھے انہیں جاننے اور اس چیلنج کے پیچھے ان کے عزم کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ کینسر میں مبتلا بچوں کی مدد کیلئے رقم جمع کرتے ہوئے یہ کارنامہ انجام دینا اسے اور بھی خاص بنا دیتا ہے۔ ہیری واقعی ایک قومی سرمایہ ہیں، اور ہماری ٹیم اور وہ خاندان جن کیلئے وہ یہ رقم اکٹھا کر رہے ہیں، ہمیشہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔98 سالہ جنگی ہیرو کا یہ حیرت انگیز کارنامہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ حوصلہ، عزم اور جذبہ زندگی عمر کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ ونگ واکنگ جیسے خطرناک اور سنسنی خیز مظاہرے میں حصہ لے کر انہوں نے نہ صرف ایک نئی مثال قائم کی بلکہ دنیا بھر کے لوگوں، خصوصاً بزرگ افراد کو یہ پیغام بھی دیا کہ خوابوں کی تکمیل اور نئی بلندیوں کو چھونے کیلئے عمر کوئی رکاوٹ نہیں۔ اُن کی جرات اور خود اعتمادی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور یہ سبق دیتی ہے کہ انسان اگر ارادہ مضبوط کر لے تو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔