آج تم یاد بے حساب آئے!ریاض الرحمان ساغر کثیر الجہات شخصیت (2013-1941ء)
اسپیشل فیچر
٭...یکم دسمبر1941ء کو بٹھنڈا(بھارت) میں پیدا ہوئے،تقسیم ہند کے وقت ہونے والی قتل و غارت سے گزر کر اپنی والدہ کے ساتھ پاکستان آئے۔بچپن ملتان میں انتہائی غربت میں گزرا۔
٭...شاعری کا آغاز سکول کے زمانے میں کیا۔اپنے استاد ساغر علی سے متاثر ہو کر اپنا تخلص ساغر رکھ لیا۔
٭...کالج پہنچنے تک انہیں قدیم و جدید شعراء کے سیکڑوں شعر یاد ہو چکے تھے۔ بی اے تک تعلیم حاصل کی۔
٭...ریاض الرحمن ساغر شاعر بھی تھے اور فلمی گیت نگار بھی۔ صحافت بھی کی اور کالم نویسی میں بھی نام کمایا۔ مکالمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے بھی اپنی صلاحیتوں کا سکہ جمایا۔
٭...فلموں، ریڈیو اور ٹی وی کیلئے 2ہزارسے زیادہ نغمات تخلیق کیے۔
٭...75 فلموں کے مکالمے اور سکرپٹ بھی لکھے۔
٭...ریاض الرحمان ساغر کے فلمی گیتوں کی کتاب ''میں نے جو گیت لکھے‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔
٭...ان کی نثری تصنیفات میں ''وہ بھی کیا دن تھے‘‘(خود نوشت)، ''کیمرہ، قلم اور دنیا‘‘ (سات ملکوں کے سفر نامے)، ''لاہور تا ممبئی براستہ دہلی‘‘ (بھارت کا سفر نامہ)، ''سرکاری مہمان خانہ‘‘ (جیل میں بیتے لمحات پر کتاب)‘‘ شامل ہیں۔
٭...ان کی شاعری کی بھی کئی کتب منظر عام پر آئیں۔ ان میں ''چاند سُر ستارے‘‘، ''آنگن‘‘، ''آنگن تارے‘‘، ''سورج کب نکلے گا‘‘ شامل ہیں۔
٭...انہوں نے غزلیں بھی لکھیں اور نظمیں بھی۔ خاص طور پر ان کی سیاسی نظمیں بہت مقبول ہوئیں۔
٭... 1958ء میں پہلا فلمی گیت لکھا۔ انہیں اصل شہرت فلم ''شریک حیات‘‘ کے گیت سے ''مرے دل کے صنم خانے میں ایک تصویر ایسی ہے‘‘ سے ملی۔
٭...ایک پنجابی فلم ''عشق خدا‘‘ کیلئے بھی گیت لکھے جو ان کی وفات کے بعد ریلیز ہوئی۔
٭...جن مشہورفلموں کے مکالمے اور سکرپٹ لکھے ان میں ''شمع، نوکر، سسرال، شبانہ، نذرانہ، عورت ایک پہیلی، آواز، بھروسہ، ترانہ اور مور‘‘ شامل ہیں۔
٭...یکم جون 2013 کو ریاض الرحمان ساغر کینسر کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے۔ وہ اقبال ٹائون کے ایک قبرستان میں مدفن ہیں۔
''سرگم ‘‘ ریاض الرحمان ساغر کی یادگار فلم
ساغر صاحب کی سب سے بڑی نغماتی فلم ''سرگم‘‘ تھی جو 1995ء میں ریلیز ہوئی۔ اس میں عدنان سمیع خان نے گلوکاری اور موسیقاری کے علاوہ اداکاری بھی کی تھی۔ یہ ان کی اکلوتی پاکستانی فلم تھی، جس کی کہانی، مکالمے، سکرین پلے، گیت، سیٹ اور ڈائریکشن اعلیٰ پائے کی تھی۔ اداکارہ زیبا بختیار کی پہلی پاکستانی فلم تھی جبکہ ایک موسیقار مہاراج حسین کتھک نے اپنی اس اکلوتی فلم میں بڑی نیچرل اداکاری کی تھی۔ فلم ''سرگم‘‘ کے سبھی گیت بڑے زبردست تھے۔ اس فلم کے گیارہ میں سے دس گیت ریاض الرحمان ساغر نے لکھے تھے۔
مشہور فلمی نغمات
٭... چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں(سماج)
٭...آنکھیں غزل ہیں آپ کی (سہیلی)
٭...دیکھا جو چہرہ تیرا(گھونگھٹ)
٭...مجھ کو بھی تو لفٹ کرا دے( عدنان سمیع)
٭... کل شب دیکھا(مجھے چاند چاہیے)
٭... میری وفا، میرے وعدے پہ(بے قرار)
٭... دل لگی میں ایسی دل کو لگی(دل لگی)
٭... ذرا ڈھولکی بجائو گوریو(سرگم)
٭...پیار ہے، یہی تو پیار ہے (سرگم)
٭...لکھ دی ہم نے ( نیک پروین)
''چلو چین چلیں‘‘
''چلو چین چلیں‘‘ چین کے سفرنامے پر مشتمل کتاب ہے، جس میں چین کے سفر کی منظوم داستان بیان کی گئی ہے اور اردو زبان کی تاریخ میں یہ پہلی کتاب ہے کہ کسی ملک پر کسی شاعر نے منظوم سفرنامہ لکھا۔اس منظوم سفر نامے کو دلچسپی سے اوربہت کم وقت میں پڑھا جا سکتا ہے اور چین کے بارے میں بہت کچھ جانا جاسکتا ہے۔چند سطریں درج ذیل ہیں۔
بچ کے کچھوے سے ہم نے فش کھائی
کئی چیزوں پہ آئی ابکائی
شوق سے چینی کھا رہے تھے جنہیں
چوس کر وہ چبا رہے تھے جنہیں
پی رہے تھے وہ مینڈکوں کا سوپ
تلے کچھوے کا بھی الگ تھا روپ
کھلی آنکھوں سمیت مچھلی بھی
مع سلاد و پیاز ڈش میں تھی
اور کچھ چیزیں رینگنے والی
دم ِبرسات بھیگنے والی
تیلیوں کے شکنجے میں کس کر
چینی کھاتے ہیں ان کو ہنس ہنس کر
پیٹ بھر کر سلاد سے اُٹھے
گرچہ کچھ نامراد سے اُٹھے