گمشدہ بستیاں
اسپیشل فیچر
خیال کیا جاتا تھا پاک و ہند میں تمدن کی بنیاد آریاؤں نے 1500 قبل مسیح میں ڈالی تھی۔ موہنجودڑو اور ہڑپہ کے آثار اور سندھ کی قدیم تہذیب کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئیں۔1921ء میں رائے بہادر دیا رام ساہنی نے ہڑپہ کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال بعد اسی طرح کے آثار مسٹر آر ڈی بینر جی کو موہنجودڑو کی سر زمین میں دستیاب ہوئے۔ اس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں مقامات کی طرف توجہ دی؛ چنانچہ دیا رام ساہنی، ارنسٹ جے میکے اور محکمہ آثارقدیمہ کے دیگر حکام کے تحت کھدائی کا کام شروع ہوا۔ 1931ء میں فنڈ کی کمی کی وجہ سے کام روک دیا گیا۔ اس اثنا میں محکمہ نے دوسرے مقامات پر تلاش شروع کی جس میں بڑی کامیابی ہوئی اور پتہ چلا کہ یہ قدیم تہذیب موہنجودڑو اور ہڑپہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ صوبہ سندھ میں چنہودڑو ، جھوکر ، علی مراد اور آمری اور صوبہ پنجاب میں روپڑ اور بلوچستان میں نال اور کلی کے مقام پر بھی قدیم تہذیب کے آثار موجود ہیں۔ اس تہذیب کی وسعت اور معنویت کو 1922ء میں موہنجودڑو کی کھدائی سے پہلے سمجھا نہ جاسکا۔
1950ء میں ڈاکٹر ایف اے خان نے کوٹ ڈیجی کی کھدائی کی۔ اس سے نئی چیزیں سامنے آئیں اور پرانے تصورات میں تبدیلی واقع ہوئی۔ کوٹ ڈیجی میں ہڑپہ کے پختہ دور سے بہت پہلے کی مدفون آبادی ملی۔ اس کی تہذیب کے زمانے کا تعین ریڈیو کاربن کے ذریعے کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ آبادی ہڑپہ سے بھی 800 سال پرانی ثقافت ہے۔ اس کے بعد پے درپے کھدائیاں ہوئیں جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اس تہذیب کے سرچشمے اسی سر زمین میں تھے۔ اس کا دائرہ اثر شمال میں شمالی افغانستان کے علاقہ بدخشاں سے لے کر جنوب میں ساحل سمندر تک تھا۔ جہاں یہ بلوچستان کے ساحل سے لے کر کاٹھیاواڑ تک محیط ہے۔ پرانی کھدائیوں میں اس تہذیب سے وابستہ شہروں اور قصبوں کی تعداد بیالیس تھی۔ اب ان کی تعداد میں سینکڑوں کا اضافہ ہوچکا ہے۔ صرف چولستان میں ڈاکٹر رفیق مغل نے 363 مدفون بستیاں ڈھونڈی ہیں۔ جن کا تعلق اس تہذیب سے ہے۔ اس کے علاوہ سرائے کھولا ، جھنگ ، بٹھیال اور وادی سوات میں غالاگئی، وادی گومل کے کئی مقامات اور بلوچستان کے علاقہ کچھی میں مہر گڑھ میں اس تہذیب کے اثرات ملے ہیں۔ بھارت میں دریائے گھگھر (ہاکڑہ )اور اس کے معاون دریاؤں کے طاس کا علاقہ ان آثار سے پُر ہے۔ اس کے علاوہ جن مقامات سے اس تہذیب کے آثار ملے ہیں ان میں کالی بنگن ، سیسوال ، بانے والی منڈا اور دوسری بہت سی جگہیں شامل ہیں۔ ساحل کے قریب لوتھل اور رنگ پور بڑے شہر تھے۔ ان کے علاوہ چھوٹی بستیاں بہت زیادہ ہیں۔
اس تہذیب کا سب سے پہلے ملنے والا شہر ہڑپہ تھا اور اس وجہ سے اسے ہڑپہ سویلائزیشن بھی کہا جاتا ہے۔ دوسرا بڑا شہر موہنجودڑو تھا۔ بعد میں اب گنویری والا ملا ہے۔ جو ہڑپہ سے بڑا شہر ہے لیکن ماہرین زیادہ اہمیت ہڑپہ اور موہنجودڑو کو دیتے ہیں۔ اس تہذہب کے نمایاں شہر وں میں موہنجو دڑو، ہڑپہ کے علاوہ چنھودڑو ، ستکگن دڑو ، بالاکوٹ ، سوتکا کوہ ، ٹوچی ، مزینہ دمب ، سیاہ دمب ، جھائی ، علی مراد ، گنویری والا اور معتدد شہر شامل ہیں۔
ان تہذیبوں میں برتن اور مہروں پر جانوروں کی شکلیں اور دفینوں پر ان کی ہڈیاں جانوروں کی کثرت سے موجودگی اور دوسرے لفظوں میں جنگلوں کی کثرت ان کے رہن سہن کے طریقوں کو آشکار کرتے ہیں۔ جانوروں میں گینڈے ، شیر ، دریائی بھینس اور ہاتھی کثیر تھے۔ ان کے علاوہ گھڑیال کا ثبوت ملا ہے۔ ریچھ کی بعض نسلیں ، بندر ، گلہری اور طوطا بھی ملا ہے۔ بارہ سنگھا اور ہرن بھی ملے ہیں۔
ہڑپہ اور موہنجو دڑو ہم عصر شہر تھے ، جو یقناً جڑواں دارالحکومت تھے۔ ان دونوں شہروں کے اندر بلند و بالا قلعے تھے۔ جو باقی ماندہ آبادی پر غالب نظر آتے تھے۔ ہر علاقے میں اوزان یکساں تھے۔ کانسی کی کلہاڑی کی بناوٹ اور بھالے کی شکل ایک جیسی تھی۔ اینٹوں کا سائز ، مکانوں کا نقشہ ، بڑی گلیوں کی ترتیب ، الغرض پورے شہر کی ٹاون پلاننگ ایک سی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ صدیوں تک پرانی عمارتوں پر نئی عمارتیں ہو بہو ویسی کی ویسی بنتی رہیں۔ ایک گھر کی خارجی چار دیواری کئی صدیوں تک نہیں بدلی تھی۔ موہنجوداڑو میں کل نو رہائشی پرتیں نکالی گئیں۔ ان میں کئی جگہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا ثبوت بھی ملتا ہے۔