آج کا دن
اسپیشل فیچر
یورپی خلائی ایجنسی کا قیام
30مئی1975ء میں یورپی خلائی ایجنسی قائم کی گئی۔ یہ ادارہ یورپ کے مختلف ممالک کے اشتراک سے خلا اور سائنسی تحقیق کے فروغ کیلئے بنایا گیا۔ اس ایجنسی کا مقصد خلائی ٹیکنالوجی کو ترقی دینا، مصنوعی سیارے تیار کرنا، زمین اور خلا کے بارے میں تحقیق کرنا اور انسانیت کی بہتری کیلئے جدید سائنسی منصوبے مکمل کرنا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی نے موسمیاتی تبدیلی، مواصلاتی نظام، نیویگیشن اور خلائی مہمات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ آج یہ دنیا کے اہم خلائی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور بین الاقوامی خلائی تحقیق میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
لندن معاہدہ
1913 میں معاہدہ لندن پر دستخط کیے گئے، جس کے نتیجے میں پہلی بلقان جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ یہ جنگ بلقان اتحادی ممالک اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان لڑی گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت عثمانی سلطنت نے یورپ میں اپنی بیشتر سرزمین کھو دی اور اینوس سے میڈیا تک ایک فرضی لکیر کے مغرب میں واقع تمام علاقے چھوڑ دیے۔ اسی معاہدے کے نتیجے میں البانیہ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ معاہدہ یورپ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور اس نے بلقان کے خطے کی سیاسی صورتحال کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا۔
مزدور تحریک
جمہوریہ چین کے درمیانی دور میں سامراج کی مخالفت میں مزدوروں کی ایک تحریک شروع ہوئی۔اس تحریک کو ''مئی30 تحریک‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔اس کا آغاز اس وقت ہوا جب شنگھائی میونسپل پولیس نے 30 مئی 1925ء کومظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں لوگ جاں بحق ہوئے۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کی گئی اور ملک بھر میں اس آپریشن کے خلاف مظاہرے ہوئے جس میں مقامی لوگوں کے ساتھ غیرملکیوں نے بھی شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
آکلینڈ ہاربر برج کا افتتاح
1959 میں نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں واقع آکلینڈ ہاربر برج کو باضابطہ طور پر عوام کیلئے کھول دیا گیا۔ یہ پل وائٹیماتا ہاربر کے اوپر تعمیر کیا گیا تھا اور اس نے شہر کے مختلف حصوں کے درمیان آمدورفت کو بہت آسان بنا دیا۔ اس تاریخی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی نیوزی لینڈ کے گورنر جنرل چارلس لٹلٹن، دسویں وائسکاؤنٹ کوبھم نے افتتاحی تقریب انجام دی۔ یہ پل جدید انجینئرنگ کا ایک اہم شاہکار سمجھا جاتا ہے اور آج بھی آکلینڈ کی پہچان مانا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر نے تجارت، سفر اور شہری ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا۔
ڈریگن ڈیمو2
2020 میں خلائی مشن ''ڈریگن ڈیمو 2‘‘ کو امریکا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ کیا گیا۔ یہ مشن اس لحاظ سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ 2011 ء کے بعد پہلی مرتبہ کسی انسان بردار خلائی جہاز نے امریکا کی سرزمین سے مدار میں پرواز کی۔ اس مشن کے ذریعے خلابازوں ڈگلس ہرلی اور رابرٹ بیہنکن کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک پہنچایا گیا۔ یہ پہلا تجارتی خلائی مشن بھی تھا جس نے نجی کمپنی کی مدد سے انسانوں کو خلا میں پہنچایا۔ اس کامیابی نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک نئے دور کا آغاز کیا اور نجی خلائی کمپنیوں کے کردار کو مزید مضبوط بنایا۔ دنیا بھر میں اس مشن کو سائنسی ترقی کا عظیم کارنامہ قرار دیا گیا۔