آج تم یاد بے حساب آئے!عبدالرحمن چغتائی پاکستان کے ممتاز مصور (1975-1897)

آج تم یاد بے حساب آئے!عبدالرحمن چغتائی پاکستان کے ممتاز مصور  (1975-1897)

اسپیشل فیچر

تحریر :


٭...21 ستمبر 1897ء کو لاہور میں پیدا ہوئے ،ان کا تعلق شاہجہاں کے دور کے مشہور معمار خاندان سے تھا۔
٭...1914ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے امتحان پاس کرنے کے بعد انھوں نے استاد میراں بخش سے فنِ مصوری میں استفادہ کیا۔
٭...1919ء میں لاہور میں ہندوستانی مصوری کی ایک نمائش منعقد ہوئی جس نے انہیں باقاعدہ اپنا فنی سفر شروع کیا۔
٭... کلکتہ کے رسالے ''ماڈرن ریویو‘‘ میں ان کی بھیجی گئی تصاویر شائع ہوئیں اور چغتائی صاحب کا فن شائقین اور ناقدین کے سامنے آیا تو ہر طرف ان کی دھوم مچ گئی۔
٭...1928ء میں ''مرقعِ چغتائی‘‘ شائع ہوا جس میں عبدالرّحمٰن چغتائی نے غالب کے کلام کی مصوری میں تشریح کی تھی۔ یہ اردو میں اپنے طرز کی پہلی کتاب تھی جس کی خوب پذیرائی ہوئی۔
٭...1935ء میں غالب کے کلام پر مبنی ان کی دوسری کتاب ''نقشِ چغتائی‘‘ شائع ہوئی۔ یہ کتاب بھی بے حد مقبول ہوئی۔
٭... ہندوستان اور ہندوستان سے باہر عبدالرّحمٰن چغتائی کے فن پاروں کی متعدد نمائشیں منعقد ہوئیں اور وہ صاحبِ اسلوب آرٹسٹ کے طور پر پہچان بناتے چلے گئے۔
٭...قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کے ابتدائی چار ڈاک ٹکٹوں میں سے ایک ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کیا۔
٭... ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے مونوگرام بھی انہی کے تیار کردہ ہیں۔
٭...مصوری کے ساتھ افسانہ نگاری بھی کی، ان کے افسانوں کے دو مجموعے ''لگان‘‘ اور'' کاجل‘‘ شائع ہوئے۔
٭...انہوں نے مغل دور اور پنجاب کو اپنے فن پاروں میں پیش کیا۔
٭... ان کی بنائی ہوئی تصویریں دنیا کی مختلف آرٹ گیلریوں میں سجائی گئیں۔
٭... 1960ء میں حکومت پاکستا ن کی جانب سے ''ہلالِ امتیاز‘‘، 1964ء میں مغربی جرمنی میں ''طلائی تمغے‘‘ سے نوازا گیا۔
٭...17 جنوری 1975ء کو پاکستان کے ممتاز مصور عبدالرحمن چغتائی وفات پا گئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
لودھی مسجد

لودھی مسجد

انتدائی اسلامی فن تعمیر کی نادریادگارضلع گوجر انوالہ کے تاریخی قصبے ایمن آباد میں واقع لودھی دور کی قدیم مسجد برصغیر میں اسلامی فنِ تعمیر کی ابتدائی روایت کی ایک نہایت اہم مثال ہے۔ یہ مسجد اپنی سادگی، قدامت اور منفرد تعمیراتی ساخت کے باعث تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس مسجد کی تعمیر پندرہویں صدی کے آخر یا سولہویں صدی کے اوائل میں لودھی دور (1451ء تا 1525ء) کے دوران ہوئی، جس سے یہ پاکستان میں قائم قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک منزلہ مسجد ایمن آباد کے مشرقی حصے میں ایک چھوٹے حوض کے کنارے پر واقع ہے، جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مسجد اور حوض کی باہمی قربت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مقام نہ صرف عبادت بلکہ سماجی و مذہبی سرگرمیوں کا بھی مرکز رہا ہوگا۔ قدیم اسلامی روایت کے مطابق عبادت گاہوں کو پانی کے ذخائر کے قریب تعمیر کرنا وضو اور طہارت کی سہولت کے لیے عام تھا۔ایمن آباد خود ایک قدیم تاریخی بستی ہے جہاں مختلف ادوار کی تہذیبی یادگاریں موجود رہی ہیں۔ اسی تسلسل میں لودھی دور کی یہ مسجد اس علاقے کی اسلامی تاریخ اور مذہبی روایت کا ایک اہم مظہر ہے۔لودھی دور سے نسبت معروف ماہرِ تعمیرات اور مؤرخ کامل خاں ممتاز کے مطابق اس مسجد کی تعمیرلودھی دور میں ہوئی۔ ان کی رائے میں مسجد کی اینٹوں کی ساخت، سادہ ڈیزائن اسے مغل دور سے پہلے کے فنِ تعمیر سے واضح طور پر جوڑتے ہیں۔ اسی بنیاد پر یہ مسجد پاکستان میں موجود قدیم ترین قائم مساجد میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔لودھی عہد کی تعمیرات عموماً سادگی، مضبوطی اور عملی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کی جاتی تھیں جس کی جھلک اس مسجد کے مجموعی ڈھانچے میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔یہ مسجد ایک مختصر اور سادہ یک منزلہ عمارت ہے جو پکی اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس میں بھاری آرائش یا نقش و نگار کی بجائے مضبوط ساخت اور عبادتی افادیت کو ترجیح دی گئی ہے، جو لودھی دور کے فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیت ہے۔مسجد کی دیواریں پکی اینٹوں سے تیار کی گئی ہیں جن کی ترتیب اور چنائی نہایت متوازن ہے۔ اینٹوں کا یہ استعمال نہ صرف عمارت کو استحکام فراہم کرتا ہے بلکہ اس دور کی تعمیراتی مہارت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔گنبد اور اندرونی ساخت مسجد کا مرکزی حصہ مربع شکل میں ہے جبکہ اس کے اوپر گول گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔ مربع کمرے اور گول گنبد کے درمیان ربط قائم کرنے کے لیے جو تعمیراتی طریقہ اختیار کیا گیا وہ اس مسجد کی سب سے منفرد تعمیراتی خصوصیت ہے۔اس مقصد کے لیے کونی محرابیں اور معلق محرابی سہارادونوں کا بیک وقت استعمال کیا گیا ہے۔کونی محرابیں (Squinches) مربع کمرے کے کونوں کو سہارا دے کر گنبد کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں جبکہ معلق محرابی سہارا (Pendentives) گنبد کے دائرہ نما ڈھانچے کو مربع بنیاد سے جوڑنے کا کام دیتے ہیں۔یہ تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس دور کے معمار نہایت انجینئرنگ کی اعلیٰ مہارت رکھتے تھے اور پیچیدہ ساختی مسائل کو نہایت سادہ انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ دونوں طریقوں کا بیک وقت استعمال برصغیر کی ابتدائی اسلامی تعمیرات میں ایک نادر مثال سمجھا جاتا ہے۔مسجد کے ساتھ واقع تالاب جسے عہدِ جہانگیر سے منسوب کیا جاتا ہے اس مقام کی تاریخی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ حوض کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ طویل عرصے تک آباد اور فعال رہا۔ ممکن ہے کہ بعد کے ادوار میں اس حوض نے مسجد کی مذہبی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہو۔یہ مسجد ایک تاریخی یادگار عمارت کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی تعمیراتی خصوصیات ہمیں قبل از مغل اسلامی فنِ تعمیر کے ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ایسی قدیم مساجد کے تحفظ اور سائنسی بحالی کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ قومی ثقافتی ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔ باقاعدہ دستاویز سازی ، آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور ماہرینِ تعمیرات کی نگرانی میں مرمتی کام اس کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔اگر اس تاریخی مقام کو مناسب معلوماتی بورڈز، رہنمائی اور سیاحتی منصوبہ بندی کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے بھی اہم مقام بن سکتا ہے۔ فنِ تعمیر، تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے یہ مسجد ایک قیمتی تحقیقی مطالعہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ مسجد نہ صرف لودھی دور کے فنِ تعمیر کی ایک نادر مثال ہے بلکہ پاکستان کے قدیم اسلامی ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔ اس تاریخی یادگار کے مؤثر تحفظ، بحالی اور علمی مطالعے کے ذریعے ہم اپنی تہذیبی شناخت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑے رکھ سکتے ہیں۔

4مارچ:بیٹوں کا عالمی دن

4مارچ:بیٹوں کا عالمی دن

تعلیم،تربیت اور ہماری ذمہ داریاںہر سال 4 مارچ کو دنیا کے مختلف حصوں میں ''بیٹوں کا دن‘‘منایا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ دن کسی سرکاری عالمی ادارے کے تحت منایا جانے والا باقاعدہ دن نہیں لیکن سماجی سطح پر اس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں خاندانی نظام مضبوط بنیادوں پر قائم ہے بیٹوں کا کردار محض گھر کے فرد تک محدود نہیں بلکہ مستقبل کے معمار، کفیل اور سماجی ذمہ داریوں کے حامل شہری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 4 مارچ کا دن ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کی کس انداز میں تربیت کر رہے ہیں۔روایتی طور پر برصغیر کے معاشرے میں بیٹے کو خاندان کا سہارا اور نام کا وارث سمجھا جاتا رہا ہے۔ بعض اوقات اس سوچ نے بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی کو بھی جنم دیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شعور پروان چڑھ رہا ہے کہ اولاد خواہ بیٹا ہو یا بیٹی دونوں ہی برابر اہمیت رکھتے ہیں۔ بیٹوں کے دن کا اصل پیغام بھی یہی ہونا چاہیے کہ ہم اپنے بیٹوں کو ایسی تربیت دیں جو انہیں صرف معاشی طور پر کامیاب نہ بنائے بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط کرے۔آج پاکستان کو جن سماجی چیلنجز کا سامنا ہے ان میں بے روزگاری، منشیات کا رجحان، عدم برداشت اور آن لائن دنیا کے منفی اثرات شامل ہیں۔ ان حالات میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ بیٹوں کو محض کامیابی کی دوڑ میں دھکیلنے کے بجائے ان کے اندر برداشت، احترام، دیانت داری اور دوسروں کے حوالے سے مثبت سوچ پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ محفوظ اور مہذب ہو تو ہمیں اپنے گھروں سے تربیت کا آغاز کرنا ہوگا۔اسلامی تعلیمات میں بھی اولاد کی اچھی تربیت کو والدین کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ بیٹے کو یہ سکھانا کہ وہ اپنی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ کرے، دراصل ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اسی طرح قانون کی پاسداری، محنت کی عظمت اور سچائی کی اہمیت کو عملی مثالوں کے ذریعے سکھانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے بنسبت محض نصیحتوں کے۔ڈیجیٹل دور میں ایک اور اہم پہلو بیٹوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی ہے۔ سوشل میڈیا، گیمنگ اور انٹرنیٹ کے بے تحاشا استعمال نے نوجوانوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بیٹوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ وہ اپنے مسائل اور الجھنیں کھل کر بیان کر سکیں۔ سختی اور خوف کے بجائے مکالمہ اور اعتماد بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیٹوں پر ''کامیاب ہونے‘‘ کا دباؤ بیٹیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ کم عمری سے ہی ان پر یہ ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے کہ انہیں گھر کا سہارا بننا ہے۔ اس دباؤ کے باعث بعض نوجوان ذہنی تناؤ اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بیٹوں کے دن کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم انہیں انسان سمجھیں، مشین نہیں۔ انہیں اپنی دلچسپی کے مطابق تعلیم اور پیشہ اختیار کرنے کی آزادی دی جائے۔پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں تربیت کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں لیکن بنیادی اقدار یکساں رہتی ہیں۔ والدین، اساتذہ، علما اور میڈیا سب کو مل کر مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں کردار سازی کے پروگرام، کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں کا فروغ، اور سماجی خدمت کے مواقع نوجوانوں کو متوازن شخصیت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔4 مارچ کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بیٹے صرف خاندان کا نام آگے بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والا پاکستان ترقی یافتہ، پرُامن اور باوقار ہو تو ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت میں محبت، انصاف اور برابری کے اصولوں کو شامل کرنا ہوگا۔ یہی اس دن کا اصل مقصد اور حقیقی پیغام ہے۔

رمضان کے مشروب وپکوان:چائنیز سموسہ

رمضان کے مشروب وپکوان:چائنیز سموسہ

اجزاء: چکن بون لیس آدھا کلو۔آلو، چار عدد۔انڈے،پانچ عدد (ابلے ہوئے)۔نمک اور کالی مرچ، حسب ذائقہ۔سموسے کی پٹیاں،حسب ضرورت۔تیل، ڈیپ فرائی کے لئے۔ترکیب:ایک دیگچی میں آلو اور چکن کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر ڈال دیں۔ ساتھ ہی نمک اور کالی مرچ شامل کر دیں اور دودھ ڈال کر اتنی دیر پکائیں کہ وہ خشک ہو جائے جبکہ آلو اور چکن گل جائے۔ اب اس آمیزے کو اچھی طرح ملا لیں اور انڈوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے ڈالیں اور اچھی طرح مکس کریں۔ یہ آمیزہ سموسہ پٹی پر رکھیں اور سموسے بنا لیں۔ ایک کڑاہی میں تیل گر م کر یں اور سموسے ڈال کر گولڈن برائون ہونے تک تل لیں۔ انہیں املی یا پو دینے اور دہی کی چٹنی کے ساتھ پیش کر یں۔کھجور کا ملک شیکاجزاء : کھجوریں 50 گرام ،دودھ 75 ملی لیٹر،آئس کیوب آدھا کپ،چینی 50 گرام،دہی 50 گرمترکیب: کھجوروں کو بھگو لیں اوربلینڈر میں کھجوریں ،دہی چینی دودھ اور آئس کیوب ڈال کر بلینڈ کریں اور گلاسوں میں ڈال کر افطار دستر خوان کی زینت بڑھائیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!سلطان صلاح الدّین ایوبی فاتح بیت المقدس(1193-1138)

آج تم یاد بے حساب آئے!سلطان صلاح الدّین ایوبی فاتح بیت المقدس(1193-1138)

٭...صلاح الدّین ایوبی 1138ء میں تکریت میں پیدا ہوئے جو آج عراق کا حصّہ ہے۔٭... ان کے والد کا نام نجم الدّین ایوب تھا جو قلعہ تکریت کے حاکم تھے۔ ٭... سلطان کا بچپن اور جوانی کا ابتدائی دور دمشق اور بعلبک میں گزرا جہاں ان کے والدپہلے عماد الدّین اور پھر نورالدّین زنگی کے ماتحت اْن علاقوں کے گورنر رہ چکے تھے۔٭... صلاح الدین نے بعلبک کے دینی مدارس اور دمشق کی جامع مسجد میں تعلیم حاصل کی۔ ٭...یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں کی صلیبیوں سے جنگیں زوروں پر تھیں، صلاح الدّین نے نور الدّین زنگی کے سائے میں رہ کر اپنی شجاعت اور دلیری کو منوایا۔٭...صلاح الدّین ایّوبی نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے نامور حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ ٭... وہ ایک مہم پر اپنے چچا کے ساتھ گئے اور پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ مصر میں ایّوبی حکومت کی بنیاد پڑگئی۔٭... نور الدّین زنگی کے انتقال کے بعد سلطان صلاح الدّین نے عنانِ حکومت سنبھال لی۔٭...1187 میںجنگ کے بعد قبلہ اوّل کو صلیبیوں کے قبضے سے آزاد کروایا۔٭... بیت المقدس میں سلطان کی فوج پورے 88 سال بعد داخل ہوئی اور مسلمانوں نے فلسطین کی سرزمین پر قدم رکھ کر عالم اسلام کو عظیم الشّان کام یابی کی نوید سنائی۔٭...بے مثال شجاعت اور جرات و استقلال ہی نہیں، فتحِ بیت المقدس کے موقع پر سلطان کی بالخصوص عیسائیوں اور دشمن کے ساتھ حسنِ سلوک، درگزر اور رواداری نے بھی دنیا میں اسلام کی خوب صورت تصویر پیش کی۔٭...آج (4مارچ کو)اسلامی تاریخ کے ایک عظیم فاتح اور مسلمانوں کیلئے سرمایہ افتخار سلطان صلاح الدّین ایوبی کا یومِ وفات ہے ۔

آج کا دن

آج کا دن

جارج واشنگٹن صدر منتخب4 مارچ 1789ء کو امریکہ کی نو قائم شدہ وفاقی حکومت نے باقاعدہ طور پر کام شروع کیا اور اسی دن انتخابی عمل کے نتیجے میں جارج واشنگٹن کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ اگرچہ ان کی حلف برداری اپریل میں ہوئی، لیکن 4 مارچ کو کانگریس کے اجلاس کے بعد نئی حکومت کی بنیاد پڑی۔واشنگٹن اس سے قبل امریکی جنگِ آزادی کے دوران فوج کے سپہ سالار رہ چکے تھے۔ ان کی قیادت میں نوآبادیاتی ریاستوں نے برطانیہ کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ صدر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے آئین کی عملداری، وفاقی ڈھانچے کے استحکام اور جمہوری روایات کی بنیاد رکھی۔روزویلٹ کی حلف برداری4 مارچ 1933ء کو فرینکلن ڈی روزویلٹ نے امریکہ کے 32ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ وقت امریکی تاریخ کا نہایت مشکل دور تھا کیونکہ ملک شدید معاشی بحران یعنی عظیم کساد بازاری (Great Depression) کا شکار تھا۔ لاکھوں افراد بے روزگار تھے اور بینکاری نظام تقریباً تباہ ہو چکا تھا۔ انہوں نے نیو ڈیل (New Deal) کے نام سے معاشی اصلاحات کا پروگرام شروع کیا، جس کے تحت روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے، بینکاری نظام میں اصلاحات کی گئیں اور حکومتی نگرانی بڑھائی گئی۔ڈنکرک معاہدہ4 مارچ 1947ء کو فرانس اور برطانیہ کے درمیان ڈنکرک معاہدہ طے پایا۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد یورپ کو دوبارہ منظم کرنے اور ممکنہ جرمن جارحیت سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے یہ دفاعی معاہدہ کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں باہمی تعاون کا وعدہ کیا۔یہ معاہدہ بعد میں قائم ہونے والے وسیع تر یورپی دفاعی نظام کی بنیاد بنا جو آگے چل کر نیٹو جیسے اتحادوں کی صورت میں سامنے آیا۔ڈنکرک معاہدہ یورپی اتحاد کی ابتدائی کڑیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے نہ صرف دفاعی ہم آہنگی کو فروغ دیا بلکہ سیاسی تعاون کی راہ بھی ہموار کی، جو بعد ازاں یورپی یونین کے قیام کی سمت میں ایک ابتدائی قدم ثابت ہوا۔اسکندر مرزا صدر منتخب4 مارچ 1956ء کو اسکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اس سے قبل اسکندر مرزا گورنر جنرل کے عہدے پر فائز تھے، لیکن 23 مارچ 1956ء کو آئین کے نفاذ کے بعد گورنر جنرل کا منصب ختم ہو گیا اور پارلیمانی نظام کے تحت صدرِ مملکت کا عہدہ قائم کیا گیا۔اسکندر مرزا کا تعلق برطانوی ہندوستان کی فوج اور بعد ازاں سول سروس سے رہا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے مختلف اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں سیکریٹری دفاع اور گورنر مشرقی پاکستان شامل ہیں۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ان کا کردار زیادہ تر آئینی سربراہِ مملکت کا تھا ۔

حسن دوئم مسجد

حسن دوئم مسجد

بحراوقیانوس کے کنارے اسلامی عظمت کی علامتمراکش کے شہر کیسا بلانکا ( Casablanca) میں واقع''حسن دوئم مسجد‘‘اسلامی فنِ تعمیر، روحانیت اور قومی شناخت کا ایک درخشاں استعارہ ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد 1993ء میں مکمل ہوئی اور اسے مراکش کے فرمانرواحسن دوئم کے نام سے منسوب کیا گیا، جنہوں نے اس کی تعمیر کا آغاز کیا اور اسے جدید مراکش کی علامت بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ بحرِ اوقیانوس کے کنارے تعمیر کی گئی یہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ ہے بلکہ فن، تاریخ اور انجینئرنگ کا ایسا سنگم ہے جس نے دنیا بھر کے سیاحوں اور معماروں کو متاثر کیا ہے۔حسن دوئم مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا فلک بوس مینار ہے جو تقریباً 210 میٹر بلند ہے اور اسے دنیا کے بلند ترین میناروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رات کے وقت اس مینار سے سبز لیزر روشنی قبلہ رخ فضا میں چمکتی ہے جو ایک دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ یہ منظر اس پیغام کی علامت ہے کہ اسلام روشنی، رہنمائی اور امن کا دین ہے۔ مسجد کی تعمیر میں مراکشی ہنرمندوں نے روایتی نقش و نگار، خطاطی، سنگِ مرمر کی تراش خراش اور لکڑی کی نفیس کندہ کاری کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جس سے یہ عمارت ایک جیتا جاگتا عجائب گھر معلوم ہوتی ہے۔مسجد کا مرکزی ہال وسیع و عریض ہے جہاں بیک وقت تقریباً 25 ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں، جبکہ بیرونی صحن اور احاطے سمیت مجموعی طور پر ایک لاکھ پانچ ہزار افراد کی گنجائش موجود ہے۔ فرش پر بچھے خوبصورت قالین، دیواروں پر قرآنی آیات کی خطاطی اور چھت پر دیدہ زیب نقش و نگار روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ مرکزی ہال کی چھت کا ایک حصہ متحرک (ریٹریکٹ ایبل) ہے جو ضرورت پڑنے پر کھولا جاسکتا ہے، یوں کھلے آسمان تلے عبادت کا سماں پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور روایتی فنِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔بحرِ اوقیانوس کے کنارے اس مسجد کی تعمیر ایک انجینئرنگ چیلنج بھی تھی۔ عمارت کا کچھ حصہ سمندر کے اوپر تعمیر کیا گیا ہے، جس کے لیے مضبوط بنیادیں اور خصوصی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ اس انتخاب کے پیچھے ایک روحانی تصور بھی کارفرما تھا کہ ‘‘خدا کا عرش پانی پر ہے''، چنانچہ مسجد کو پانی کے قریب تعمیر کرکے اس تصور کی علامتی تعبیر پیش کی گئی۔ سمندر کی لہروں کی آواز اور ٹھنڈی ہوا عبادت گزاروں کے لیے سکون اور خشوع کا ماحول پیدا کرتی ہے۔حسن دوم مسجد صرف عبادت تک محدود نہیں؛ یہاں ایک وسیع کتب خانہ، مدرسہ، میوزیم اور وضو کے لیے جدید سہولیات بھی موجود ہیں۔ زیرِ زمین وضو خانہ سنگِ مرمر کے فواروں اور نفیس ستونوں سے مزین ہے جو مراکشی جمالیات کا شاہکار ہے۔ مسجد میں جدید ساؤنڈ سسٹم اور ماحولیاتی کنٹرول کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ بڑے اجتماعات میں بھی نظم و ضبط برقرار رہے۔ اس کے علاوہ یہاں رہنمائی کے لیے تربیت یافتہ گائیڈز دستیاب ہوتے ہیں جو سیاحوں کو عمارت کی تاریخ اور فنِ تعمیر سے آگاہ کرتے ہیں۔اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں ہزاروں کاریگروں، انجینئروں اور مزدوروں نے حصہ لیا۔ مقامی ہنر کو فروغ دینے اور قومی یکجہتی کو اجاگر کرنے کے لیے زیادہ تر کام مراکشی ماہرین کے سپرد کیا گیا۔ یوں یہ مسجد نہ صرف مذہبی علامت بنی بلکہ قومی فخر اور اجتماعی محنت کی مثال بھی ٹھہری۔ تعمیر کے دوران استعمال ہونے والا اعلیٰ معیار کا سنگِ مرمر، دیودار کی لکڑی اور نفیس موزائیک ٹائلز مراکش کی ثقافتی وراثت کی جھلک پیش کرتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر حسن دوم مسجد مراکش کی شناخت کا اہم جزو بن چکی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس کی شاندار ساخت، سمندر سے جڑے منظر اور روحانی فضا سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ مسجد بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی مکالمے کا بھی ذریعہ ہے، کیونکہ غیر مسلم سیاحوں کو مخصوص اوقات میں اندرونی حصوں کی سیر کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس طرح یہ عمارت نہ صرف عبادت کا مرکز ہے بلکہ تہذیبی تبادلے کا پل بھی ہے۔مختصراً، حسن دوم مسجد جدید دور میں اسلامی فنِ تعمیر کی ایک درخشاں مثال ہے جس نے روایت اور جدت کو یکجا کیا۔ بحرِ اوقیانوس کے کنارے یہ عظیم عمارت مراکش کی روح، تاریخ اور فنکارانہ مہارت کی آئینہ دار ہے۔