اچھی نیند کا دارومدار سونے کے انداز پر ہےنیند ہماری صحت کیلئے ایک بنیادی ضرورت ہے، اور صرف یہ کہ ہم کتنی دیر سوتے ہیں اہم نہیں بلکہ سونے کا انداز بھی جسم اور دماغ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ مختلف نیند کے انداز، جیسے پیٹ کے بل سونا، پشت کے بل سونا یا پہلو کے بل سونا کے اپنے منفرد فوائد اور ممکنہ خطرات ہوتے ہیں۔ بعض انداز ریڑھ کی ہڈی، گردے یا دل کی صحت کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ طریقے طویل مدت میں جسمانی مسائل یا شدید نقصان کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم مقبول نیند کے انداز اور ان کے طبی اثرات پر روشنی ڈالیں گے تاکہ قارئین اپنی نیند کے طریقے کو زیادہ صحت مند بنا سکیں۔ہم اپنی زندگی کا تقریباً ایک تہائی حصہ نیند میں گزارتے ہیں، مگر بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہم کیسے سوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیبورا لی( Dr Deborah Lee) جو ڈاکٹر فاکس آن لائن فارمیسی سے وابستہ ہیں کے مطابق سونے کی پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کی سیدھ، سانس لینے اور مجموعی نیند کے معیار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اچھی نیند کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کیلئے بہترین سونے کی پوزیشن تلاش کی جائے ، ایسی پوزیشن جس میں آپ کی ریڑھ کی ہڈی درست سیدھ میں ہو، سانس لینے کا راستہ کھلا رہے اور اعضاء کو حرکت کی آزادی حاصل ہو۔سونے کی پوزیشن جسم پر کیا اثر ڈالتی ہے اور کونسی پوزیشن نقصاندہ ہو سکتی ہے؟ ان کے بارے میں جانتے ہیں۔پہلو کے بل سوناپہلو کے بل سونا نیند کی سب سے عام کیفیت ہے،تقریباً 41 فیصد لوگ اس پوزیشن کو ترجیح دیتے ہیں۔ ڈاکٹر لی کے مطابق کروٹ لے کر، جسم کو سمیٹ کر سونا صحت کیلئے کئی فوائد رکھتا ہے۔ یہ خاص طور پر ان افراد کیلئے مفید ہے جنہیں ''سلیپ ایپنیا‘‘(sleep apnoea ) یا نیند کے دوران سانس کی بے ترتیبی کا مسئلہ ہو، کیونکہ پہلو کے بل لیٹنے سے ہوا کی نالی کھلی رہتی ہے۔کمر درد کے شکار افراد کیلئے بھی پہلو کے بل سونا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھا جائے تاکہ ریڑھ کی ہڈی مڑنے سے محفوظ رہے۔حاملہ خواتین کو بھی پہلو کے بل سونے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر لی کہتی ہیں کہ حمل کے دوران سیدھا چت لیٹنا مناسب نہیں، کیونکہ بڑھا ہوا رحم بڑی خون کی نالیوں کو دبا سکتا ہے اور خون کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بدہضمی یا تیزابیت کے مسئلے میں مبتلا افراد کیلئے وہ بتاتی ہیں کہ بائیں کروٹ سونا خاص طور پر مددگار ہو سکتا ہے، کیونکہ معدے کی ساخت اور اس کی جگہ ایسی ہوتی ہے۔پہلو کے بل سونے کی دیگر شکلیں بھی تقریباً وہی فوائد رکھتی ہیں۔ لاگ پوزیشن ، جس میں بازو جسم کے ساتھ سیدھے رکھے جاتے ہیں،کندھے، گردن یا بازوؤں کے درد میں مفید ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب اوپری بازو کے نیچے نرم تکیے کا سہارا دیا جائے۔ یرنر پوزیشن (yearner position) جس میں بازو سامنے کی طرف پھیلائے جاتے ہیں، کندھوں اور بازوؤں پر دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔چت لیٹ کر سوناچت لیٹ کر سونا نسبتاً کم عام ہے۔ تقریباً 8 فیصد افراد سولجر پوزیشن کو ترجیح دیتے ہیں، یعنی سیدھا چت لیٹنا اور بازو جسم کے ساتھ رکھنا جبکہ مزید 5 سے 7 فیصد لوگ اسٹارفِش پوزیشن اختیار کرتے ہیں، جس میں بازو اوپر کی طرف اور ٹانگیں پھیلی ہوتی ہیں۔ڈاکٹر لی کے مطابق چت لیٹ کر سونے کے بھی کچھ فوائد ہیں۔ اس پوزیشن میں ریڑھ کی ہڈی درست ترتیب میں رہتی ہے، اس لیے یہ کمر کے بعض اقسام کے درد اور اکڑن میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔یہ بند ناک یا سائنَس کی صفائی میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ اس اندازِ نیند سے چہرے پر جھریاں پڑنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں، کیونکہ کششِ ثقل گالوں کو نیچے کی بجائے اطراف کی سمت کھینچتی ہے۔تاہم، وہ خبردار کرتی ہیں کہ خراٹوں اور نیند کے دوران سانس کی بے ترتیبی کیلئے یہ سب سے بدترین پوزیشن ہے۔پیٹ کے بل سوناتقریباً 7 فیصد افراد پیٹ کے بل سوتے ہیں، عموماً فری فال پوزیشن میں،جس میں سر ایک طرف گھمایا ہوا ہوتا ہے اور بازو تکیے کے گرد لپٹے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر لی کے مطابق، یہ پوزیشن خراٹوں میں کمی کر سکتی ہے، کیونکہ سر کو ایک طرف موڑنے سے ہوا کی نالی کھل جاتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ سونے کا تجویز کردہ انداز نہیں ہے۔وہ پیٹ کے بل سونے کو ریڑھ کی ہڈی کی صحت کیلئے بدترین پوزیشن قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس انداز میں ریڑھ کی ہڈی غیر فطری طور پر پیچھے کی طرف کھنچتی ہے، جس سے پٹھے اور رباط حد سے زیادہ تن جاتے ہیں اور کمر کے درد میں اضافہ ہوتا ہے۔