آج کا دن
اسپیشل فیچر
جارج واشنگٹن صدر منتخب
4 مارچ 1789ء کو امریکہ کی نو قائم شدہ وفاقی حکومت نے باقاعدہ طور پر کام شروع کیا اور اسی دن انتخابی عمل کے نتیجے میں جارج واشنگٹن کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ اگرچہ ان کی حلف برداری اپریل میں ہوئی، لیکن 4 مارچ کو کانگریس کے اجلاس کے بعد نئی حکومت کی بنیاد پڑی۔واشنگٹن اس سے قبل امریکی جنگِ آزادی کے دوران فوج کے سپہ سالار رہ چکے تھے۔ ان کی قیادت میں نوآبادیاتی ریاستوں نے برطانیہ کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ صدر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے آئین کی عملداری، وفاقی ڈھانچے کے استحکام اور جمہوری روایات کی بنیاد رکھی۔
روزویلٹ کی حلف برداری
4 مارچ 1933ء کو فرینکلن ڈی روزویلٹ نے امریکہ کے 32ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ وقت امریکی تاریخ کا نہایت مشکل دور تھا کیونکہ ملک شدید معاشی بحران یعنی عظیم کساد بازاری (Great Depression) کا شکار تھا۔ لاکھوں افراد بے روزگار تھے اور بینکاری نظام تقریباً تباہ ہو چکا تھا۔ انہوں نے نیو ڈیل (New Deal) کے نام سے معاشی اصلاحات کا پروگرام شروع کیا، جس کے تحت روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے، بینکاری نظام میں اصلاحات کی گئیں اور حکومتی نگرانی بڑھائی گئی۔
ڈنکرک معاہدہ
4 مارچ 1947ء کو فرانس اور برطانیہ کے درمیان ڈنکرک معاہدہ طے پایا۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد یورپ کو دوبارہ منظم کرنے اور ممکنہ جرمن جارحیت سے تحفظ حاصل کرنے کے لیے یہ دفاعی معاہدہ کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں باہمی تعاون کا وعدہ کیا۔یہ معاہدہ بعد میں قائم ہونے والے وسیع تر یورپی دفاعی نظام کی بنیاد بنا جو آگے چل کر نیٹو جیسے اتحادوں کی صورت میں سامنے آیا۔ڈنکرک معاہدہ یورپی اتحاد کی ابتدائی کڑیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے نہ صرف دفاعی ہم آہنگی کو فروغ دیا بلکہ سیاسی تعاون کی راہ بھی ہموار کی، جو بعد ازاں یورپی یونین کے قیام کی سمت میں ایک ابتدائی قدم ثابت ہوا۔
اسکندر مرزا صدر منتخب
4 مارچ 1956ء کو اسکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اس سے قبل اسکندر مرزا گورنر جنرل کے عہدے پر فائز تھے، لیکن 23 مارچ 1956ء کو آئین کے نفاذ کے بعد گورنر جنرل کا منصب ختم ہو گیا اور پارلیمانی نظام کے تحت صدرِ مملکت کا عہدہ قائم کیا گیا۔اسکندر مرزا کا تعلق برطانوی ہندوستان کی فوج اور بعد ازاں سول سروس سے رہا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے مختلف اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں سیکریٹری دفاع اور گورنر مشرقی پاکستان شامل ہیں۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ان کا کردار زیادہ تر آئینی سربراہِ مملکت کا تھا ۔