زمین کی گنجائش سے زیادہ آبادی؟

زمین کی گنجائش سے زیادہ آبادی؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد علی


ایک نئی تحقیق کے تناظر میں عالمی حقیقت
دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس وقت یہ تعداد آٹھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ بظاہر یہ انسانی ترقی، طبی سہولیات اور زرعی پیداوار میں اضافے کی کامیابیوں کی علامت ہے مگر ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس کامیابی کے پس منظر میں ایک تشویشناک سوال کھڑا کر دیا ہے: کیا زمین اتنی بڑی انسانی آبادی کو طویل عرصے تک سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
اس تحقیق کے مطابق انسانیت ممکنہ طور پر زمین کی Carrying capacityسے آگے نکل چکی ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ حد ہے جس تک کوئی ماحولیاتی نظام اپنے وسائل کو برقرار رکھتے ہوئے جانداروں کو سہارا دے سکتا ہے۔ تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر انسانی آبادی کو پائیدار انداز میں، بہتر معیارِ زندگی کے ساتھ برقرار رکھنا ہو تو زمین کے لیے موزوں آبادی تقریباً ڈھائی ارب کے قریب ہونی چاہیے۔ اس کے برعکس موجودہ آبادی اس حد سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ دعویٰ بظاہر چونکا دینے والا ہے لیکن اس کے پس منظر میں موجود دلائل پر غور کرنا ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق ہم آج جس بڑی آبادی کو سنبھالنے میں کامیاب نظر آتے ہیں وہ درحقیقت قدرتی وسائل کے غیر متوازن استعمال کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ خاص طور پر فوسل فیولز (تیل، گیس اور کوئلہ) پر انحصار، جدید زرعی طریقے اور صنعتی پیداوار نے وقتی طور پر وسائل میں اضافہ کیا مگر یہ سب پائیدار نہیں۔ زمین کے وسائل محدود ہیں اور ان کا بے دریغ استعمال مستقبل میں سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
عالمی آبادی میں اضافہ رکنے کے بجائے آئندہ دہائیوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ تعداد 2060ء یا 2070ء کی دہائی تک 11 سے 12 ارب کے درمیان پہنچ سکتی ہے۔ اس صورتحال میں خوراک، پانی، توانائی اور رہائش جیسے بنیادی وسائل پر دباؤ کئی گنا بڑھ جائے گا۔تاہم اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ گنجائش کوئی جامد یا قطعی عدد نہیں۔ انسان دیگر جانداروں کی طرح محض قدرتی حدود کا پابند نہیں بلکہ اپنی ٹیکنالوجی، معاشی نظام اور طرزِ زندگی کے ذریعے ان حدود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر گرین انرجی کے ذرائع، پانی کے بہتر استعمال اور زرعی جدت کے ذریعے وسائل کی کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ زمین صرف ایک مخصوص تعداد تک ہی انسانوں کو سہارا دے سکتی ہے۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی قابلِ غور ہے اور وہ یہ کہ مسئلہ صرف آبادی کی تعداد نہیں بلکہ وسائل کے استعمال کا انداز بھی ہے۔ دنیا کے امیر ممالک میں فی کس وسائل کا استعمال غریب ممالک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ اگر پوری دنیا اسی طرزِ زندگی کو اختیار کرے تو زمین پر دباؤ کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔ اس کے برعکس اگر وسائل کو منصفانہ اور محتاط انداز میں استعمال کیا جائے تو زیادہ آبادی کے باوجود بھی نظام کو متوازن رکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق انسانیت پہلے ہی ماحولیاتی حد سے تجاوز (Ecological overshoot) کی کیفیت میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہم زمین کی سالانہ پیداوار سے زیادہ وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مستقبل کے وسائل کو آج ہی خرچ کر رہے ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اس تناظر میں نئی تحقیق ہمیں ایک انتباہ دیتی ہے کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو زمین پر زندگی کے لیے حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے مسائل اسی غیر متوازن نظام کا نتیجہ ہیں۔تاہم اس صورتحال کا حل صرف آبادی میں کمی نہیں بلکہ ایک جامع حکمتِ عملی ہے۔ اس میں پائیدار ترقی، قابلِ تجدید توانائی کا فروغ، وسائل کا محتاط استعمال اور عالمی سطح پر مساوی تقسیم شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور شعور بیدار کرنا بھی انتہائی اہم ہے تاکہ لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں ماحول دوست رویے اختیار کر سکیں۔ انسانیت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ہم نے اپنی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بے مثال ترقی حاصل کی ہے، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی حدود کو پہچانیں۔ زمین ہمارے لیے ایک واحد گھر ہے اور اس کی حفاظت ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی سائنسی دنیا کی جھلک

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی سائنسی دنیا کی جھلک

ہر سال 14 اپریل کو دنیا بھر میں ورلڈ کوانٹم ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کا انتخاب بھی سائنسی بنیاد پر کیا گیا ہے کیونکہ 4/14 (اپریل کی 14 تاریخ) دراصل مشہور طبیعیاتی پلانک کانسٹنٹ (Planck constant) کی علامتی نمائندگی کرتا ہے، جو کوانٹم فزکس کی بنیاد ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں کوانٹم سائنس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور اس کے حیرت انگیز امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔سادہ الفاظ میں کوانٹم سائنس مادے اور توانائی کے نہایت چھوٹے ذرات یعنی ایٹم اور ان سے بھی چھوٹے ذرات (جیسے الیکٹران، فوٹون وغیرہ) کے رویے کا مطالعہ ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں جو قوانین کام کرتے ہیں جیسے کششِ ثقل یا حرکت کے اصول، وہ بڑی اشیاکے لیے درست ہیں مگر جب ہم انتہائی چھوٹے پیمانے پر جاتے ہیں تو وہاں فطرت کے قوانین بدل جاتے ہیں۔ یہی عجیب و غریب دنیا ''کوانٹم ورلڈ‘‘ کہلاتی ہے۔کوانٹم سائنس میں کئی ایسے تصورات ہیں جو عام عقل کے خلاف محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سپرپوزیشن، جس کے مطابق ایک ذرہ بیک وقت ایک سے زیادہ حالتوں میں موجود ہو سکتا ہے، یعنی ایک الیکٹران ایک ہی وقت میں دو مختلف جگہوں پر ہو سکتا ہے، جب تک کہ ہم اس کا مشاہدہ نہ کریں۔اس طرح اینٹینگلمنٹ (Entanglement) بھی ایک حیران کن مظہر ہے جس میں دو ذرات آپس میں اس طرح جڑ جاتے ہیں کہ ایک ذرہ پر ہونے والی تبدیلی فوری طور پر دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو۔ اسے آئن سٹائن نےSpooky action at a distance کہا تھا۔اس طرح کوانٹم ٹنلنگ (Quantum Tunneling) کے تحت ذرات بعض اوقات ایسی رکاوٹوں کو عبور کر لیتے ہیں جنہیں کلاسیکی فزکس کے مطابق عبور کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی اصول کئی جدید الیکٹرانک آلات میں استعمال ہوتا ہے۔کوانٹم سائنس کی اہمیتکوانٹم سائنس صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی دنیا میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ درحقیقت ہماری جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہی کوانٹم فزکس پر ہے۔آج کے کمپیوٹرز، موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں جو کوانٹم اصولوں کے بغیر ممکن نہیں تھی۔لیزر ٹیکنالوجی جو سرجری، انٹرنیٹ کمیونیکیشن اور صنعتی کاموں میں استعمال ہوتی ہے، کوانٹم میکینکس کی دین ہے۔کوانٹم کمپیوٹنگ بھی ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے جو روایتی کمپیوٹرز سے کہیں زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے۔ کوانٹم کمپیوٹرز پیچیدہ مسائل جیسے موسمیاتی تبدیلی، دواؤں کی دریافت اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں انقلاب لا سکتے ہیں۔کوانٹم کمیونیکیشن اور سکیورٹیکوانٹم سائنس کا ایک اور اہم پہلو کوانٹم کمیونیکیشن ہے۔ اس میں معلومات کو اس انداز میں منتقل کیا جاتا ہے کہ اسے ہیک کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیاد کوانٹم اینٹینگلمنٹ اور دیگر اصولوں پر ہے۔ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی بینکنگ، دفاع اور ڈیٹا سکیورٹی کے نظام کو مزید محفوظ بنا سکتی ہے۔ورلڈ کوانٹم ڈے کی اہمیتاس دن کو منانے کا مقصد صرف سائنسدانوں تک محدود نہیں بلکہ عام لوگوں، طلبہ اور نوجوانوں کو اس میدان کی طرف راغب کرنا ہے۔ دنیا بھر میں اس دن سیمینارز، ورکشاپس اور تعلیمی پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ کوانٹم سائنس کو عام فہم انداز میں سمجھایا جا سکے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سائنس کی دنیا میں ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔ کوانٹم سائنس نہ صرف ہمارے موجودہ علم کو چیلنج کرتی ہے بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کے دروازے بھی کھولتی ہے۔ کوانٹم سائنس بظاہر پیچیدہ ضرور ہے مگر اس کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی میں واضح ہیں۔ ورلڈ کوانٹم ڈے ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس حیرت انگیز دنیا کو سمجھیں اور اس کے امکانات پر غور کریں۔ آنے والے برسوں میں کوانٹم ٹیکنالوجی انسانیت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی اور شاید وہ دن دور نہیں جب ہم ایسی ایجادات دیکھیں گے جو آج ہمیں صرف سائنس فکشن لگتی ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ کوانٹم سائنس دراصل مستقبل کی سائنس ہے ایک ایسی دنیا جہاں ناممکن ممکن بن جاتا ہے۔ہمارے ملک میں بھی کوانٹم سائنس کے میدان میں تحقیق ہو رہی ہے، اگرچہ یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ مختلف جامعات اور تحقیقی ادارے اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ اگر حکومتی سطح پر مزید توجہ دی جائے تو پاکستان بھی اس جدید سائنسی دوڑ میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ٹائی ٹینک کا حادثہ14 اپریل 1912ء کی رات برطانوی بحری جہازٹائی ٹینک شمالی بحرِ اوقیانوس میں ایک برفانی تودے سے ٹکرا گیا۔ یہ جہاز اپنے پہلے ہی سفر پر ساؤتھمپٹن سے نیویارک جا رہا تھا۔14 اپریل کی رات جہاز ایک بڑے آئس برگ سے ٹکرا گیا۔ اگرچہ ٹکر معمولی محسوس ہوئی مگر اس نے جہاز کے نچلے حصے میں شگاف ڈال دیا جس سے پانی تیزی سے اندر داخل ہونے لگا۔ اس حادثے میں تقریباً 1500 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ابراہم لنکن پر قاتلانہ حملہ14 اپریل 1865 کو امریکی صدر ابراہم لنکن کو واشنگٹن ڈی سی میں واقع فورڈ تھیٹر میں گولی مار دی گئی۔ لنکن امریکہ کے 16ویں صدر تھے اور انہوں نے امریکی خانہ جنگی کے دوران اتحاد کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔یہ حملہ جان ولکس بوتھ نامی ایک اداکار نے کیا جو جنوبی ریاستوں کا حامی تھا اور لنکن کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتا تھا۔ لنکن اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک ڈرامہ دیکھ رہے تھے جب بوتھ نے پیچھے سے آ کر ان کے سر میں گولی ماری۔ سپیس شٹل کولمبیا کی واپسی14 اپریل 1981ء کو کولمبیا سپیس شٹل نے اپنا پہلا کامیاب مشن مکمل کرتے ہوئے زمین پر واپسی کی۔ یہ مشن ناسا کے سپیس شٹل پروگرام کا آغاز تھا جس نے خلائی تحقیق میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔یہ مشن 12 اپریل کو لانچ کیا گیا تھا اور اس میں دو خلا باز شامل تھے۔ کولمبیا پہلا ایسا خلائی جہاز تھا جو دوبارہ استعمال کے قابل تھا، جس نے خلائی سفر کو زیادہ مؤثر اور کم خرچ بنانے میں مدد دی۔14 اپریل کو اس کی کامیاب لینڈنگ نے یہ ثابت کیا کہ سپیس شٹل پروگرام عملی طور پر کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کامیابی نے بعد میں ہونے والے درجنوں خلائی مشنز کی راہ ہموار کیانسانی جینوم منصوبہ14 اپریل 2003ء کو سائنس کی دنیا میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا گیا جب ہیومن جینوم پراجیکٹ کی کامیاب تکمیل کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ یہ منصوبہ 1990 ء میں شروع ہوا تھا اور اس کا مقصد انسانی ڈی این اے کے مکمل نقشے کو سمجھنا تھا۔ ہیومن جینوم پروجیکٹ کی تکمیل نے طب، حیاتیات اور جینیاتی تحقیق میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس کے ذریعے سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ انسانی جسم میں موجود جینز کیسے کام کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں جیسے کینسر، ذیابیطس اور موروثی امراض کی وجوہات کیا ہیں۔اس کامیابی کے بعد بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ترقی ہوئی۔وبیسٹر ڈکشنری14اپریل 1828ء کو امریکی ماہرِ لسانیات نوح وبیسٹر نے اپنی مشہور ڈکشنری کا پہلا ایڈیشن شائع کیا جو امریکی انگریزی زبان کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ویبسٹر کا مقصد ایک لغت مرتب کرنا ہی نہیں تھا بلکہ وہ امریکی انگریزی کو برطانوی اثر سے الگ ایک خودمختار شناخت دینا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے کئی الفاظ کے سپیلنگ میں تبدیلیاں متعارف کروائیں۔یہ ڈکشنری نہ صرف زبان کے معیار کو متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوئی بلکہ اس نے امریکی ثقافت اور تعلیمی نظام پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ آج بھی ویبسٹر کا نام لغات کے حوالے سے ایک مستند حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

روشنی بکھیرنے والے پودے:چینی سائنسدانوں کا انوکھا کارنامہ

روشنی بکھیرنے والے پودے:چینی سائنسدانوں کا انوکھا کارنامہ

انقلابی پیش رفت ماحول دوست،توانائی بحران پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہےسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ہونے والی ترقی نے انسانی زندگی کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے، اور اب روشنی کے حصول کے روایتی ذرائع بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق میں چینی سائنسدانوں نے ایسے پودے تیار کرنے کی کوشش شروع کی ہے جو جگنوؤں کی طرح خود روشنی پیدا کر سکیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں گلیوں، پارکوں اور شہروں کو روشن کرنے کیلئے بجلی پر انحصار نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔ یہ انقلابی پیش رفت نہ صرف ماحول دوست ہوگی بلکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو آج کے دور کا ایک بڑا عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔چینی سائنسدانوں نے ایسے جینیاتی طور پر تیار شدہ پودے متعارف کرائے ہیں جو اندھیرے میں خود روشنی خارج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پودے نہ صرف سیاحت کیلئے کشش کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ شہری زندگی میں بھی ایک نئی جہت متعارف کرا سکتے ہیں۔ رات کے وقت پارکوں، باغات اور عوامی مقامات پر ان پودوں کی مدھم روشنی ایک پرسکون اور دلکش ماحول پیدا کر سکتی ہے، جو مصنوعی روشنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قدرتی اور خوشگوار ہوگا۔ان حیاتیاتی روشنی خارج کرنے والے پودوں کو تیار کرنے کیلئے سائنسدانوں نے جگنوؤں اور چمکتی ہوئی فنگس کے جینز کو پودوں کے خلیات میں منتقل کیا ہے۔ اس عمل کو جینیاتی انجینئرنگ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے مختلف جانداروں کی خصوصیات کو ایک دوسرے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس جدید تکنیک کی مدد سے اب تک بیس سے زائد پودوں کی اقسام کو اندھیرے میں چمکنے کے قابل بنایا جا چکا ہے، جن میں آرکڈ، سورج مکھی اور گلابی چمبیلی جیسی خوبصورت اور مقبول نباتات شامل ہیں۔ بائیو ٹیکنالوجی کمپنی ‘‘میجک پین بائیو'' کے بانی لی رین ہان نے اس منصوبے کو ایک تخیلاتی دنیا سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ان پودوں کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے تو رات کے وقت چمکتے ہوئے باغات اور وادیاں کسی دوسرے سیارے کا منظر پیش کریں گی۔ انہوں نے اس تصور کو مقبول سائنس فکشن فلمAvatar سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہوگا جیسے فلمی دنیا کو حقیقت میں بدل دیا گیا ہو۔ اس طرح کے مناظر نہ صرف سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کریں گے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیں گے۔2024ء میں فائر فلائی پیٹونیا نامی پودے کے اجرا نے اس میدان میں ایک نئی دلچسپی پیدا کی تھی۔ یہ پودا ایک امریکی کمپنی لائٹ بائیونے متعارف کرایا تھا، جسے بھی بائیولومینیسینٹ مشروم کے جینز شامل کر کے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم چینی سائنسدانوں کی حالیہ کامیابیاں اس سے ایک قدم آگے ہیں، کیونکہ انہوں نے نہ صرف ایک بلکہ متعدد پودوں کی اقسام کو چمکدار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں پورے باغات اور پارکس کو قدرتی روشنی سے منور کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ یہ پودے ابھی مکمل طور پر سٹریٹ لائٹس کا متبادل نہیں بن سکتے، لیکن شہر کے ان حصوں میں جہاں روشنی کی کمی ہو یا جہاں ماحول کو قدرتی انداز میں برقرار رکھنا مقصود ہو، وہاں یہ ایک بہترین حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ پودے توانائی کی بچت، کاربن کے اخراج میں کمی اور ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور توانائی کے بحران کے پیش نظر اس طرح کی ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔چین کے محققین نے اس میدان میں ایک اور منفرد طریقہ بھی آزمایا ہے، جس میں پودوں کے پتوں میں دھاتی نینو ذرات داخل کیے گئے ہیں۔ یہ ذرات دن کے وقت سورج کی روشنی کو جذب کر کے چارج ہوتے ہیں اور رات کے وقت ہلکی روشنی خارج کرتے ہیں۔ اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جینیاتی تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ یہ ایک نسبتاً سادہ اور محفوظ طریقہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، مختلف دھاتوں کے امتزاج سے روشنی کے رنگ کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے خوبصورتی اور تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ان ٹیکنالوجیز کو مزید بہتر بنایا جائے تو یہ شہری منصوبہ بندی میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ مستقبل کے شہر ایسے ہو سکتے ہیں جہاں بجلی سے چلنے والی روشنیوں کی جگہ قدرتی طور پر چمکنے والے پودے لے لیں۔ اس سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ شہری ماحول بھی زیادہ صحت مند اور دلکش بن جائے گا۔تاہم، اس جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پودوں کے ماحولیاتی اثرات، ان کی حفاظت اور عوامی قبولیت جیسے مسائل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان پودوں کی روشنی کی شدت کو بڑھانا بھی ایک اہم مرحلہ ہے تاکہ یہ عملی طور پر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بائیولومینیسینٹ پودوں کی یہ ترقی ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔ یہ نہ صرف سائنسی جدت کا مظہر ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی عکاس ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری دنیا واقعی ایک چمکتی ہوئی دنیا میں تبدیل ہو جائے گی۔

مسولیس کا مقبرہ

مسولیس کا مقبرہ

قدیم دنیا کے عجائبات میں سے ایک مسولیس کا مقبرہ، تعمیراتی حسن، محبت اور لافانیت کی ایسی داستان ہے جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے۔ یہ سنگ مرمر سے تراشا گیا ایسا خواب تھا جس نے مقبرہ کی اصطلاح کو جنم دیا، جو آج بھی دنیا بھر میں عظیم الشان مزارات کیلئے استعمال ہوتی ہے۔چوتھی صدی قبل مسیح میں جب فارس کی ہخامنشی سلطنت کا عروج تھا، مسولیس کاریا کے علاقے کا گورنر تھا۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر فارسی سلطنت کے ماتحت تھا لیکن عملاً وہ آزاد بادشاہ کی طرح حکومت کرتا تھا۔ اس نے اپنی سلطنت کا دارالحکومت ہالی کارناسس موجودہ ترکی کا شہر بودرم منتقل کیا اور اسے دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں بدلنے کا عزم کیا۔مسولیس نے اپنی زندگی ہی میں اپنے لیے ایسے مقبرے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی جو رہتی دنیا تک اس کے نام اور مرتبے کی گواہی دے۔ تاہم، 353 قبل مسیح میں اس کے انتقال کے وقت یہ مقبرہ نامکمل تھا۔ اس کی بیوہ ملکہ آرٹیمیسیا دوم، نے اپنے شوہر کی یاد میں اس عظیم منصوبے کو جاری رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ آرٹیمیسیا اپنے شوہر کی موت سے اس قدر غمگین تھی کہ اس نے مسولیس کی راکھ کو شراب میں ملا کر پی لیا تھا تاکہ وہ ہمیشہ اس کے وجود کا حصہ رہے۔مسولیس کا مقبرہ اپنی بلندی، وسعت اور فنکارانہ باریکیوں کی وجہ سے منفرد تھا۔ اس کی تعمیر کیلئے اس وقت کے مشہور ترین یونانی معماروں پیتھیوس اور ستایرس کو مدعو کیا گیا تھا۔مقبرے کی اونچائی تقریباً 45 میٹر تھی اور اسے تین اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ نچلا حصہ بہت بڑا مستطیل چبوترہ تھا جس کی دیواریں یونانی دیومالائی کہانیوں کے نقوش اور جنگی مناظر سے مزین تھیں۔ چبوترے کے اوپر 36 بلند و بالا ستون نصب تھے، جو مندر نما ڈھانچے کو سہارا دیتے تھے۔ سب سے اوپر 24 سیڑھیوں پر مشتمل اہرام نما چھت تھی، جس کی چوٹی پر عظیم الشان سنگ مرمر کا رتھ موجود تھا جسے چار گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ اس رتھ پر مسولیس اور آرٹیمیسیا کے مجسمے نصب تھے۔اس مقبرے کو شہرت اس کے مجسموں اور سنگ تراشی کی وجہ سے ملی۔ اس زمانے کے چار عظیم ترین سنگ تراشوں سکاپاس، لیوچاریس، برایکسس اور تیموتھیئس میں سے ہر ایک کو مقبرے کی ایک ایک سمت کی تزئین و آرائش کی ذمہ داری دی گئی تھی۔دیواروں پر کندہ کی گئی تصویروں میں ایمیزونز جنگجو خواتین اور لیپتھس کے درمیان لڑائی کے مناظر اتنے جاندار تھے کہ وہ زندہ مناظر محسوس ہوتے تھے۔ یہ فن پارے اس وقت کے یونانی اور اناطولیہ کے کلچر کو ظاہر کرتے تھے۔مسولیس کا مقبرہ تقریباً 1600 سال تک اپنی اصل حالت میں موجود رہا۔ سکندر اعظم کی فتوحات، رومی سلطنت کا عروج و زوال اور کئی جنگیں اسے نقصان نہ پہنچا سکیں لیکن 12ویں سے 15ویں صدی کے درمیان آنے والے پے درپے زلزلوں نے اس عظیم عمارت کی کمر توڑ دی۔1402ء میں جب نائٹس آف سینٹ جان نے اس علاقے پر قبضہ کیا، تو انہوں نے مقبرے کے ملبے کو بودرم قلعہ بنانے کیلئے استعمال کیا۔ انہوں نے مقبرے کے قیمتی سنگ مرمر کو جلا کر چونا بنایا اور خوبصورت تراشے ہوئے پتھروں کو دیواروں میں چن دیا۔ اس طرح، دنیا کا یہ ساتواں عجوبہ انسانی ضرورتوں اور قدرتی آفات کی نذر ہو گیا۔19ویں صدی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ چارلس نیوٹن نے مقبرے کی باقیات دریافت کیں۔ اس نے کھدائی کے دوران مسولیس اور آرٹیمیسیا کے مجسمے اور رتھ کے پہیے تلاش کیے، جو آج برٹش میوزیم، لندن میں محفوظ ہیں۔مسولیس کے مقبرے نے فنِ تعمیر کی دنیا کو نیا لفظ مقبرہ دیا۔ آج واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل ہو یا پیرس کا پینتھین، ان سب کے ڈیزائن میں کہیں نہ کہیں مسولیس کے مقبرے کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان کا تاج محل بھی اسی روایت کا ایک حصہ مانا جا سکتا ہے جہاں عظیم محبت کو پتھروں میں قید کر کے لافانی بنا دیا گیا۔مسولیس کا مقبرہ انسانی عزم، بے پناہ محبت اور فنی کمال کا سنگ میل تھا۔ اگرچہ آج اس کی جگہ چند ٹوٹے ہوئے ستون اور بنیادیں باقی ہیں لیکن اس کا تصور آج بھی معماروں اور تاریخ دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ مقبرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بادشاہ اور سلطنتیں فنا ہو جاتی ہیں لیکن فن اور محبت کی یادگاریں صدیوں تک زندہ رہتی ہیں۔

کالج کے طلبہ

کالج کے طلبہ

کالج کے جن طلبہ کے متعلق میرا ایمان تھا کہ وہ زبردست شخصیتو ں کے مالک ہیں، ان کی زندگی کچھ ایسی نہ تھی کہ والدین کے سامنے بطور نمونے کے پیش کی جا سکے۔ ہر وہ شخص جسے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے جانتا ہے کہ ''والدینی اغراض‘‘ کیلئے واقعات کو ایک نئے اور اچھوتے پیرائے میں بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، لیکن اس نئے پیرائے کا سوجھ جانا الہام اور اتفائی پر منحصر ہے۔ بعض روشن خیال بیٹے والدین کو اپنے حیرت انگیز اوصاف کا قائل نہیں کر سکتے اور بعض نالائق طالب علم والدین کو اس طرح مطمئن کر دیتے ہیں کہ ہر ہفتے ان کے نام منی آرڈر پہ منی آرڈر چلا آتا ہے۔جب ہم ڈیڑھ مہینے تک شخصیت اور ہاسٹل کی زندگی پر اس کا انحصا ر، ان دومضمونوں پر وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے، تو ایک دن والد نے پوچھا: ''تمہارا شخصیت سے آخر مطلب کیا ہے؟‘‘میں تو خدا سے یہی چاہتا تھا کہ وہ مجھے عرض و معروض کا موقع دیں۔ میں نے کہا ''دیکھئے نہ! مثلاً ایک طالب علم ہے۔ وہ کالج میں پڑھتا ہے۔ اب ایک تو اس کا دماغ ہے۔ ایک اس کا جسم ہے۔ جسم کی صحت بھی ضروری ہے اور دماغ کی صحت تو ضروری ہے ہی، لیکن ان کے علاوہ وہ ایک اور بات بھی ہوتی ہے جس سے آدمی گویا پہچانا جاتا ہے۔ میں اس کو شخصیت کہتا ہوں۔ اس کا تعلق نہ جسم سے ہوتا ہے نہ دماغ سے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی کی جسمانی صحت بالکل خراب ہوااور اس کا دماغ بھی بالکل بیکار ہو لیکن پھر بھی اس کی شخصیت۔ نہ خیر دماغ تو بے کار نہیں ہونا چاہئے، ورنہ انسان خبطی ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر ہو بھی، تو بھی، گویا شخصیت ایک ایسی چیز ہے۔۔۔ ٹھہریئے، میں ابھی ایک منٹ میں آپ کو بتاتا ہوں‘‘۔ایک منٹ کے بجائے والد نے مجھے آدھے گھنٹے کی مہلت دی جس کے دوران میں وہ خاموشی کے ساتھ میرے جواب کا انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ تین چار دن بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مجھے شخصیت نہیں سیرت کہنا چاہئے۔ شخصیت ایک بے رنگ سا لفظ ہے۔ سیرت کے لفظ سے نیکی ٹپکتی ہے۔ چنانچہ میں سیرت کو اپنا تکیہ کلام بنا لیا لیکن یہ بھی مفید ثابت نہ ہوا۔ والد کہنے لگے ''کیا سیرت سے تمہارا مطلب چال چلن ہے یا کچھ اور؟‘‘۔میں نے کہا، ''کہ چال چلن ہی کہہ لیجیے‘‘۔ ''تو گویا دماغی اور جسمانی صحت کے علاوہ چال چلن بھی اچھا ہونا چاہئے؟‘‘۔میں نے کہا، ''بس یہی تو میرا مطلب ہے‘‘۔ ''اور یہ چال چلن ہاسٹل میں رہنے سے بہت اچھا ہو جاتا ہے؟‘‘۔میں نے نسبتاً نحیف آواز سے کہا،''جی ہاں‘‘۔''یعنی ہاسٹل میں رہنے والے طالب علم نماز روزے کے زیادہ پابند ہوتے ہیں۔ ملک کی زیادہ خدمت کرتے ہیں۔ سچ زیادہ بولتے ہیں۔ نیک زیادہ ہوتے ہیں‘‘۔میں نے کہا،''جی ہاں‘‘کہنے لگے، ''وہ کیوں؟‘‘اس سوال کا جواب ایک بار پرنسپل صاحب نے تقسیم انعامات کے جلسے میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا۔ اے کاش میں نے اس وقت توجہ سے سنا ہوتا۔اس کے بعد پھر سال بھر میں ماموں کے گھر میں ''زندگی ہے تو خزاں کے بھی گزر جائیں گے دن‘‘ گاتا رہا۔ہر سال میری درخواست کا یہی حشر ہوتا رہا۔ لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ ہر سال ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا لیکن اگلے سال گرمیوں کی چھٹی میں پہلے سے بھی زیادہ شد ومد کے ساتھ تبلیغ کا کام جاری رکھتا۔ ہر دفعہ نئی نئی دلیلیں پیش کرتا، نئی نئی مثالیں کام میں لاتا۔ جب شخصیت اور سیرت والے مضمون سے کام نہ چلا تو اگلے سال یہ دلیل پیش کی کہ ہاسٹل میں رہنے سے پروفیسروں کے ساتھ ملنے جلنے کے موقعے زیادہ ملتے رہتے ہیں اور ان ''بیرون ازکالج''ملاقاتوں سے انسان پارس ہو جاتا ہے۔اس سے اگلے سال یہ مطلب یوں ادا کیا کہ ہاسٹل کی آب وہوا بڑی اچھی ہوتی ہے، صفائی کا خاص طور سے خیال رکھا جاتا ہے۔ مکھیاں اور مچھر مارنے کیلئے کئی کئی افسر مقرر ہیں۔ اس سے اگلے سال یوں سخن پیرا ہوا کہ جب بڑے بڑے حکام کالج کا معائنہ کرنے آتے ہیں تو ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ سے فرداً فرداً ہاتھ ملاتے ہیں۔ اس سے رسوخ بڑھتا ہے، لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا گیا میری تقریروں میں جوش بڑھتا گیا۔ معقولیت کم ہوتی گئی۔شروع شروع میں ہاسٹل کے مسئلے پر والد مجھ سے باقائدہ بحث کیا کرتے تھے۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے یک لفظی انکار کا رویہ اختیار کیا۔ پھر ایک آدھ سال مجھے ہنس کے ٹالتے رہے اور آخر میں یہ نوبت آن پہنچی کہ وہ ہاسٹل کا نام سنتے ہی ایک طنز آمیز قہقہے کے ساتھ مجھے تشریف لے جانے کا حکم دے دیا کرتے تھے۔ان کے اس سلوک سے آپ یہ اندازہ نہ لگائیے کہ ان کی شفقت کچھ کم ہو گئی تھی۔ ہر گز نہیں۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ بعض ناگوار حادثات کی وجہ سے گھر میں میرا اقتدار کچھ کم ہو گیا تھا۔اتفاق یہ ہوا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ بی،اے کا امتحان دیا تو فیل ہو گیا۔ اگلے سال ایک مرتبہ پھر یہی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد بھی جب تین چار دفعہ یہی قصہ ہوا تو گھر والوں نے میری امنگوں میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ بی،اے میں پے در پے فیل ہونے کی وجہ سے میری گفتگو میں ایک سوز تو ضرور آ گیا تھا لیکن کلام میں وہ پہلے جیسی شوکت اور میری رائے کی وہ پہلے جیسی وقعت اب نہ رہی تھی۔میں زمانہ طالب علمی کے اس دور کا حال ذرا تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں، کیوں کہ اس سے ایک تو آپ میری زندگی کے نشیب وفراز سے اچھی طرح واقف ہو جائیں گے اور اس کے علاوہ اس سے یونیورسٹی کی بعض بے قاعدگیوں کا راز بھی آپ پر آشکار ہو جائے گا۔

حکایات سعدیؒ:بھید

حکایات سعدیؒ:بھید

ایک بادشاہ نے اپنے غلاموں سے ایک راز کی بات کہی اور انہیں منع کیا کہ اس بات کو کسی دوسرے پرظاہر نہ کرنا۔ایک سال تک تو خیریت رہی پھر غلاموں میں سے ایک نے کسی دوست کے سامنے بھید ظاہر کر دیا اور اسے تاکید کی کہ یہ کسی دوسرے کو نہ بتانا۔ اس کے دوست نے بھی اسی طرح کسی دوسرے کو یہ بات بتا دی۔ آہستہ آہستہ بات ہر طرف پھیل گئی۔ بادشاہ کو علم ہوا تو اس نے غضب ناک ہو کر حکم دیا کہ ان غلاموں کے سرقلم کردو۔ ان میں سے ایک نے امان چاہی اور عرض کی کہ اے بادشاہ اپنے غلاموں کو قتل نہ کر کہ اس خطا کی ابتدا تجھی نے کی ہے۔ تو نے شروع میں چشمے کا منہ کیوں بند نہ کیا۔ جب وہ سیلاب بن گیا تو اس کے آگے بند باندھنے کا کیا فائدہ۔ تو نے جب تک بات منہ سے نہیں نکالی تیرا اس پر قابو ہے۔ جب منہ سے نکال دی تو وہ تیرے اوپر قابو پا لے گی۔